جانے انجانے میں پی آئی اے کا سفر اور خاور جمال سے معذرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ای ٹکٹ کا پرنٹ نکالا، ماسکو سے ابوظہبی تک تو اتحاد ایر لائنز ہی لکھا تھا مگر ابوظہبی سے لاہور تک کی پرواز کے لیے ETIHAD کے اوپر انگریزی میں پاکستان انٹرنیشنل بھی لکھا تھا۔ ماجرا سمجھ نہیں آیا تھا۔ جب ماسکو کے دومودیوو ایر پورٹ کے کاؤنٹر 100 تا 103 پر پہنچا تو عقدہ کھلا کیونکہ ان نمبروں کے باقی کاؤنٹروں پر اگر الاتحاد روشن تھا تو 103 پر پاکستان انٹرنیشنل ایرلائنز اور سری لنکا ایر لائنز باری باری نمایاں ہو رہے تھے۔

چونکہ ماسکو سے پاکستان کے کسی شہر تک کوئی براہ راست پرواز نہیں ہے اور پی آئی اے تو ایک عرصہ ہوا کچھ برس کام کرنے کے بعد یار لوگوں کے ہاتھوں لٹ جانے کے بعد ماسکو سے پروازیں بند کر چکی تھی چنانچہ میں یہی سمجھا کہ شاید سری لنکا سے کولمبو اور وہاں سے پی آئی اے کی پرواز پاکستان کے لیے ہوگی مگر خدامات پر مامور الاتحاد کی اہلکار خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے کاؤنٹر نمبر 103 پر ہی لے گئی۔ بورڈنگ کارڈز ملنے پر معلوم ہوا کہ ابوظہبی سے آگے مجھے عرصہ دراز کے بعد انجانے میں پی آئی اے کی لاجواب پرواز کے باکمال لوگوں کے ساتھ سفر کرنا ہوگا کیونکہ کارڈ پر پرنٹ تھا Flight PK 264 جس کے نیچے دوسری لائن میں لکھا ہوا تھا 2556 Sold as EY یعنی ماسکو سے لاہور جانے والے مجھ واحد مسافر کو اتحاد نے پی آئی اے کو ”بیچ“ دیا تھا۔

ابوظہبی انٹرنیشنل ائرپورٹ بین الاقوامی معیارات کے حوالے سے خاصا ناگفتہ بہ ایر پورٹ ہے اس کا اندازہ مجھے تب ہوا جب میں نے سوچا کہ جیلیٹ کے کارٹرجز خرید لیتا ہوں لیکن وہاں ڈیوٹی فری شاپس میں شراب، چاکلیٹس، سووینیرز اور کچھ الیکٹرونک گیجیٹس کے علاوہ مزید کچھ نہیں تھا۔ میں کارڈ پر درج گیٹ نمبر 21 پر پہنچ گیا۔

وہاں جب مسافر آنے لگے تو یوں لگا جیسے میں ثقافتی آبشار نیاگرا پر پہنچ گیا ہوں۔ کہاں ماسکو سے ساتھ آنے والی حسین جواں لڑکیاں، مہذب ماڈرن خواتین، سروقد و جسیم جوان مرد یا سنجیدہ بردبار ادھیڑ عمر افراد اور کہاں شلواروں قمیصوں میں ملبوس مرجھائے ہوئے لوگ جن میں سے کچھ نے تو ٹوپیاں بھی اوڑھی ہوئی تھیں پھر ہونٹوں اور ناکوں کو نقابوں تلے چھپائے ننگی آنکھوں سے تاکتی بے ڈھنگے ابدان والی خواتین۔

ڈیپارچر لاؤنج میں اذان کی آواز گونجی۔ مجھے اس کے کچھ دیر بعد باتھ روم میں جانے کا اتفاق ہوا۔ نماز کے کمرے یا مسجد جو بھی کہہ لیں کی بغل میں موجود ہر باتھ روم کا فرش پانی سے پوری طرح گیلا تھا۔ کسی نے بھی سیٹس کو اٹھا دینے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی اور سب سیٹوں کو ظاہر ہے اپنے بول سے تر کیا ہوا تھا۔ ان لوگوں نے کیسے ایسے کیا، کیسے خود کو پاک کیا اور کس حالت میں نماز پڑھی، مجھے کچھ سمجھ نہ آئی۔

بھوک چمک اٹھی تھی۔ طیارے میں بیٹھنے میں ابھی ڈیڑھ دو گھنٹے باقی تھے۔ لاؤنج میں اچھا برا کھانا بک رہا تھا لیکن میں نے اور یقیناً بہت سوں نے اس لیے نہیں کھایا تھا کہ پرواز میں کھانا تو دیں گے ہی۔ پھر عملے کے کسی فرد نے اشارہ کیا ہوگا کہ لوگ بھیڑوں کی مانند دوڑے۔ دس پندرہ منٹ کے بعد بس میں سوار ہونے لگے۔ جب بس ٹھسا ٹھس بھر گئی تو وہ چل پڑی پھر چلتی ہی چلی گئی۔ میں نے مذاق میں ساتھ کھڑے نوجوان سے کہا کہ کیا ہمیں بس میں بٹھا کر لاہور لے جا رہے ہیں۔

اس نے کہا کہ شاید طیارہ کہیں دور کھڑا کیا گیا ہے۔ ایک ویرانے میں پی آئی اے کا بے یارومددگار طیارہ کھڑا ہوا تھا۔ بس سے لوگوں کے ایک جتھے کو جانے دیا جاتا جس کے بعد ائرپورٹ کے عملے کا کوئی فرد دروازے کے آگے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہوجاتا تاکہ لوگ طیارے میں جا کر ابتری نہ پھیلا دیں۔ مگر ابتری تو پھیلنی تھی۔

مجھے فشار خون کی دوا لینے میں دیر ہو گئی تھی۔ جس نشست پر مجھے بیٹھنا تھا اس کے پیچھے ایک عورت نما ایر ہوسٹس کھڑی تھی۔ ایر ہوسٹسوں کے قد اگر چھوٹے ہوں تو ان کو بوٹا سا ہونا چاہیے درخت کی مانند نہیں۔ میں نے محترمہ سے کہا، ”دوا لینی ہے اگر پانی مل جانا مناسب ہو تو“ خاتون نے پہلے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا پھر مڑ کر پانی لینے چلی گئی مگر اس اثناء میں طیارے کی راہداری میں اول سے آخر تک ہجوم جمع ہو گیا تھا۔

پہلے آنے والوں نے سامان رکھنے والی جگہیں اپنے سامان سے بھر دی تھیں اب باقیوں کے سامان رکھنے کا مسئلہ تھا۔ جوان مرد میزبان مدد کر رہے تھے اور لوگوں خصوصاً خواتین کے گلے سن رہے تھے۔ شاید ہاتھوں ہاتھ پانی والا ڈسپوزیبل گلاس پہنچایا گیا تو عورتوں کی سامان کے سلسلے میں مد کرنے کی خاطر کھڑے ایک میزبان نے مجھے پیچھے سے پوچھا، ”سر دوا آپ کو لینی تھی“ یوں میں نے مزید آدھ گھنٹہ گزر جانے کے بعد دوا لی۔

جہاز کی روانگی کا معینہ وقت پورا ہوئے دس منٹ گزر چکے تھے لیکن ہمارے نواب صفت ہم وطن تھے کہ دو دو چار چار چلے آ رہے تھے اور تاخیر کرنے پر شرمسار بھی نہیں لگتے تھے۔ یورپ کے ملکوں میں لاؤڈ سپیکر پر لاسٹ کال کہہ کر کئی بار مسافروں کو طیارے پر پہنچنے کے بارے میں کہا جاتا ہے لیکن پاکستان اور عرب ملکوں کے ہوائی اڈوں پر عملے کے اہلکار کراچی، لاہور، جدہ، ریاض، دبئی وغیرہ کی ہانکیں لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔

خدا خدا کرکے طیارہ آگے بڑھا اور بلند ہو گیا۔ روشنیاں بجھا دی گئیں اور بہت دیر تک بجھی رہیں۔ جب طیارہ فضا میں بلند ہو گیا تب بھی روشنی نہیں کی گئی۔ پھر یک لخت اتنی روشنی کر دی گئی کہ طیارہ کپڑے زیوروں کی دکانوں کی طرح کچھ زیادہ ہی منور ہو گیا۔ نوجوان میزبان ہاتھوں میں کھلی بوتلیں اور ڈسپوزیبل گلاسوں کے ساتھ ”پانی چاہیے“ کہتے ہوئے گھومنے لگے۔ دوسری ایر لائنز میں گلاسوں میں پانی انڈیل کر ٹریز میں رکھ کر لا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن اس پرواز میں لگتا تھا جیسے کسی دیہات میں ولیمے کی دعوت میں پانی پلایا جا رہا ہو۔

پھر مسافروں کو کھانے کی بجائے سنیکس کے ڈبے دیے جانے لگے۔ جن میں ایک چیز سینڈوچ، ایک چھوٹی سی پیٹیز اور ایک رس کیک ٹائپ نرم کیک کا ٹکڑا۔ پیٹ میں چوہے کود رہے تھے اور کھانے کو دیا گیا تو کیا۔ میرے ساتھ بیٹھا ایک نوجوان جوہانسبرگ سے نو گھنٹے کا سفر کرکے پہنچا تھا۔ اسی طرح دوسرے کئی مسافر بھی گھنٹوں کا سفر کرکے کھائے پیے بغیر تھے۔ میری نشست 17 ڈی عین درمیان میں تھی۔ جب ٹرالی مجھ تک پہنچی تو مجھے کہا گیا کہ جوس ختم ہو گیا ہے۔ اتحاد کی اپنی پروازوں میں مسافر دس بار بھی جوس مانگے تو دیا جاتا ہے ختم ہونے کی بات نہیں کی جاتی۔

چائے اور کافی کے دھاتی جگ پکڑے میزبان پلاسٹک کی شفاف منی سی پیالیوں میں گرم محلول دے رہے تھے۔ ایر ہوسٹس نے دوسرے میزبان سے بات کرتے ہوئے گرم محلول والا جگ باقاعدہ میرے سامنے والے ڈائننگ بورڈ پر ٹکا دیا تھا۔ میں ڈرا کہ چھلک کر کہیں مجھے جلا نہ دے۔

بعد میں میں نے ایک میزبان کو جو خالی ڈبے اکٹھے کرنے آیا کہا کہ ”سید علی عباس“ یہ اس کا نام تھا، ”ہم نے اتحاد کی ٹکٹ لی تھی۔ اس لیے کہ آگے کی نشست کی پشت پر دیکھنے کے لیے سکرین ہوگی، سفر فلم دیکھ کر گزر جائے گا جیسے ماسکو سے ابوظہبی تک کا گزرا تھا اور بہتر کھانا میسر آئے گا، سروس اچھی ہوگی، مشورہ دو کہ کس سے شکایت کریں؟“ وہ کہنے لگا کہ سر ہم تو آپس میں یہی بات کر رہے تھے کہ مسافر پتہ نہیں کہاں کہاں سے آئے ہیں کھانا دیا جانا چاہیے تھا لیکن سر ہم کیا کریں۔

یہ جو جہاز خریدے ہیں (جہاز کی نشستوں پر ایر ایشیا لکھا ہوا تھا) ان میں اوون ہی نہیں ہیں، کچھ جہاز ایسے خریدے جن میں ریفریجریٹر نہیں۔ جب میں نے اسے پانی اور چائے وائے بانٹنے کے طریقے کی بات کی تو بولا ”سر ہم کیا کریں، ہمیں تو جو ہدایات دی جائیں گی ویسا ہی کریں گے“ ۔ پھر سے اندھیرا کر دیا گیا اور پہلی بار طیارے میں کپتان کی خوابناک آواز گونجی جو بتا رہے تھے ”ہمیں 19 منٹ کی تاخیر ہو گئی جس کی وجہ کچھ مسافروں کا دیر میں انا تھا، کوشش کریں گے کہ تاخیر کا مداوا کر دیں“ انگریزی زبان میں بھی اسی کا ترجمہ کیا۔ تاخیر سے پہنچنے والے مسافروں کو دوش دے رہے تھے یا پابندی وقت کی ہدایت کچھ پتہ نہیں چلا۔

اندھیرے میں سید علی عباس جھکا اور بولا ”سر دو منٹ دیں گے“ میں نے کہا کیوں نہیں ”تو آ جائیں سر“ اس نے کہا۔ میں بیلٹ سے آزاد ہو کر اس کے ساتھ باورچی خانے میں گیا تو اس نے ایک ٹرے سے پنا ہٹایا جس میں تین گرم سیخ کباب تھے اور ساتھ ہی اچھی چائے کا ایک گلاس، ”اس نے کہا سر یہ کھا لیں“ ۔ میں نے ایک کباب کھایا اورچائے پی، شکریہ کہا اور سیٹ پر لوٹ آیا۔ ہم آدھ گھنٹہ کی تاخیر سے لاہور کے ہوائی اڈے پہنچے۔ میں ابھی تک نہیں سویا ہوں اور خاور جمال کی لکھی باتیں یاد کر رہا ہوں جو شاید متفق نہ ہوں کہ جیسے مسافر ویسی ہی خدمات۔ سارا دوش مسافروں کا بھی نہیں ہوتا برخوردار۔ مجھے خاور کا نام یاد نہ رہا تھا، علی عباس سے ذکر کیا کہ ایک برخوردار لکھتا ہے اسفار سے متعلق تو اس نے گورچانی کا نام لیا۔ معذرت خاور جمال۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •