سوڈان کو سیکولر ریاست قرار دے دیا گیا: اسلامی قوانین کے خاتمے کا اعلان
سوڈان نے 30 سال بعد اپنے ملک میں نافذ اسلامی شرعی قوانین ختم کر دیئے ہیں اور مذہب کو ریاستی امور سے الگ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک اور سوڈانی پیپلز لبریشن موومنٹ نارتھ باغی گروپ کے سربراہ عبدالعزیز الحولو نے ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں اس اعلامیے پر دستخط کیے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ سوڈان میں ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔
اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ”سوڈان کو ایسی جمہوری ریاست بنانے کے لیے، جس میں تمام شہریوں کے حقوق کو تحفظ حاصل ہو، ریاست اور مذہب کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ہو گا۔“ رپورٹ کے مطابق سوڈانی حکومت اور باغی گروپ کے درمیان ایک ہفتہ قبل ایک امن معاہدے کی طرف پیش رفت ہوئی تھی اور اب دونوں کے درمیان سوڈان سے شرعی قوانین کے خاتمے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ عمر البشیر نے 1989ء میں سوڈان کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں اسلامی قوانین نافذ کیے تھے۔ تب سے سوڈان پر عالمی پابندیاں عائد تھیں جو اب بتدریج اٹھائی جا رہی ہیں۔


