اظہر جعفری کو خاموش ہوئے دو برس بیت گئے ۔۔۔ تصویر بولتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

ہماری نسل پاکستان بننے کے کچھ برس بعد پیدا ہونے والوں میں سے تھی۔ آزادی جمہوریت کا وعدہ تھا۔ ایک خواب تھا، یہ امید تھی کہ ہم زندگی سے خوشی، تخلیق اور محبت کا وہ حصہ پا سکیں گے جو انسان ہوتے ہوئے ہمارا حق تھا۔ ہماری نسل نے سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا تو معلوم ہوا کہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ خواب جھوٹا پڑ گیا۔ ایک بڑی اڑچن یہ تھی کہ غیر ملکی حکمرانوں سے لڑنا کہیں زیادہ آسان تھا۔ آزاد ملک میں مفاد کا سراب پیدا ہوتا ہے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم منزل سے شادکام ہوچکے۔ ایک راندہ درگاہ قبیلہ تھا جو بار بار خاک سے ماتھا اٹھا کر پکارتا تھا کہ یہ وہ سحر نہیں جس کی آرزو لے کر ہم چلے تھے۔ زور آوروں کی بارات میں پیسے لوٹنے والوں کو یہ سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ اجالے کی چادر پر بہت سے بدنما دھبے ہیں۔ دلوں میں رفو کا بہت کام باقی ہے، رات کی خاموشی میں سسکی کی بے بسی ہے اور دھوپ سوگ منانے اتری ہے۔ ہم خوش نصیب تھے کہ منزلوں کا نشان دینے والی یہ آواز پاکستان میں کبھی خاموش نہیں ہوئی۔ میاں افتخار الدین پارلیمنٹ میں تقریر کرتا تھا۔ رستم کیانی منصف کی کرسی پر بیٹھ کر عدالت اور کچہری کا فرق بیان کرتا تھا۔ میاں محمود قصوری کی آواز مال روڈ کے دونوں طرف سنائی دیتی تھی۔ پابلو پکاسو نے گورنیکا میں باسک کی ایک سہ پہر کا درد بیان کیا تھا، صادقین کی ہر تصویر کیکٹس کی خاردار ٹہنی بن گئی۔ ناصر کاظمی نے ہماری اداسی بیان کی، منیر نیازی نے ہماری دہشت لکھی۔ فیض احمد فیض نے زرد پتوں کے بن کی کتھا رقم کی۔ روشن آرا بیگم کے آکار میں برہا کی پکار تھی۔ فیکا کے کارٹون میں دست بدست لڑتے ہوئے ساونت کی بہادری تھی۔ انور علی اور ایف ای چوہدری کے کارٹون اور تصویر میں ایک شائشتہ یاد دہانی تھی۔ صابر نذر اور اظہر جعفری کی نسل تک آتے آتے یہ یاد دہانی غصے کے اعلان میں بدل گئی۔

اظہر جعفری اپنے کیمرے کو یوں تھامتا تھا جیسے سپاہی تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھتا ہے۔ اظہر جعفری کے گلے میں کیمرہ ہمیشہ آویزاں رہتا تھا۔ ایسے ہی جیسے بڑے غلام علی خان کی گود کبھی سرمنڈل سے خالی نہیں دیکھی گئی۔ کیمرہ اور اظہر جعفری ایسے من تو شدی تو من شدم تھے جیسے رانجھے کے لئے ونجھلی، شیخ ایاز کے لئے قلم اور گل خان نصیر کے لئے ہتھکڑی۔۔۔ مجھے اظہر جعفری سے ملاقات کی عزت نصیب ہوئی۔ میں نے اس کی دوستی سے خوشی کشید کی، اس کی بصیرت سے روشنی لی مگر سب سے بڑھ کر یہ کہ اظہر جعفری نے مجھ جیسے بہت سوں کو یہ سکھایا کہ پاکستان میں اپنے لئے اور اپنے جیسوں کے لئے کھڑے ہوکر کیسے لڑا جاتا ہے۔ جمہوریت کی تصویر میں ہر ٹکڑے کی کیا اہمیت ہے۔ اظہر جعفری کی تصویر میں ایک بھی پکسل اضافی نہیں ہوتا تھا۔ وہ بہت اچھا نشانہ باندھتا تھا۔ اظہر جعفری کے کیمرے کی کلک سے برآمد ہونے والی جھمکار بتا دیتی تھی کہ ایک اور ظلم کی گواہی محفوظ کر لی گئی ہے، ایک اور محرومی کے منہ مین زبان رکھ دی گئی ہے، روشنی اور سائے کی زبان میں ایک اور ناانصافی کی شہادت لکھی جا چکی ہے۔ اظہر جعفری کے ہاتھ کی انگلیاں ہنرمند تھیں۔ وہ ایک فنکار کی آنکھ رکھتا تھا۔ اس کے دماغ میں سیاسی بصیرت کا ایک منفرد زاویہ تھا۔ مگر اس کا دل ایک خالص انسان کا دل تھا۔ اظہر جعفری کی پہلی محبت زندگی تھی۔ اس نے دھڑکتے ہوئے دلوں کی حرارت میں ۔۔۔ اپنی آنچ مرتب کی تھی۔ وہ ایک سکہ بند لاہوری تھا۔ ناقابل علاج جمہوریت پسند تھا۔ اس کے قہقہے میں زندہ دلی، جملے میں ذہانت اور رویے میں ذمہ داری تھی۔

1978 کا برس تھا۔ نفسیاتی جنگ کے ماہر لیفٹنٹ جنرل مجیب الرحمٰن نے لوگوں کی توجہ ضیا آمریت کے بھیانک چہرے سے ہٹانے کے لئے کرکٹ کا نسخہ دریافت کیا۔ کوئی ڈیڑھ دہائی بعد ہندوستان کی کرکٹ ٹیم پاکستان آئی۔ ظہیر عباس کی عینک، بشن سنگھ بیدی کی پگڑی اور عمران خان کے ادھ کھلے سینے کی جھلک کو موضوع سخن قرار دینا مقصد تھا۔ جس قوم کی مائیں زندہ ہوں، اسے کوئی کیا گمراہ کرے گا۔ 1965 میں فاطمہ جناح نے ہمارے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔ 1978 میں بیگم نصرت بھٹو قذافی سٹیڈیم لاہور جا پہنچیں۔ میدان کے اندر ظہیر عباس نے 235 رنز کیے تھے، سٹیڈیم کے دروازے پر لاٹھیاں برس رہی تھیں۔ اظہر جعفری بالکل ٹھیک جانتا تھا کہ کون سی تصویر میں حقیقی خبر ہے۔ چوبیس سالہ اظہر جعفری نے بیگم بھٹو کے زخمی سر اور لہو میں لتھڑے چہرے کی تصویر اتاری۔ بیگم بھٹو کی یہ تصویر ضیا آمریت کے گلے میں گیارہ برس لٹکتی رہی۔

فروری 1983 میں لاہور کی بیٹیاں امتیازی قوانین کے خلاف جلوس نکالنے سڑک پر آئیں۔ جمہوریت کا ایک خبطی سپاہی حبیب جالب بھی ان کے ہمراہ تھا۔ ریگل چوک اور لاہور ہائی کورٹ کی عمارت میں کل ملا کے دو سو گز کا فاصلہ ہوگا۔ اظہر جعفری نے فروری 1983 کی اس شام وہ سب تصویریں کھینچ لیں جو آنے والی نسلوں کو بتا سکتی تھیں کہ لاٹھیوں کی زد میں آئی ہوئی تسنیم سڑک کے کس طرف سڑک پر گری، نگار احمد کے ساتھ دست آزمائی کرنے والے سپاہی کے چہرے پر کیسی کراہت انگیز مسکراہٹ تھی، حبیب جالب کا گریبان پکڑنے والے سپاہی کا ہاتھ کیوں لرز رہا تھا۔ اظہر جعفری ایک بہادر شخص تھا اور جانتا تھا کہ قلم، تقریر اور آواز کی دنیا میں کیمرہ کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اظہر جعفری جمہوریت کا سپاہی تھا۔ انسانی حقوق کا کارکن تھا۔ صحافت کی آزادی کا علمبردار تھا۔

اپریل 1986 میں محترمہ بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو ان کا استقبال فروری 1979 میں امام خمینی کے استقبال جیسا بے ساختہ اور بے مثال تھا۔ اظہر جعفری نے مال روڈ کی ایک اونچی عمارت پر بیٹھ کر اس زاویے سے تصویر لی کہ اسمبلی ہال سے جی پی او چوک تک سروں کا سمندر چند انچ کی تصویر میں اتر آیا۔ بے نظیر بھٹو نے مینار پاکستان پر اپنی تقریر میں پرامن انقلاب کا اشارہ دیا تھا۔ اظہر جعفری اپنا ردعمل چھپانے والوں میں سے نہیں تھا۔ اس شام ٹیمپل روڈ پر آئی اے رحمان کے گھر میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ اظہر جعفری نے عبداللہ ملک کا گھٹنا پکڑ لیا اور بار بار پوچھتا تھا، ملک صاحب انقلاب پرامن کیسے ہوتا ہے؟ اظہر جعفری کے دل میں بہت آگ تھی۔ وہ آزادی اور انصاف کے بیچ پتلی لکیر پر بے دھڑک چلتا تھا کیوں کہ اسے بھاٹی دروازے میں شکرقندی بیچنے والے سے بھی والہانہ پیار تھا اور وہ لارنس گارڈن میں چہل قدمی کرنے والے بزرگوں سے بھی محبت کرتا تھا۔

اظہر جعفری رند طبع تھا، وارفتہ مزاج تھا لیکن اس کی کسی خاتون رفیق کار کو کبھی اس کے لب و لہجے میں خفتہ ہوس کی شکایت پیدا نہیں ہوئی۔ اس نے اپنی تصویر کو کبھی قابل فروخت جنس نہیں سمجھا۔ آمریت کے تشدد سے لے کر دہشت گردی تک اس نے پاکستان کی جمہوری تاریخ کو جرات کے ساتھ عکس بند کیا۔ نفرت اور دہشت کی یلغار میں ایک ایسا مرحلہ بھی آیا کہ جب اظہر جعفری کے گھر کے باہر دھمکی آمیز پیغام جسپاں کیا گیا۔ لاہور کے صحافی اظہر جعفری کے دفاع میں سڑک پر آ گئے۔ اس جلوس میں اظہر جعفری اپنا کیمرہ اٹھائے بالکل اسی طرح پیشہ وارنہ فرض ادا کر رہا تھا گویا اس کی ذات کو موت کی دھمکی نہیں دی گئی۔ یہ دھمکی تو ایک طویل ناانصافی کا تسلسل تھی اور اظہر جعفری ناانصافی سے لڑنے کا بے پناہ حوصلہ رکھتا تھا۔

اظہر جعفری کا دل اس کا ساتھ چھوڑ گیا۔ امتیاز عالم نے کیسی اچھی بات کہی ہے کہ اظہر جعفری کی تصویر دیکھ  کر یقین ہو جاتا ہے کہ ایسی زندہ آنکھوں والا انسان کبھی نہیں مر سکتا۔ بالکل درست۔ ہوتا یہ ہے کہ اظہر جعفری جیسی آنکھیں اپنی آواز بہت سی تصویروں کو بخش دیتی ہیں اور خود خاموش ہو جاتی ہیں۔ اس خاموشی میں پیغام ہوتا ہے کہ تصویر بولتی رہے گی تو آنکھ بھی بیدار رہے گی۔ مجھے یقین ہے کہ مٹی کے نیچے اظہر جعفری تک رسائی کی کوشش کی گئی تو وہ اپنے مخصوص انداز میں کیمرہ اٹھاتے ہوئے کہے گا، تم کیا حساب مانگو گے، میں ابھی تمھاری تصویر اتارتا ہوں۔ زمین کے اوپر بے ترتیبی اور اونچ نیچ کی حقیقی خبر ڈان والوں کو بھیجتا ہوں۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •