توشہ خانہ کیس: آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر فردِ جرم عائد، نواز شریف اشتہاری قرار
عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزم نواز شریف کی پاکستان میں جائیدادوں کی تفصیلات بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے اس مقدمے کی سماعت کی تو انھوں نے ملزمان آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے موکلوں پر لگائے گئے الزامات پڑھ لیے ہیں جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ انھوں نے الزامات پڑھ لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کیا حکومت نواز شریف کو پاکستان واپس لا سکے گی؟
توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
تحفے میں ملی گاڑیاں سستے داموں خریدنے پر ریفرنس دائر
نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کا معاملہ، نیب اور حکومت خاموش کیوں؟
احتساب عدالت کے جج نے اس مقدمے میں ملزمان پر عائد کیے گئے الزامات پڑھ کر سنائے تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔
پاکستان کے سابق صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ دو اور ملزمان عبدالغنی اور عبدالمجید بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جبکہ ملزم عبدالمجید ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شامل تھے۔
احتساب عدالت کے جج اصغر علی نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان صحت جرم سے انکار کر رہے ہیں؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وہ نہ صرف صحت جرم سے انکار کر رہے ہیں بلکہ یہ بھی کہ وزیراعظم کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ سمری کی منظوری دے۔ انھوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو نے اختیارات کے استعمال کا غلط ریفرنس بنایا۔
اس موقع پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی خود روسٹرم پر آ گئے اور انھوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مائی لارڈ میں نے کبھی رولز کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ قانون کے مطابق جو سمری آئی اسے منظور کیا اور اگر سمری غلط ہوتی تو سمری موو ہی نہ ہوتی۔
احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ ابھی عدالت مقدمے کے میرٹ پر بات نہیں کر رہی کہ سمری کیسے آئی اور کیسے منظور ہوئی۔ اُنھوں نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات ٹرائل کے دوران عدالت کو بتائیں۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیب نے رولز آف بزنس کو دیکھے بغیر ریفرنس بنایا۔
خیال رہے کہ اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ملزم آصف زرداری پر توشہ خانہ سے تحائف میں ملنے والی گاڑیاں ذاتی استعمال کے لیے حاصل کرنے کا الزام ہے جبکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر یہ گاڑیاں مذکورہ افراد کو دینے سے متعلق سمری منظور کرنے کا الزام ہے۔
عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے سرکاری گواہان کو طلب کر لیا ہے۔
دریں اثنا احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی 17 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔


