خواتین کی صحت: ’دوران حمل ماں میں ذیابیطس کنٹرول میں نہ رہنے سے بچے کی موت بھی ہو سکتی ہے‘

حمیرا کنول - بی بی سی اردو، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاملہ مائیں

Getty Images
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع شفا ہسپتال کے گائنی وارڈ کے شعبہ انتہائی نگہداشت میں داخل ہوتے ہی پہلے کمرے میں سدرہ گلزار سے ملاقات ہوئی جن کے ہاں ایک دن پہلے ہی بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

سدرہ کو ابھی مزید ایک دن اپنے جسم سے منسلک مختلف مشینوں اور اپنی نگہداشت پر معمور ڈاکٹروں اور نرسوں کی نگرانی میں گزارنا ہو گا۔ انھیں کچھ ہی فاصلے پر واقع نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں موجود اپنے نومولود بیٹے سے ملنے کے لیے بھی کچھ وقت مزید انتظار کرنا ہو گا۔

سدرہ ہی کی طرح ان کا نوزائیدہ بچہ بھی طبی عملے کی مسلسل نگرانی میں ہے۔

سدرہ نے مسکراہٹ کے ساتھ ہمارا استقبال کیا اور موبائل پر اپنے بیٹے کی تصویر دکھائی جو دیکھنے میں بالکل صحت مند ہے اور پُرسکون نیند کے مزے لے رہا ہے۔

تاہم دوسری بہت سے حاملہ خواتین کے برعکس سدرہ کی کہانی تھوڑی مختلف اور پیچیدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بچوں میں وقفہ: ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اندر سے ختم ہو گئی ہوں‘

پاکستان میں مانع حمل ادویات کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کی حقیقت کیا ہے؟

پاکستان میں حاملہ خواتین کا بڑا مسئلہ ’اینیمیا‘ کیوں ہے اور اس سے بچا کیسے جا سکتا ہے؟

زچگی کے بعد انھیں مسلسل مشینوں کے ذریعے چیک کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ حمل کے دوران ذیابیطس کا شکار ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات صورتحال ایسی ہو جاتی کہ انھیں اپنا شوگر لیول کنٹرول کرنے کے لیے دن میں چار، چار بار انسولین استعمال کرنی پڑتی۔

حمل کے آخری دنوں میں بچے کی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر اُن کی گائناکالوجسٹ ڈاکٹر شازیہ فخر کو سدرہ کی حمل کی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی ان کا سی سیکشن یعنی آپریشن کرنا پڑا۔

جب نو برس قبل سدرہ کی شادی ہوئی تھی تو اس وقت نہ تو انھیں اور نہ ہی ان خاندان میں کسی کو ذیابیطس تھی۔

سدرہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شادی کے پانچ سال بعد میرے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ حمل کے چوتھے مہینے میں مجھے پتہ چلا کہ مجھے ذیابیطس ہو گئی ہے، پلیٹلیٹس بھی کم ہو گئے تھے۔ میں نے یہ سب کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن بغیر دوا کہ یہ صورتحال کنٹرول نہ ہو سکی اور پھر نویں مہینے میں میرے ہاں بچہ تو پیدا ہوا مگر مردہ۔ یہ ایک بہت بڑا نقصان تھا جسے قبول کرنا بہت مشکل تھا۔‘

sidra dr

BBC
ڈاکٹر شازیہ فخر کہتی ہیں کہ بہت سے خواتین حمل کے دوران ذیابیطس کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں جس کی وجہ سے انھیں اور بچے کو نقصان ہو سکتا ہے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سدرہ کی ڈاکٹر گائناکالوجسٹ شازیہ فخر نے بتایا کہ ’آج میں نے 15 سے 20 حاملہ خواتین کا چیک اپ کیا ہے جن میں سے تقریباً سات خواتین ایسی آئیں جو دورانِ حمل ذیابیطس کا شکار ہیں۔‘

لیکن وہ یہ شکایت بھی کرتی ہیں کہ اکثر خواتین یا تو اس مسئلے سے بے خبر رہتی ہیں یا پھر شناخت ہونے کے بعد بھی ذیابیطس کو کنٹرول کرنے پر زیادہ توجہ ہی نہیں دیتیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ پاکستان اور انڈیا سمیت اس پورے خطے میں ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا مرض بہت زیادہ ہے، اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دوران حمل ماؤں میں ان بیماریوں کے شکار ہونے کا تناسب 4.2 فیصد سے 26 فیصد تک ہے۔

ڈاکٹر شازیہ کہتی ہیں کہ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سی خواتین بلڈ پریشر کے معاملے کو تو مسئلہ سمجھتی ہیں لیکن ذیابیطس کو کنٹرول کرنے پر توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے زچہ و بچہ دونوں ہی کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

دوران حمل ذیابیطس کیوں ہوتی ہے؟

سدرہ کہتی ہیں کہ ’جب میں انسولین نہ لوں تو میری شوگر 250 تک پہنچ جاتی ہے، انسولین استعمال کرنے کے بعد کھانا کھانے پر شوگر کی سطح 160 تک ہوتی ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ انھیں خود محسوس نہیں ہوتا کہ ان کے خون میں شوگر ہائی لیول پر جا رہی ہے۔

لیکن ایسا ہوتا کیوں ہے کہ حمل کے دوران شوگر لیول بڑھنے لگے؟ اس کے جواب میں ڈاکٹر شازیہ نے بتایا کہ حمل کے دوران کچھ ایسے ہارمونز ہوتے ہیں جو جسم میں خارج ہونے والی انسولین کے لیول پر اثر ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے شوگر لیول معمول سے بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر شازیہ فخر بتاتی ہیں کہ حمل کے دوران ہونے والی ذیابیطس کی دو قسمیں ہیں۔

سدرہ بے بی

BBC
سدرہ گلزار

’ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کسی خاتون کو حمل ٹھہرنے سے پہلے ہی ذیابیطس ہو مگر اسے یہ معلوم نہ ہو اور حمل کے دوران کروائے جانے والے ٹیسٹوں سے اس کی تشخیص ہو۔‘

دوسری صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ پہلے حمل کے دوران ذیابیطس ہو اور بچے کی پیدائش کے بعد وہ ٹھیک ہو جائے۔ شوگر کی اس قسم کو ’جیسٹیشنل ذیابیطس‘ کہتے ہیں۔

کونسی خواتین کو دورانِ حمل ذیابیطس کا مسئلہ ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر شازیہ کے مطابق حاملہ خاتون کی میڈیکل ہسٹری بہت زیادہ اہم ہے یعنی اگر انھیں پہلے حمل میں ’جیسٹیشنل ذیابیطس‘رہی ہو تو وہ دوسرے حمل کے دوران انھیں دوبارہ ذیابیطس ہونے کا قوی امکان ہو گا۔

ہسپتالوں میں حمل کی تصدیق کے ساتھ ہی مریضہ کی ہسٹری دیکھتے ہوئے ان کا ’گلوکوز ٹالرینس ٹیسٹ‘ کیا جاتا ہے اگر اس وقت رزلٹ منفی آ جائے تب بھی مسلسل بنیادوں پر چٹھے سے ساتویں مہینے میں دوبارہ چیک کیا جاتا ہے کیونکہ حمل کا دورانیہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ذیابیطس کی بروقت تشخیص نہ ہو سکے تو کیا مسائل ہو سکتے ہیں؟

اگرچہ اب گھروں میں بچوں کی پیدائش کے رحجان میں بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن شہری علاقوں میں بھی اکثر خواتین حمل کی تصدیق کے کئی ماہ بعد ڈاکٹر کے پاس باقاعدگی سے جانا شروع کرتی ہیں۔ ایسے میں اگر کسی حاملہ خاتون کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی تصدیق نہ ہو سکے تو اس پر اور پیدا ہونے والے بچے پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شازیہ نے بتایا کہ حمل کے ہر گزرتے ماہ میں شوگر کی مقدار بڑھنے سے پیٹ میں موجود بچے پر اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔

’اگر حمل کے ابتدائی دنوں میں ماں کی ذیابیطس کنٹرول میں نہیں ہے تو بچے کے دماغ، دل یا ریڑھ کی ہڈی متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسرے اگر ماں کو پہلے ذیابیطس نہ ہو بعد میں ہو جائے اور اسے علم نہ ہو سکے ایسے میں یہ ہو سکتا ہے کہ بچے کے گرد موجود پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس صورت میں بچے کا وزن زیادہ ہو سکتا ہے اور بچے کا وزن زیادہ ہونے سے بھی مسائل ہو سکتے ہیں جیسا کہ نارمل ڈلیوری کا نہ ہونا۔ ایسی صورت میں اگر نارمل ڈیلیوری کی کوشش کی جائے تو بہت سے دیگر مسائل پیش آ سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھیے

’حمل کے دوران سنی سنائی باتوں پر ہرگز نہ جائیں‘

لاک ڈاؤن نے میرے اسقاط حمل کو مزید درد ناک تجربہ بنا دیا

ڈاکٹر شازیہ کہتی ہیں کہ اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ ماں میں ذیابیطس بچے میں بھی منتقل ہو جائے اور ہوتا یہ ہے کہ جب بچہ ماں کے جسم سے الگ ہوتا ہے تو اس کی شوگر اچانک کم ہو جاتی ہے اور اسے بھی مانیٹر کرنا پڑتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر شوگر کا لیول بہت زیادہ نہ ہو تو حاملہ خواتین کو دوائی دینے کے بجائے انھیں خوراک کے ذریعے ذیابیطس کنٹرول کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’پہلے انسولین ہی ہوا کرتی تھی اب کچھ دوائیں بھی آ گئی ہیں۔ لیکن ہم اسے مانیٹر کرنا کبھی بھی نہیں چھوڑتے کیونکہ حمل کے اگلے مراحل میں ذیابیطس بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔ اگر شوگر لیول ہائی ہو جائے تو انسولین بھی استعمال کروائی جاتی ہے۔‘

ڈاکٹر شازیہ کہتی ہیں کہ ذیابیطس میں مبتلا حاملہ خواتین کے سی سیکشن کرنے سے بھی زیادہ خطرناک یہ ہوتا ہے کہ اگر ماں میں شوگر لیول ہائی ہونے کی تشخیص نہ ہو یا ماں اسے کنٹرول نہ کر پائے تو ایسی صورت میں بچے کے پیٹ میں ہی ہلاکت ہو سکتی ہے۔‘

ذیابیطس سے متاثرہ حاملہ خواتین کا سی سیکشن کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی کہ بچے کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے اور وہ نارمل طریقے سے ڈیلیور نہیں ہو پاتا۔

ذیابیطس میں مبتلا ماؤں کے بچوں کا جسم عام بچوں جیسا ہی ہوتا ہے لیکن ان کے کندھوں کے سافٹ ٹشوز زیادہ موٹے ہوتے ہیں اور کندھے چوڑے ہونے کی وجہ سے سر تو باہر آ جاتا ہے مگر کندھے پھنس جاتے ہیں اور ایسا ہونا بدترین صورتحال ہوتی ہے۔

پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے بچے کی ایک پوزیشن نہیں ٹھہرتی اور وہ پیدائش کے دوران اپنی پوزیشن تبدیل کرتا ہے اور اس دوران واٹر بیگ پھٹنے سے ایک دم اس کی کارڈ باہر نکل سکتی ہے۔

بچہ ڈیلیور بھی ہو جائے تو اس کا وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے یوٹرس کے دوبارہ سے سکڑنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور ماں کا زچگی کے بعد حد سے زیادہ خون کا اخراج ہو سکتا ہے۔

sidra dr

BBC
ڈاکٹر شازیہ کہتی ہیں کہ ’ماں کی شوگر زیادہ ہوتی ہے تو اس کا گلوکوز بچے میں جاتا ہے۔ اس طرح بچے کی پینکریاز بھی زیادہ انسولین بناتی ہے۔ جب بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو ماں کا گلوکوز نہیں جا رہا ہوتا تو اس کا شوگر لیول ایک دم سے کم ہو جاتا ہے۔ اس کے جسم میں پینکریاز کو انسولین زیادہ بنانے کی عادت پڑ چکی ہوتی ہے۔ اور یوں بچے کو ہائپوگلائسیمیا ہو جاتا ہے۔ اور اس سے بچے کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ ہسپتال میں تو بچے کو مانیٹر کیا جاتا ہے لیکن گھروں میں پیدا ہونے والے بچوں کی زندگی کو ایسی صورتحال میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر شازیہ کہتی ہیں عام طور پر 48 گھنٹوں میں بچے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لیکن چھ ہفتوں کے بعد ہم ماں کو دوبارہ سے چیک کرتے ہیں۔

ڈاکٹر شازیہ کہتی ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ اگر ماں کو ذیابیطس ہو تو یہ بچے میں منتقل ہو۔

سدرہ کے نوزائیدہ بچے کے حوالے سے ڈاکٹرز نے بتایا ہے کہ وہ مکمل طور پر صحتمند ہے اور اسے ذیابیطس کا کوئی مسئلہ نہیں اور امید ہے کہ سدرہ کا شوگر لیول بھی آنے والے چند روز میں بالکل نارمل ہو جائے گا اور انھیں مزید دوا یا انسولین کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

طبی ماہرین کا خیال ہے کہ حمل سے پہلے ہی خواتین کو چاہیے کہ اگر وہ ٹائپ بی یا ون ذیابیطس میں مبتلا ہیں تو اینڈو کرانالوجسٹ سے رابطہ کر کے کنٹرول شوگر لیول کے ساتھ پرینگنینسی کی جانب جائیں اور جیسے ہی حمل کا پتہ چلے خود کو رجسٹرڈ کروائیں تاکہ ابتدائی ٹیسٹ میں ہی معلوم ہو جائے۔

سدرہ نے اپنے پہلے بچوں کو حمل کے آٹھویں اور نویں ماہ کے دوران کھو دیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ حمل کے دوران ذیابیطس کنٹرول کرنا مشکل ہے لیکن اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

وہ ماؤں کو مشورہ دیتی ہیں کہ ’اپنے آپ کو متحرک رکھیں، ہم جس طرح عام طور پر کھانا کھاتے ہیں، ذیابیطس کے دوران ایک بار پیٹ بھر کے کھانا نہیں کھانا چاہیے۔ تھوڑا تھوڑا کھائیں۔ چار پانچ میل لے لیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15466 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp