دیسی شرفا کا بندہ چھڑانے کا روایتی طریقہ
پرانے زمانے میں کوئی با اثر شخص کسی سکینڈل میں مبتلا ہوتا تو اس کا نام صاف کروانے کے لیے اعلی عدلیہ میں اپنے بندے سے ہی ایک کمزور سا مقدمہ کروا دیا جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ ثبوت وغیرہ اتنے کچے دیے جاتے تھے کہ عدالت کے پاس اس امر کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا کہ اس شخص کو باعزت بری کر دے۔ یا پھر بہت معمولی سا جرمانہ وغیرہ کر کے چھوڑ دیا جاتا۔
یوں اس کا نام صاف ہو جاتا تھا۔ دشمن بھی اس الزام میں اس پر مقدمہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ایک جرم میں دو مرتبہ سزا نہیں دی جا سکتی اور کمزور مقدمے میں باعزت بری ہونے کی صورت میں نیا مقدمہ اس وقت تک دائر نہیں کیا جا سکتا جب تک کوئی نئی کھڑکی توڑ قسم کی شہادت نہ دی جائے۔ یوں وہ با اثر شخص فخر سے سر بلند کر کے اور سینہ تان کر کہہ سکتا تھا کہ شریکوں نے سازش کی تھی، شکر الحمدللہ اعلی عدلیہ نے نام صاف کر دیا اور قوم پر واضح ہو گیا کہ مجھ سے زیادہ پاک صاف بندہ اس دھرتی پر کوئی دوسرا نہیں ہے۔
یہ بعینہ اسی روایت کا تسلسل تھا جس میں ایک جیب کترا پکڑا جاتا تھا تو ہجوم اس کی ٹھکائی کرنے پر کمربستہ ہوتا۔ ایسے میں ہجوم میں سے ہی اس کا ایک ساتھی ہی آگے بڑھ کر اسے دو لگاتا، چار گالیاں دیتا اور کہتا کہ میں اس حرام کے جنے کو تھانے میں دے کر آتا ہوں، شرفا کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ان اچکوں نے، تھانے میں اس کی تشریف سنکے گی تو توبہ کرے گا۔ ہجوم مطمئن ہو کر اس جیب کترے کی جان بخشی کر دیتا کہ ہم نے تو اسے خوب سزا دی ہے، اب باقی انصاف تھانے کچہری میں اس کے ساتھ ہو جائے گا۔ یوں اس کا ساتھی اسے مارتا پیٹتا تھانے کی طرف لے کر چلتا اور دو گلیاں چھوڑ کر اسے چھوڑ دیتا کہ بچہ ہاتھ بچا کر کام کیا کر، یوں کچا ہاتھ دکھا کر استاد کا نام خراب نہ کر۔
وقتی طور پر سب دیکھنے والوں اور انصاف کے متلاشیوں کے جذبات کو سکون مل جاتا تھا اور وہ خوشی خوشی گھر چلے جاتے تھے۔ بعد مدت کے انہیں خیال آتا تھا کہ ان کے ساتھ تو ہاتھ ہو گیا۔ اور یہ خیال بھی چند کو ہی آتا تھا، ہجوم میں سے بیشتر افراد تو اپنے پوتوں دوہتوں تک کو قصہ سناتے تھے کہ کیسے ایک گینڈے جیسے ڈیل ڈول والے جیب کترے نے ان کی اپنی جیب کاٹی تھی جس میں وہ بیس لاکھ روپلی ڈال کر تاج محل خریدنے جا رہے تھے مگر انہوں نے ذرا خوف نہ کھایا اور اپنے سے دگنے اچکے کی کنپٹی کے نیچے دو رکھیں اور جیب وہ ڈھیر ہو گیا تو اسے ایک دوست کے سپرد کیا جو اسے تھانے میں دے آیا، اور اس پر ایسا پکا مقدمہ ہوا کہ وہ آج پچاس برس بعد بھی ان کی جیب کاٹنے کے جرم میں جیل کی کال کوٹھڑی میں چکی پیستا اور ساتھ ساتھ اپنا کان ملتا ہے کہ ان کے لگائے ہوئے تھپڑ کی تکلیف کچھ کم ہو۔
بس جی، زمانہ ہی بدل گیا ہے۔ ہم اپنی سنہری روایات بھولتے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم پر ایسی تباہی نازل ہو رہی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ کرپٹ سیاست دانوں پر ان کے دشمن ہی مقدمے کرتے ہیں، وہ خود ایسا کر کے اپنا نام صاف نہیں کرواتے۔ وہ روایات کی پاسداری کرتے تو یوں ان کی پگڑی نہ اچھلتی اور آج وہ کوچہ و بازار میں یوں بدنام نہ ہوتے۔ با اثر بندہ کسی غلط راستے پر چل نکلے تو روایات اور تجربے کی پاسداری کرنا مفید ہوتا ہے۔

