جب ذلت ہی اپنا مقدر ٹھہری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ شہزادی تھا۔ مجھے سر بازار ملا۔ باجی کچھ دے اللہ کے نام پہ۔ اللہ تجھے بہت دے گا۔ سینے پہ دوپٹہ ڈالے، آنکھوں پہ جامنی شیڈ اور ہونٹوں پہ گہری لال لپ اسٹک لگائے، مختلف انداز میں بات کرتا وہ میرا راستہ روکے کھڑا تھا۔ اس کے کھڑے ہونے کا انداز جدا تھا اور بات کرنے کا بھی۔ میں نے پہلے اسے ناگواری سے دیکھا۔ وہی ناگواری جو مجھے پیشہ ور بھکاریوں کو دیکھنے پر ہمیشہ ہوتی ہے۔ پھر مجھے اس پہ ترس آیا۔ میں نے اپنے لہجے کو سخت ہونے سے بچایا، اور اسے کہا تم کو مانگتے شرم نہیں آتی، کچھ کام کیوں نہیں کرتے۔

دینا ہے تو دو نصیحتیں کیوں کرتی ہو۔ مجھے مانگتے شرم نہیں آتی تو تمھیں خدا کے نام پر دیتے شرم کیوں آتی ہے۔ میں نے جتنا لہجے کو سخت ہونے سے بچایا تھا اس نے اتنی ہی کرخت آواز میں الٹا مجھ سے سوال کر ڈالا۔

مجھے ہٹے کٹے لوگوں کو خدا کے نام پر دیتے شرم آتی ہے۔ اس لیے کہ خدا کے نام پہ لینا ان کا حق ہے جو مستحق ہوں۔ تم مستحق نہیں ہو، جاؤ جا کر کوئی کام کرو۔

لو میں مستحق کیوں نہیں، آدھا ادھوری تو ہوں نہ مرد نہ عورت۔ پھر بھی مستحق نہیں۔ واہ۔ مخصوص انداز میں تالی بجاتے ہوئے بولا۔

اس کو سمجھانا فضول تھا۔ میں آگے بڑھنے لگی کہ اس نے پھر آواز لگائی۔ باجی دے جاؤ خدا تمھیں بہت دے گا۔

کہا نا معاف کرو میں نے بڑھتے بڑھتے رک کر جواب دیا۔
جا خدا تجھے برباد کر دے، تیرے بچے مر جائیں، تو اجڑ جائے۔ وہ بد دعاؤں پہ اتر آیا۔
پیشہ ور بھکاریوں کا یہی کام ہے نہ دو تو بددعائیں دیتے ہیں۔ میں نے ایک قدم اور اٹھایا۔
ہماری بددعا تو سیدھا عرش تک جاتی ہے، دیکھنا لگ جائے گی۔
اس وار نے میرے قدم جکڑ لیے

میں پیچھے واپس مڑی۔ غصے یا خوف کی بجائے مجھے اس پر رحم آیا۔ جس کو اپنی پیشہ وارانہ بد دعاؤں پہ تو یقین تھا کہ کہ وہ لگ جائیں گی۔ لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ بلا وجہ کی بددعائیں کبھی نہیں لگتیں۔

تم کیا سمجھتے ہو میں تمھاری بددعا سے ڈر جاؤں گی۔ تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ دعا بلا وجہ لگ سکتی ہے لیکن بددعا لگنے کے لیے وجہ ہونا ضروری ہے۔ سو مجھے تمھاری کوئی بددعا نہیں لگ سکتی۔

مجھے یہ سب نہ بتاؤ۔
تم جو سارا دن سڑکوں پر مانگتے یا مانگتی ہو۔ یہ مانگنا چھوڑ کر کوئی کام کیوں نہیں کرتے۔
میں فنکشن بھی کرتی ہوں۔

ایسے کاموں سے تمھیں شرم نہیں آتی کہ لوگ مانگنے پر دھتکارتے ہیں، بے عزت کرتے ہیں، کوئی تم پر آوازیں کستا ہے۔ کوئی خیرات کے نام پر چند سکے تمھاری جھولی میں ڈال دیتا ہے تو کوئی چھونے کا معاوضہ دیتا ہے۔

شرم کاہے کی پیٹ بھی تو بھرنا ہے۔ اب گھر بیٹھے تو کوئی نہیں دے گا۔

ٹھیک ہے گھر بیٹھے کوئی نہیں دیتا لیکن اس کے علاوہ بھی تو بہت سے کام ہیں۔ ہنر سیکھو، کسی کے گھر میں جھاڑو پونچا کر لو، کسی ہوٹل میں لگ جاؤ، کئی ایسے کام ہیں جن کے لیے کسی مہارت کی بھی ضرورت نہیں۔

کہنا بہت آسان ہے۔ ہم جیسوں کو کام پہ کوئی نہیں رکھتا۔

سب بہانے ہیں، تم لوگوں کو ہڈ حرامی کی عادت ہے۔ مانگ کے کھانا منظور ہے کام کرنا نہیں۔ تم لوگ عزت کی زندگی جینا ہی نہیں چاہتے۔

اچھا تو تم دے دو کام۔
میرے گھر پہلے سے ملازم موجود ہیں۔ اور مزید کی ضرورت نہیں۔
جس سے کام مانگیں وہ یہی جواب دیتا ہے۔
اگر میں تمھارے لیے کام تلاش کروں تو کیا کر لو گے، میں نے کچھ سوچتے ہوئے اس سے پوچھا۔
ہمیں تو کبھی ملا نہیں کام تم ڈھونڈ دو تو میں کر لوں گی۔ اس کے انداز میں لاپرواہی تھی۔

میں نے اس کو اپنے گھر کا ایڈریس دیا کہ کچھ دنوں تک آکر پتہ کر لے۔ احتیاطاً اس کے گھر کا ایڈریس بھی لے لیا۔

میں اس کے لیے کام ڈھونڈتی رہی۔ اپنی دوستوں جاننے والوں جن کو ملازم کی ضرورت ہو سکتی تھی سے کہا، لیکن ہر کسی نے سن کر قہقہہ لگایا۔ لوجی ہم اب کھسروں کو ملازم رکھیں گے۔ پھر بھی میں اس کے لیے کام کی سفارشیں کرتی رہی لیکن کسی نے بھی اس کو ملازم رکھنے کی حامی نہ بھری۔ میرے گھریلو ملازم بہت پرانے اور ضرورت مند افراد تھے میں ان کو ہٹا نہیں سکتی تھی۔ میری پڑوسن کی ملازمہ کام چھوڑ کر چلی گئی تو میرے ذہن میں ایک بار پھر شہزادی کا نام آیا

میں نے انھیں شہزادی کے بارے بتایا۔ پہلے تو وہ تھوڑا ہچکچائی لیکن مجبوری کے تحت حامی بھر لی۔ کہ وہ دفتر اور گھر کے بیچ گھن چکر بنی ہوئی تھی۔

شہزادی کو بتایا تو وہ حیران ہوئی لیکن خوش تھی۔ اس کی آنکھیں خوشی سے بھیگ گئیں۔ وہ بار بار میرا شکر ادا کر رہی تھی۔ کہنے لگی باجی کس کا جی کرتا ہے ذلت سہنے کو، لیکن یہ ذلت تو ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ لگتا ہے جب خدا نے ہمارا وجود بنایا ہوگا تو ذلت بھی ہمارے نصیب میں ہمیشہ کے لیے لکھ دی ہوگی۔

چلو اب خوش ہو جاؤ۔ میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکی۔ کہ جان گئی تھی ان کے لیے کام ڈھونڈنا واقعی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ میں اس کو لے کر اپنی پڑوسن کے گھر پہنچی۔ پڑوسن اور اس کا میاں اسے دیکھ کر خوش تو نہیں ہوئے لیکن مجبوری کی وجہ سے اسے رکھ لیا۔ پڑوسن کے میاں نے اسے واضح کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے گھر اور بچوں کو کسی کھسرے کے سپرد نہیں کر سکتے، سو بہتر ہے جلد ہی کسی خاتون ملازمہ کو تلاش کر کے اسے فارغ کیا جائے۔ مجھے یہ تسلی ہوئی کہ چلو میری بات کا بھرم تو رہ گیا ہے۔

شہزادی کے کام سے میری پڑوسن مطمئن تھی، لیکن اس کا شوہر خفا رہتا تھا، اور اپنی ناگواری کا برملا اظہار کرتا تھا۔ ایک دن شہزادی نے آکر بتایا کہ وہ کام چھوڑ آئی ہے۔ میں نے وجہ نہ پوچھی کہ جانتی تھی کہ پڑوسن کا شوہر اس کو نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ خوامخواہ غصہ کرتا تھا۔

کوئی بات نہیں، میرے ایک جاننے والے کی کافی شاپ ہے میں تمھیں اس پہ لگوا دیتی ہوں۔ وہ تمھیں رکھنے پہ راضی تھے لیکن تب تم کو ملازمت مل چکی تھی۔ میں اسے کافی شاپ پہ چھوڑ آئی۔ یہ شہر کی مشہور کافی شاپ تھی یہاں کچھ اور لڑکے بھی شاپ کا مخصوص یونیفارم پہنے کام کرتے تھے۔ شہزادی کو بھی یونیفارم دیا گیا اور کام سمجھا دیا گیا۔ اس بات کو کچھ ماہ گزر گئے۔ میں اس قصے کو قریبا بھول گئی۔ کہ ایک دن بازار میں میری نظر شہزادی پہ پڑی۔ اس کی آنکھوں پہ جامنی شیڈ لگی تھی اور ہونٹوں پر گہری لال لپ اسٹک۔ وہی مخصوص انداز مانگنے کا اور وہی سب کچھ۔ مجھے اس کو دیکھ کر بہت غصہ آیا۔

تم آگئے اپنی اوقات پہ۔ کتنی محنت سے کام ڈھونڈا تھا میں نے، لوگوں کی منتیں ترلے کیے کہ تمھیں کام پہ رکھ لیں۔ لیکن تم جیسوں کو اس سب کا چسکا لگا ہوتا ہے، بنا محنت پیسہ چاہیے ہوتا ہے تم کیوں کرو کام۔ شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔ تم جیسوں کو عزت راس ہی نہیں۔ میں نے اس کو مانگتے دیکھا تو اس کو خوب سنائیں۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کو جان سے مار دیتی۔ جب خوب بول چکنے کے بعد آگے بڑھنے لگی تو اس نے میرا بازو پکڑ لیا۔ اپنی سنا لی اب میری بھی سنتی جاؤ۔

ٹھیک کہا تم نے ہم جیسوں کو عزت راس نہیں تبھی تو تم جیسے عزت داروں کے مرد ہماری عزت ختم کرنے پہنچتے ہیں۔ باجی تم نے کام ڈھونڈا تیری مہربانی لیکن اس سے بھی بڑی مہربانی یہ ہوتی اگر تم کام نہ ڈھونڈتی، کم از کم تیری نظر میں عزت داروں کا بھرم رہ جاتا۔ جاننا چاہو گی تیری پڑوسن کے گھر سے کام کیوں چھوڑ کے آئی تھی۔ کہ اس کا عزت دار شوہر جس کو میرے وجود سے نفرت تھی مجھے نوچ ڈالنے کو بیتاب رہتا تھا ایک دن اس کی بیوی جب گھر نہیں تھی تو اس نے مجھ پر ہاتھ صاف کر نا چاہا تھا۔

اس کی بیوی اپنے گھر اور بچوں کو میرے بھروسے پہ چھوڑ کے گئی تھی میں کیسے اس کا بھروسا توڑ دیتی۔ اس لیے چھوڑ آئی تھی کام اور جس کافی شاپ کے مالک نے احسان جتا کر مجھے رکھا تھا اس نے مجھے کافی کے آرڈر بھگتانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی آمدن بڑھانے کے لیے رکھا تھا، اس کی اپنی نیت بھی خراب تھی۔ اسی لیے دو ہفتوں بعد ہی کام چھوڑ آئی تھی۔ کہ جس عزت کو بچانے اور عزت کی روٹی کے لیے محنت کر رہی ہوں وہ عزت نہیں ملنی تو کیا فائدہ۔ ہم جیسوں سے خفیہ تعلقات تو بہت سارے رکھنا چاہتے ہیں لیکن ملازمت کے لیے کوئی نہیں رکھنا چاہتا۔ جب ذلت ہی اپنا مقدر ٹھہری، تو پھر عزت سے کام کرنے والوں کے لیے میں نے جگہ چھوڑ دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •