آہ مستونگ!

آپ کی نعت کے ہم ہیں قابل کہاں کس زباں سے کہیں آپ کے امتی ہیں آپ جودوسخا، ہم ہیں ننگ جہاں ہم ہیں بار زمیں، آپ خیر الزماں آپ کی نعت کے ہم ہیں قابل کہاں آپ صدق و صفا، ہم ہیں مکروریا آپ لطف و کرم، ہم ہیں جورو جفا آپ کی نعت کے ہم ہیں قابل کہاں آپ رحم و دیا ہیں، خطا پوش ہیں ہم ہیں قزاق سب، ہم خطا بین ہیں آپ پورے محبت میں

Read more

ہے مکرر لب ساقی پہ۔۔۔ (ایک نثری نظم)

اہلِ ہیبت کے دیو خوفِ مجہول کے بادل بن کر دستورِ تاسیسِ وطن پہ گویا جیشِ مطلق کی طرح  سایہ فگن رہتے ہیں کبھی تو لکھے گا کوئی قصہ ارضِ وطن قصہ شمشیرِ ستم ، قصہ شوریدہ سَراں چاند کے چاند ڈھلے، سال کے سال گئے اُس وادئی سَنگلاخ کے کچھ پیرانِ وطن فرزندانِ گم گشتہ کی تصویریں تھامے شاہرہ دستور پہ ایک صُورتِ رَنج و حُزن انصاف کی دیوی کو ہر روز صدا دیتے ہیں درگور اسی شہر میں

Read more

قبائے برہنگی

قصرِ اِستِبداد سے آ جاتے ہیں جو رحم و دَیا کے بادل تو ہم مفلسوں کی فصل بھی ہری ہوتی ہے سنبھل جاتی ہے کچھ دیر کو نبضِ ہستی اور بجھتی ہے اسی طور ذرا پیٹ کی آگ پر ہمیشہ تو نہیں آتے یہ دَیا کے بادل اکثر تو بیگار کے فرماں آتے ہیں اور میرے قبیلے کے نحیف و نزار بدن اسی فرماں سے بندھے سوئے قَصر جاتے ہیں مل جائے اگر اہلِ قصر سے دو گز پوشاک عریاں

Read more

بُغضِ زَن کا شہر

جو عیب تم ہو ڈھونڈھتے  طرزِ زَناں میں رات دن  آفاق تک یہ ڈھونڈنا  یہ عارضہ کوئی اور ہے  جو کامل جنم کے وقت تھی کیوں سنِ بلوغ میں نصف ہے ؟ نسبت فقط وہ کیوں بنی انسان جس کی شناخت تھی اِس بُغضِ زَن کے شہر میں  یہ سلسلہ کوئی اور ہے نکلی تھی رات گھر سے کیوں؟  ڈھانپا تھا اس نے سر کو کیا ؟ توجیہہ بے جواز ہے  بس ہے فتور ذہن کا اور حادثہ کوئی اور

Read more

کوتوال شہر کی فرمائش

علوم کوتوالی سے ذرا سا فیض مل جائے تو ارض پاک کا پھر اک نیا نقشہ بنانا ہے کہ وحشی کس سڑک پر ہیں کہاں انسان بستے ہیں سر نو سارے رستوں کو قلم قرطاس کرنا ہے سمے کی اک نئی تقویم کرنی ہے مناسب ہے حضر کب تک سفر پہ کب نکلنا ہے یہ سب کچھ درج کرنا ہے ذرا سا فیض مل جائے علوم کوتوالی سے زنان بے بس و لاچار کی خاطر ہدایہ اک نئی ترتیب دینی

Read more

تقدیسِ مشرق کا گنگا جل اور جدیدیت کی آلائشیں؟

آج کل ماروی سرمد اور خلیل الرحمٰن قمر کے قضیے کو لیکر خوب بحثا بحثی ہے۔ ہمارے سماج کے غالب طبقات خلیل کو اپنا ہیرو مانتے ہیں، وہ نہال ہیں کہ آخر کار کسی تو مرد کے بچے نے تقدیسِ مشرق کے گنگا جل کو جدیدیت کی آلائشوں سے پوتر رکھنے کا بیڑہ اُٹھایا۔ اُن کے تئیں عورت کے حق انفرادیت کی آواز ہمارے سماجی وراثت پر ایک مہلک حملہ ہے۔ جب جان خدا کو دینی ہے تو خدا لگتی

Read more