لوگ کہتے ہیں کہ ان فیمینسٹوں نے طوفان مچایا ہوا ہے، ایسا کچھ ہے نہیں جس کا بھونچال مچے۔ سب تو ٹھیک ہے، ہر شے درست سمت پر گامزن ہے۔ یہ عورتوں کے خلاف جرائم کیا ہوتے ہیں؟ جرائم تو جرائم ہوتے ہیں۔ یہ جنسی تشدد کا شوشہ چھوڑا گیا ہے ورنہ تشدد تو تشدد ہوتا ہے۔ ویسے تو تشدد بھی نہیں ہوتا، سب تقدیر کا لکھا ہوتا ہے۔ بیٹے یہاں قسمت خود بناتے ہیں تو بیٹیاں قسمت کا سمجھ کر چپ کر دیتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عورتیں آفت کی پرکالا بن کر چوراہے میں لٹکی لالٹین مانند روشن اقدار پر ٹوٹ پڑی ہیں۔
میں کہتی ہوں کہ وہ اقدار کیا ہیں جو مظلوم کو چپ سادھنے ہر مجبور کیے رکھیں۔ کہتے ہیں بس ان کو پیچ و خم کھانے کے سوا آتا کیا ہے؟ تشدد، ہراسانی، دھونس، جبر یہاں تک کہ قتل ہو جانے والی عورتیں جو مزاحمت پر اترتی ہیں کو انتہا پسندوں سے مستعار لے لیا جاتا ہے اور یہ فریضہ ظلم سے معذرت خواہ مرد و زن نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں مطمئن روایت پسندوں کی تمنا ہے کہ تیزاب سے بدن جلائے، لباس کے چیتھڑے سنبھالتی عورت پرسکوں ہو کر اپنے مجرم کے ساتھ ضیافت کا اہتمام کرے اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے سلجھائے۔ ریپ پر لطائف اور جواز ڈھونڈنے والوں کے ساتھ شام کی چائے میں نشست رکھ کر مفاہمت کی جائے اور سب رنجشیں بھلا دی جائیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ ان فیمینسٹوں نے طوفان مچایا ہوا ہے، ایسا کچھ ہے نہیں جس کا بھونچال مچے۔ سب تو ٹھیک ہے، ہر شے درست سمت پر گامزن ہے۔ یہ عورتوں کے خلاف جرائم کیا ہوتے ہیں؟ جرائم تو جرائم ہوتے ہیں۔ یہ جنسی تشدد کا شوشہ چھوڑا گیا ہے ورنہ تشدد تو تشدد ہوتا ہے۔ ویسے تو تشدد بھی نہیں ہوتا، سب تقدیر کا لکھا ہوتا ہے۔ بیٹے یہاں قسمت خود بناتے ہیں تو بیٹیاں قسمت کا سمجھ کر چپ کر دیتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عورتیں آفت کی پرکالا بن کر چوراہے میں لٹکی لالٹین مانند روشن اقدار پر ٹوٹ پڑی ہیں۔
میں کہتی ہوں کہ وہ اقدار کیا ہیں جو مظلوم کو چپ سادھنے ہر مجبور کیے رکھیں۔ کہتے ہیں بس ان کو پیچ و خم کھانے کے سوا آتا کیا ہے؟ تشدد، ہراسانی، دھونس، جبر یہاں تک کہ قتل ہو جانے والی عورتیں جو مزاحمت پر اترتی ہیں کو انتہا پسندوں سے مستعار لے لیا جاتا ہے اور یہ فریضہ ظلم سے معذرت خواہ مرد و زن نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں مطمئن روایت پسندوں کی تمنا ہے کہ تیزاب سے بدن جلائے، لباس کے چیتھڑے سنبھالتی عورت پرسکوں ہو کر اپنے مجرم کے ساتھ ضیافت کا اہتمام کرے اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے سلجھائے۔ ریپ پر لطائف اور جواز ڈھونڈنے والوں کے ساتھ شام کی چائے میں نشست رکھ کر مفاہمت کی جائے اور سب رنجشیں بھلا دی جائیں۔ یہ شور مچا کر، چیخ کر، مقدمہ بنا کر شرمندگی کے سوا حاصل ہی کیا ہوگا؟ معاشرے کی ٹھوکریں اور بے بسی کی دھول؟ اچھا نہیں کہ یا تو قرار سے مرتی رہیں یا زانی سے نکاح کر لیں۔ بات ختم معاملہ ہضم۔
Read more