پنجابی نیچے اتر آئیں

” میں ان کو کہتی رہی کہ بھائی پانچ بندے اوپر نہیں آئے، ان کو بلا لیں“ ۔ یہ الفاظ اس پنجابی خاتون کے ہیں جس کے شوہر کو موسیٰ خیل میں بلوچ لبریشن آرمی کے دہشتگردوں نے بس سے اتار کر بے دردی سے قتل کیا۔ سرخ آنکھیں، غم سے نڈھال، نیند، تھکاوٹ اور غم سے چور پنجاب کی یہ بیٹی آج صرف اس لئے بیوہ ہے کیونکہ اس کے شوہر کو لسانی شناخت کی بنیاد پر بیس سے

Read more

پناہ کی بستی

فجر کی اذان بہت افسردہ کر دینے والی ہوتی ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ لاہور اندرون میں ہمارے ننھیال کے آبائی گھر کی پچھلی گلی میں مسجد ہوا کرتی تھی۔ تب چھتوں پر سونے کا رواج تھا تو ہم نانا ابو اور نانی اماں کے ساتھ بڑے شوق سے پر چھت پر سویا کرتے تھے۔ رات کے پہر آنکھ تو کم کھلا کرتی مگر جب بھی کھلتی تاروں سے بھرا آسمان ہمارے سر پر جیسے مسکراتا ہو نظر آتا۔

Read more

زن بیزاری

وہ تمام افراد جو صنفی تشدد کے امدادی وسائل اور روک تھام کے لئے کسی بھی لحاظ سے فرائض سر انجام دیتے ہیں، ان کو مسلسل وقوع پذیر ہونے والے صنفی تشدد کے غیر معمولی واقعات انہونی معلوم نہیں ہوتے۔ یہ ان کی زندگیوں کا روزمرہ کا معمول تو بن ہی جاتا ہے مگر اس کے ہمراہ اور بہت سی نفسیاتی اور جذباتی وجوہات بھی موجود ہیں۔ مجھ سمیت ان رضاکاروں میں مایوسی کا عنصر نمایاں ہو چکا ہے۔ اس

Read more

سماجی اسلاموفوبیا اور پاکستانی عورت

”میں دیکھوں گا یہ اس رشتے پر کیسے نہیں مانے گی“ ”ہم وراثت میں حق نہیں، جہیز دیتے ہیں“ ”شوہر نے مارا ہی ہے، شکر کرو مار نہیں دیا“ ان جیسے ہزاروں اور ان سے تلخ جملے ہم روانہ سنتے ہیں۔ جو ہماری عورت کے رہن سہن کی تصویر کھینچ کر ہمارے منہ پر مارتے ہیں۔ عورت نے ساری عمر اپنے پر ہونے والے جسمانی، نفسیاتی اور معاشی تشدد کے حق میں بہت سے دلائل سنے ہیں۔ جن کی توجیہات

Read more

ظلم کی زبان

انسانیت درحقیقت کوئی اخلاقی معیار نہیں ہے۔ انسانوں کے خلاف سب سے زیادہ ظلم اور جبر اپنی انسانیت میں رہتے ہوئے انسان ہی کرتے ہیں۔ معصوموں کا دشمن کوئی سیاسی یا مذہبی دشمن ہی ظالم نہیں، خون کے رشتوں کی تپش میں بھی ویسے ہی ظالم پنپ جاتے ہیں۔ ظلم تو ظلم ہے، حد سے بڑھتا رہتا ہے اور اپنی ہیبت اور شدت قائم رکھتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی ظلم کی پکار للکار بنتی سنائی دے تو اپنے اطراف

Read more

غزہ، افغان مہاجرین، اور فیمنزم

سیلاب زدگان خواتین کو سینیٹری پیڈز عطیہ کرنے پر حقوق نسواں میں کام کرنے والی رضاکاروں کو مغربی جاسوس، سازشی، اور بے شرم کہنے والے اب چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ غزہ میں پیڈز کیوں نہیں بھیج رہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں جو نیلے پیلے بالوں والی ہزاروں لڑکیاں اسرائیل کے خلاف مہم جوئی میں شریک ہیں یہ وہی فیمنسٹ ہیں، جن کی سوچ اور نظریات کو سال بھر مشرق اور مغرب کے مذہب پسند اور قدامت

Read more

نوکری کرنے والی عورتوں کا جہنم

ٹی وی پر ڈرامہ چل رہا تھا۔ جس میں نوکری کرنے والی لڑکی کا گھر اس لئے خراب ہوتا ہے کہ وہ اپنے کام میں کامیاب ہے مگر مصروفیات کے باعث گھر میں ”وقت“ نہیں دے پاتی۔ پھر ایک عام گھر کی لڑکی جو نوکری کرتی ہے مگر وہ اپنے منگیتر سے شادی دیر سے کرنا چاہ رہی ہے۔ ”دیکھا، اپنی مرضی کرنے والی لڑکیوں کا انجام؟“ ”ایسی لڑکیوں کو گھر میں باندھ کر رکھنا چاہیے“ ”یہ نوکری کرنے سے

Read more

فلم زندگی تماشا اور طفیلی کیڑے

اب تک تو ہم سب نے فلم ”زندگی تماشا“ دیکھ رکھی ہوگی۔ اس فلم کو ان لوگوں نے بھی دیکھ لیا جو بیتابی سے اس کے بڑے پردے پر آنے کے منتظر تھے اور فلم کو ان سب نے بھی دیکھ لیا جو اس فلم کی بندش میں پیش پیش تھے۔ ان سب نے بھی یقیناً دیکھ لیا ہو گا جو اس فلم کو دیکھنا گناہ کبیرہ اور اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ اس فلم کو انہوں نے بھی

Read more

ہم لڑکیوں کی دوستی

جب لڑکیوں کی شادیاں ہوتی ہیں تو سب سے پہلے ان کی دوستیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ لڑکیوں کی دوستی کو مذاق اور ٹھٹھے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کی دوستی کو حسد اور کپڑوں جوتوں کی سیاست کے نام دے رکھے ہیں مگر حقیقت تو ہمیں معلوم ہے۔ جو محبت سہیلیوں کو ایک دوسرے سے ہوتی ہے، وہ تو کبھی عام کی ہی نہیں گئی۔ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں مگر ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ ہم

Read more

تحفظ

مجھے نہیں معلوم کہ میں میری اس کیفیت کو کن الفاظ میں بیان کروں کہ ان احساسات کا ترجمہ ہو سکے مگر شاید میں اس کو اپنے اندر شدت سے محسوس کیے جانے والی کمی یا آرزو کا نام دوں گی۔ اس کیفیت کو تحفظ کا وہ احساس کہا جاسکتا ہے جس کی ناصرف خواہش ہوا کرتی ہے بلکہ ہر کسی کو اس کی ضرورت بھی ہے۔ میں ہرگز نہیں کہوں گی کہ اس احساس کو پردے یا بند کرنے

Read more

زیادتی تو لڑکیوں کے ساتھ ہوتی ہے

”اتنا کام مل گیا ہے۔ یہ تو بہت زیادتی ہو رہی ہے“ ۔ بارہ برس کے ایک لڑکے نے دوسرے بارہ سال کے لڑکے سے بات کرتے ہوئے کہا۔ دوسرا بارہ سال کا لڑکا ہنستے ہوئے : ”ہاہاہا، اوئے زیادتی تو لڑکیوں کے ساتھ ہوتی ہے“ ۔ ایک بارہ سال کا لڑکا، جماعت میں پڑھاتی خاتون استاد کو دیکھ کر ہیجانی سی آوازیں نکالتا ہے اور دوسرا بارہ سال کا لڑکا جنسی عمل کا اشارہ کرتا ہے تو ساری جماعت

Read more

ریپ دوست خاندان اور محرم نما درندے

نادو نے اسکول جانا تھا تو کپڑے تبدیل کرنے کے لئے گھر کے غسل خانے کی راہ لی۔ اسکول کی وردی بھی اس نے خود ہی استری کی تھی۔ لباس تبدیل کرتے وقت اس نے اپنی پہنی ہوئی شلوار دیکھی تو حیران ہو کر رہ گئی۔ کچھ دیر غور کرنے کے بعد اس نے اسکول کے لئے دیر ہو جانے کے خوف سے اپنی حیرت کو پس پشت ڈال دیا۔ نادو چھٹی جماعت میں پڑھتی تھی اور عمر میں دس

Read more

گمان کی سہاگنیں

چڑیل کا عرف عام میں مترادف عورت ہے، ایک ایسی عورت جو اپنی خوشی اور آسانی کے لئے کچھ کر گزرے۔ نہ بھی کرے مگر کچھ کر گزرنے کی خواہش ہی اس کو چڑیل کے منصب پر فائز کر دیتی ہے۔ سمندر کے کناروں پر بنے گھر مہنگے ہوا کرتے ہیں اور رات گئے غیر مرئی مخلوقات کا ساحل پر مٹر گشت آسان ہوتا ہے۔ یوں مہنگے گھر اور سستی چہل قدمی لوک داستانوں میں مہنگی پڑتی دکھائی دیتی ہے۔

Read more

وہ وجود آہن ہے

اس کے حوصلے کسی طوفاں میں کسی طوفاں کی طرح ہی ڈٹے رہتے ہیں۔ وہ طوفان بن کر طوفانوں کو دھکیلتی آئی ہے۔ تموج بن کر بجلیوں کی سازشوں کو للکارتی، دھتکارتی، نچوڑتی آئی ہے۔ ہر موڑ کی رکاوٹ کو اس قدر جھنجھوڑا ہے کہ رکاوٹیں بھی اپنے ہونے پر نادم ہوں گی۔ زندگی کے ساحل پر ہوائیں جب چلنا رک بھی جائیں، دل بھاری، حوصلے شکستہ ہوں، سانس تھم بھی جاتا ہو مگر اس کا ہونا بھی تو ہونا

Read more

ٹرانس جینڈر اور سنٹر سیکس، جوائے لینڈ اور استحقاق

چلیے ہم ایک ویڈیو بناتے ہیں، اس ویڈیو میں جس قدر تلف انسانی نکات کو استعمال کیا جاسکتا ہے، کر لیتے ہیں۔ حلق کو کڑوا کرتے جتنے بھی معاشرتی حقائق ہیں، ان سے جتنا بھی منہ چھپایا جائے چھپاتے ہیں۔ تحقیق کیے بنا جتنا بھی مواد بنایا جاسکتا ہے، بناتے ہیں تاکہ ہمارے جھوٹ کو تقویت ملے۔ دور حاضر کے انسانی حقوق کے اہم نظریات کا کچھ مذاق اڑا کر اپنے بیان میں مزید جان بھی پیدا کر لیتے ہیں

Read more

لاہور، قبائلی علاقے کی نڈر عورت اور اداس اذانیں

فجر کا وقت اس قدر غمگین کیوں ہوتا ہے یا شاید یہ میرے اندر موجود احساس بہت غم سے لبریز ہے۔ کم عمری میں رونما ہونے والے حادثات ہمیشہ انسان کے ساتھ عمر بھر رہتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ فجر کا ہنگام مجھے افسردہ سا کر دیتا ہے۔ اکثر یہ احساس اس قدر حاوی ہو جاتا تھا کہ میری آرزو ہوا کرتی کہ یہ وقت آیا ہی نہ کرے یا جھٹ سے بنا کسی احساس کے گزر

Read more

عورت: ایک بہتان، ایک تھپڑ اور پولیس کی بے حسی

عورتوں کے خلاف تشدد معمول کی بات ہے۔ آج بھی اس کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ اس کو لے کر قانون نافذ اور تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کی کارکردگی بھی عیاں ہے۔ آج بھی پولیس کو کسی جگہ بلوانے کے لئے حقوق نسواں کے کارکنان کو ذاتی میل جول کی تاریں ہلانا پڑتی ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شوہر یا سسرال کے ہاتھوں پٹتی عورت کی مدد کو پہنچ جائیں۔ بہت ممکن ہے کہ بہت سے مواقع

Read more

آخری سفر

شاید غم اس کے سینے سے امڈ کر باہر آ رہا تھا۔ سنبھلا سنبھالے نہیں تھا۔ آج پہلی بار چلتی سڑک پر بے پروائی سے چل رہی تھی۔ جیسے اس کو دنیا کی کوئی پرواہ ہی نہ ہو۔ کوئی تیز رفتار اشارہ توڑتی گاڑی اس کو ٹکر مار بھی دیتی تو وہ خوشی خوشی اس کے نیچے کچلے جانے کی روادار تھی۔ تیز دھوپ کی شعائیں اس کے سر سے پار ہو کر اس کے سینے میں اترتی، جہاں موجود

Read more

بیٹیوں سے بین النسلی بیزاری

بیٹیوں سے بیزاری مائیں اپنی ماؤں سے سیکھ کر آتی ہیں اور اپنی ذات اور ہم ذات سے نفرت باپ، بھائی، شوہر، خاندان، معاشرے، روایات اور من گھڑت دیو مالائی نظریات کروانا سکھاتے ہیں۔

” تم پرائے گھر کی امانت ہو“ ۔ یہ ایسے الفاظ ہیں جس کی تہہ میں موجود توہین اور دھتکار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیٹی کی ذات کی نفی اس گھر (سسرال) اور (شوہر) کی شان میں شروع ہو جاتی ہے جو ان کی زندگیوں میں ابھی وجود بھی نہیں رکھتے۔

Read more

سر ڈھانپو ورنہ سر توڑ دوں گا

میرا سوال بہت سادہ ہے۔ مغرب میں حجاب پر امتیاز اور پابندی کو اسلامو فوبیا کا نام دیا جاتا ہے۔ حجاب کے نام پر مسلمان مرد جب مسلمان عورتوں کو قتل کرتے ہیں، اس کو کون سا فوبیا کہتے ہیں؟ ایرانی کرد، شناخت کی حامل نوجوان لڑکی مھسا امینی کو صرف اس لئے قتل کر دیا گیا کہ اس نے سر نہیں ڈھانپا ہوا تھا۔ اس کو ریاست کی قائم کردہ بدمعاش اخلاقی پولیس نے گرفتار کر کے تشدد کا

Read more

عروسائی پنجروں کی قیدی بچیاں

صبح کافی بارش ہوئی تھی اور شب گئے آندھی بھی خوب چلی۔ یہ سب اسی روز ہوا جب صحت کیمپ لگنا تھا۔ خدشہ تھا کہ کیمپ کے لئے کیے گئے انتظامات درہم برہم ہو چکے ہوں گے۔ خدشات درست ثابت ہوئے۔ پھر کیا تھا، ایک خاتون کے مزار کے ساتھ علاقے کی جنازہ گاہ میں جگہ مل گئی۔ خدا خدا کر کے کیمپ شروع ہوا۔ کیمپ عورتوں اور بچوں کے معائنے کے لئے تھا۔ وہاں آنے والی اکثر عورتیں امید

Read more

تھپڑ – کیا عورت پر تشدد کرنے والا مرد کمزور ہوتا ہے؟

میں نے ایک تاریخ محفوظ کر لی ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جو صحیح وقت پر اپنے بھانجے کو دکھاؤں گی کہ دیکھو اس تاریخ کو دوسری بار تمہارے باپ نے تمہاری ماں پر اس لئے ہاتھ اٹھایا کیونکہ تم رو رہے تھے۔ جب کہ پہلی دفعہ تمہارے باپ نے میری جان سے پیاری عزیزہ جو تمھاری ماں ہے پر ہاتھ اٹھایا تھا تب تم اس کی کوکھ میں تھے۔ میں اس کو بتاؤں گی کہ میں کس کرب میں

Read more

ترکی واقعات: کیا جنسی ہراسانی پاکستانی مردوں کا شیوہ ہے؟

ساحل پر افراتفری مچی ہوئی تھی۔ سب لوگ رک رک کر ایک جانب دیکھ رہے تھے۔ چلتے ہوئے لوگ بھی اب وہاں کھڑے منظر کی سنگینی کو جانچ رہے تھے۔ کچھ لوگ اپنے کم سن بچوں کو لے کر وہاں سے جانے کو ترجیح دے رہے تھے۔ اب وہاں صرف پولیس کے آنے کا انتظار ہو رہا تھا۔ ساحل پر ایک پندرہ سے سولہ سالہ عرب بچہ ایک پاکستانی مرد جس کی شلوار قمیض سے اس کی قومی شناخت واضح

Read more

سیج کنارے

ثوبیہ ایک نوجوان ڈاکٹر ہے یا یوں کہئیے کہ ثوبیہ ایک ڈاکٹر تھی۔ خوش مزاج، خوش لباس، شکل سے خوش، ثوبیہ نے اپنے گھر کے قریب ہی کلینک کھولنا تھا۔ اپنے تئیں اس نے جگہ بھی دیکھ رکھی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اپنے بل بوتے پر کیے جانے والے کام کا لطف ہی اور ہوتا ہے۔ کلینک کے ماتھے ہر اپنا چمکتا ہوا نام لکھوانے کی تمنا کیے ثوبیہ جو کہ ڈاکٹر تھی کی یہ آرزو صرف اس لئے

Read more

سیاست کی وجہ سے اپنے بیوی بچوں کو تشدد کا نشانہ نہ بنائیں

گھریلو تشدد کی روک تھام میں کام کرنے والی بہت سی خواتین اور اداروں کا اندازہ ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو گا۔ تشدد پر مبنی سیاسی تقسیم اور سیاسی رہنماؤں کا عوام کو اشتعال دلانا اس نوعیت کے واقعات کو الگ سے ہوا دیتا ہے۔ ملک کی بگڑتی اور بنتی بحران زدہ سیاسی صورتحال میں اگر کوئی بے قصور ہے تو وہ گھروں میں دن رات ایک کرتی

Read more

مشرق اور مغرب کا فیمنزم

ہمارے یہاں صبح و شام مغرب اور مشرق کے مابین فرق کی گردان پڑھی جاتی ہے۔ یہ درست بھی ہے۔ کہاں مغرب اور کہاں مشرق۔ مجھے حیرت ان مذہبی نوجوانوں پر ہوتی ہے جو رہائشی مغربی ممالک کے ہیں مگر درس مشرقی اقدار کا دیتے ہیں۔ اب کچھ عرصہ قبل، ایک مسلمان نوجوان کی ویڈیو سرایت کرتی رہی ہے جو خود ایک مغربی ملک کا آزاد شہری ہے۔ اس ویڈیو میں وہ اسلام کا مقابلہ فیمنزم سے کر رہا تھا،

Read more

دھیما تعصب: آپ عورت سے کتنی نفرت کرتے ہیں؟

کہتے ہیں کہ بیٹیوں کا ظرف کمال کا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے بیٹوں کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ ان کے سامنے ان کے وجود کی نفی کی جاتی ہے۔ عمر بھر بیٹیوں کو یہی تلخ الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔ میں تو یہ کہوں گی کہ بیٹیوں کی قوت برداشت دیکھیں، عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی بیٹیوں کے منہ پر عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی لڑکیوں کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔ بیٹیوں

Read more

عورت کا قصائی معاشرہ

عالمی یوم خواتین آن پہنچا ہے اور اس دن کے آنے سے قبل ہی دل و دماغ میں ہزاروں جذبات اور خیالات ابھرتے رہتے ہیں۔ ایک پاکستانی عورت بالخصوص عورتوں پر تشدد کے حوالے سے کام کرنے والی عورت ہونے کے ناتے دل کو عجیب سا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نجانے عورت مارچ میں کیا ہو گا، مارچ کو لے کر کیسی کیسی ناگوار باتیں اور بحثیں ہوگی۔ کتنی کتنی بار اپنے ہی گھر اور دفتر میں بار بار

Read more

مارچ تو ہوگا

مارچ کا مہینہ بہار کی آمد کا آغاز کم اور پاکستان میں خواتین اور حقوق نسواں کے لئے برسر پیکار کارکنان کے لئے اعصابی تناؤ، بد تمیزی اور دھونس کا محرک زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ برس عورت مارچ کے آغاز کا پانچواں سال ہے اور گزشتہ پانچ برسوں سے مارچ کا ماہ بہار عورتوں کے لئے ماہ خار کے طور پر زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان میں 12 فروری قومی یوم خواتین کے طور پر منانے کا رواج چند

Read more

مردہ بہن کا گوشت کھانے والے

قندیل کے غیرت کے نام پر قتل کو ہوا کس نے دی؟ اس کے قتل پر بھڑکانے والا وہ میڈیا تھا جو اس کے گاؤں پہنچا، جس میڈیا نے ایک دن اس کے ساتھ گزار کر اس کی شاندار زندگی دنیا اور اس کے گاؤں والوں کو دکھائی جو اس کے بھائی کی یونٹ والوں نے دیکھی۔ جنہوں نے دنیا والوں کو چیخ کر بتایا کہ فوزیہ کہاں ہوتی ہے اور کیا کرتی ہے۔ اس کے بھائی کو کوئی فرق

Read more

درد کا نظریہ کیا ہے؟

سب انسان ضرور ہیں مگر سب ایک دوجے کی عزت و حرمت کرنے کی عبادت سے ناآشنا ہیں۔ سب انسانوں کی عبادت گاہیں الگ الگ ہیں۔ دنیا کے لین دین میں اور خدا جدا جدا ہیں۔ کسی کے لئے کچھ سفید ہے تو کسی کے لئے سیاہ مگر آخر سب انسان ہیں۔ درد سب کو ہوتا ہے۔ آنسو سب کے ٹپکتے ہیں۔ درد ہی سب کو متحد کرتا ہے۔ دکھ کے وقت سب کی آنکھیں بھیگتی ہیں۔ بھیگی سرخ آنکھیں

Read more

ہندوستان کی مسکان اور پاکستان کی بیٹی کارلا

میں نے سنا ہے کہ ہندوستان کی لڑکی پر پاکستان کی لاکھوں عورتوں کو وار دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ باتیں وہی کر رہے ہیں جو پاکستان میں لڑکیوں کو ویسے ہی ہراساں کرتے ہیں جیسے ہندوستان کے انتہا پسند نے مسکان کو کیا، وہ بھی اپنے عقائد کی بنیاد پر۔ ابھی ملالہ کے والد کی ٹویٹ پر ایک نوجوان یہ کہتا ہوا پایا گیا کہ مسکان کی ایک دن کی زندگی ملالہ کی ہزار سالہ زندگی سے

Read more

پاکستان کا آخری وفادار

گھر سے باہر سڑک پر بوٹوں کی آوازیں رات کے سناٹے میں گونج رہی تھیں۔ فضا کو معلوم تھا کہ رات گئے قہر ٹوٹے گا، جب ہی اس نے یاس کی چادر اوڑھ لی تھی۔ غاصبوں کے سپاہیوں کا اک تموج برپا تھا اور سکوت میں تماشا جاری تھا۔ سید علی شاہ گیلانی کے بیٹے نسیم گیلانی جب شب نو بجے گھر لوٹے تو والد سے مل کر ان کی خیریت دریافت کی۔ والد نے انہیں اپنی خیریت بارے بہتر

Read more

آسیب زدہ سیڑھیاں

اسکی عادت دن بھر خوب سونے، شام میں جی بھر کھیلنے اور رات میں دوبارہ سے سیر ہو کر سونے کی تھی مگر اس روز اسے کچھ تھکاوٹ تھی، شاید پانچ گھنٹے کا طویل سفر طے کیا تھا۔ گھر کا احساس کتنا ہی دلکش ہوتا تھا، جس کی راحت کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انسان جتنا تھکا ہارا ٹوٹا پھوٹا ہوا ہو، گھر کے آنگن کے نرم بستر اور گرم لحاف میں سر دبا کر سونے کا سکون کہیں اور

Read more

آپ عورت سے کتنی نفرت کرتے ہیں – حصہ زیور

یہ بتانا کہ لوگ عورتوں سے نفرت کرتے ہیں یہ بتائے بنا کہ لوگ عورتوں سے نفرت کرتے ہیں، میں بتاتی ہوں۔ کچھ ماہ قبل، پاکستان کے شہر منڈی بہا الدین میں پیدا ہونے والی اور برصغیر میں انسانی حقوق بالخصوص حقوق نسواں کا پرچار کرنے والی قابل قدر سماجی کارکن اور مصنفہ کملا بھاسن کا انتقال ہوا۔ ان کی شخصیت جو میں نے پائی تو دل سے تو بس یہ دعا نکلتی ہے کہ رام اور رحمٰن کو ماننے

Read more

قابل شمار انار کے دانے اور تہوں والا پردہ

ابھی اس قدر سردیاں آئی تو نہیں تھیں بس اک ہلکی سی ڈھارس بندھی تھی کہ جاڑے کا موسم آ گیا تھا۔ غالباً دل اس بات پر ہی طمانیت کی کنڈلی مارے بیٹھا تھا کہ موسم گرما نہیں رہا کیونکہ گرمی ہونے کا رعب اور دبدبہ ہی کچھ ایسا تھا کہ اس کے گزر جانے پر قلوب کو اطمینان کا احساس ہوتا تھا۔ اس نوعیت کی نحیف سی خنکی جاڑے کی اپنائیت کا احساس دلائے نہیں تھم رہی تو دل

Read more

کیا عورتیں آپ کو دیکھ کر دوپٹہ درست کرتی ہیں

مجھے ذاتی طور پر سر پر دوپٹہ لینا پسند ہے اور خالصتاً اپنی مرضی سے۔ مجھے رنگ برنگے، ہلکے بھاری، لمبے چوڑے پھولوں اور بیلوں والے دوپٹے بھی بہت پسند ہیں اور سب سے پسندیدہ امر یہ ہے کہ اپنی مرضی سے کسی بھی انداز سے دوپٹہ لیا جائے اور کسی کی ناگوار نگاہوں کے خوف کے بنا لیا جائے۔ ایک وقت تھا جب اس طرح کی باتیں بہت عام تھیں جو کہ آج بھی ویسی ہی عام ہیں کہ

Read more

آپ کتنے عورت دشمن ہیں؟

ہمارے یہاں اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ معاشرہ عورت دشمن ہے۔ اس کے طور اطوار عورت دشمن ہیں۔ عورتوں سے شدید نوعیت کی پنہاں اور عیاں نفرت کی جاتی ہے۔ یہ نفرت تب بھی تھی جب پاکستان میں سماجی روابط کے ذرائع نہیں تھے، جب عورت مارچ بھی نہیں تھا، جب پڑھی لکھی خواتین کو بھی فیمنزم کا ادراک نہیں تھا۔ اب چونکہ یہ سب ہے تو میں بڑے اعتماد سے یہ کہہ سکتی ہوں

Read more

انصاف کیا صرف قبر میں ہے؟

یہ واقعہ میں نے چھٹی یا ساتویں جماعت میں سنڈے میگزین میں پڑھا تھا۔ اخبار کا نام یاد نہیں کیونکہ دو نامور جرائد گھر آتے تھے اور دونوں ہی پڑھے جاتے تھے۔ ماجرا کچھ یوں ہے کہ ایک صاحب نے جو غالباً صحافی تھے، سیالکوٹ سے اپنی تحریر بھیجی تھی۔ اس تحریر کا موضوع قبر کے عذاب پر مبنی تھا۔ لکھنے والے کی نیت پر شک کر رہی ہوں نہ کہانی میں دیے جانے والے سبق کی نفی کرنا چاہتی

Read more

لڑکی کا رشتہ ناچ اور ممکنہ جہیز

عروج ایک ایسی لڑکی ہے جو روایتی رشتہ ناچ کی سنگین متاثرہ ہے۔ روز روز کا رشتہ ناچ اس کی زندگی کی سب سے بھیانک حقیقت بن چکا ہے۔ کسی سرطان کی طرح یہ سارا انسان تلف عمل اس کے ذہنی سکون اور احساسات کو نیست و نابود کر رہا ہے۔ اب تو اس عمل کو عملی شکل اختیار کیے ہوئے تین برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ آخری بار جب اس کا رشتہ طے ہوا تو مجھے

Read more

ہم کم تر عورتیں

مجھے 24 فروری 2012 کی وہ دوپہر یاد ہے جب ایک تربیتی طیارے کو پرواز کرتے دیکھا اور صرف چند لمحات کے اندر یہ بریکنگ نیوز سنی کہ ماڈل ٹاؤن میں ایک پرائیویٹ تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوا۔ اس حادثے میں خاتون پائلٹ اور تربیتی ہوا باز کی جانیں گئیں۔ اس وقت کی نیوز اینکر ناجیہ عشر نے جب ایس پی آپریشنز ماڈل ٹاؤن معروف صفدر واہلہ سے حادثے کے متعلق سوال کیا تو ایس پی صاحب کا پہلا

Read more

رشتہ ناچ اور پولی سسٹک اوویرئن سنڈروم

جن کے لئے رشتہ دیکھنے کا عمل خوشگوار رہا ہو، یہ تحریر ان کے لئے ہرگز نہیں ہے مگر جو اس ناخوشگوار مرحلے سے گزرتی ہیں، یہ ان تمام لڑکیوں کے جذبات اور اس معاشرے میں موجود عورت عناد پہلووں کی کھلی نشاندہی ہے۔ ”میرے پاس الفاظ ہیں نہ جذبات۔ بس میں نہیں چاہتی کہ کوئی آواز ہو یا یہ خاموشی ٹوٹے۔ میں چاہتی ہوں کہ سب چپ کر جائیں اور مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔ میں روز روز کی اس

Read more

بے آسرا مائیں اور بے گھر بیویاں

میں اپنی ماں کی وہ چیخ نہیں بھول سکتا جب اس نے مجھے دیکھ کر ماری۔ اس چیخ میں تکلیف اور ضعیفی دونوں کا یکسر ملاپ تھا۔ وہ مجھے دیکھ کر دیلیز کی طرف بھاگی کہ کسی کو تو اس عمر میں اس کا بھی خیال تھا کہ اس کے سب بیٹوں نے اس کو نہیں چھوڑا تھا۔ ایک ضرور تھا جو اس کی راہ تکتے پانچ دریا پار بھی آخر کو آہی گیا تھا۔ میری ماں نے تب اپنا

Read more

ستاروں کے گاؤں کی عورتیں

سلطنت میں ایک ویران علاقہ تھا، تباہی اور خستہ حالی کا شکار۔ سننے میں آتا تھا وہاں انسان موجود تھے نہ سورج کی کرنیں وہاں پہنچتی تھی۔ وہاں کے باسیوں کو اس بابت یقین تھا کہ ستاروں کی پرستش کی وجہ سے ہی یہ عظیم تر لوگ ہیں مگر ان کی زبوں حالی کچھ اور بتلاتی تھی۔ بہت سے مہم جووں نے اس علاقے کو پار کرنے کی کوششیں کی مگر وہاں ایک عجیب قسم کی ہولناکی تھی۔ بو کے

Read more

سانپوں کو سانپ سونگھ گیا؟

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل کا نام جھوٹ تھا۔ اس جنگل کو اپنے جنگل ہونے ہر اس قدر اطمینان تھا کہ اکثر جنگل کو جنگل کہنا ہی معیوب لگتا تھا۔ جنگل کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہاں سب کو سانپ نے سونگھ رکھا ہے۔ جنگل میں شور تو ہر وقت مچا رہتا تھا مگر اس شور میں بھی سکوت تھا۔ جنگل کے پرندوں کی آوازوں میں سر تھا نہ چہچہاہٹ، بس سانپ نے سونگھ رکھا تھا۔

Read more

تقسیم کی دلہنیں اور گھر کے مجرم چراغ

تقسیم کا وقت جیسے ایک موقع تھا جس کو ہندوستان کے بہت سے مردوں نے گنوانے نہیں دیا۔ جہاں سکھ اور ہندو مسلمان لڑکیوں کو جبر جنسی کا نشانہ بناتے رہے، وہیں مسلمانوں نے بھی ہندو اور سکھ لڑکیوں کو معاف نہیں کیا، مختصراً، عورت کو معاف نہیں کیا۔ مختلف مذہبی تشخص رکھنے والے مردوں نے انہی مختلف یعنی مخالف مذہبی تشخص رکھنے والی لڑکیوں کو ایک ہی طریقے سے جنسی جبر کا نشانہ بنایا۔ جس میں کسی قسم کا

Read more

عورت کے لباس سے دور رہیں

اس ملک میں کوئی دن نہیں گزرتا جب عورت کے لباس پر کوئی چٹکلہ نہیں کسا جاتا۔ عورت افغانی ہو یا پاکستانی، اس کے بدن، لباس، حجاب، اور ایمان پر سب نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے جیسے عورت پر لعن طعن کرنے سے ان کے گھر کے دستر خوان سجتے ہیں۔ آپ بتائیں، احتجاج کرنے والی افغان عورتوں پر لعنت بھیج کر کون سا قرار ہے جو حاصل ہوا؟ کیا آپ کے بجلی کے بل قدرتی طور پر

Read more

یہ مینار پاکستان نہیں، آپ کا قومی مقبرہ ہے

جب چند خواتین نے خواتین کے خلاف جرائم کے پر احتجاجاً یوم آزادی نہ منانے کی تجویز دی تو شور مچانے اور انگلی اٹھانے والوں کی قطار بندھ گئی، ان کے نزدیک ملکی وقار اور یوم آزادی کا جنسی و گھریلو تشدد سے تعلق نہیں تھا۔ یوم استقلال پر عین مینار قومی وحدت و عقیدت کے وسط می جو آفت ایک عورت پر ٹوٹی وہ ایسا زور دار طمانچہ تھا مگر گالیں لال نہیں نیلی پڑ گئیں ہیں اخلاق اور

Read more

پاکستانی عورت اور مسجد

آپ ایک خاتون ہیں اور جونہی مسجد میں قدم رکھیں تو روح تک جیسے نشتر داغ دیے گئے ہوں۔ ایک دم سے جیسے پردیس میں آ گئے ہوں جہاں کوئی اپنا نہ ہو۔ جیسے عورت نہ ہوئی کوئی بلا ہو گئی۔ وضو کرتی نظریں، کندھوں سے جھانکتی سلام پھیرتی دیدیں ایسے تفتیش کرتی ہیں جیسے غلطی سے کوئی سرحد پار کر لی ہو، یا ہمارا خدا کے گھر سے کوئی تعلق نہ ہو۔

Read more

عورت کی حیثیت ہی کیا ہے!

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جس وقت اس ملک میں جانوروں کی ”اخلاقی“ طور پر گردنیں کٹ رہی تھیں، اس سے چند گھنٹے قبل رات میں ایک لڑکی کی بھی قربانی کی گئی۔ ہم چاہے لاکھ کہانیاں کیوں نہ گھڑ لیں کہ قربانی کا جانور قربان ہونے کو بیتاب ہوتا ہے مگر عین قربانی کے وقت اس کا احتجاج، آنکھیں، اور لرزتے جسم کے تمام حصے بتلاتے ہیں کہ مرنا تو کوئی جاندار بھی نہیں چاہتا۔ کوئی بھی ذبح نہیں ہونا چاہتا۔ آپ کیا تھپڑ کھانے کے روادار ہوسکتے ہیں؟ تو کوئی تشدد سہنے اور ذبح ہونے کا روادار کیسے ہو گا؟ انسانیت یا یوں کہیے کہ جانداروں میں شعوری یا لاشعوری طور پر ایک عقیدہ ہے جس پر سب متفق ہیں کہ تکلیف اور درد کوئی بھی نہیں سہ سکتا۔ زندگی کا نظام ہی ایسا ہے، دماغ تکلیف نہ سہنے کی ہر طرح کی کوشش کرتا ہے۔ تو کوئی انسان جس پر برملا تشدد معمول کی بات ہو وہ کیسے اس پر خوش ہو سکتا ہے؟ لوگ اس عام فہم کی بات پر بھی کیسے غیر انسانی غیر فطرتی تاویلیں گھڑ سکتے ہیں؟

Read more

جانوروں کی جبری کھیتی باڑی

دنیا بھر میں ہر روز کروڑوں کی تعداد میں جانور غذا اور انسانی استعمال کی خاطر ذبح کیے جاتے ہیں۔ ایسی کون سی جادوئی چھڑی ہے جو روزانہ اتنی بڑی تعداد میں مرنے والے جانوروں کی نسل کم نہیں ہونے دیتی؟

عید قرباں کی آمد آمد ہے۔ گلیوں محلوں، چوراہوں میں جا بجا قربانی کے جانور بندھے اور مچلتے ہی نظر آتے ہیں۔ گائے، بیل، بکرے، اونٹ، دنبے ہر ہی گلی میں اپنی زندگی کے دن گنتے دیکھیں گے۔ قربانی مذہبی فریضہ ہے جس کی توثیق یہ ہے کہ اس روز غریبوں کو وہ غذا کھانے کو میسر آتی ہے جو سارا سال ان کو نصیب نہیں ہو پاتی۔

Read more

عورت اور مذہب کو مسیحائی درکار ہے

مذہب اور اقدار کے نام پر گھریلو تشدد (روک تھام اور تحفظ) بل 2021 کو رد کیا گیا ہے۔ کیسا ہی عجب معاملہ ہے اس دین کے نام پر ظلم کو تجویز اور تفویض کیا جا رہا ہے جس نے اپنے ظہور کے ساتھ عرب سماج کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ دین جس نے عرب خاندانی نظام کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کیا۔ عورت کو وراثت میں حق دینے کو کہا، تو نومولود بچیوں کو زندہ رکھنے پر

Read more

پاکستان میں حساب نسواں کے زریں اصول

چونکہ ہمارے ملک میں خواتین کے خلاف جرائم ”معاشرتی“ اور ملی نوعیت کا رخ اختیار کر لیتے ہیں، اس لئے خواتین کے خلاف جرائم پر آپ کو اقدامات تو کیا بات بھی کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ خواتین جو فتنہ در فتنہ اپنے دامن میں چھپائے رکھتی ہیں، اب ملکی وقار اور سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ پہلے پہل یہ روشن اقدار اور شاندار روایات کے لئے ایک عدد عارضہ تھیں، وہیں ملکی وقار کے درپے

Read more

عورت نہیں یہ تو گوشت کا لوتھڑا ہے

گزشتہ روز، میٹرو بس ایک اسٹاپ پر ٹھہری، جہاں کم عمر طالبہ پر نویں یا دسویں جماعت کا لڑکا چیخ چلا رہا تھا۔ بآسانی معلوم ہوتا تھا کہ کم عمر طالبہ کو وہ لڑکا ہراساں کر رہا تھا، وہ اس قدر بد معاشی اور بد تمیزی کا مظاہرہ کرتا رہا کہ لڑکی اس پر یہ کہہ کر چلانا شروع ہوئی کہ وہ اپنی بد کلامی بند کرے۔ اس وقت اس اسٹاپ پر پندرہ سے بیس افراد اور سکیورٹی اہلکار موجود تھے، جن میں سے ایک بھی اتنی سکت نہ رکھتا تھا کہ بدمعاشی کرتے اس لونڈے کی زباں کو قفل لگاتا۔

گالیاں، دھمکیاں، ہراسانی کو دیکھتے جب میں نے اور میرے ساتھ میری عزیزہ نے اس لڑکے کو منہ بند رکھنے اور حدود میں آنے کا کہا، جب ہی اس نے ہم پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ اس لڑکے کی عمر ہماری تعلیم سے بھی کم تھی، مگر اس کے اندر دہکتا عورت دشمنی کا الاپ تھا کہ جلتا رہا۔

Read more

ہم عورتیں آپ سے کیا چاہتی ہیں؟

ہم عورتیں مردوں سے کیا چاہتی ہیں؟ آپ ہم سے بہت کچھ چاہ سکتے ہیں مگر آپ ہم سے ہمارے بھائی، باپ، دوست، ہمسفر، دفتر کے ساتھی، استاد ہونے کے ناتے کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم آپ سے ہمارے بارے کیا چاہتی ہیں؟ اللہ نے عقل اور شعور تو دیا ہے اور سب کو ہی دیا ہے، اگر زمانے کے لحاظ سے عقل اور شعور کو استعمال کرنے کی سکت بھی دی ہے تو پھر بھی آپ لوگ کیوں نہیں

Read more

آپ اپنا ستائیس روپے بچاس پیسے حق مہر اپنے پاس رکھیں

اپنی دل و جان سے عزیز سہیلیوں کے حق مہر کی رقوم کا وعظ سنتے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے شدید آندھی آئی ہو اور سب اڑا کے لے جانے کے بعد تھم گئی ہو۔ دل جیسے زور دار دھماکوں سے پھٹتا جا رہا ہو یا ایک نظام کا لادا ہوا بوجھ ہے جو اٹھانے پر زبردستی مجبور کر دیا گیا ہو۔ غضب خدا کا، نکاح نامہ ہے کوئی طلاق نامہ تو نہیں جس کو لے کر ابہام ہوں۔ حق مہر

Read more

خدا! اپنے گھر کی محافظوں کو شر عجم سے بچا

سنا ہے کہ حرم اور گنبد خضریٰ کے سائے میں عورتیں عورتوں کے تحفظ اور مدد کو آئی ہیں۔ ساتھ میں یہ بھی سنا ہے کہ یہ عورتیں وہاں بھی بے حیائی اور گندگی پھیلا رہی ہیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ قیامت کی نشانی بھی ہے۔ نفرت کی بدنما صورت یہ ہو سکتی ہے کہ انسان کے ظاہری اور مادی وجود سے گھن محسوس کی جائے، اس کو تکلیف میں مبتلا کیا جائے یا نفرت کے برملا اظہار کو

Read more

کالعدم تحریکِ لبیک، اسپیڈو بس کی لڑائی اور فتنہ

”عورت فتنہ ہے“ یہ تو ہم عام طور پر سنتے ہیں۔ اپنی مرضی سے کوئی وعظ دے دیا تو عورت فتنہ، گھر الگ کر لیا تو فتنہ، حق مانگ لیا تو فتنہ۔ آج میں آپ کو بتاتی ہوں کہ فتنہ کیا ہوتا ہے اور کون ہوتا ہے۔

کالعدم تحریک لبیک کے کارکنوں کے احتجاج کی ویڈیو دیکھنے کو ملی، جس میں فراخ دلی سے والدہ اور ہمشیرہ کی ”آبرو ریزی“ پر مبنی گالیاں سنی جا سکتی تھیں، جس سے کچھ ہفتے قبل کا ایک واقعہ یاد آیا۔ یہ کورونا کی تیسری لہر سے کچھ روز قبل کا واقعہ ہے جب پبلک ٹرانسپورٹ رواں تھی۔ جیسا کہ اسپیڈو بس کچھ مخصوص لمحات کے لئے ہی ایک اسٹاپ پر کھڑی ہوتی ہے، وقت سے زیادہ کھڑی ہو تو ڈرائیور کو کچھ جرمانہ ہوتا ہے، کم از کم سنا یہی ہے۔ شام کا وقت تھا، بس میں تل دھرنے کو بھی جگہ باقی نہ تھی۔ مرد و زن کے دونوں خانے ہی بھرے پڑے تھے۔ شام کے اوقات بھی کچھ ایسے ہجوم زدہ ہوا کرتے ہیں کہ بیٹھنے کو تو دور، ٹھیک سے پیر جمانے کو جگہ ڈھونڈنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

Read more

عورت کا کھانا بنانا نامحرموں میں ہیجان کا باعث تو بنتا ہو گا؟

عورتوں کو کھانا نہیں بنانا چاہیے، عورتوں کو اچھا کھانا نہیں پکانا چاہیے، عورتوں کو اچھا کھانا پکا کر نامحرموں کو نہیں کھلانا چاہیے۔ بادیان کے پھول اور زعفران کا استعمال سرکاری سطح پر جرم قرار دے کر مجرموں یعنی کھانے میں ان خوشبودار اجزاء کا استعمال کرنے والی عورتوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ کھانے کی مہک غیر مردوں کو عورت کی طرف غلط خیالات کے ساتھ متوجہ کر سکتی ہے۔ اس لئے عورت کو اچھا کھانا بنانا ہی نہیں چاہیے۔

بالکل ویسے ہی جیسے عورتوں کو ہمہ وقت سر ڈھانپ کر رکھنا چاہیے، کوئی اجنبی گھر میں قدم رکھ دے تو چھپکلی کی طرح کسی سوراخ میں دبک جانا چاہیے، گھر سے باہر نہیں جانا چاہیے، تعلیم مکمل نہیں کرنی چاہیے، تعلیم حاصل کر بھی لی، اس کو منطقی انجام تک پہنچا کر ملک و قوم کی خدمت نہیں کرنی چاہیے۔

Read more

خانۂ مقدس میں جنسی ہراسانی کے واقعات

گزرے برسوں کی بات ہے، جب ایک دور کے رشتے دار کو حج کا فریضہ ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ وطن لوٹ کر حج کے تجربات میں ایک تجربہ بتاتے ہیں کہ جتنی حسین مصری عورتیں ہوتی ہیں اتنا کوئی بھی نہیں ہو سکتا ۔ جس قدر ان کی خوبصورت آنکھیں ہیں، ویسی دنیا میں کہیں نہیں۔

گزشتہ برس انگریزوں کے توسط سے رپورٹ آئی، جس میں کچھ مسلمان خواتین نے حج و عمرہ کے موقع پر حرم شریف میں ہونے والے جنسی استحصال کا حال بتایا تھا۔ بات بہت پھیلی، کہانیاں بنی گئیں، جھوٹ، فتنہ، سازش اور نہ جانے ان مسلمان خواتین جنہوں نے حج و عمرہ کی سعادت بھی حاصل کی کو کیا کیا نہیں کہا گیا۔

Read more

کیا ترک بھی عورتوں سے نفرت کرتے ہیں؟

لباس کے حوالے سے یہ ایک عام تأثر ہے کہ جہاں خواتین کم لباس پہنتی ہوں وہاں ان کو باآسانی بنیادی حقوق ملتے ہوں گے بالخصوص جنسی و گھریلو تشدد نہ ہونے کے برابر ہو گا۔ جہاں یہ تأثر ہے وہاں پر یہ بات بھی عام ہے کہ جہاں عورتیں سر تا پا لباس پہنتی ہوں وہاں اخلاقی نوعیت کے جرائم نہیں ہوتے۔ یہ دونوں باتیں ہی دروغ اور بددیانتی پر مبنی ہیں۔ روشن خیال اقدار کا تعلق بہت حد

Read more

آپ اپنے وطن کی عورتوں کے ریپ پر بات کیوں نہیں کرتے؟

عورت مارچ پر میں نے ایک حضرت کے پلے کارڈ کی دل سے تصویر بنائی تھی۔ میں نے اخلاقی اصولوں کے تحت پہلے اجازت طلب کی اور پھر تصویر لی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ صاحب ہمارے ہی مارچ میں آ کر ہمارے ہی خلاف میڈیا پر زہر اگلیں گے۔ ان کے پلے کارڈ پر لکھا نعرہ ان مسلمان خواتین کے لئے تھا جن کا کوئی وطن نہیں۔ فیمنزم کے نزدیک کوئی جغرافیائی، مذہبی، معاشی، نسلی یا قومی تفریق نہیں

Read more

پاکستانی لان کے شوٹ میں عائزہ خان کو ترک اداکارہ کے عقب میں کیوں کھڑا کیا گیا؟

ترکی، ہمارے خوابوں کی نئی سرزمین، بلکہ پاک سرزمین۔ خود ساختہ جستجوؤں کا مرکز، ہمارے آباء کی مبینہ تاریخ، ہمارا آخری وعدہ، ہماری بعد از جدیدیت تجدید، نیا سوئٹزر لینڈ، سماجی قبلہ، حسن و جمال کی ایک نئی مثال، رسم و رواج کی شان۔ کچھ عرصے سے ترکی برادر اسلامی ملک سے تبدیل ہو کر پاکستان کی کھوئی ہوئی میراث بن گیا ہے۔ اس بات کا ادراک خود ترکوں کو نہیں ہو گا مگر برادر ملک سے اس قدر محبت

Read more

غلیظ امارت اور آم سے جڑی قومی محبت

ملتان میں عام کے باغات کی صفائی سے بہت سوں کے دل رنجیدہ ہیں۔ ہوں بھی کیوں نہ کہ معاملہ ہی ایسا غضب ناک ہے۔ کبھی دیکھا نہ سنا کہ کسی بادشاہ نے سونے کی کان جلا کر راکھ کر دی ہو، کسی ملک نے اپنے قومی اثاثے کسی سمندر میں بہا دیے ہوں؟ ہاں یہ ممکن ہے کوئی حاکم دیوانہ ہو اور ہوش کھو کر ایسے احکامات دے۔ دور حاضر میں یہ مثال ملبے سے اٹھتے دھوئیں کی مانند

Read more

کرونا بعد از ویکسین: کیا یہ خبر ملکی مفاد میں حساس نہیں تھی؟

ہم نے شروع سے ہی یہ سنا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی جان لیوا بیماری چھپائے رکھی۔ اس کی وجہ جو ہم جانتے ہیں کہ ان کے سیاسی مخالفین ان کی بگڑتی صحت کا سیاسی فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ مشکل اوقات میں قومی رہنما ایسے فیصلے لیتے ہیں جن کا بڑے پیمانے پر مثبت اثر ہو چاہے ان کی جان ہی کیوں نہ خطروں سے دوچار رہے۔ جس میں نقصان کا خدشہ ہو، ایسی

Read more

عورت عورت کی دوست ہے، دشمن تو نظام ہے

میں اس بات پر معذرت خواہ بھی ہوں اور رنجیدہ بھی کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو وہ سب نہیں ملا جو ان کا بنیادی حق تھا۔ عورتوں کی بڑی تعداد میں سے صرف چند عورتوں کو کچھ حقوق نصیب ہوتے ہیں۔ وہ تعلیم حاصل کرتی ہیں، زندگی میں آگے بڑھتی ہیں اور اپنے شعبوں میں کامیاب بھی ہوتی ہیں۔ میں نے بہت پہلے سے محسوس کر لیا تھا کہ ہماری خواتین جو زندگی کے ان امور میں پیچھے رہ

Read more

جنسی استحصال: جو وہ کرتا ہے، وہی تو کہتا ہے

تقدس اپنے معنوں میں بھی بہت محترم سا محسوس ہوتا ہے۔ مجھے اعتراض صرف یہ ہے کہ تقدس اس قدر بھی بڑھنا نہیں چاہیے کہ صحیح اور غلط کی تکرار نہ ہونے کے برابر ٹھہرے۔ جب رشتوں کا تقدس انسانوں کو تکلیف دینا ہو جائے، تب تقدس سے بڑھ کر کوئی توہین نہیں۔ جہاں یہ سکوں دیتا ہے وہاں یہ اذیت بھی بہم پہنچاتا ہے۔ رشتوں کو تقدس کی جو چادر اوڑھا دی گئی ہے اس کے اندر بہت سی

Read more

فیمنسٹ ہونے کی نشانیاں

گزشتہ برس کی بات ہے، ایک ویڈیو نظروں سے گزری۔ گزری بھی کیا، خود نیت کر کے دیکھنا شروع کی۔ معلوم نہیں اس ویڈیو میں تلاوت ختم ہونے کے بعد درس کب شروع ہوا مگر جیسا کہ ہمارے شعور کی گھٹی میں یہ خوف ڈالا گیا ہے کہ بھول کر بھی کوئی بھی دینی بات بیچ میں ہی دیکھنا یا سننا ترک کر دی تو نجانے کیسا گناہ سرزد ہو جائے گا، قیامت کے دن بری گھڑیاں سہنا نہ سہنا

Read more

حسین شاہ سے علی سدپارہ تک پھیلی ہوئی قومی بےحسی کی داستان

یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کہ جب لوگ مر جاتے ہیں تو ہم تعریف، محبت اور احساس کے دھاگے سے ایک ایسا پیرہن بنتے ہیں جس کا گزر جانے والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس پیرہن سے مرنے والوں کی نامکمل آرزوؤں پر کفن تو ڈالا جا سکتا ہے مگر ان کی زندگی میں راحت کا کوئی دروازہ نہیں کھلتا کرتا۔ علی سد پارہ کی کہانی معلوم ہوگی تو ہم شرم سے پانی پانی بھی شاید نہ ہوں،

Read more

ہمیں دوسروں کی خوشی سے نفرت کیوں ہے؟

پی ایس ایل کے نئے ترانے کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔  نصیبو لال کی گائیکی کے انداز اور انگریزی کے ٹھٹھے اڑانے والے وہ ہیں جو انگریزی کے ماضی ، حال اور مستقبل کے افعال(Tenses) میں فرق نہیں جانتے۔ جو did  کے ساتھ سیکنڈ فارم آف ورب بڑے ہی اہتمام سے لگاتے ہیں۔

Read more

صنفی امتیاز کی حقیقت سے انکار کرنے والے

اللہ نہ بخشے، ایک صاحب عورت دشمنی اور مرد کی مظلومیت کے مافوق الفطرت گماں میں اس قدر محدود عقل و دانش ثابت ہوئے کہ اس منہ چڑاتی زہر اگلتی حقیقت کو سرے سے ماننے پر تیار نہیں تھے کہ اس ملک میں ریپ اور جبر جنسی کے واقعات بھی ہوتے ہیں۔ صاحب دروغ و عناد کی متشدد اور متنفر سوچ جس کو پدرسری کی ہزاروں سال پرانی دیمک چاٹ چکی تھی اس بابت ایماں رکھتے ہیں کہ ہر درج

Read more

عربی زبان کی تعلیم: عقیدت یا احساس کمتری

عربی زباں کے تقریباً تیس جبکہ ترک زبانوں کے پینتیس بولے جانے والے لہجے ہیں۔ اگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کل کلاں کو پاکستان کی قومی زباں عربی یا ترک ہوگی تو ریفرینڈم کرانا مناسب رہے گا۔ مگر کس زباں کا کون سا لہجہ لاگو ہوگا یہ ابھی بھی ایک پریشان کن بات ہے۔ جیسا کہ ہم سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ہمیں اپنی شناخت اور پہچان سے کس قدر بیر ہے۔ ہمیں اپنی زمیں جو

Read more

تعلیم گاہیں طالبات کے لباس کیوں ناپتی ہیں؟

ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب اس ملک میں ایرے غیرے بڈھے اور ان کے پسر جو سر پر چڑھے ہوئے ہیں، ملک کی عورتوں پر مذہبی اور روایتی اقدار کی پھلجھڑیاں نہ برسائیں۔ ان سر پر چڑھے پدر سروں اور ان کے پسروں کے ہمراہ کبھی کچھ طاقت کا جھوٹا پیراہن پہننے دختران قوم بھی کھڑی پائی جاتی ہیں۔ ان کا گمان ہے کہ کسی عورت کے سر سے سِرکا ہوا آنچل ان کے ایمانوں اور اقدار میں بگاڑ

Read more

کم سن ماہواری شادی کی سند ہے؟

میں نے چند روز قبل ایک مرد اور عورت کو بحث کرتے سنا۔ ماجرا کچھ ایسا تھا کہ ایک آدمی کی موت کا تذکرہ کیا جا رہا تھا۔ جس کی موت کے غم میں بیوی اپنے حواس کھو چکی تھی۔ آدمی کی شادی کے وقت عمر پینتیس سال جبکہ دلہن کی عمر گیارہ برس معلوم ہوئی۔ اب وہ دو بچوں کی ماں اور عمر میں پندرہ برس کی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ خاتون اس بابت مبحث تھیں کہ ان کے سامنے بیٹھا شخص آخر کیسے ایک گیارہ سالہ کمسن لڑکی کی شادی کی مجرمانہ انداز میں حمایت کر سکتا تھا۔ جبکہ کم سن دلہن بارہ اور چودہ برس کی عمر میں متواتر حمل سے بھی رہی۔ جبکہ خاتون کے روبرو بیٹھا شخص گیارہ سالہ کم سن لڑکی کی شادی کے حق میں مذہبی نوعیت کے دلائل بنا تحقیق کیے فخریہ انداز میں پیش کرتا رہا۔

Read more

تشدد کی قیمت کیا ہے؟

اتفاق سے میری نظر ایک تبصرے پر پڑی، جو چھاتی کے سرطان کے متعلق آگہی دینے والے صفحے پر کیا گیا تھا۔ مجھے اتنا معلوم تھا کہ مفید معلوماتی مچان پر کوئی منفی انداز فکر موجود نہیں ہو سکتا مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ چھاتی کا سرطان چونکہ چھاتی کا ہے تو اپنے ساتھ زندگی کو لاحق موت کے خطرے کے ہمراہ حیا اور شرم کے پہلو تک لے آتا ہے۔ حیا اور شرم کے جس پہلو کی جانب

Read more

کیا ویب سیریز چڑیلز میں جھوٹ بولا گیا ہے؟

چڑیلز نامی ویب سیریز، سنا تو سب نے ہی ہے ساتھ ہی دیکھے، جانے اور سمجھے بنا پرکھ بھی لیا گیا کہ اپنی نوعیت کا منفرد نمونہ معاشرتی اقدار کے خلاف ہی ہوگا۔ ابھی یہ شاہکار نشر بھی نہ ہوا تھا کہ پذیرائی سے بڑھ کر رسوائی میں سینچا گیا۔ ہمارے یہاں کہ معدوم جدت پسندوں اور کمیاب حقوق نسواں کے مچانوں پر خوب مدح سرائی ہوئی تو قدامت پرست اور یقیناً قوم پرست حلقوں میں مذمت اور ناپسندیدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کی وجوہات بتانے کی ایسی کوئی ضرورت نہیں۔ غالباً پہلی بار کوئی ایسا نمونہ بنائے جانا، جس میں بلا جھجک اور واشگاف الفاظ میں ان مظالم اور جرائم کو عیاں طور پر فلمایا گیا جس کا سمجھداری اور وزن کے ساتھ فلمائے جانا سوچ کے حصاروں کو پہلے کبھی حقیقی طور پر چھوا بھی نہ تھا۔

ناقدین اور ناپسند کرنے والے شرفاء کو اس ناٹک کے تقریباً ہر پہلو پر اعتراض رہا جن میں سے چند گوش گزار کرتی ہوں

Read more

موقع پا کر درندگی پر اترنے والے مسیحا

ایک خاتون اسپتال یا کلینک میں بچہ جن رہی ہو اور کوئی اجنبی اس کی نہایت فطرتی اور تکلیف دہ مرحلے میں خفیہ طور پر مجرمانہ فلم بندی کرنے میں مصروف ہو، تا کہ کل کو وہ اس خاتون کو اس کے نہایت ذاتی اور فطرتی عمل کی عکس بندی دکھا کے شرمسار کرے، یا ہراساں کر سکے اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کر سکے۔ جہاں تک دوران پیدائش مرحلے کو فلم بند کر کے کسی کو ہراساں کرنے کا ہے، جو خالصتاً شرم ہی سے منسوب ہے، تو بتاتی چلوں کہ دنیا کا ہر انسان بشمول عورتوں کی زچگی میں فلم بندیاں کرنے والے اور عزت اور تقدس کو عورت کی زانو میں رکھ کر نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے تمام آدم، عورت کی زانو ہی سے دنیا میں تشریف لائے ہیں، جسے وہ ماں کہتے ہیں۔

وہ ہم جماعت، ہم کار، ٹی وی پر ”تیرے جسم میں ہے کیا؟ آہ تھو“، کرنے والوں سمیت ہر کوئی عورت کے جسم سے جنا گیا ہے۔ یہ الگ مدعا ہے کہ زندگی جننے والے اعضا کو شرم سے تشبیہ دے کر ”غیرت“ کو ہوا دی جاتی ہے۔ مگر یہاں اس بحث کا محور، مجرمانہ طور پر خفیہ عکس بندیاں ہیں، جو اسپتالوں میں ہوتی ہیں۔ مریض کی بیماری سے فائدہ اٹھانے والے کم ظرف ہیں، جو مریض کی بیماری میں بھی، ذلت کے گڑھے میں کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔

Read more

ماں بہن کو پڑتی گالی آپ کی حیا اور مار پیٹ آپ کی اقدار ہیں

دنیا کی ایسی ہر جگہ، ملک، شہر، معاشرہ، گاؤں، بستی، گوشے، پاتال میں، جہاں جنسی تشدد کو عام سی چیز یا سرے سے اس کے ہونے کو جھٹلایا جاتا ہے، وہاں عموماً اکثریت میں کم عمر بچیوں، بچوں اور لڑکیوں کو اس بات کا ادراک نہیں ہو پاتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے یا جو ان کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ غلط ہے بھی یا نہیں۔ ایسے معاشروں میں ایک ہمارا معاشرہ بھی ہے۔ متاثرین کو تب جا کر ادراک ہوتا ہے، جب ایسے واقعات کو بیتے ہوئے دو، تین یا چار عشرے گزر چکے ہوں اور اکثریت تو لاعلم ہی قبور میں اتار دی جاتی ہے۔

متاثرہ خواتین، اپنے ہی مجرموں کو اپنے ہی گھروں میں دہائیوں تک چائے پانی، کھانا اور گرم گرم روٹیاں بنا کر دیتی رہی ہوتی ہیں۔ ادراک ہو بھی جائے، تب بھی چپ سادھنے اور اندر ہی اندر گھٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ ایسے تو خواتین کو اپنے ساتھ زیادتی اور ظلم کرنے والوں کے ساتھ رہنے کی تربیت اور تجربہ اچھا رہتا ہے، چاہے وہ میکہ ہو یا سسرال۔

Read more

غریب ہندو لڑکی کا ریپ اور خودکشی: اس لئے بنا تھا پاکستان؟

جب وسط جولائی دو ہزار انیس میں، تین آدمی ایک سولہ سالہ ہندو لڑکی مومل میگھواڑ کے ساتھ جبری زیادتی کر رہے تھے، تب ان کو ادراک تھا کہ دلن جوتڑ گاؤں کی اس غریب ہندو لڑکی کی فریاد کسی کے ضمیر پر بھی بوجھ نہ بنے گی۔ تینوں اس دور اندیشی اور درست فہمی میں بجا تھے۔ اجتماعی جبر جنسی کا مقدمہ درج ہونے پر تینوں کو ہی ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور آج تک آزاد ہیں، جو کہ اس ملک کا وتیرہ بن چکا ہے۔ جبر جنسی کا یہ انوکھا واقعہ تھا نہ کسی ہندو لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا تشدد کا انوکھا حادثہ۔ یقین کیجئے یہ روز ہوتا ہے اور بے حساب و کتاب ہوتا ہے۔

Read more

ہمارے محمد علی جناح: لنکنز ان سے ماڑی پور تک

سولہ سال کا لڑکا تھا، جو اپنی ماں کی آرزو مکمل کرنے کی خاطر پنیلی گاؤں کی ایک چودہ سالہ لڑکی سے بیاہ کر رہا تھا۔ اس کو تو والد کے دوست فریڈرک لی کرافٹ کی منشاء کے مطابق اب انگلستان جا کر پڑھنا لکھنا تھا۔ گاؤں بھر میں جشن ہوا کہ پونجا صاحب گھر کی پہلی شادی ہے وہ بھی ان کے سب سے بڑے بیٹے محمد علی کی۔ محمد علی نے سنہ اٹھارہ سو پچانوے میں لنکنز ان

Read more

پختون، پشتون، پشتین اور گٹکا

امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر کی تحریک کے آغاز کے بعد سے ہی سماجی روابط کے ذرائع اور ٹی وی پر فنکاروں، سماجی کارکنان، محققین، دانشور اور مشہور و معروف کاروباری کمپنیوں نے ایسا مواد تخلیق کرنے کا عمل شروع کیا جس سے امریکہ میں پائے جانے والے منظم تشدد اور تعصب کی سرکوبی میں عوام کو آگہی دی جاسکے۔ منظم تشدد اور تعصب بالخصوص سیاہ فام نسل کے خلاف تو پایا جاتا ہی ہے مگر چین سے اٹھنے والے کرونا وائرس نے مشرقی بعید کے ایشیائی امریکیوں کے لئے بھی نسلی تعصب کی فضا قائم کر دی۔

باقی لاطینی امریکیوں، مقامی امریکیوں، ایل جی بی ٹی اور مسلمانوں کے خلاف حد بندیاں تو اپنی مثال آپ ہی تھیں۔ مگر بلیک لائیوز میٹر تحریک نے ذرائع ابلاغ میں سب نسلوں، عقائد اور رنگوں کو یک جگہ کچھ ایسے اکٹھا کیا ہے کہ تعصب اور تفریق پر دلیرانہ سوالات ہو رہے ہیں جن میں امریکہ کے سفید فام لبرل، خواتین اور نوجوانوں کی بھی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ اب ایک اشتہار پر نظر ڈالتے ہیں کہ معاشرے اور ریاست میں پائے جانے والے رویہ ختم کرنے کے لئے وہ کیسا مواد مرتب کر رہے ہیں اور تخلیقی مواد تخلیق کرنے والوں کی سوچ اور دانش کا زاویہ کیا ہے۔

Read more

ریپ کی شکار عورت اور مجرم کی مددگار عدالت

مجھے ذاتی طور پر ریپ کار کی پھانسی پر کوئی اعتراض نہیں، مگر میں صرف پھانسی کی سزا کو قالین تلے جھاڑو سے گرد چھپانے کی ہرگز تائید نہیں کرتی۔ آپ بے شک تختہ دار پر لٹکائیے مگر اس سے قبل اس ریپ کار نظام کو بھی تو پھانسی دیجئے۔ چلئے نظام درست کر لیجیے اگر نظام کو لٹکانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ عورتوں کے خلاف نظام میں تشدد ہے، روایتی، اخلاقی، تاریخی رویوں پر مبنی عمارت میں تشدد

Read more

اجتماعی زیادتی سے متاثرہ کم سن لڑکی کے یہاں لڑکی کا جنم

فروری کی بیس تاریخ تھی اور سال یہی 2020، جب راول پنڈی سے خبر آتی ہے کہ ایک کم سن بچی کو مسلسل کئی ماہ تک چار آدمی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان چار میں سے دو کالج کے لڑکے ہیں تو دو شادی شدہ جن کی اپنی بیٹیاں اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کی ہیں۔ ایک زیادتی کا مرتکب تو قریباً ساٹھ ستر سال کا بھی ہے۔ اسد علی، بہادر، یحییٰ اور عابد، یہ ان چار آدمیوں

Read more

ریپ کی اصلیت

جب حیا مارچ والے عورتوں پر اپنے اعضائے تناسل لہرا رہے تھے، باوجود اس کے پوری قوم کی حمایت بھی انہی کو حاصل تھی تب سے ہی لاہور موٹر وے اور اس جیسے لاکھوں ریپ کے آنے والے دیگر سانحات کے بیج بو دیے گئے تھے۔ جب کراچی کی پانچ سالہ مروہ کے حالیہ ریپ، تشدد اور قتل کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ اعلیٰ صبح بچی کو باہر بھیجا ہی کیوں، تب اس قوم نے لاہور موٹر وے

Read more

ایک واقعہ جس میں کرداروں اور جگہوں کے نام تبدیل کرنا پڑے

صدف، جس کی عمر پچیس سال تھی بچپن سے ماموں زاد کے نام مانگی ہوئی تھی۔ ماموں زاد پڑھنے کے لئے آسٹریلیا گیا اور ایک آسٹریلوی لڑکی سے شادی کرلی۔ یہاں صدف پر تو جو پہاڑ ٹوٹا سو ٹوٹا مگر ماموں زاد اور ماموں جان کی کم ظرفی تو یہ تھی کہ اس بات پر قائم تھے کہ صدف ابھی بھی ان کے گھر کی منگ ہے۔ خاندان میں سبکی نہ ہو، اس لیے صدف کی بیوہ ماں کو مجبور

Read more

شیعہ فیکٹ چیکر – کیا حقیقت ہے کیا افسانہ

جیسے ہی ماہ محرم کا آغاز ہوتا ہے، غیر تشیع حلقوں میں شیعہ عقائد کے حوالے سے بحث چھڑ جاتی ہے۔ ویسے تو سال بھر کسی نہ کسی موقع پر یہ نکات اٹھائے ہی جاتے ہیں مگر محرم الحرام کے ابتدائی دس ایام اس نوعیت کی بحث میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس نقطے کو سمجھنے کے لئے انٹیگریٹو کمپلیکسٹی یا انضمامی پیچیدگی کی اصطلاح کو سمجھنا زیادہ مناسب رہے گا کہ ایسا کیوں ہے۔ اس سے مراد ایسی سوچ اور شخصیت کی تشکیل ہے جو اپنے نظریات، خیالات اور عقائد کو باریک بینی، معقولیت اور دانستگی سے مرتب کرے۔

ایسے انسان خود کو دوسروں کی جگہ اور حالات میں سماں کر سوچتے ہیں۔ اس کے بنیادی تین مراحل ہیں ؛ آئسولیشن یا علیحدگی، ڈفرنسیایشن یا تفریق اور تیسرا سب سے اہم مرحلہ ہے انضمام یا شمولیت کا۔ ایک شخص کے عقائد یا نظریات دوسرے عقائد اور نظریات سے علیحدہ اور جدا ہو کر ہی ترتیب دیے جاتے ہیں۔ دو مختلف نظریات ایک دوسرے سے متفرق ہوتے ہیں اور ایک جگہ دو یا دو سے زیادہ رائے پائی جا سکتی ہیں جو کہ سنگین اور جھوٹ بیک وقت ہو سکتی ہیں۔

Read more

خیال رکھیں، معتبر مگر مچھ بہہ گئے ہیں

دین، روحانیت اور تصوف کے نام پر اپنی دھاک بٹھائے رکھنا اور مچان سجائے رکھنا معمول کی بات ہے۔ ان امور نے انسانی فلاح اور زندگی میں مثبت کردار ادا کیا اور کچھ کی نفسیات پارہ پارہ ہوئی۔ زیادتی کسی بھی امر کی ہو، عوض دیے بنا نہیں رہتی۔ آنکھوں دیکھے اور شاید جان پر سہے احوال ہیں، اولاد کو وقت کے ولی اور درگاہوں کے متولی بنانے کی جستجو نے یا تو اولاد کو ان کے مقاصد حیات سے

Read more

کاش حیات ہم میں زندہ رہے

ہمیں موت کا ادراک نہیں کہ اس کی وحشت دراصل ہوتی کیا ہے۔ موت کا ادراک ہوگا بھی کیسے جب اس کا مزہ چکھا نہیں اور جب چکھ لیا تو ادراک کی وقعت کیا رہ جائے گی؟ موت کا اندازہ شاید مر کر ہی لگایا جا سکتا ہے لیکن اس کا ستم ہی یہی ہے کہ ادراک کے باوجود کچھ کیا نہیں جا سکتا۔ زندگی کی اصل قیمت تو مر کر ہی معلوم ہوتی ہوگی۔ آپ ریاستی طاقت اور حب

Read more

اس کا ریپ امر ہو گیا

راولپنڈی میں، ایک چودہ سالہ یتیم مزدور بچی کو گلی میں کھڑے آوارہ لونڈوں نے اچھا خاصا چھیڑا، خوب ہاتھ صاف کیا، ہوس کی گھٹی کو لڑکی کی آہوں کا زہر چٹایا، قسمت کی پھوٹی کو کھڑے کھڑے برہنہ کیا، ویڈیو بنائی، ٹھٹھہ لگائے، باچھیں کھلائی اور ویڈیو پوسٹ کر دی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے عورتوں کے خلاف پائے جانے والی نفرت اور تشدد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نہ تو

Read more

امریکی کانگریس کی خاتون رکن کی صنفی امتیاز کے خلاف تاریخی تقریر

الیگزینڈریا اکوثیا کورتے (alexandria ocasio cortez) المعروف اے او سی تیس سالہ بائیں بازو کی ڈیموکریٹس سے متحرک سیاست دان ہیں۔ امریکی کانگریس کے ایوان زیریں بنام ہاؤس آف ریپریزینٹیٹوز (House of Representative) کے چودہ کانگریشنل ڈسٹرکٹ نیویارک سے سنہ 2018 میں منتخب ہوئیں۔ ڈیموکریٹس کی سیاست روشن خیال اور امریکہ میں بسنے والی تمام اقوام کو لے کر چلنے کی حوالے سے مشہور ہے۔ خود الیگزینڈریا لاطینی امریکی ہیں۔ چودہ گانگریسی ڈسٹرکٹ میں امریکہ کے دو گنجان آباد علاقے

Read more

عورت سے بدسلوکی پر سماج معذرت خواہ بھی نہیں

لوگ کہتے ہیں کہ ان فیمینسٹوں نے طوفان مچایا ہوا ہے، ایسا کچھ ہے نہیں جس کا بھونچال مچے۔ سب تو ٹھیک ہے، ہر شے درست سمت پر گامزن ہے۔ یہ عورتوں کے خلاف جرائم کیا ہوتے ہیں؟ جرائم تو جرائم ہوتے ہیں۔ یہ جنسی تشدد کا شوشہ چھوڑا گیا ہے ورنہ تشدد تو تشدد ہوتا ہے۔ ویسے تو تشدد بھی نہیں ہوتا، سب تقدیر کا لکھا ہوتا ہے۔ بیٹے یہاں قسمت خود بناتے ہیں تو بیٹیاں قسمت کا سمجھ کر چپ کر دیتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عورتیں آفت کی پرکالا بن کر چوراہے میں لٹکی لالٹین مانند روشن اقدار پر ٹوٹ پڑی ہیں۔

میں کہتی ہوں کہ وہ اقدار کیا ہیں جو مظلوم کو چپ سادھنے ہر مجبور کیے رکھیں۔ کہتے ہیں بس ان کو پیچ و خم کھانے کے سوا آتا کیا ہے؟ تشدد، ہراسانی، دھونس، جبر یہاں تک کہ قتل ہو جانے والی عورتیں جو مزاحمت پر اترتی ہیں کو انتہا پسندوں سے مستعار لے لیا جاتا ہے اور یہ فریضہ ظلم سے معذرت خواہ مرد و زن نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں مطمئن روایت پسندوں کی تمنا ہے کہ تیزاب سے بدن جلائے، لباس کے چیتھڑے سنبھالتی عورت پرسکوں ہو کر اپنے مجرم کے ساتھ ضیافت کا اہتمام کرے اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے سلجھائے۔ ریپ پر لطائف اور جواز ڈھونڈنے والوں کے ساتھ شام کی چائے میں نشست رکھ کر مفاہمت کی جائے اور سب رنجشیں بھلا دی جائیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ ان فیمینسٹوں نے طوفان مچایا ہوا ہے، ایسا کچھ ہے نہیں جس کا بھونچال مچے۔ سب تو ٹھیک ہے، ہر شے درست سمت پر گامزن ہے۔ یہ عورتوں کے خلاف جرائم کیا ہوتے ہیں؟ جرائم تو جرائم ہوتے ہیں۔ یہ جنسی تشدد کا شوشہ چھوڑا گیا ہے ورنہ تشدد تو تشدد ہوتا ہے۔ ویسے تو تشدد بھی نہیں ہوتا، سب تقدیر کا لکھا ہوتا ہے۔ بیٹے یہاں قسمت خود بناتے ہیں تو بیٹیاں قسمت کا سمجھ کر چپ کر دیتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عورتیں آفت کی پرکالا بن کر چوراہے میں لٹکی لالٹین مانند روشن اقدار پر ٹوٹ پڑی ہیں۔

میں کہتی ہوں کہ وہ اقدار کیا ہیں جو مظلوم کو چپ سادھنے ہر مجبور کیے رکھیں۔ کہتے ہیں بس ان کو پیچ و خم کھانے کے سوا آتا کیا ہے؟ تشدد، ہراسانی، دھونس، جبر یہاں تک کہ قتل ہو جانے والی عورتیں جو مزاحمت پر اترتی ہیں کو انتہا پسندوں سے مستعار لے لیا جاتا ہے اور یہ فریضہ ظلم سے معذرت خواہ مرد و زن نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں مطمئن روایت پسندوں کی تمنا ہے کہ تیزاب سے بدن جلائے، لباس کے چیتھڑے سنبھالتی عورت پرسکوں ہو کر اپنے مجرم کے ساتھ ضیافت کا اہتمام کرے اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے سلجھائے۔ ریپ پر لطائف اور جواز ڈھونڈنے والوں کے ساتھ شام کی چائے میں نشست رکھ کر مفاہمت کی جائے اور سب رنجشیں بھلا دی جائیں۔ یہ شور مچا کر، چیخ کر، مقدمہ بنا کر شرمندگی کے سوا حاصل ہی کیا ہوگا؟ معاشرے کی ٹھوکریں اور بے بسی کی دھول؟ اچھا نہیں کہ یا تو قرار سے مرتی رہیں یا زانی سے نکاح کر لیں۔ بات ختم معاملہ ہضم۔

Read more

میری نادان دوست جسے چودہ برس کی عمر میں بیچ دیا گیا

سائرہ، میرا اس سے ایسا گہرا دوستانہ تو نہ تھا، بس ہم دونوں مناسب طریقہ سے ہم جماعت تھے۔ البتہ میں اس کی چچا زاد کی قریبی سہیلی تھی۔ دو سال تو وہ مجھ سے الگ جماعت میں رہی جبکہ ساتویں میں ہماری جماعت یکجا ہو گئی جب ہی اس کی چچا زاد سے میری وابستگی گہری ہوئی۔ سائرہ عام لڑکیوں کی طرح نسوانی انداز نہیں رکھتی تھی۔ آواز میں گھن گرج رکھ کے ایسے بولتی کہ سب پر اس کا طاقتور ہونا عیاں ہو جائے۔ اس نے آستین چڑھائی ہوئی ہوتی جس پر ہر بار ہی استانی سے سننے کو ملتا کہ سائرہ لڑکیاں آستین نہیں چڑھاتیں۔

سامنے والا ایک بٹن بھی بند رکھنے کی درخواست ہوا کرتی تھی کہ سائرہ سامنے والے تکمے بند کرو۔ سائرہ کی چال ڈھال بھی نسوانی نہیں تھی۔ چلتی ایسے کہ دنیا سے بے خبر ہو جیسے۔ پتلی سی نحیف سی سائرہ کے بال سنہرے اور چہرے پر باریک باریک دھبے جو مشرقی یورپ میں حسن و جمال کی علامت تصور کیے جاتے ہیں، انگریزی میں جس کو فریکل کہتے ہیں۔

Read more

چین والے اور پاکستانی طلبہ

”میں اپنے مقالے کے نامکمل پرنٹ ہوئے اوراق تھامے اینچھی کی بارش سے بھیگی سڑک پر تنہا گھومتی تو میرے آنکھوں سامنے زندگی کی فلم چلتی اور دل پسیج کر رہ جاتا“ ۔ یہ ہیں الفاظ چائینا‏‏ یونیورسٹی آف جیو سائنسز ووہان کی طالبہ ماہ وش منظور کے جو کرونا وبا کے باعث ووہان سے کوسوں دور اینچھی میں محصور تھیں۔ کسی طالب علم کے لئے منطقی مقالے کی تکمیل کس حد تک جذباتی تناؤ کا باعث ہوتا ہے اس

Read more

مندر سے آگے جہاں اور بھی ہیں

میری سہیلی ووہان سے لاہور آئی ہوئی تھی، ایک شام یونیورسٹی سے واپسی پر بس ٹریفک میں منجمد ہو گئی۔ کسی احتجاج کی بدولت ٹریفک سرتاپا تھمی تھی، اسی اثناء میں بس میں جین مندر کے ٹھہراؤ کا اعلان ہوا۔ میری سہیلی مجھ سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ اس کے بھائی کی خواہش ہے کہ وقت نکال کر جین مندر دیکھنے کو آئے۔ میں دوست کے بھائی کی معصومانہ آرزو سن کر ششدر رہ گئی، بے اختیار منہ سے نکلا کون سا جین مندر کہاں کا جین مندر۔ جین مندر بس اسٹاپ ہونے کا مطلب ہر گز نہیں کہ حقیقت کی دنیا میں یہاں کوئی جین مندر بھی ہو۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر کی طرح غیر ہندوؤں کا جین مندر بھی اسی طرح مسمار کر دیا گیا جیسے بابری مسجد۔ میں تو کہتی ہوں کہ پاکستان ہندوستان کے مذہبی انتہا پسندوں کا منظم گٹھ جوڑ ہے، یہ مل کر کام کرتے ہیں۔ ان کا پتا کرائیں۔ نظریات بھی ایک سے ہیں نفرت، تشدد، عدم برداشت، حماقت، غیر معقولیت وغیرہ۔

Read more

ننھے عیاد کی بے چارگی اور ہندوستان کی دھونس

انسانوں میں بنیادی خلل یہ ہے کہ جھوٹ کے فروغ کے لئے انسانی ہمدردی اور صلہ رحمی کا ناٹک کیا جائے تو حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے۔ گمان یہی رکھا جاتا ہے کہ چند لمحات کی خدا تری، انسان دوستی اور شفقت کے برتاؤ سے انسانوں کو دھوکہ دے کر پنہاں مفاد اور مقاصد کا حصول ممکن ہے۔ یہی سب دنیا کی بیشتر ریاستیں اور تاریخ میں شخصیات کرتی آئی ہیں۔ اسی مکر کا پرچار بدھ کے روز مقبوضہ کشمیر کے شہر سوپور میں تب دیکھنے کو ملا جب بھارتی اہلکاروں نے نہتے کشمیری شہری بشیر احمد پر گولیوں سے وار کیا۔

Read more

پولیو کے قطروں سے کرونا ویکسین تک

مغرب کے اینٹی ویکسرز ہوں یا ویکسینیشن کے خلاف پاکستان کا سازشی ٹولہ، ان کے نزدیک انسانی زندگی کی خاص قدر نہیں۔ مغرب میں آٹزم کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے تو مشرق میں بانجھ پن کا۔ ان شوشوں میں بھی دونوں معاشروں کی ترجیحات واضح دکھتی ہیں۔ مغربی ماؤں کو یہ خوف دلایا جاتا ہے کہ ان کے بچے آٹزم کا شکار ہو گئے تو با اعتماد زندگی گزارنے سے محروم رہیں گے، زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے جبکہ ہمارے یہاں جیسا کہ جینے کا واحد مقصد ہی بچے پیدا کرنا ہے تو اس لئے تیر بھی افزائش نسل کے مدعے پر داغا جاتا ہے۔ بانجھ پن اور نامردی کا لاگ الاپ کر پولیو کے قطرے اور حفاظتی ٹیکوں کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے کہ ”یہ صحت مرکز نہیں دراصل مسلمانوں کی آبادی گھٹانے کے جال ہیں، کافروں کی تمنا ہے کہ جہاد میں مجاہدین کی تعداد کم پڑ جائے“ ۔ ہم ایسی ہی منطق سنتے آئے ہیں۔

جہاد تو نہ ہوا البتہ مسلمانوں کے ہزاروں بچے پولیو کے قطرے نہ پینے کے باعث معذور اور لاغر ضرور ہو گئے۔ یاد رہے کہ پولیو وائرس کا شکار بچہ زندگی کی ایک یا دو دہائیوں سے زیادہ نہیں جی پاتا اور جو جیتا ہے وہ بھی معذوری اور بے چارگی میں گرفتار رہ کر زندگی سے لڑتا ہے۔

Read more

کورونا زدہ لاشیں بیچ کر ڈالر کمانے والے ڈاکٹر

مقامی ایم این اے جو دل کے نیک اور کردار کے شریف النفس انسان تھے، بوڑھی عورت کے ہمراہ مقامی اسپتال کے ڈاکٹر کے گھر پہنچے۔ ڈاکٹر، ایم این اے صاحب اور لوگوں کے مشتعل ہجوم کو دیکھ کر گھبرا سے گئے۔ ایسے میں ڈاکٹر کی بیگم صاحبہ باہر تشریف لائیں۔ ان کو الہام ہو چکا تھا کہ انصاف مانگتے عوام حکومت کے نمائندہ کے ہمراہ ان کی چوکھٹ پر کس مقصد سے آئے تھے۔ بیگم صاحبہ کا ضمیر پہلے

Read more

یاسمین راشد نے ایسا بھی کیا کہہ دیا

ہمیں شروع سے ہی اس امر کا ادراک تھا اگر کرونا وائرس نے پاکستان کی دہلیز پار کی تو اس کے کیسے ہوش ربا نتائج سامنے آئیں گے۔ ہمیں نا صرف صحت کے ابتر نظام کا علم تھا ساتھ ہی میں عوام کی لاپرواہی اور ہر شے کو سازش اور مذاق میں اڑا دینے کی معمول کی ملی روش کا مکمل اندازہ تھا۔ انہی وجوہات کی بنا پر چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کو وطن واپس نہ لایا گیا۔ کرونا وائرس جب آگ کی طرح پھیل رہا تھا، ہمارے کانوں پر جوں رینگی نہ ہی اس کی سنگینی کو اس قابل تصور کیا کہ ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دنیا کے ہر اس ملک میں نا صرف ہمارے شہریوں نے سفر کیا بلکہ وہاں سے کرونا کو سامان میں کہ۔ طرح بھر بھر واپس بھی لائے۔ یہ بات ترش ہے، انتہائی ہے مگر سچ بھی ہے۔

نا اہلی الگ سے قومی اثاثہ ہے جس کا پہلو محبوبہ کے پہلو کی طرح چھوڑے ہم سے چھوٹتا نہیں۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے گڑے مردے اکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔ دنیا میں ہر مثبت دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور روک تھام میں ناکامی کے باعث دنیا میں آگے سے آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جب کرونا نحیف اور معدوم تھا، تب جو علاج کا منجن بیچا گیا اس کو کوئی جواب نہیں ملتا، ہم نے ہر اس شے کو حق سچ مانا جس میں کچھ مصالحہ تھا۔ ماسوائے ڈاکٹر اور وائرولوجسٹ کے، ٹی وی شوز پر ہر اس شخص کی بات میں وزن ثابت کیا گیا جس کا وبائی امراض سے کوئی تعلق تھا نہ طب سے۔ طب اور سائنس کے علاوہ ہر طرح کے انڈے کرونا وائرس کے سر پر پھوڑ دیے مگر کوئی خاص فرق واضح نہیں ہوا۔ ہم یہ بات ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ فطرت ہماری روشوں کی مانند امتیازی نہیں ہوا کرتی۔

Read more

دنیائے کرونا اور جرموفوبیا

لوث ترسی، میسوفوبیا، جرموفوبیا، بیسیلو فوبیا، ورمینو فوبیا یا جرمو فوبیا سب ایک ہی نفسیاتی مرض کے منفرد نام ہیں۔ یہ ایسے دماغی خلجان کو کہا جاتا ہے جس سے متاثرہ شخص ہر وقت صفائی ستھرائی میں ہی مگن رہتا ہے یعنی کہ جرمو فوب ہر وقت اپنے ہاتھ منہ اور جسم کو مکمل طور پر گندگی، غلاظت سے محفوظ رکھنے کی تگ و دو میں گم سا ہو۔ یہ سننے میں جس قدر بھیانک لگ رہا ہے اس قدر ہے نہیں۔ فکر مت کیجئے گا یہ مرض جان لیوا ہر گز نہیں ہے۔ بس یوں کہئیے کہ دماغی فتور کا نام ہے، یہ فتور بھی مہلک نہیں جو کسی دوسرے فرد کو حزیں دے، بس یہ تو متاثرہ شخص کے ذہن کو پاکی ناپاکی کی الجھنوں میں ہی الجھائے رکھتا ہے۔

Read more

میں اپنی زندگی میں طارق عزیز کی موت نہیں دیکھنا چاہتی تھی

ہر بدھ کو پی ٹی وی پر طارق عزیز بزم طارق عزیز نہیں پیش کیا کرتے تھے، وہ تو ہماری اخلاقیات اور کردار کو تخلیق کیا کرتے تھے۔ گھر میں صرف پی ٹی وی کا آنا بھی بہت بڑی سعادت تھا، جو تربیت ہماری نسل۔ کی اس زمانے میں پی ٹی وی کے ان ہونہاروں نے کی تھی وہ کوئی ادارہ کبھی کر ہی نہیں سکتا۔ طارق عزیز ان معلموں میں سے ایک تھے اور سب سے اول تھے۔ طارق

Read more