سیاسی نظام نہیں سیاسی کلچر کو بدلیے
حکمران جماعت تحریک انصاف نے آج کل پھر سے پارلیمانی نظام بمقابلہ صدارتی نظام کی بحث کو بہت سوچ سمجھ کر دوبارہ کھول دیا ہے جو کئی عشروں سے غیر فعال تھی۔ اس بحث میں پاکستان میں صدارتی نظام کی حمایت میں متعدد معقول نکات بھی بیان کیے جا رہے ہیں۔ جس میں انتظامیہ کا ٹیکنو کریٹس کے ہاتھوں میں آنا، قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ کا پہلے سے زیادہ فوکس ہونا شا مل ہیں جن کے پارلیمانی نظام میں فقدان کا الزام لگاتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں اس کے حامی افراد کا ماننا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومتوں کو سیاست کی بجائے سیاست اور ذاتی طور پر بڑھنے پر زیادہ توجہ دینے کی تیاری کرتا ہے۔ کراچی سمیت دیگر شہروں میں پانی کی تباہی نے جو زبردست تماشا لگایا ہے وہ پالیسی سازی اور قانون سازی میں ایگزیکٹو اور مقننہ کی طرف سے عدم دلچسپی کی گواہی دیتا ہے کیونکہ وہ اقتدار کو برقرار رکھنے یا اس پر قبضہ کرنے میں مصروف ہیں۔
مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ پارلیمانی نظام کی غلطی ہے۔ پاکستان میں سیاسی بد نظمی کی وجوہات کئی ہیں اور وہ کسی خاص حکومت کے دورانیے تک ہی محدود نہیں ہیں۔ پہلا یہ کہ سیاسی طبقے کی طرف سے اسلام کے نام پہ سیاست کرنے والوں کے عقیدت مندوں اور علاقائی جماعتوں کے خاطر خواہ حصے کو چھوڑ کر نظریاتی وابستگی کا فقدان ہے۔ بہت سے سیاستدان سیاسی اصولوں سے انکار کرتے ہیں۔ تقریباً سبھی سیاستدان ہمارے ہاں فروخت کے لئے تیار ہیں۔ جس کا مظاہرہ ہم گاہے بگاہے دیکھتے رہتے ہیں۔ ان زہریلے سیاستدانوں کے لئے بد نظمی اور پارٹی سے غداری سنگین سیاسی خرابیاں نہیں ہیں بلکہ اقتدار کو حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لئے ان کی سیاسی حکمت عملی کے لازمی اجزا ہیں۔
اس قومی رجحان میں تبدیلی کا کہیں کوئی امکان دور دور تک نہیں نظر نہیں آتا۔ یہاں تک کہ اگر پاکستان صدارتی نظام میں بھی چلا جائے تو در حقیقت یہ امکان اپنی جگہ بہرحال موجود رہے گا کہ اس ضمیر فروشی سے مقننہ کے ذریعے ایگزیکٹو یا پھر ایگزیکٹو مقننہ کے امور میں بے جا دخل اندازی سے نظام کو تعطل کا شکار کر دے گا۔ صدارتی نظام میں آرڈیننس جاری کرنا اور قانون سازی کی حتمی منظوری دینا صدر کی خصوصی صوابدید میں شامل ہوتا ہے۔ جنہیں بعد ازاں ایک مخصوص مدت کے بعد پارلیمنٹ سے کے سامنے توثیق کے لیے پیش کرنا لازمی ہے۔ لیکن خریدو فروخت کا یہ رجحان پارلیمنٹ کو بے توقیر کر کے اختیارات میں چیک اینڈ بیلنس کے بنیادی اصول کو مکمل طور پہ کالعدم کردے گا۔
دوسرا پاکستانی انتخابات میں شفافیت کے اعتبار سے بے شمار نقائص موجود ہیں۔ زرعی ملک میں مربوط جاگیر دارانہ نظام ہاریوں اور مزارعوں کو اس طرح جکڑے ہوئے ہے کہ ان کی کثیر تعداد بھی ان کے ووٹ کے آزادانہ حق کو مفلوج بنانے سے نہیں روک سکتی۔ یہ ایک معاشرتی وائرس ہے جو صدارتی نظام میں تبدیل ہو نے کے بعد بھی غائب ہونے کا امکان نہیں ہے۔ کیونکہ صدر کے انتخاب کے لیے جن حلقوں سے امداد کی اپیل کی جائے گی وہ صدر کی کابینہ کے چناؤ پہ بھی اثر انداز ہوں گے۔ یہ ہی وہ فیکٹر ہے جو پارلیمانی نظام میں کابینہ کی تشکیل کو متاثر کرتا ہے۔ پارلیمانی نظام میں کابینہ کا پارلیمنٹ سے ہونا ایک لحاظ سے ایک فلٹر ہے لیکن اسے مکمل طور پہ صدر کی صوابدید پہ چھوڑ دینا ہمارے ہاں نظام کو خراب کرنے کے ساتھ ساتھ آمرانہ سوچ کو بھی پروان چڑھائے گا۔
تیسرا ایک قابل عمل پارٹی ڈھانچے کی عدم موجودگی میں صدارتی نظام منتخب اراکین اسمبلی خاص طور پر حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے غیر ذمہ دارانہ سلوک کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ اگر چہ موجودہ پاکستانی مقننائیں بھی ربڑ کی مہر لگانے والے اداروں اور تباہی پھیلانے میں مصروف افراد کے مابین کوئی رکاوٹ حائل نہیں کر پا رہی ہیں لیکن صدارتی نظام میں مقننائیں بڑے پیمانے پر اسی عمل میں ناکام نظر آئیں گی۔ پارلیمینٹیرین ایسی زندہ لاشیں ہیں جنہیں جدھر چاہیں موڑا جا سکتا ہے۔ نئے صدارتی نظام میں اس سے کہیں زیادہ امکان ہے کہ وہ بنیادی طور پر ذاتی فوائد کے لئے کرپٹ سرگرمیوں میں مصروف انتہائی لاپروا اجتماعات میں تبدیل ہوجائیں گے۔
چوتھا یہ کہ پاکستان میں کسی ایک سیاسی جماعت کی بھی گراس روٹ لیول پہ نمائندگی نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے کبھی بھی حکمران عوام کی بنیادی ضروریات سے ہمیشہ غافل رہتے ہیں اور قومی پالیسیوں میں عام آدمی کا مفاد نظر نہیں آتا۔ سیاسی جماعتوں میں مربوط الیکشنز کا نہ ہونا اور بھی اس مسئلہ کو گمبھیر بنا دیتا ہے جس سے سیاسی جماعتیں آمریت پسندانہ رویہ اپنانے لگتی ہیں۔ اور سیاسی جماعتوں میں موروثی قیادت کا عنصر غالب آتا جاتا ہے۔ ان سب کی ایک وجہ بنیادی حکومتوں کی طرف عدم تو جگی ہے۔ اگر آئینی طور پہ یونین کونسل سے نیچے وارڈ اور محلہ لیول تک کے الیکشنز شفاف طریقے سے کروائے جائیں تو قومی سطح پہ قیادت کا خلا پیدا نہیں ہو گا۔
پانچواں جدید جمہوری نظام نے جاگیردارانہ نظام کی جگہ لی ہے۔ عوام میں جمہوری نظام کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں جاگیردار کی جگہ کسی ادارے نے لے لی ہے۔ جاگیردار کا مزاج اس کے فیصلوں پہ حاوی ہوتا تھا جبکہ ادارے غیر جذباتی اور قانون کے پابند ہونے کے باعث عوام کو آسان مراحل سے گزار کر ریلیف دے دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں پارلیمانی نظام میں بھی سیاستدانوں نے اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لیے بیوروکریسی کو بہت چھوٹ دے رکھی ہے۔ جس سے عام آدمی ایک بار پھر ادارہ جاتی پراسس سے گزر کر ریلیف لینے کی بجائے ایک جاگیر دار نما بابو کے مزاج کا محتاج ہو گیا ہے۔ صدارتی نظام میں بیوروکریسی کے رویوں میں اور رعونت آ جائے گی۔
موجودہ حکومت میں انتظامی اہلیت کی کمی شدت سے محسوس کی گئی ہے۔ حالانکہ تحریک انصاف کے پاس پچھلے پانچ سال کے۔ پی۔ کے میں حکومت تھی وہاں بھی وہ اپنی انتظامی نا اہلی کو اپنی نا تجربہ کاری سے چھپاتے رہے۔ لیکن یہ کبھی نہ سوچا کہ کل اگر وفاق میں حکومت سازی کا موقعہ ملا تو ہماری حکمت عملی کیا ہو گی۔ اس لاپروا رویے کا خمیازہ قوم وسیع پیمانے پہ بھگت رہی ہے۔ خان صاحب ہر سوال کے جواب میں یہ تو کہتے ہیں کہ میں نے بیس برس برطانیہ میں گزارے ہیں لیکن انہوں نے برطانوی پولیٹیکل سسٹم کا مطالعہ نہیں کیا۔
ہمیں برطانوی طرز پہ اپنی سیاسی روایات میں شیڈو کیبنٹ کو رواج دینا چاہیے۔ جس میں قائد حزب اختلاف اپنی کابینہ تشکیل دے اور بجٹ سمیت اپنی دیگر پالیسیوں کو ڈاکیومینٹڈ شکل میں پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے رکھے۔ اس سے عوام کو نہ صرف حکومت کی کارکردگی جانچنے کے ساتھ ساتھ متبادل قیادت کے بارے میں بھی فورم میسر آ سکتا ہے۔
ہمارے الیکشن کمیشن کی تشکیل اور کارکردگی پہ سوالات ہر الیکشن پہ پیدا ہوتے ہیں اور اگلے الیکشن تک چلتے ہیں لیکن اس میں ریفارمز کے لیے کسی حکومت کو سنجیدہ نہیں پایا۔ الیکشن پہ ہونے والے اخراجات پہ الیکشن کمیشن کی بے بسی نے حکومت ایوانوں میں ایک مخصوص طبقے کی نمائندگی کو یقینی بنا رکھا ہے۔ انتخابی امیدوار اور ووٹر کے مابین موجود معاشی فرق نے الیکشن کی روح کو ہی کچل کر رکھ دیا ہے۔ ووٹر اور امیدوار کے مابین فرق اگر آقا اور غلام کا ہو تو اسقاط جمہوریت ایک لازمی امر ہے۔
مسئلہ پارلیمانی نظام کا نہیں بلکہ ملک کی سیاسی ثقافت کا ہے۔ اس کا ثبوت سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ رائے دہندگان عوامی ضروریات اور قومی خدمت کے بارے میں باخبر رہ کر انتخاب میں حصہ لینے کی بجائے جذباتی اپیلوں کے جواب میں اپنی رائے کی تشکیل کے لیے فرقہ واریت، ذات پات اور سب سے بڑھ کر اپنی بھوک کو بنیاد بناتے ہیں۔ اس وبائی مرض کرونا اور حالیہ شدید بارشوں کے دوران پاکستان کے پبلک ہیلتھ اور مقامی حکومتوں کے نظام کا مایوس کن طریقے سے جواب دے دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست اور پارلیمانی انتخابات میں رائے دہندگان کو ووٹ ڈالنے کے وقت رائے دہندگان کے لئے صحت عامہ کا خیال نہیں تھا۔ حکومتوں کے ذریعہ جو فضول خرچی کی گئی ہے وہ حکام کی بے چینی کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بدقسمتی سے واقعی انتہائی مسخ شدہ عوامی ترجیحات اور سیاسی طبقے کی بے راہ روی پاکستانی سیاست میں بد حالی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ یہ دو عوامل ہیں جن کا تعلق کسی خاص نظام حکومت کی کسی خاص شکل کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وہ متغیر ہیں جو جمہوری اداروں کی افسوسناک حالت کی وضاحت کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ مجھے خوف محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی اس وقت تک اس صورتحال کے ساتھ زندگی گزاریں گے جب تک کہ ملک کی سیاسی ثقافت میں مقبول اور سیاسی طبقے کی سطح پر کوئی بنیادی تبدیلی دستک نہیں دے دیتی۔ یہ بنیادی تبدیلی کسی غیر امن اقدام کو بھی اپنے دامن میں اپنے ساتھ لا سکتی ہے۔ اس لیے پارلیمانی فارم کو صدارتی شکل میں تبدیل کرنا کوئی افاقہ نہیں ہے۔ اگر تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو سیاسی ثقافت میں تبدیلی لائے آپ امر ہو جائیں گے۔


