کوتوال شہر کی فرمائش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علوم کوتوالی سے
ذرا سا فیض مل جائے
تو ارض پاک کا پھر اک
نیا نقشہ بنانا ہے
کہ وحشی کس سڑک پر ہیں
کہاں انسان بستے ہیں
سر نو سارے رستوں کو
قلم قرطاس کرنا ہے
سمے کی اک نئی تقویم کرنی ہے

مناسب ہے حضر کب تک
سفر پہ کب نکلنا ہے
یہ سب کچھ درج کرنا ہے
ذرا سا فیض مل جائے
علوم کوتوالی سے
زنان بے بس و لاچار کی خاطر
ہدایہ اک نئی ترتیب دینی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •