جب قائد اعظم کو سنسر کیا گیا
’لیاقت علی خان کے قاتلوں کی طرح قائد کی زباں بندی کی سازش کا ارتکاب کرنے والے لوگ بھی اب تک پردہ راز میں ہیں۔‘
Read more’لیاقت علی خان کے قاتلوں کی طرح قائد کی زباں بندی کی سازش کا ارتکاب کرنے والے لوگ بھی اب تک پردہ راز میں ہیں۔‘
Read moreبیگم خورشید مرزا جن کا اصل نام خورشید جہاں تھا تقسیم سے قبل رینوکا دیوی کے نام سے مشہور ہوئیں اور پاکستان بننے کے بعد پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کی ممتاز فنکارہ کے طور پر جانی گئیں۔
Read moreمولانا ابوالکلام آزاد اور محمد علی جناح دونوں ہی بیسویں صدی میں ہندوستانی سیاست کے دو اہم رہنما تھے۔ محمد علی جناح، ابو لکلام آزاد سے عمر میں 12 برس بڑے تھے تاہم دونوں کی سیاست زندگی کا آغاز کم و بیش ایک ہی زمانے میں ہوا۔
Read more٭مجلس شام غریباں برصغیر کی عزاداری کا ایک لازمی جز ہے۔
٭مجلس شام غریباں کی روایت 1926ء میں شروع ہوئی۔
٭اس مجلس کو مجلس شام غریباں کا نام منے آغا صاحب راز اجتہادی نے دیا۔
٭ شام غریباں کی پہلی مجلس سے مولانا سبط محمد ہادی نے خطاب کیا۔
٭ 1930ء یا 1931ء میں یہ مجلس لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن سے بھی نشر ہونے لگی۔
٭1928ء سے 1963ء تک اس مجلس سے عمدۃ العلما مولانا سید کلب حسین صاحب نے خطاب فرمایا۔
٭ریڈیو پاکستان سے پہلی مرتبہ مجلس شام غریباں 1954ء میں نشر ہوئی۔
٭پاکستان ٹیلی وژن سے پہلی مرتبہ مجلس شام غریباں 1968ء میں نشر ہوئی۔
چند روز سے یو ٹیوب اور سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کی دھوم مچی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ریڈیو پاکستان کا قیام 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی رات کو وجود میں آیا تھا۔ اس ویڈیو میں ریڈیو پاکستان کے نامور انائونسر مصطفی علی ہمدانی کی ایک ریکارڈنگ سنوائی گئی ہے جس میں وہ اعلان کرتے ہیں کہ’’السلام علیکم۔ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔ تیرہ اور چودہ اگست سن سنتالیس عیسوی
Read moreیہ جنوری سنہ 1976 کی بات ہے۔ اتوار کا دن تھا اور دوپہر کا وقت۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام نیلام گھر کی ریکارڈنگ تھی۔ پروگرام کا کارڈ بڑی تگ و دو کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ اس دن یکم محرم بھی تھی۔ چنانچہ پروگرام کے آغاز میں بتایا گیا کہ آج ابتدائی مرحلے کے تمام سوالات محرم الحرام کی مناسبت سے پوچھے جائیں گے۔ پہلے مرحلے کے امیدواروں کے انتخاب کا سلسلہ جاری تھا مگر طارق صاحب ہم
Read more4 جون 1984 کی صبح دس اور گیارہ بجے کے درمیان ایک ٹرین شارع فیصل کراچی پر کالونی گیٹ کے قبرستان کے نزدیک ایک تیس سالہ خاتون کے پرخچے اڑاتے ہوئے گزر گئی۔ خاتون کی شناخت قرۃ العین حیدر کی کتاب "شیشے کے گھر” کی مدد سے سے ہوئی جو مرتے وقت اس کے ہاتھ میں تھی۔ کتاب پر اس کا نام سارہ شگفتہ اور گھر کا پتہ وضاحت سے تحریر تھا۔ مرحومہ کے ہاتھ میں اگربتیوں کا ایک پیکٹ
Read moreاردو کے ادبی حلقوں میں یہ خبر رنج اور افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ عہد حاضر میں اردو کے سب سے بڑے مزاح نگار محترم مجتبیٰ حسین آج بھارت میں وفات پاگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مجتبیٰ حسین 15 جولائی 1936ء کو گلبرگہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مشہور مزاح نگار ابراہیم جلیس کے چھوٹے بھائی تھے۔ 1956ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ جوانی سے ہی انہیں طنزومزاح کی تحریروں کا ذوق تھا جس کی
Read moreانتظار حسین 21 دسمبر 1925ءکو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔میرٹھ کالج سے بی اے اور ایم اے اردو کیا۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور میں قیام پذیر ہوئے جہاں وہ صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ انتظار حسین کا پہلا افسانوی مجموعہ ”گلی کوچے “ 1952ءمیں شائع ہوا۔ روزنامہ مشرق میں طویل عرصے تک چھپنے والے کالم لاہور نامہ کو بہت شہرت ملی۔ اس کے علاوہ ریڈیو میں بھی کالم نگاری کرتے رہے۔ افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں
Read more