نواز شریف سے پرناب مكهر جی کی ایک یادگار ملاقات
کرونا کی وبا عالمی سطح پر پھیلی تو اس نے ایسی وبائی شکل اختیار کرلی کہ نہ بڑا دیکھا نہ بچہ نہ امیر نہ غریب نہ کارکن نہ لیڈر اور یہی کچھ انڈیا میں بھی ہوا کہ وہاں پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف کے متاثرین آرہے ہیں بلکہ دنیا سے جا بھی رہے ہیں۔ اور ان جانے والوں میں انڈیا کے سابق صدر ( راشٹر پتی ) پرناب مكهرجی بھی شامل ہیں ۔
پرناب مکھر جی کی دنیا کے اسٹیج سے رخصتی کی خبر پڑھ کے ان سے دو ملاقاتیں یاد آگئی وہ بطور وزیر خارجہ پاکستان آئے ۔ان کی ملاقاتوں میں پاکستان کی حکمران جماعت کے قائدین سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ یہ خواہش بھی موجود تھی کہ وہ حزب اختلاف کی مرکزی قیادت کے ساتھ بھی ملاقات کریں۔
وہ میاں نواز شریف سے ملاقات کے متمنی تھے اور ان کی اس تمنا کو حقیقت میں بدلنے کی غرض سے اس وقت کے پاکستان میں متعین بھارتی سفیر ستيه برت پال نے میرے سے رابطہ کیا کہ میاں نواز شریف سے ملاقات کا وقت طے کروا دیا جائے پرناب مکھرجی بھارت کے ناصرف کے سینئر سیاستدان تھے بلکہ اس سے قبل بھی بھارت کے وزیر خارجہ رہ چکے تھے جب ملاقات طے ہوگئی تو پرناب مکھرجی اسلام آباد پہنچ چکے تھے میاں نواز شریف نے اپنے ساتھ ملاقات میں اور کچھ افراد کے ہمراہ مجھے بھی شامل کرلیا۔
پرناب مكهر جی وقت مقرره پر پنجاب ہاؤس اسلام آباد پہنچ گئے ان کے ہمراہ دیگر سینئر بھارتی حکام بھی موجود تھے۔ رسمی علیک سلیک میں پرناب مکھرجی نے میاں نواز شریف کو یاد کروایا کہ اس سے قبل ان کی ملاقات پیرس میں ایک ہوٹل کی لفٹ میں ہوئی تھی اور میاں نوازشریف کو بھی وہ ملاقات اور گفتگو یاد آگئی ۔
اس کے بعد پرناب مکھرجی نے گفتگو کا آغاز کیا اور ابتدا اس سے کی کہ دونوں ممالک کی عوام کی خوشحالی اس میں پنہاں ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار پرامن تعلقات مستقل بنیادوں پر قائم ہو اور یہ تعلقات مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کی غرض سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مکمل طور پر بحال ہونے چاہئیں جب تجارتی تعلقات کی بحالی پر کام ہوگا تو ثقافتی تعلقات بھی اس کے ساتھ ساتھ ہی بحال کرنے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کی عوام مجموعی طور پر پرامن تعلقات کی طرف بڑھتی چلی جائے ۔
جو لوگ میاں نواز شریف سے مختلف اوقات میں ملتے رہيں ہیں وہ ان کے اس مزاج سے اچھی طرح سے واقف ہے کہ وہ دوسرے کی بات بہت توجہ اور تحمل سے سنتے ہیں چاہے اس سے جتنا مرضی اختلاف رائے رکھتے ہو ۔ ان کی اس خاصیت کا مشاہدہ اسی نوعیت کی اور ملاقاتوں میں بھی راقم الحروف کرتا رہا ہے۔
جب پرناب مکھر جی اپنی گفتگو کر چکے اور بھارت پاکستان پر امن تعلقات کی افادیت پر اپنی روشنی ڈال چکے تو میاں نواز شریف گویا ہوئے کہ اس میں کوئی دوسری رائے قائم ہی نہیں کی جاسکتی کہ خطے میں پائیدار امن قائم ہونا چاہیے جس کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہیے لیکن انہوں نے پرناب مکھرجی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ صرف تب ہی ممکن ہوگا جب بات لفظوں سے آگے بڑھ کر عمل کا روپ اختیار کرليں ۔
یہ عمل کا روپ صرف اسی وقت ہی اختیار کریگی جب کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کا فیصلہ ہوگا اس بات کو سمجھنے کی غرض سے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات مستقل کشیدگی میں کیوں تبدیل ہوگئے تو ہمیں ان واقعات کا جائزہ لینا ہوگا کہ جن کی وجہ سے معاملات ایک خاص رفتار سے کشیدگی کی جانب بڑھتے چلے گئے ۔
ہم سب اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ کشیدگی کی ابتدا اور انتہا دونوں میں یہ عمل کارفرما ہے کہ کشمیری عوام سے وہ وعدہ جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صورت میں ان سے کیا گیا تھا وفا نہیں ہو سکا اور نتیجتاً کشیدگی بڑھتی چلی گئی اور خزاں سے بہار اس وقت ہی آسکتی ہے جب خزاں کی وجوہات کا تدارک ہو گا اور یہ تدارک کرنا تنہا پاکستان کا فرض نہیں ہے بلکہ بھارت اگر آج بھی اپنی اقوام متحدہ میں کی گئی اس گفتگو کا خود ہی احترام کرے جو اس نے کشمیر پر وعدے کرتے وقت کی تھی تو جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ سب حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
میاں نواز شریف کی گفتگو کے دوران پرناب مکھرجی کے چہرے کے اتار چڑھاؤ بتارہے تھے کہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جو کچھ میاں نواز شریف کہہ رہے ہیں وہ درست ہے اور جو کچھ انہوں نے میاں نواز شریف سے کہا ہے وہ ماسوائے خواب و خیال کے اور کچھ نہیں ہے ۔
اسی شام انڈین ہاؤس اسلام آباد میں پرناب مکھرجی سے کچھ دیگر پاکستانیوں کے ہمراہ دوبارہ ملاقات ہوئی اس ملاقات میں پرناب مكهر جی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی دوسری رائے قائم نہیں کی جا سکتی ہے کہ دونوں ممالک کو امن کی طرف بڑھنا چاہیے اور امن کی طرف بڑھنے کے لیے ہم میاں نواز شریف کی گفتگو کی افادیت کہ قائل ہیں ۔ تاکہ تمام مسائل کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے ۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت اپنی عوام کو مستقل اس خواب و خیال کی حالت میں رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ حق پر ہونے کے باوجود دنیا میں اپنی وہ پذیرائی نہیں بنا سکا تو اس کے دعوے کی پذیرائی ہونی چاہئے تھی ۔کھلی آمریت اور درپردہ آمریت نے دنیا کی نظروں میں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر دیا ہے کہ جس سے بھارت کی گفتگو زیادہ مضبوط تسلیم کی جاتی ہے ۔
برسبیل تذکرہ بیان کرتا چلوں کہ 2012 میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا پاکستان کے دورے پر آئے تو لاہور میں میاں شہباز شریف سے ان کی ملاقات ہوئی ملاقات میں دیگر افراد کے ہمراہ میں بھی شامل تھا بھارتی وزیر خارجہ نے وہی گفتگو کی جو پرناب مکھرجی نے چند برس قبل کی تھی اور میاں شہباز شریف نے بھی گفتگو کشمیر سے شروع کی اور کشمیر پر ہی ختم کی اور میں دیکھتا ہی رہ گیا کہ میاں شہباز شریف کی سوچ تو سوچ الفاظ بھی اپنے بڑے بھائی اور لیڈر میاں نواز شریف سے کتنے ہم آهنگ ہیں حالانکہ ان کے مخالفین کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ دونوں بھائی جدا ہو جائیں ۔


