اے پی سی اور اعتماد کی بحالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتوار 20 ستمبر کو اسلام آباد میں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس ہو گی جس میں حزب اختلاف کی جماعتیں جمہوریت کے احیا اور حکومت کی ناقص کارکردگی، مہنگائی بے روز گاری، سیاسی انتقام پسندی اور غیر جمہوری قوتوں کی بذریعہ آلہ کار سیاسی مداخلت کے خلاف مشترکہ احتجاجی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کریں گے حکمت عملی کا بنیادی ہدف موجودہ حکومت سے نجات حاصل کرنا ہے جو ووٹ چوری کرانے کے ذریعے بنائی گئی ھے جبکہ دوسری طرف 16ستمبر کو حکومت نے اپنی “بہتر کارکردگی” کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے قوانین منظور کرالئے ہیں حالانکہ مشترکہ پارلیمان میں اپوزیشن کو واضح عددی برتری حاصل ہے۔ اکثریت نہ ہوتے ہوئے بھی متنازعہ قوانین کی منظوری کیا حکومت کی “بہتر کارکردگی” قرار نہیں دی جاسکتی؟

اس سوال کی اہمیت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس بلانے کے حکومتی فیصلے میں مضمر ہے جس نے جانتے ہوئے بھی کہ اس اجلاس میں اسے عددی برتری دستیاب نہیں اور اس صورت بل نامنظور ہوئے تو جمہوری روایات کے مطابق اسے اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔ حکومت نے کس بھرتے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا یہ تو انی حکومت پر خود کش حملہ بھی ثابت ہو سکتا تھا۔ کیا اسے یقین تھا کہ کامیابی اسکے حصے آئے گی؟ ایسی یقین دھانی کس نے کرائی ہوگی؟ ایک امکان یہ بھی ہے کہ اپوزیشن نے اسے خوبصورت سیاسی انداز میں ایسے تعاون کا وعدہ کیا ہو کہ بل منظور بھی ہو جائیں اور اپوزیشن پر اس کی ذمہ داری بھی نہ آئے۔ دوسری قیاس آرائی سینٹ کے واقعہ سے اخذ کی جا سکتی ہے کہ اختیار و فیصلہ سازی کے مرکز نے “بندوست” کرانے کی مکرر ذمہ داری اٹھا لی ہو۔ اور مجھ ایسے کمزور دل ارکان پارلیمنٹ نے مارے خوف کے اجلاس سے غیر خاظر رہ کر باہمی تعاون کیا ہو؟ اگر دوسری بات درست ہے تو اپوزیشن جماعتوں کو بہت گہری بصیرت کے ساتھ حکمت عملی بنانی ہوگی طاقت کے مرکز میں رچے بسے مائینڈ سیٹ کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ یہ بات بھی ذھن نشین رہے کہ متذکرہ مائینڈ سیٹ کے ہوتے ہویے خالصتاً شفاف سیاسی عمل کی آزادنہ نمود ممکن نہیں۔ تو کیا سیاست کو اب مصلحت کوش ہوجانا چاھیے؟ میں قطعی طور پر ادکی ترغیب نہیں دے رہا بلکہ محتاط اور موثر اقدامات کی توقع کر رہا ہوں جس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو عوام میں اپنا اعتماد بحال کرنے اور موثر دباو ڈالنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے ہوں گے۔

 کیونکہ اس سے قبل سینٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی تائید میں 64 سینیٹرز نے ھاوس میں کھڑے ہو کر رائے دی اور عدم اعتماد کیا تھا مگر جب خفیہ رائے شماری ہوئی تو 64-50 ہو گئے تھے یہ بھی حکومت کی “حسن کارکردگی” کا انوکھا کارنامہ تھا جسے نگاہوں اوجھل نہیں کیا جا سکتا۔ مذکورہ واقعات تو بتاتے ہیں کہ حکومت کرنے کے لئے حکومت کی ” کارکردگی بلا شبہ بہترین” ہے تو اپوزیشن اس حکومت سے کیوں اور کیونکر نجات چاہتی ے اور اپنا مقصد حاصل کر پائے گی؟ یہ سوال پہلو دار اہمیت کے ساتھ پارلیمان کی ” موجودگی” پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

اب جو صحافیانہ تجزیات اور سوالات کا لب ولہجہ پہلے کے بر عکس اپوزیشن کی ناکامیوں پر ناقدانہ انداز اپنا چکا ہےتو وہ بھی چاہتا ہے کہ اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دے اپنی توقع پوری نہ ہو پانے پر ایکنر پرسنز غصے سے 36 ارکان پارلیمان کی غیر حاضری پر جائز اعتراجات سامبے لا رہے ہیں۔ اس کے اسباب کو بھی دھیان میں رکھنا چاھیے یہ حالات میں تبدیلی کا عوامی اشارہ بھی ہے۔

میں نے سطور بالا میں صحافیانہ تجزیہ کی اصطلاح استعمال کی ہے اور اس کے انداز کے ایک پہلو کو بھی پیش کردیا ہے۔ یاد رہے کہ یہی صحافی حضرات جو آج حکومت کو ٹف ٹائم نہ دینے پر معترض ہیں 2018ءکے بعد سب سے زیادہ موثر ٹف ٹائم دینے کے موقف کو ہدف ملامت بنا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ حکومت کو پانچ سال کی مدت پوری کرنے دی جائے سب سے پہلے ٹف ٹائم مولانا فضل الرحمن کے رد عمل یا موقف میں پنہاں تھا جو دھاندلی زدہ اسمبلیوں میں بیٹھنے اور انتخابی نتائج قبول نہ کرنے کا مشورہ دے رہے تھے اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کی طرف سے ایسے مشورے کی عدم پذیرائی کو سراہ رہے تھے۔

تجزیہ کاری کا دوسرا انداز سیاسی ہے جو غیر جانبداری سے مملو ہوتا ہے جسے اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کی فکر نہیں ہوتی کہ پروفیشنل تقاضوں سے مختلف سطح پر سیاسی نظریئے سے وابستگی کے تناظر کو اہمیت دی جاتی ہے۔ سیاسی تجزیہ سیاسی مکاتب فکر کے دامن بلوغت سے جنم لیتا ہے۔ میں نے 2018ء کے بعد اسی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر استدلال کیا تھا کہ عمران حکومت کو جتنا وقت ملے گا، معیشت، مصیبت، صحافت، ظرافت اور پارلیمنٹ محض عمارت بن کر رہ جائے گی اور مجھے اپنے ان کلمات کی صداقت پر جتنا آج یقین ہے اتنا ہی لکھتے وقت بھی تھا کیونکہ سیاسی نظریئے سے ماورا بھان متی کے کنبے سے الجھی ہوئی ریاست کے پیچیدہ آئینی تقاضے عوام واقوام کی آسودگی اور سیاسی خود مختاری جیسے اہم فرائض بجا لانے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی اور یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے

20 ستمبر کو ہونے والے اے پی سی کے لئے اہم سوال اب یہ نہیں رہا کہ حکومت سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟ بلکہ بنیادی سوال اور تقاضہ درپیش ہوگا کہ پارلیمان کی بے توقیری اور قانون سازی میں جبری مداخلت سمیت توقیر بالجبر کے عمل کو کیسے روکا جائے؟ اس کھلی مداخلت کے تدارک کا یقینی سدباب کیے بغیر اپوزیشن ان تقاضوں کی تکمیل نہیں کرسکتی جس کا وہ مختلف سطحوں پر اظہار کرتی آ رہی ہے۔ (یہ بیانیہ نواز شریف نے اپنے ووٹ کو عزت دو کے نعرے میں پرو دیا ہے) وہ تقاضے وکلا کی میزبانی میں گزشتہ روز ہوئی اے پی سی کے مطالبات میں بھی ڈھل گئے ہیں۔

مجھے آج سابق جسٹس واجہ ثاقب نثار یاد آئے جنہوں نے نواز شریف دور میں منظور کئے گئے ایک ترمیمی بل کو عدالتی نظرثانی کے ذریعے مسترد کردیا اور دلیل دی تھی کہ یہ بل انتہائی عجلت میں منظورہوا۔ قانونی تقاضے پورے ہویے نہ ہی بحث مباحثہ ہوا ہے۔ کاش آج وہ چیف ہوتے تو۔۔۔

ملک میں روز اول سے سے سیاسی حاکمیت کی تقسیم کے مختلف ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں جو کارگر رہے۔ 1973 کے دستور کا عمیق جائزہ لیں تو ایک سینیٹ کے انتخابات کا طریقہ کار بھی اقتدار و اختیار کی دوئی کا وسیلہ ثابت ہو رہا ہے آئین ساز مدبروں نے ایوان بالا کے تسلسل اور وفاقیت برقرار رکھنے کے لئے ہر تین سال بعد چھ سال کی مدت پورے کرنے والے سینٹرز کی خالی ہونے والی نشستوں کو صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے پر کرنے کا اہتمام کیا تھا حالانکہ اسی عرصہ میں صوبائی اسمبلیوں کے دوسرے انتخابات کے بعد اسمبلیوں میں ارکان یا سیاس جماعتیں تبدیل ہوجاتی ہیں قومی اسمبلی میں بھی اقتدار کسی دوسری جماعت کو منتقل ہوجاتا ہے۔

موجودہ دور اختیارات کی تقسیم کا منظر زیادہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت کو قومی اسمبلی میں عددی بالادستی حاصل ہے لیکن ایوان بالا میں حزب اختلاف کو برتری حاصل ہے۔ ان حالات میں سیاسی بصیرت اور جمہوری مزاج و ثفافت کی حامل حکومت ہونی چاھیے جو افہام و تفہیم اور سیاسی مکالمے کے اتفاق رائے پیدا کرنے تاکہ قانون سازی معاشرے کو متحد کرے۔  دھونس اور فسطائی اطوار اپنانے سے جہاں قانون سازی متنازع ہوئی ہے وہاں پارلیمنٹ کی تقسیم پر بھی سوال اٹھے ہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ اختیارات کا مرکز بھی دو علیحدہ شہروں میں بٹا ہوا ہے اصل اختیارات طاقت کے مرکز کے ہاتھ میں ہیں اور جو اقتدار پارلیمان کو میسر ہے وہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے انتخابی نظم کی وجہ سے منقسم ہے۔ گویا سیاسی حکومت یا پارلیمان کو حاصل اختیارات نصف ہیں اور وہ بھی تقسیم ہو کر آدھے آدھے رہ جاتے ہیں یہ تقسیم جمہوری توازن کے حسن کو ظاہر کر سکتی تھی اگر حکومتی فیصلہ سازی یا پارلیمان کی بالادستی غیر متزلزل طور پر مسلمہ ہوتی۔ چونکہ سیاست میں طاقت کی مداخلت نے جمہوریت کا حسن بگاڑ کر رکھ دیا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام عوامی حاکمیت اور پارلیمانی بالادستی کو یقینی اور مضبوط بنانے کے لئے:

الف۔ انتخابی عمل کو شفاف بنانے بنایا جائے الیکشن کمیشن کو مکمل خود مختار آذاد اور فعال ادارہ بنانے کے لئے ضروری آئینی ترامیم کی جائیں۔

ب۔ سیاست میں مداخلت کے سدباب کے لئے ایک چارٹر آف ڈیموکریسی تیار کیا جائے جس پر پارلیمانی سیاسی جماعتیں، عدالیہ اور فوجی قیادت دستخط کریں۔ طے ہو کہ اس چارٹر کی خلاف ورزی سنگین غداری کا جرم ہوگا جس کی سزا موت ہو گی۔ اس دستاویز کے تحت تمام سرکاری محکموں کے اہلکاروں کو بھی حلف کے ذریعے پابند کیا جائے کہ وہ اپنی چین آف کمان کے کسی بھی غیر آئینی غیر قانونی حکم یا عمل کی پیروی / اطاعت یا عملداری نہیں کریں گے۔

ج۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے اجلاس میں اے پی سی کی رہبر کمیٹی بنائیں اور تمام جماعتوں کے اراکین اسمبلی ماسوائے سینیٹرز اپنے استعفے کمیٹی کے پاس جمع کر دیں۔ اس اقدام سے کمزور دل ارکان پر دباﺅ ڈال کر من پسند فیصلے کرانے میں رکاوٹ پیدا ہوگی تو عوام میں اے پی سی کی جماعتوں اور قیادت پر اعتماد بڑھے گا۔

د۔ اگر حکومت اپوزیشن کے مطالبات تسلیم نہ کرے تو 30 جنوری کو اپوزیشن جماعتیں ماسوائے سینٹ اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائیں۔

ڈ۔ اگلے انتخابات کے لئے مردم شماری کی توثیق اور نئی انتخابی حلقہ بندیوں کا فوری اہتمام کیا جائے۔

ر۔ عام انتخابات (شفاف اور غیر متنازع) کے ساتھ لسٹ سسٹم کے مطابق ہر صوبے کی اسمبلی میں کامیاب ہونےوالی جماعت کے سینیٹرز کا انتخاب ہو۔ نئی پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر کے آئندہ سینٹ سمیت تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک وقت میں منعقد کرانے کا اہتمام کرے۔ سینٹ کا انتخاب لسٹ سسٹم کے تناسب پر ہو ا ور اگر کسی صوبے کی اسمبلی قبل از وقت تحلیل ہوجائے تو اس کے منتخب شدہ سینیٹرز بھی مستعفی متصور ہوں۔

ژ۔ اگر کسی وجہ سے صرف قومی اسمبل تحلیل ہو جائے تو سینٹ برقرار رہے کیونکہ وہ وفاقی اکائیوں کی اسمبلی کا منتخب کردہ ہوتا ہے اور جب تک اس کا الکٹرول کالج (حلقہ نیایت) برقرار رہے۔ سینٹ میں اس صوبے کے ارکان بھی موجود رہیں۔

ڑ۔ موجودہ دورمیں منظور ہوئے قوانین وآئینی ترامیم کو مسترد کیا جائے۔ایف اے ٹی ایف کے لئے مطلوب قانون سازی کو دوبارہ مشترکہ پارلیمان میں لانے کا مطالبہ کیا جائے اور فسطائیت کے حامل تمام کالے قوانین کی فوری تنسیخ کا مطالبہ کیا جائے۔

حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری عرصے کے لیے پارلیمنٹ سے وسیع البنیاد حکومت قائم کی جآئے جو ضروری آئینی اقدامات اور شفاف انتخابات یقینی بنائے اور معیشیت کو سہارا دے

یاد دہانی کے طور پر عرض ہے کہ آئین میں کسی حکومت کی مدت کا نہیں، بلکہ اسمبلی کی مدت کا تعین کیا گیا ہے جبکہ اسمبلیوں کو حکومت پر عدم اعتماد کے ذریعے سے تبدیل کرنے کا اختیار دے کر واضح کر دیا گیا ہے کہ حکومت کی مدت کا انحصار اسمبلی میں عددی برتری پر ہے لہذا حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کا موقع دینے والا بیانیہ درست ہے نہ ہی آئینی حیثیت کا مالک!

اے پی سی سے بڑھتی توقعات کی بنیاد وہ حالات ہیں جو نااہلی کے پیدا کردہ ہیں؛ اب اے پی سی کے شرکاء کے فیصلوں پر نظر ہے کہ 20 ستمبر ملک و عوام کے لیے امیدوں کی صبح روشن کرتا ہے یا تاریکی کو مزید گہرا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •