یہ شکائیت نہیں، حجور!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دھرتی کا بوجھ، عوام اگر سوال اٹھائیں۔ تو سب سے پہلے صاحب اختیار سوال کرنے والے کی طبیعت کی درستی کو عین فریضہ اول جانتے ہیں۔ سانوں! قانون پڑھاندا ایں۔ قانون بارے آگاہی کی چڑ پر صاحب آپ کو ایسی ایسی لاقانونیت کی مار مارتا ہے۔ اگر پولیس ہے تو سمجھو آپ پر کوئی اور تہمت لگے نہ لگے بدتمیزی تے ”وٹ تے پئی آ“ یا پھر کار سرکار میں مداخلت پر سرکاری مہمان بنا لیے جاؤ گے۔ جب تک اصول قوانین پر عمل پیرا ہونے کا غرور، خاک نہ کردیں۔

آپ کا مان متعلقہ حکام منت و سماجت میں نہ بدل دیں۔ آپ اتھارٹی کا لاقانونیت پر اختیار تسلیم نہ کر لیں۔ آئندہ قانون کی حکمرانی کی سے توبہ تائب نہ کر لیں۔ تب تک رلنا پڑنا ہے۔ ہم تو راضی بہ رضا ہٹ دھرمی سے یہ راہ اپنائے کھڑے ہیں۔ وگرنہ آسان راستہ تو ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ آپ کو سکون جی حجوری میں ہی نظر آئے گا۔ یا پھر کہیں سے بڑے صاحب کا رعب آپ کے پلڑے میں آ پڑے۔ ورنہ پھر سب سے کارگر نسخہ پیسہ پھینک تماشا دیکھ آزمائیے اور سکون سے لاقانونیت کے فوائد سے مستفید ہوں۔

کرونا وبا بہت ہی مہلک مرض، جس کی پہلی احتیاط ماسک پہننا لازم قرار پایا۔ ایک دلچسپ معاملہ جو قریب قریب ہر جگہ مشترک دیکھا۔ جہاں بھی سرکاری دفاتر جانے کا اتفاق ہوا۔ ماسک لازمی قرار پایا اور اہلکار پورے شد و مد سے اس پر عمل کرواتے نظر آتے ہیں۔ ماسک کا مطلب صرف ماسک۔ کچھ خواتین کا نقاب سے منہ ڈھانپنا بھی خلاف قاعدہ قرار پایا۔ ماسک لگائیے نقاب سے کام نہیں چلے گا۔ اگر کسی صاحب نے کپڑے یا رومال سے منہ ڈھانپا ہے۔ دفاتر میں داخلہ تو ماسک کے مرہون ہی ممکن ہے۔ یہ سامنے کھڑے لڑکے سے آپ ماسک خرید سکتے ہیں۔ بھئی قانون ماسک پہننے کا ہے۔ منہ ڈھانپنے کا نہیں۔

خدمت مرکز کا نام سنتے ہی احساس جاگتا ہے۔ کہ شاید کافی کچھ بہتر میسر ہے۔ وہاں بھی لیکن آپ کی ”خدمت“ کچھ ایسی کی جاتی ہے۔ خدمت مرکز فیصل آباد پر کچھ جاننے سمجھنے کا موقع میسر آیا۔ عجب معاملہ لوگ بے چارے صبح نو سے پانچ بجے کا وقت ذہن میں رکھ کر تشریف لاتے ہیں۔ لیکن صاحب لوگ ٹوکن مرضی سے جاری کرتے ہیں۔ ہر نئے آنے والے کو ایک ہی جواب پر ٹرخایا جاتا ہے۔ آپ کل صبح نو بجے تشریف لائیے گا۔ لوگوں کے معاملے میں ٹانگ اڑانے کے مرض میں مبتلا دل کو موقع بنتا نظر آیا تو ہم کب رکنے کے تھے۔

جھٹ سے سوال زباں سے پھسل کر سائل کے حق میں دفتری بابو کے دامن میں رکھ دیا۔ تو بڑے اطمینان سے بتایا گیا، کہ صبح نو بجے کے پہلے مرحلے میں اتنے ٹوکن جاری کر دیے جاتے ہیں۔ کہ ہم سے وہی شام تک نمٹانے مشکل ہوتے ہیں۔ موقع غنیمت جان کر پھر پوچھنے سے ذرا نہ چوکے۔ بھائی صاحب جب آپ سب لوگوں کو صبح نو بجے کا وقت دیتے جا رہے ہیں۔ تو یقینی طور پر اس رش بڑھانے کے ذمہ دار تو حقیقی معنوں میں آپ ہی ہیں۔ تو ہماری تسلی کے لیے بڑے صاحب بلا لیے گئے کہ ذرا ان سے ہتھ جوڑی کر لیں۔ یہ آپ کی ضرور تسلی کردیں گے۔

استفسار پر بڑے صاحب تو مزاج کے بھی ذرا کچھ بڑے بگڑے پائے۔ ایس۔ او۔ پیز پر بات چیت پر بڑے صاحب کا فرمان تھا۔ ہم سے نہیں ہوتا آپ عمل کروا لیں اگر آپ کروا سکتے ہیں۔ بڑے صاحب پر جب غصہ غالب آیا تو دھاڑے کہ جہاں سے کام ہو سکتا ہے۔ وہاں سے کروالیں۔ جائیں ہم نہیں کرتے۔ بڑے صاحب کے غصہ کو بڑھاوا دینے کے لیے ہم نے راہ ہموار کی۔ کہ جناب آپ یہ جملہ لکھ کر عنایت فرما دیجئیے۔ بڑے صاحب اب الفاظ کا توازن بھی کھو چکے۔ تو غصہ میں کچھ یوں فرمایا۔ کہ جاؤ جہاں لکھ کر دیتے ہیں وہاں سے لکھوا لیں۔ بڑے صاحب کی دھاڑ پر جونئیرز نعرہ تکبیر کے منتظر نظر آئے۔ تو ہم نے اپنی تسلی سے قبل ہی بھلائی اسی میں جانی۔ کہ لوٹ کر بدھو گھر کو جائیں۔

نیشنل بنک فیصل آباد کی مین برانچ میں بھی اتفاق سے جا اٹکے۔ وہاں داخلہ سے پہلے ہی پنگا ہمارا منتظر تھا۔ گیٹ پر بیٹھے اہلکار میز پر خوبصورتی سے موبائل فون سجائے بیٹھا تھا۔ ہم سمجھے کہ شاید دکان سجائے بیٹھے ہیں۔ ذرا آگے کھسکے تو ہمیں بھی اپنا موبائل رونق میز بنانے کی آفر کی گئی۔ ہم نے عرض کی۔ کہ حجور ان اعلیٰ ترین موبائل فونز کے درمیان ہمارا فون آپ کی اس دکان کی رونق بڑھا نہ پائے گا۔ لیکن وہ بھی کہاں ماننے والے تھے۔ ہمیں بنک کے اصولوں کے پالن کے لیے سٹیٹ بنک کی پالیسی پر عمل پیرا ہوئے بغیر داخلہ سے پرہیز کا بتایا۔ ہم نے سٹیٹ بنک کی پالیسی دکھانے کی بات کی۔ تو بات بنک مینیجر سے ملاقات پر تھمی۔ بنک مینیجر نے سٹیٹ بنک کی پالیسی سے درخور اعتنا برتتے ہوئے اس کو شاخ کی داخلی پالیسی بتایا۔

آج کا تازہ واقعہ ذرا کچھ عجب ہی محسوس ہوا۔ جناح باغ فیصل آباد جاگنگ ٹریک کو ون وے کر دیا گیا۔ جناح باغ کے ذیلی گیٹ سے داخل ہوتے ہی بائیں طرف ہلکا سا مڑ کر قریب ہی سکیٹنگ کورٹ بنا ہوا ہے۔ کرونا کے قید بچوں نے جناح باغ میں سکیٹنگ کورٹ میں پریکٹس کی ٹھانی۔ اتنے عرصہ بعد گھر سے باہر پریکٹس کے لیے پرجوش بچے جوں ہی گیٹ سے داخل ہوئے۔ تو موقع پر موجود اہلکار نے بتایا۔ کہ بحکم ڈی۔ سی۔ او فیصل آباد جاگنگ ٹریک ون وے کر دیا گیا ہے۔ سخت احکامات ہیں۔ حکم عدولی پر پارک بدر کر دیا جائے گا۔ صرف دائیں طرف چل سکتے ہیں۔ سکیٹنگ شوز اٹھائے بچوں کو کہا گیا۔ کہ دائیں طرف سے چلتے ہوئے جائیں۔ اوپر سے گھوم کر سکیٹنگ کورٹ میں آئیں۔ ہم ابھی اسی شش و پنج میں تھے۔ کہ سامنے پارک میں ایک موٹر سائیکل سوار لہراتے و جھومتے ہوئے آتے دکھائی پڑے۔ پھر سوچا شاید عوام کو صرف دائیں طرف چل کر سرکار کے لیے ثواب کمانے کی غرض سے دائیں دائیں گول گھمایا جا رہا ہو۔

یہ گناہ دیکھ کر ہمارا گناہ گار دل گناہ کی دلدل میں گرنے کو کچھ مچلا۔ تو صاحب لوگوں نے خوب اچھے سے باور کروایا۔ کہ حجور سرکاری رتھ پر سوار عوام کی خدمت کے لیے تندہی سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سرکار کے کارندوں کو تو اپنی ”جوں“ میں شاید میلی عوام کا خون بھی معاف ہے۔ آپ دائیں طرف چلتے ہوئے ثواب کمائیے۔ ہم ذرا مصروف ہیں۔
یہ شکایت نہیں، حجور! دل کے پھپھولے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •