پاکستان میں قیام پاکستان کا افسانہ یقیناً آسکر ایوارڈ کے لائق ہے کہ اتنی دیر پردے پہ مقبولیت کے جو ریکارڈ قائم کیے اس کی نظیر کہیں اور ملنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔ کیسا حسین امتزاج ہے اور ہدایت کار کے فن کو بھی داد دیے بغیر انسان رہ نہیں سکتا کہ جن کے کفر کا ”مسلم امہ“ کا اجماع تھا وہ حصول پاکستان کی جد و جہد میں سرگرداں تھے اور جو اب پاکستان کے وارثان ہیں وہ اس کے بننے کے گناہ میں شرکت سے بری الزمہ ہیں۔
اس کھلے تضاد پہ پرفن ہدایت کاری اپنی معراج کو چھو لیتا ہے۔ ہم قیام پاکستان کے حوالے سے ریاستی بیانیے کے علاوہ کسی بھی دوسری تحقیق کو شجر ممنوعہ قرار دیتے ہیں۔ سرکاری سطح پہ پڑھائی جانے والی تاریخ الہامی ہونے کی دعویدار ہے جس سے معمولی سا انحراف بھی حب الوطنی کے ساتھ ساتھ انسان کو اس کے ایمان سے بھی محروم کر سکتا ہے۔ اسی ریاستی بیانیے نے قوم کو تقسیم در تقسیم کے لا متناہی سلسلے کی نظر کر رکھا ہے۔ جس کا ایک مرتبہ اظہار مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں بڑی سکرین پہ دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن کسی نے اتنے بڑے کے بعد بھی خود احتسابی کے لیے خود کو پیش نہیں کیا اور اتنی تندہی کے ساتھ گیم کے اگلے لیول کی جانب بڑھنا شروع ہو گئے۔
Read more