کتوں کے کاٹنے کے اوقات مقرر ہو گئے – ابن انشا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اخبار کی خبر سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی میں کتوں کے کاٹنے کے اوقات مقرر ہو گئے ہیں۔ وہ دن گئے جب یہ اپنی من مانی کیا کرتے تھے، جب چاہا کاٹ لیا، دانت گڑو دیے۔ نہ دن دیکھنے تھے نہ رات دیکھتے تھے۔ اب ان کو گھڑی دیکھ کر کاٹنا ہو گا۔ بس صبح نو بجے سے چار بجے تک اجازت ہے۔ اس سے باہر نہیں۔ جمعہ اور ہفتہ کو فقط دوپہر تک کاٹ سکتے ہیں اور اتوار کو بالکل ممانعت ہے۔ بعض اور دنوں اور تہواروں کی چھٹیاں بھی لازمی ہیں جن کی فہرست کوئی بھی کتا کارپوریشن کے دفتر جا کر ملاحظہ کر سکتا ہے۔


اس سلسلے میں ہماری اطلاع کا ذریعہ بالواسطہ ہے کیونکہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے کتوں کے نام کوئی تحریری سرکلر جاری نہیں کیا گیا۔ شاید اس لیے کہ ہمارے ملک میں کتوں کی شرح خواندگی انسانوں سے بھی کم ہے۔ معلوم رہے کہ پاکستان میں انسانوں کی شرح خواندگی پندرہ فیصدی کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے دس فیصدی کو تو پڑھنے کی کتابیں نہیں ملتیں اور وہ اپنا پڑھا پڑھایا بھول جاتے ہیں۔ پانچ فیصدی کے قریب فلموں کے بورڈ اور ڈائجسٹ پڑھ پڑھ کر اپنی خواندگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ بعض طبقوں مثلاً اعلیٰ افسروں، ادیبوں، صحافیوں، اسکول ٹیچروں، اور پروفیسروں وغیرہ کی ایک بڑی تعداد خواندہ ہے اور دستخط تو قریب قریب سبھی کر لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ کہیں کہیں کوئی سیاست دان بھی پڑھا لکھا نکل آئے تو تعجب نہ کرنا چاہیے، لیکن عام آبادی کا یہ حال نہیں اور جانوروں کو تو نئی پالیسی تک میں نظرانداز کیا گیا ہے۔


آج کل اپنا ذریعہ معلومات تو بالعموم کوئی نہیں بتاتا اور ہم صحافیوں کو تو بالخصوص اس کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ پھر بھی ہم بتا دیں کہ اس پابندی کا علم ہمیں سول اسپتال کے ذریعے سے ہوا ہے جنہوں نے کتے کے کاٹے کے لیے علاج کی سہولت صبح 9 بجے سے 4 بجے تک کے لیے رکھی ہے۔

ظاہر ہے انہوں نے سفارتی سطح پر یا کسی چوٹی کی کانفرنس میں کتوں کے ساتھ مقررہ اوقات میں کاٹنے کا کوئی شریفانہ سا معاہدہ طے کیا ہو گا۔ ورنہ وہ دن رات کے سبھی اوقات میں اسپتال کھلا رکھتے۔ بہتر ہوتا کہ وہ سول اسپتال میں اوقات کا بورڈ آویزاں کرنے کے ساتھ ساتھ اس معاہدے کی مناسب پبلسٹی بھی کرتے اور شہری آبادی کو بھی ہدایت کرتے کہ وہ اپنے آپ کو ان اوقات سے باہر کتوں سے ہرگز نہ کٹوائیں۔

ہمارے ملک میں ایسے غیر ذمہ دار لوگوں کی کمی نہیں جو جس وقت جی چاہتا ہے کسی کتے کے منہ میں اپنی ٹانگ دے دیتے ہیں۔ یہ بری بات ہے۔ اگر کسی کو بہت ہی شوق ہو تو کسی اور جانور سے کٹوا سکتا ہے۔ کاٹنے والے دیگر جانوروں کی فہرست بھی غالباً کارپوریشن یا سول اسپتال سے ان کے دفتری اوقات میں حاصل کی جا سکتی ہے۔


اوقات کی پابندی کے لیے کئی تجویزیں کارپوریشن کے زیر غور ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہر کتے کو ایک ایک گھڑی مہیا کی جائے اور اسے وقت دیکھنا بتایا جائے۔ ہمارے خیال میں ایک ایک گھڑی شہریوں کے لیے بھی چاہیے ہو گی تاکہ وقت بے وقت کتوں سے فرمائش نہ کر دیں کہ ہمیں کاٹو۔

سائرن بجانے کا انتظام بھی ہو سکتا ہے۔ مہذب ملکوں میں جہاں وقت کی پابندی جزو ایمان ہے ہمیں معلوم نہیں اس سلسلے میں کیا ہوتا ہے۔ ولایت جا کر ہم اور ہی قصوں میں الجھے رہے، اس مسئلے کا مطالعہ نہیں کر سکے۔

ریڈیو اور ٹیلیویژن بھی اس سلسلے میں خبردار کر سکتے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں کے بیشتر کتوں کو ٹیلیویژن دیکھنے کی سہولتیں بھی حاصل نہیں۔ حالانکہ پاکستان ٹیلیویژن کارپوریشن ان کے لیے لاسی نام سے آج کل ایک خاص پروگرام چلا رہی ہے جس میں ایک کتا ہے اور اس کے ساتھ پالتو انسان ہیں اور بچے وغیرہ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •