اسلام آباد ہائی کورٹ کے نوٹس کے بعد دارالحکومت سے آٹھ ماہ قبل لاپتہ ہونے والا شخص اپنے گھر پہنچ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جبری گمشدگیاں

AFP
فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے مبینہ طور پر جبری گمشدگی کے ایک واقعہ کا نوٹس لیے جانے کے بعد آٹھ ماہ قبل وفاقی دارالحکومت سے لاپتہ رہنے والا ایک شخص اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔

عبدالقدوس کی گمشدگی کے بارے میں یکم جنوری 2020 کو اسلام آباد کے تھانے کراچی کمپنی میں رپورٹ درج کی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے شخص عبدالقدوس کی مبینہ جبری گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت میں وفاقی وزیر داخلہ برگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کو طلب کر رکھا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیر کی سماعت کے دوران عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کسی شخص کو حراست میں رکھنا پولیس اور ایف آئی اے کا کام ہے لیکن بدقسمتی سے دیگر ریاستی ادارے بھی یہ کام کر رہے ہیں، جو کہ قانون کے خلاف ہے۔

لیکن عدالت کو بتایا گیا کہ وزیر کی صحت خراب ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکے اور ان کی جگہ سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

’ایجنسیوں کا نام کیوں لیا؟ ایف آئی آر درج نہیں ہوگی‘

مطیع اللہ کا واپسی کے بعد پہلا پیغام، سوشل میڈیا پر جبری گمشدگی پر بحث

جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیشن کا ایس ای سی پی کے افسر کے اغوا کا نوٹس

ایڈشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ عبدالقدوس بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ چکا ہے تاہم عدالت نے اس بارے میں سوال نہیں کیا کہ اسے کہاں سے بازیاب کروایا گیا ہے۔

جبری گمشدگیاں

AFP
فائل فوٹو

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حثیت میں طلب کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وفاقی حکومت کو اندازہ ہوسکے کہ اسلام آباد میں جبری طور پر گمشدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایسے 50 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جو کہ جبری گمشدگی سے متعلق ہیں۔

سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ اُنھوں نے جبری گمشدگی کا معاملہ وزیر اعظم کے سامنے رکھا تھا اور وزیر اعظم نے بھی ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ وزیراعظم اور کابینہ تک پہنچانا ہی ہمارا مقصد تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ قانون میں صرف پولیس اور ایف آئی اے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں آتے ہیں اور اُن کے پاس ہی گرفتاری کا اختیار ہے جبکہ باقی ایجنسیوں کے پاس اس قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

پاکستان

Getty Images
فائل فوٹو

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر اسلام آباد میں جبری گمشدگی کا یہ حال ہے تو پھر پورے ملک میں کیا صورت حال ہوگی۔ اُنھوں نے سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیں یہ معاملہ امن وامان کی صورت حال کا ہے یا کچھ اور معاملہ ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ صرف اسلام آباد سے 50 لوگوں کی جبری گمشدگی بڑی تشویش کی بات ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں لوگوں کو خود جا کر بازیاب نہیں کروا سکتیں، پولیس کو ہی احکامات جاری کرنے ہوتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی ادارہ حقوق کے تحفظ میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو یہ وفاقی حکومت کا مس کنڈکٹ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15376 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp