پاکستان کی پہلی میٹرو ٹرین چلنے کو تیار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اورنج ٹرین کا افتتاح جلد کر دیا جائے گا، ٹرین کے کرائے کا تعین کر لیا گیا ہے۔ عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ اورنج ٹرین کا ٹرائل رن شروع کر دیا گیا ہے، آپریشنز و مینٹیننس کا کام تفویض کر دیا گیا ہے جبکہ اسٹاف ہائرنگ کا کام بھی جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی ایک یہ بات بھی قابل تعریف ہے کہ جو پراجیکٹ پچھلی حکومتوں نے شروع کیے تھے انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر کھڈے لائن لگانے کی بجائے ان پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو فائدہ حاصل ہو سکے حالانکہ سابقہ ادوار میں یہی روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی نئی حکومت برسراقتدار آتی ہے تو وہ پچھلی حکومت کے پراجیکٹ روک کر اپنے نئے پراجیکٹ سٹارٹ کردیتے ہیں تاکہ عوام میں ان کے شروع کردہ پراجیکٹ کی پذیرائی ہو اوراس پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہو سکے لیکن عمران خان اور بزدار حکومت نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے پچھلی حکومتوں کے منصوبے بھی مکمل کر رہے ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ نئے عوامی منصوبوں پربھی تیزی سے کام کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ پر بھی اتنا ہی فوکس کیے ہوئے ہیں جتنا اپنی حکومت کے شروع کردہ منصوبوں پر کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین کا کرایہ 50 روپے مقرر کرنے کی تجویز مسترد کرچکے ہیں، کابینہ کے اجلاس میں اب اورنج لائن ٹرین کا کرایہ 40 روپے مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ ایک اور اجلاس میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کی صفائی کے انتظامات کا کنٹریکٹ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو دینے کی منظوری دی گئی ہے۔

شہریوں خصوصاً لاہوریوں کو اورنج ٹرین چلنے کا شدت سے انتظار ہے کیونکہ کم کرایہ میں شہر بھر کے مقامات تک بروقت رسائی سے لاہوریوں کو آمدورفت میں آسانی ہو جائے گی اس طرح شہر میں ٹریفک کا رش بھی کم ہوگا اور آلودگی میں بھی کسی حد تک کمی ہوگی۔ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں روزانہ 80 لاکھ افراد اپنے کام کاج کی غرض سے سفر کرتے ہیں۔ جبکہ لاہور شہر آبادی کے لحاظ سے صوبہ پنجاب کا سب سے بڑا شہر ہے۔

جس کی وجہ سے لاہور شہر میں ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ متعارف کروانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ 27.12 کلومیٹر کا ٹرین ٹریک لاہور ڈیرہ گجراں سے شروع ہو کر علی ٹاؤن سٹیشن پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرین کا گزر اسلام باغ، سلامت پورہ، محمود بوٹی، پاکستان منٹ، شالیمار گارڈن، باغبان پورہ، یو ای ٹی، لاہور ریلوے سٹیشن، لکشمی چوک، جی پی او، انارکلی، چوبرجی، گلشن راوی، سمن آباد، بند روڈ، صلاح الدین روڈ، شاہ نور، سبزہ زار، اعوان ٹاؤن، وحدت روڈ، ہنجروال، کینال، ٹھوکر نیاز بیگ اور علی ٹاؤن سے ہوتا ہے، تقریباً 25 کلومیٹر کا ٹریک زمین کے اوپر اور لکشمی سے چوبرجی تک کا 1.72 کلومیٹر کا ٹرین ٹریک زیر زمین تعمیر کیا گیا ہے۔

اس ٹریک پر چلانے کے لیے 27 ٹرینیں چین سے خریدی گئی ہیں۔ جبکہ ایک ٹرین کے پیچھے 5 بوگیاں لگائی جائیں گی۔ اورنج لائن لاہور میٹرو کے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کا پہلا ریپڈ ٹرانزٹ ٹرین نظام ہے۔ اورنج لائن لاہور میٹرو کی پہلی لائن ہو گی۔ اس کے مالی اخراجات اور تعمیر پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چینی حکومت کرے گی۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ شہر میں ٹریفک کا رش کم کرنے کے لئے ماس ٹرانزٹ منصوبوں کو فروغ دے۔ پنجاب حکومت نے غربت کے خاتمے، صحت کی سہولتوں، تعلیم کے فروغ، انصاف کی فراہمی کے جو نئے منصوبے شروع کر رکھے ہیں انھیں بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •