شکل دکھانے کے قابل تو رہنے دو – مظہر برلاس کا ناقابل اشاعت کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند برس پہلے جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ذاکر نائیک نے یزید کے حق میں گفتگو شروع کی تو مسلمان پریشان ہو گئے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے، لوگوں کو پریشان کے ساتھ حیران بھی ہونا چاہیے تھا کیونکہ چودہ سو سال سے کچھ لوگ یزید کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لاکھ کوششوں کے باوجود زمانہ اسے سچا ماننے کے لئے تیار نہیں جبکہ نواسۂ رسول ﷺ حضرت حسینؑ کو مسلمان ہی نہیں، دوسرے مذاہب کے لوگ بھی سلام پیش کرتے ہیں۔ خیر ذاکر نائیک کی حرکت کے بعد ہندوستان بھر میں کئی کانفرنسیں ہوئیں، جن میں نام نہاد ڈاکٹر کی مذمت کے علاوہ لوگوں کو حق سچ کا واضح پیغام بھی دیا گیا۔

ایک اہم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہل سنت کے بڑے عالم مولانا عبید اللہ اعظمی کہنے لگے کہ۔ حسینؑ حق پر تھے جبکہ یزید دشمن اہل بیتؑ تھا، یزید کا کون سا کارنامہ ہے کہ اسے سراہا جائے۔ یزید کی تین سالہ حکومت میں پہلے سال نواسۂ رسول ﷺ حضرت امام حسینؑ کو ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا، خاندان محمد ﷺ کی عورتوں کی بے حرمتی کی گئی، یزیدی حکومت کے دوسرے سال میں مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں گھوڑے باندھے گئے۔ مدینہ کی حرمت پر حملہ ہوا، یزیدی فوج نے عورتوں اور بچوں کے ساتھ ظلم کیا، یزید اپنی حکومت کے آخری سال میں خانہ کعبہ پر حملہ آور ہو گیا، اسی حملے میں کعبے کا غلاف جل گیا، صاحب قرآن حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے کہ حسنؑ اور حسینؑ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، واضح رہے کہ رسول ﷺ نے بھی خدا کے حکم کے بغیر لب نہیں کھولے۔

رسول اکرم ﷺ کی طرف سے جنت کے سردار قرار دیے جانے والوں میں سے ایک کو یزید نے شہید کر دیا تو کیا جنت کے سردار کو شہید کرنے والا جنت میں داخل ہو جائے گا اور کیا جنت کے سردار کو شہید کرنے والے کے ساتھ خدا راضی ہو جائے گا؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا، کیا لوگوں کو یاد نہیں کہ حضرت امام حسینؑ کی وجہ سے نبی پاک ﷺ نے سجدے طویل کیے ، کیا لوگوں کو رسول ﷺ کا یہ فرمان یاد نہیں کہ ”حسین مجھ میں سے ہے اور میں حسینؑ میں سے ہوں“۔

نبی پاک ﷺ نے بی بی فاطمہ زہراؓ کو جنت کی عورتوں کی سردار قرار دیا۔ امام حسینؑ کی والدہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں، میرا ڈاکٹر ذاکر نائیک سے علمی سوال ضرور بنتا ہے کہ قرآن میں لفظ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے لوگوں کے لئے کہا گیا جن سے اللہ راضی ہوا تو کیا رسول ﷺ کے پیارے نواسے، جنت کے سردار اور حق پرست حسینؓ کو شہید کرنے والے کے ساتھ اللہ راضی ہو سکتا ہے، کیا خانوادۂ رسول ﷺ پر ظلم کرنے والے کے ساتھ اللہ راضی ہو سکتا ہے، کیا مسجد نبوی ﷺ اور خانہ کعبہ کی بے حرمتی کرنے والے کے ساتھ اللہ راضی ہو سکتا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ”ایک ہندوستانی عالم دین کے ان جوابات کے بعد مجھے ایک شعر یاد آ رہا ہے کہ؎

دنیا کے سب یزید اسی غم میں مر گئے
سر مل گیا حسینؑ کا، بیعت نہیں ملی

مجھے یہ سطور مجبوراً لکھنا پڑ رہی ہیں کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان میں فرقہ واریت کی تازہ لہر نے جنم لیا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی ہے، ایک دوسرے کے خلاف فتوے دیے جا رہے ہیں، معاملات قتل و غارت کی طرف بڑھ رہے ہیں اس سارے کام کے پیچھے بقول شیخ رشید را ہے، بھارت ہمارا دشمن ہے، ہمارا دشمن ہمارے ملک میں افراتفری چاہتا ہے، اس گھناؤنے کھیل کے لئے فرقہ واریت کو ہوا دی جا رہی ہے، لوگوں کے جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں، پیغام پاکستان کے تحت تمام علماء متفق ہو گئے تھے کہ فرقہ واریت کا راستہ روکا جائے گا مگر اب اچانک کہیں سے یزید کے حق میں نعرے بازی شروع ہو گئی ہے۔ کئی بھولے بھالے بھی اس نعرے بازی میں شریک ہو جائیں گے، وہ آخرت کی پروا کیے بغیر دنیاوی جذبات میں بہہ جائیں گے۔

میری علماء سے درخواست ہے خدارا لوگوں کے جذبات سے نہ کھیلو، محض دولت اور مفادات کی خاطر لوگوں کی تقدیروں سے نہ کھیلو، انہیں اس قابل رہنے دو کہ وہ اپنی شکل رسول ﷺ کو دکھا سکیں۔ اگر انہوں نے یزید کے حق میں نعرے بازی کی تو وہ قیامت کے روز نبی پاک ﷺ کو کیا ”چہرہ“ دکھائیں گے۔ ملا اور صوفی میں یہی فرق ہے کہ صوفی امن کا پیغام دیتا ہے، معاشرے سے نفرتیں ختم کرتا ہے جبکہ ملا فرقہ واریت کو ہوا دے کر آگ اور خون کا کھیل کھیلتا ہے۔

پہلے ہمارے ہاں فرقہ وارانہ آگ نہیں تھی، یہ چالیس سال کا قصہ ہے جس میں قتل و غارت شامل ہو گئی ورنہ شیعہ سنی اکٹھے رہتے تھے، محرم کا احترام دونوں کرتے تھے ملتان اور حیدر آباد جیسے شہروں میں تعزیے کے زیادہ جلوس سنی نکالتے تھے۔ ہمارے دوست ڈاکٹر کاظم عاطف جو سنی العقیدہ ہیں، ان کے بقول چنیوٹ میں سات میں سے تعزیے کے چھ جلوس سنی نکالتے ہیں۔

اہل بیتؑ اور صحابہؓ کا احترام ہم سب پر واجب ہے مگر مدینے کے اس بوڑھے صحابی کا قول نہیں بھولتا، جس نے واقعہ کربلا کے بعد جب خاندان رسول ﷺ کا لٹا پٹا قافلہ مدینے پہنچا تو کہا۔ ”یہ امت اپنے رسول ﷺ کو کیا شکل دکھائے گی؟“ جذباتی تقریریں کرنے والوں ہمیں شکل دکھانے کے قابل تو رہنے دو۔ سعودی عرب سے سمیرہ عزیز کا شعر قابل توجہ ہے کہ؎
عیب تیرے دکھائی دیں گے تجھے
آئینہ بار بار دیکھا کر


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).