کیا نواز شریف سیاسی کم بیک کی تیاری کرہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی اپوزیشن پارٹیاں بالآخر 20 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے پر راضی ہو گئی ہیں۔ یہ فیصلہ اپوزیشن کی مشترکہ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا جس پر تمام اپوزیشن پارٹیاں متفق دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم چھوٹی پارٹیوں کو دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے سیاسی کردار پر شبہات و تحفظات ہیں جن کا اظہار جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ دنوں یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ ’مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی فرینڈلی اپوزیشن کا رول ادا کررہی ہیں‘۔

اپوزیشن پارٹیوں کا اجلاس اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں ہوگا۔ یوں پیپلز پارٹی درحقیقت اپوزیشن کی اس مشترکہ کانفرنس کی میزبان ہوگی۔ بلاول بھٹو زرداری نے میزبان ہی کی حیثیت سے آج مسلم لیگ (ن) کے رہبر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے فون پر گفتگو کی۔ ایک ٹویٹ پیغام میں انہوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے نواز شریف کی خیریت دریافت کی اور انہیں انٹرنیٹ کے ذریعے کانفرنس میں تھوڑی دیر کے لئے شریک ہونے اور خطاب کرنے کی دعوت دی۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ نواز شریف نے یہ دعوت قبول کر لی ہے اور وہ کانفرنس سے خطاب کریں گے لیکن مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ البتہ شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ کا اعلیٰ سطحی وفد آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوگا۔

ملک کے سیاسی حالات اور اپوزیشن میں موجود تقسیم کو دیکھتے ہوئے اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ یہ کانفرنس کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرسکے گی جس کی بنیاد پر موجودہ حکومت کے خلاف کوئی مہم شروع کی جا سکے۔ اول تو اپوزیشن میں شامل سب سیاسی پارٹیوں کے اہداف مختلف ہیں۔ مسلم لیگ (ن) مفاہمت اور تصادم کی سیاست کے درمیان فیصلہ کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ نواز شریف سے گفتگو کے بارے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ترجمانوں کے متضاد بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ابھی تک اپنا سیاسی لائحہ عمل طے نہیں کر سکی ہے۔

اے پی سی میں شریک ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے وفد میں مریم نواز کو شامل نہیں کیا گیا اور اب نواز شریف کے آن لائن خطاب کو بھی مشکوک بنایا جا رہا ہے۔ مریم اور نواز شریف بدستور پارٹی میں ’باغی اور جراتمندانہ‘ آواز سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہے کہ شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کی سرپرستی کے بغیر کوئی خاص سیاسی اہمیت نہیں رکھتے۔ شاید اسی لئے شہباز شریف اور پارٹی میں ان کے ہم خیالوں کی یہ کوشش ہوگی کہ نواز شریف اس کانفرنس سے خطاب نہ کریں ۔ کیوں کہ اگر نواز شریف نے آن لائن شریک ہوتے ہوئے کانفرنس کے شرکا سے چند لفظ بھی کہہ دیے تو ان سے سیاسی ہلچل پیدا ہوسکتی ہے۔ نواز شریف کے پاس یہ ہلچل پیدا کرنے کا مکمل جواز بھی ہے۔ حال ہی میں العزیزیہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو کوئی ریلیف دینے سے گریز کیا ہے بلکہ ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے گئے ہیں۔ اسلام ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے یہ وارنٹ وزارت خارجہ کے ذریعے لندن کے پاکستانی ہائی کمیشن کو بھجوا ئے ہیں تاکہ ان پر عمل کروایا جاسکے۔ سب کو علم ہے کہ ان وارنٹس کی لندن میں تعمیل نہیں ہوسکتی لیکن عدالتوں کے جج قانونی کارروائی کی مشقت کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور حکومت کے لئے نواز شریف کی گرفتاری کا معاملہ ایک سیاسی نعرے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا طرز عمل اس لحاظ سے بھی شبہات پیدا کرے گا کہ العزیزیہ کیس میں ارشد ملک نامی ایک جج نے فیصلہ لکھا تھا ۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس سال جولائی میں اس کیس کے حوالے سے ارشد ملک پر لگنے والے الزامات کی روشنی میں ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے، انہیں عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان اس جج کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے العزیزیہ کیس کے فیصلہ کو کالعدم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ نواز شریف گزشتہ نومبر میں بیماری کی وجہ سے لندن روانہ ہونے سے پہلے ارشد ملک کی دی ہوئی سزا بھگتنے کے لئے ہی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔ اس لئے انہیں امید تھی کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ انہیں اس مقدمہ میں بری کردیتی ہے تو وہ پاکستان واپس آ سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ نے البتہ اس ماہ کے شروع میں سماعت کے آغاز سے ہی اس نکتہ پر اصرار کیا ہے کہ کیا کسی اپیل کنندہ کی غیر حاضری میں اپیل کی سماعت ہو سکتی ہے۔ اسی قانونی موشگافی کی بنیاد پر نواز شریف کے وارنٹ جاری کئے گئے ہیں۔

اس صورت حال میں نواز شریف اے پی سی خطاب کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ سیاسی ارتعاش پیدا کرنے کے علاوہ ملک کے نظام قانون کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر سکتے ہیں۔ مریم نواز نے جس طرح نواز شریف سے فون پر گفتگو کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے ، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ مریم نواز اس حوالے سے کیا رائے رکھتی ہیں۔ لیکن کیا نواز شریف ان کی رائے کو اہمیت دیں گے اور شہباز شریف کی خواہش و کوشش کے برعکس اے پی سی سے خطاب کریں گے؟ اور پاکستانی سیاست میں واپس آنے کا اعلان کریں گے۔ اس کا حتمی جواب تو چند روز میں مل جائے گا اس لئے اس پر قیاس آرائی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا لیکن ایک بات طے ہے کہ نوز شریف کا کوئی بھی بیان کانفرنس کی رونق تو بڑھا سکتا ہے، پاکستانی میڈیا کو گرما گرم بریکنگ نیوز چلانے کا موقع بھی مل سکتا ہے لیکن وہ جب تک طویل اور اصولوں پر استوار سیاسی جدوجہد کے عزم کااظہار نہیں کرتے، نہ ملکی سیاست میں کسی تبدیلی کا امکان ہے اور نہ ہی اس مایوسی کا خاتمہ ہوگا جو ملک میں روز بروز بڑھنے والی گھٹن کی وجہ سے وسیع تر بنیادوں پر محسوس کی جارہی ہے۔

اس کانفرنس اور حکومت کے خلاف اپوزیشن کے اتحاد کے حوالے سے اگرچہ بلاول بھٹو زرداری واضح انداز گفتگو اختیار کرتے رہے ہیں لیکن پارٹی کے فیصلے ابھی تک آصف زرداری کی رضامندی کے محتاج ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ مشکل سیاسی حالات میں سندھ کی حکومت برقرار رکھتے ہوئے لفظی گولہ باری جاری رکھنا بہتر حکمت عملی ہے۔ پیپلز پارٹی کو اندیشہ ہوگا کہ اگر اپوزیشن کے مطالبہ پر واقعی مڈ ٹرم انتخابات ہوگئے یا جیسا کہ عمران خان کے سیاسی وفادار اشارہ دیتے رہتے ہیں کہ سیاسی طور سے وزیر اعظم کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وہ اسمبلیاں توڑ کر سکتے ہیں یعنی وہ خود ہی نئے انتخابات کا اعلان کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کو شاید سندھ اسمبلی میں پہلے جیسی سیاسی طاقت حاصل نہ رہے۔ قومی سطح پر بھی پارٹی کوئی بہتر انتخابی کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس تناظر میں بلاول کی تند و تیز باتیں اور سرگرمیوں تک ہی معاملہ کو محدود رکھنا پیپلز پارٹی کے مفاد میں ہوگا۔

حیرت انگیز طور پر پیپلز پارٹی کو اگر نئے انتخابات سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے تو مسلم لیگ (ن) کسی بھی فوری انتخابات میں بہتر پوزیشن حاصل کرسکتی ہے۔ تاہم اس مقصد کے لئے نواز شریف کو خود ساختہ سیاسی ’جلا وطنی‘ سے باہر نکلنا ہوگا اور شہباز شریف کو پارٹی کی ڈرائیونگ سیٹ سے ہٹانا ضروری ہوگا۔ مریم نواز نااہل ہونے کے باوجود اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اور سیاست میں عسکری اداروں کی مداخلت ختم کرنے کے بارے میں نواز شریف کا بیانیہ اگرچہ مدھم پڑ چکا ہے اور یہ سوال بھی سامنے آنے لگا ہے کہ کیا نواز شریف واقعی شہباز شریف سے مختلف یعنی اداروں کے تعاون کے بغیر سیاست کرنے اور عوامی نمائیندوں کو بااختیار بنانے کے اصول کو ماننے لگے ہیں۔ چند بیانات کے علاوہ نواز شریف ابھی تک اس کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرسکے۔ اے پی سی میں کوئی چونکا دینے والا بیان دے کر وہ ان شبہات کو ختم کرسکتے ہیں۔

البتہ ایسی کوئی حکمت عملی اختیار کرنے کے لئے انہیں اس بات کا قوی احساس ہونا چاہئے کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ غیر واضح اور مفاہمانہ حکمت عملی سے شہباز شریف اور پارٹی کے دیگر مفاد پرست عناصر کو تو شاید کوئی فائدہ ہوجائے لیکن اس کا سیاسی نقصان براہ راست نواز شریف کو ہورہا ہے۔ اگر انہیں کبھی عوام سے ووٹ مانگنا ہے اور وہ واقعی اپنی پارٹی کو اقتدار میں لانے کی خواہش زندہ رکھے ہوئے ہیں تو انہیں اپنے مایوس ہوتے ووٹر کو اپنے ساتھ واپس ملانا ہوگا۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ نواز شریف کا ووٹر نہ احتجاج کا عادی ہے اور نہ ہی انقلاب برپا کرسکتا ہے لیکن وہ موجودہ سیاسی تعطل، تحریک انصاف کی مایوس کن کارکردگی اور ملک میں آزادی اظہار کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش ناک صورت حال سے بھی عاجز ہے۔ حکومت کی پالیسیوں نے براہ راست چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کو متاثر کیا ہے ۔ یہی طبقہ نواز شریف کا ووٹر ہے۔

2017  میں سپریم کورٹ کے حکم پر معزولی کے بعد عوامی حاکمیت کے بارے میں نواز شریف نے امید کی جو شمع روشن کی تھی، اس کی وجہ سے بھی انہیں ملک کے جمہوریت پسند حلقوں کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔ نواز شریف کے یہ سارے ووٹر اگر مکمل مایوس نہیں تو پریشان ضرور ہیں۔ اس پریشانی کو صرف نواز شریف ہی سمجھ سکتے ہیں اور دور کرنے کی پوزیشن میں بھی ہیں۔ البتہ سوال یہی ہے کہ کیا نواز شریف کو احساس ہونے لگا ہے کہ انہیں ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ (ناقابل واپسی صورت) تک پہنچا دیا گیا ہے اور وہ ذہنی طور سے کم بیک پر آمادہ ہو چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1652 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali