مجلس شام غریباں کا آغاز کیسے ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

٭مجلس شام غریباں برصغیر کی عزاداری کا ایک لازمی جز ہے۔
٭مجلس شام غریباں کی روایت 1926ء میں شروع ہوئی۔
٭اس مجلس کو مجلس شام غریباں کا نام منے آغا صاحب راز اجتہادی نے دیا۔

٭ شام غریباں کی پہلی مجلس سے مولانا سبط محمد ہادی نے خطاب کیا۔
٭ 1930ء یا 1931ء میں یہ مجلس لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن سے بھی نشر ہونے لگی۔

٭1928ء سے 1963ء تک اس مجلس سے عمدۃ العلما مولانا سید کلب حسین صاحب نے خطاب فرمایا۔
٭ریڈیو پاکستان سے پہلی مرتبہ مجلس شام غریباں 1954ء میں نشر ہوئی۔
٭پاکستان ٹیلی وژن سے پہلی مرتبہ مجلس شام غریباں 1968ء میں نشر ہوئی۔

***              ***

مجلس شام غریباں برصغیر پاک و ہند کی عزاداری کا ایک اہم حصہ ہے۔ شاید ہی کوئی عزا خانہ ایسا ہو جہاں دس محرم کو مغرب کے بعد اس مجلس کا اہتمام نہ ہوتا ہو۔ مگر آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ اس مجلس کی تاریخ سو سال سے بھی کم ہے۔

1926ء میں جنت البقیع کی شہادت کے بعد مدینہ منورہ کے رہنے والے دو عرب جن میں سے ایک کا نام سید صالح تھا 2 محرم کو لکھنؤ میں وارد ہوئے جن کے قیام و طعام کا اہتمام غفران مآب کے امام باڑے کے حجرے میں کیا گیا۔ اس سال یوم عاشور (10محرم 1345ھ) 21 جولائی 1926ء کو پڑا۔ عاشور کی شام کو یہ دونوں عرب مہمان امام باڑے میں بیٹھے تھے کہ مولانا سید کلب حسین مجتہد کی رائے پر فیصلہ کیا گیا کہ فاقہ شکنی امام باڑے میں ہی کی جائے۔ فاقہ شکنی کا سامان اور چائے کا سماوار گھر سے منگوا لیا گیا۔ اس فاقہ شکنی میں مولانا سبط محمد ہادی عرف کلن صاحب، سید محمد رضی اجتہادی اور سید شجاع حسین عرف شجن صاحب بھی شریک تھے۔ عرب مہمان سید صالح نے تجویز پیش کی کہ اگر اس وقت کسی مجلس عزا کا اہتمام ہو تو بہتر ہوگا۔ شجن صاحب نے کہا کہ اس مجلس میں ذکر اسیران اہل بیت ہو تو کیا ہی اچھا ہو، سب نے اس رائے کو پسند کیا۔ محلے میں مقیم مومنین کو اطلاع کی گئی اور ستّر، اسّی حضرات جمع ہوگئے۔

مولانا سید سبط محمد ہادی عرف کلن صاحب نے، جو انتخاب العلما کے لقب سے معروف تھے، ذاکری فرمائی اور خیام حسینی کے جلائے جانے اور اسیران کربلا کے قافلے کے شام کی جانب کوچ کرنے کا ذکر کیا۔ سامعین یہ ذکر سن کر بے تاب ہو گئے۔ مولانا کلب حسین صاحب نے مجلس کے بعد فرمایا کہ یہ مجلس جس کی آج ابتدا ہوئی ہے ہر سال اسی مقام اور اسی وقت برپا ہوا کرے گی چنانچہ دوسرے سال بھی اسی دن اور اسی وقت پر یہ مجلس برپا ہوئی اور مولوی للن صاحب اور مولوی کبن صاحب زیب منبر ہوئے۔ تیسرے برس اس مجلس کی اہمیت اور شہرت کے پیش نظر اس کا اہتمام اور انتظام محرم سے پہلے ہی سے شروع ہو گیا۔ خاندان کے ایک بزرگ منے آغا صاحب راز اجتہادی نے تجویز پیش کی کہ اس مجلس کا نام مجلس شام غریباں رکھا جائے۔ اس سال اس مجلس سے عمدۃ العلما مولانا سید کلب حسین صاحب نے خطاب فرمایا۔ ان کا بیان اتنا اثر انگیز تھا کہ کئی آدمیوں کو غش آ گیا۔

تیسرے سال سے مجلس کے بعد زوجہ حر کی جانب سے اہل حرم کے لئے کھانا اور پانی لانے کی روایت کی تاسی میں مجلس میں کچھ خوان اور پانی کی مشکیں لائی گئیں، کچھ لوگوں کے ہاتھ میں شمعیں روشن تھے۔ اس مظاہرے سے مجلس کی اثر انگیزی میں اضافہ ہوگیا۔ یہ مجلس سال بہ سال ترقی کرتی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس مجلس کے بعد اتنا شدید گریہ طاری ہوتا تھا کہ کئی افراد کو اسپتال لے جانا پڑتا تھا۔ چنانچہ ہر سال وکٹوریہ گنج اسپتال کے ڈاکٹرز اور کمپائونڈر بھی دوائوں کے ساتھ مجلس میں شریک ہونے لگے۔ مجمع کی کثرت سے امام باڑہ غفران مآب کا وسیع صحن تنگ پڑنے لگا۔

سید کلب حسین مجتہد

رفتہ رفتہ یہ مجلس ہندوستان کے دوسرے شہروں میں بھی منعقد ہونے لگی اور راج کمار محمود آباد کی کوششوں سے 1930ء یا 1931ء میں یہ مجلس لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن سے بھی نشر ہونے لگی۔ اس مجلس کے لئے لکھنؤ ریڈیو کی جانب سے صرف پندرہ منٹ دیئے جاتے تھے اور مولانا سید کلب حسین اس مختصر دورانیے میں معرکہ کربلا کی تاریخ، مقاصد، اہل بیت کی سیرت اور کربلا کے مصائب سب کچھ ہی سمیٹ لیتے تھے اور قطرے میں سمندر سمو دیتے تھے۔ مجلس کے نشر ہونے کے بعد تمام عزا خانوں میں یہ انتظام کیا جانے لگا کہ اس مجلس کے وقت عزا خانے کی روشنیاں گل کر دی جائیں، فرش اٹھا دیا جائے اور بجائے ذاکر کے ریڈیو رکھ دیا جائے۔ ہر امام باڑے میں ذاکر کی عدم موجودی کے باوجود وہی اثر انگیزی قائم ہونے لگی جو غفران مآب کے امام باڑے میں براہ راست سننے والے سامعین پر ہوتی تھی۔

مولانا سید کلب حسین صاحب اپنی زندگی کے آخری محرم 1963ء تک اس مجلس سے مسلسل خطاب کرتے رہے۔ اس مجلس کی مقبولیت دیکھ کر ریڈیو کے ذمے داروں نے اس کا دورانیہ نصف گھنٹہ کردیا۔ مولانا سید کلب حسین صاحب کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری مولانا سید کلب عابد اور مولانا سید کلب صادق نے سنبھال لی۔ اب یہ مجلس آل انڈیا ریڈیو کے متعدد اسٹیشنز سے نشر ہوتی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد 1954 ء کے لگ بھگ سید نجف حیدر جعفری نے ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری کو ایک خط تحریر کیا اور ان سے درخواست کی کہ مجلس شام غریباں کا یہ سلسلہ ریڈیو پاکستان سے بھی شروع کیا جائے۔ زیڈ اے بخاری نے یہ درخواست قبول کرلی، چنانچہ 10 محرم 1374ھ مطابق 9 ستمبر 1954ء کو ریڈیو پاکستان سے بھی مجلس شام غریباں کی اس روایت کا آغازہوگیا اورشام 7 بج کر 45 منٹ پر بڑا امام باڑہ کھارادر سے علامہ رشید ترابی کی مجلس شام غریباں براہ راست نشر ہوئی۔اسی روز اس مجلس کے اختتام کے بعد رات  8 بجکر 30 منٹ پر، ناصر جہاں کی پرسوز آواز میں سید آل رضا کی ایک نظم بھی نشر ہوئی جس کا عنوان شام غریباں تھا۔ بعد میں یہی نظم سلام آخر کے نام سے معروف ہوئی اور ریڈیو اور ٹیلی وژن کی مجالس شام غریباں کا جزو لازمی بن گئی۔

ایک نادر تصویر (دائیں سے بائیں) مولانا کلب عابد، مولانا کلب حسین اور ڈاکٹر مولانا کلب صادق 

دو برس بعد 18 اگست 1956ء سے ریڈیو پاکستان سے مجلس شام غریباں اور سلام آخر کے درمیان مشہور نوحہ گھبرائے گی زینب بھی نشر کیا جانے لگا۔ یہ نوحہ ایک روایت کے مطابق عہد انیس کے معروف شاعرچھنّولال دلگیر کا لکھا ہوا ہے، یہ نوحہ بھی سید ناصر جہاں کی پرسوز آواز میں ریکارڈ کیا گیا ۔

1967ء میں جب کراچی ٹیلی وژن کا آغاز ہوا تو 9 اپریل 1968ء مطابق 10 محرم 1388ھ  سے پاکستان ٹیلی وژن سے بھی مجلس شام غریباں کے نشریے کی اس روایت کا آغاز ہوگیا۔ پاکستان ٹیلی وژن سے نشر ہونے والی پہلی مجلس شام غریباں سے علامہ محمد مصطفی جوہر نے خطاب فرمایا۔ 1969ء سے 1973ء تک علامہ رشید ترابی اس مجلس سے خطاب فرماتے رہے۔ انھوں نے مسلسل پانچ برس اس مجلس سے خطاب کیا۔ علامہ رشید ترابی کے انتقال کے بعد جن خطیبوں نے پاکستان ٹیلی وژن سے اس مجلس شام غریباں سے خطاب کرنے کا اعزاز حاصل کیا ان میں علامہ عقیل ترابی، علامہ نصیر الاجتہادی، علامہ عرفان حیدر عابدی، علامہ طالب جوہری اور علامہ نسیم عباس کے نام سرفہرست ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •