نواز شریف: حکومت کی جانب سے سابق وزیر اعظم کی تقریر نشر نہ کرنے کی ہدایت، پیمرا کا ضابطہ اخلاق کیا کہتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف، تقریر

Getty Images

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف، جو لندن میں زیر علاج مگر بدعنوانی کے مقدمات میں پاکستانی حکومت کو مطلوب ہیں، اتوار کو حزب مخالف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس سے ممکنہ طور پر ایک اہم تقریر کرنے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن نے اعلان کیا ہے کہ اے پی سی کے دوران نواز شریف کا لندن سے خطاب سوشل میڈیا کے ذریعے لائیو سٹریم کیا جائے گا۔ حکمراں جماعت تحریک انصاف کے نمائندوں کا موقف ہے کہ چونکہ سابق وزیراعظم ملک میں بدعنوانی کے کئی مقدمات میں مطلوب ہیں اور علاج کی غرض سے برطانیہ موجود ہیں اس لیے مقامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ان کی تقریر نشر کرنا غیر قانونی ہو گا۔

پاکستان میں ماضی میں بھی الطاف حسین سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی لگائی جا چکی ہے اور مریم نواز شریف کے جلسوں اور انٹرویوز کو بھی میڈیا پر نشر کرنے سے روکا جاتا رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے ایک ٹویٹ میں پاکستان کے ایک عدالتی فیصلے کے روشنی میں کہا کہ ’عدالت کے فیصلہ میں واضح ہے ایک مفرور مجرم نے اگر ویسے ہی حقوق استعمال کرنے ہیں جو کہ ایک آزاد، شریف شہری کے ہیں تو پھر اسے مفرور قرار کیا صرف فائلوں کی زینت بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نواز شریف جیسے مجرم یہ حق نہیں رکھتے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایک کرپٹ، مصدقہ چور، مفرور اور جعلی بیمار کا خطاب ہو گا اور خود کو معزز پارلیمنٹیرین کہنے والے اس خطاب کو سنیں گے۔ کیا یہ پارلیمان کی اصل توہین نہیں؟‘

’صرف وہی لوگ سن سکتے ہیں ایک مجرم کا بھاشن جو خود بھی کرپٹ ہوں۔‘

شہباز گِل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر نواز شریف نے اے پی سی سے خطاب کیا اور ان کا خطاب نشر ہوا تو پیمرا اور دیگر قانونی آپشن استعمال ہوں گے۔ ’سوشل میڈیا پر بھی مجرم، مجرم ہی رہتا ہے۔‘

جبکہ اس کے ردعمل میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’تین مرتبہ کے منتخب وزیر اعظم نواز شریف کو سلیکٹڈ کرپٹ ،نااہل نالائق چور حکومت کے مشوروں کی ضرورت نہیں۔میڈیا کو دھمکیاں عمران صاحب کی فسطائیت اور غنڈہ گردی کا ثبوت ہے۔ یہ ہے مغربی دنیا سے زیادہ میڈیا کی آزادی کا دعویٰ کرنے والے میڈیا کی آزادی کے چیمپین۔‘

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لندن میں کچھ صحافی نواز شریف سے اس خطاب سے متعلق سوال کر رہے ہیں۔

کیا نواز شریف کی تقریر نشر کرنا غیر قانونی ہو گا؟

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے مطابق پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کے ضابطہ کار کے تحت ’مفرور مجرم میڈیا سے خطاب نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو بھی ہدایت جاری کی ہے کہ اسے ’سوشل میڈیا پر سزا یافتہ مجرم کا خطاب روکنا چاہیے۔‘

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی کسی بھی شق میں ایسے شخص جس کا مقدمہ کسی عدالت میں زیر سماعت ہو یا جس کو عدالت نے سزا دے دی ہو، سے متعلق خبر نشر کرنے، ان پر کسی پروگرام میں بحث کرنے کی ممانعت نہیں ہے یا کم از کم اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔

پیمرا آرٹیکل تین (ایک) کی شق 10 کے تحت عدلیہ یا مسلح افواج کے خلاف جھوٹی خبر یا ایسا مواد نشر کرنے سے منع کیا گیا ہے جبکہ آرٹیکل چار کی شق 4 کے تحت عدالت میں زیر سماعت معاملات پر معلوماتی بنیادوں پر تو خبر یا پروگرام چلائے جا سکتے ہیں تاہم اس بات کا خیال رکھا جائے کہ یہ کسی بھی طرح مقدمے کی سماعت یا عدالتی کارروائی پر اثر انداز نہ ہوں۔

ان دونوں شقوں میں کسی مجرم یا ملزم کا موقف دکھانے سے نہیں روکا گیا ہے تو کیا حکومت کا ایسا کوئی اقدام پاکستانی آئین کے آرٹیکل 19 یعنی آزادی اظہار کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔

پیمرا آرڈیننس 2002 کی شق 5 کے تحت وفاقی حکومت کو پیمرا کو صرف پالیسی معاملات پر ہدایت جاری کر سکتی ہے۔ اس شق کے مطابق ‘وفاقی حکومت، جب اور جس طرح ضروری سمجھے، پالیسی معاملات پر پیمرا کو ہدایات جاری کر سکے گی، پیمرا ان ہدایات پر عمل درآمد کا پابند ہو گا۔ اگر یہ سوال پیدا ہو کہ آیا کوئی معاملہ پالیسی کا معاملہ ہے یا نہیں تو اس معاملے میں وفاقی حکومت کا فیصلہ قطعی ہو گا۔’

بی بی سی نے اس حوالے سے پیمرا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان کے ترجمان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

نواز شریف کی تقریر نشر کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوسکتی ہے؟

ماضی میں متعدد مواقع ایسے ہیں کہ جب پیمرا نے کسی سیاسی رہنما کی تقریر نشر کرنے پر چینل کے خلاف کارروائی کی ہو۔

پیمرا

BBC

جولائی 2019 میں پیمرا نے تین نجی ٹی وی چینلز، 24 نیوز، اب تک نیوز اور کیپیٹل ٹی وی کی نشریات بند کر دی تھیں۔ چینلز کی اس بندش کے بارے میں کوئی واضح صورتحال سامنے نہ آنے کی وجہ سے ان قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا کہ نشریات مبینہ طور پر پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے جلسے کی کوریج پر بند کی گئیں۔

پیمرا نے مریم نواز کی پریس کانفرنس دکھانے پر اب تک ٹی وی سمیت 21 ٹی وی چینلز کو نوٹسز بھی جاری کیے تھے۔ اس نوٹس میں پیمرا نے موقف اختیار کیا تھا کہ مریم نواز کی عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کے حصے دکھا کر ان چینلز نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔

یاد رہے کہ سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر لاہور کی ہائی کورٹ نے پابندی لگائی تھی دی ہے۔ 2014 میں الطاف حسین کی جانب سے ٹیلیفونک خطاب میں رینجرز پر تنقید کی گئی تھی جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں اُن کے خلاف 100 سے زیادہ مقدمات درج ہوئے تھے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے منقسم ہے کہ آیا نواز شریف کا خطاب نشر ہونے کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔

بعض صارفین کا کہنا ہے کہ نواز شریف مفرور مجرم ہیں اور ان کی تقریر کسی چینل یا سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ رحمانی واجد نامی صارف کہتے ہیں کہ: ’نواز شریف کے بولنے سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن وہ مجرم ہے تا حیات نا اہل ہے۔

’اگر مجرموں کو بولنے دیا جائے تو پھر جیل کے باقی مجرموں کا کیا قصور ہے۔‘

تاہم کچھ صارفین کے مطابق نواز شریف تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور ان کے بولنے پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ آزادی رائے ان کا آئینی حق ہے۔

بابر علی نے لکھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے مطابق پاکستان میں میڈیا برطانیہ سے بھی زیادہ آزاد ہے لیکن ان کی حکومت کہتی ہے کہ اگر نواز شریف کا خطاب کسی چینل نے نشر کیا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16150 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp