یہ شکائیت نہیں، حجور!

دھرتی کا بوجھ، عوام اگر سوال اٹھائیں۔ تو سب سے پہلے صاحب اختیار سوال کرنے والے کی طبیعت کی درستی کو عین فریضہ اول جانتے ہیں۔ سانوں! قانون پڑھاندا ایں۔ قانون بارے آگاہی کی چڑ پر صاحب آپ کو ایسی ایسی لاقانونیت کی مار مارتا ہے۔ اگر پولیس ہے تو سمجھو آپ پر کوئی اور تہمت لگے نہ لگے بدتمیزی تے ”وٹ تے پئی آ“ یا پھر کار سرکار میں مداخلت پر سرکاری مہمان بنا لیے جاؤ گے۔ جب تک اصول قوانین پر عمل پیرا ہونے کا غرور، خاک نہ کردیں۔

آپ کا مان متعلقہ حکام منت و سماجت میں نہ بدل دیں۔ آپ اتھارٹی کا لاقانونیت پر اختیار تسلیم نہ کر لیں۔ آئندہ قانون کی حکمرانی کی سے توبہ تائب نہ کر لیں۔ تب تک رلنا پڑنا ہے۔ ہم تو راضی بہ رضا ہٹ دھرمی سے یہ راہ اپنائے کھڑے ہیں۔ وگرنہ آسان راستہ تو ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ آپ کو سکون جی حجوری میں ہی نظر آئے گا۔ یا پھر کہیں سے بڑے صاحب کا رعب آپ کے پلڑے میں آ پڑے۔ ورنہ پھر سب سے کارگر نسخہ پیسہ پھینک تماشا دیکھ آزمائیے اور سکون سے لاقانونیت کے فوائد سے مستفید ہوں۔

Read more

قصے ناکردہ مہربانیوں کے

ہم اپنے ایک نہایت مہربان کی ناکردہ مہربانیوں کے ہمیشہ زیر بار رہے ہیں۔ موصوف نے یوں تو ہم پر بے شمار ”ایسے احسانات“ فرمائے ہیں۔ لیکن یہاں چند ایک کا ذکر ہی ہو پائے گا۔ اگر حضور کی کسی سخاوت کا چرچا ہونے سے رہ جائے، تو حضور معاف فرما دیجئے گا۔ وگرنہ دوسری صورت میں یاد دہانی کروا کے اپنا ”بار احسان“ برقرار رکھیے گا۔ ہمدم دیرینہ عرصہ ہائے دراز سے دیار غیر میں مقیم ہیں۔ ہم پر ہمیشہ ہمدردی جتاتے رہتے ہیں۔

بقول آنجناب نے کسی کے ساتھ کاروبار میں بڑی رقم سے شراکت داری کی۔ مگر دیار غیر میں کسی اپنے ہم وطن نے دھوکہ دے کر ساری رقم ہتھیا لی۔ آپ جناب کا اگلا بیان سن کر تو ہم دنگ ہی رہ گئے۔ آپ کا فرمانا تھا۔ یہ شراکت داری پوری طرح اس نیت سے کی گئی تھی۔ کہ یہ سب کچھ ہمیں عطا کیا جانا تھا۔ مطلب اصل زر، منافع و حصہ داری کی ملکیت ہمیں عطا کی جانا تھی۔ ہم اتنے بڑے کاروباری رقم کی ملکیت کی خوشی تو محسوس نہ کر سکے، البتہ اس نقصان پر تڑپ کر رہ گئے۔

Read more

پھنس گئے باس!

باس کے اوپر چائے پانی وغیرہ گرنے یا گرانے کے واقعات سے تو آپ یقیناً محظوظ ہوتے رہیں ہوں گے۔ باس کی بچوں جیسی ضد و فرمائش سے بھی عاجز رہتے ہوں گے۔ باس جیسی عفریت سے نمٹنا کسی طور آسان نہیں۔ کچھ سخت قسم کے باس کا قصہ تو الگ، نرم مزاج باسز کے متعلق ماتحتوں کی رائے بھی کچھ زیادہ قابل قدر نہیں۔ محبت و نرمی کا برتاؤ رکھنے والے صاحب کے ماتحت اپنے باس کا تعارف ہم

Read more

ہم اپنے مزاج کے مارے لوگ

کچھ عجب مزاج یار کا قصّہ تو برطرف اب تو اپنا مزاج بھی سنبھل نہیں پاتا۔ اضطراب کی کیفیت سے دوچار طبیعت میں ٹھہراؤ کم ہی میسر ہوتا ہے۔ صفائی نصف ایمان کا حامل معاشرہ بجا طور پر الفاظ میں صفائی کو ایمان کا نصف ضرور قرار دیتا ہے۔ عملی طور پر یہ صفائی آپ کو ایمان سمیت معاشرے کے کردار و اخلاق بنیادی اشیائے ضروریہ میں بھی شاید میسر آ سکے۔ ملاوٹ، جعل سازی، جھوٹ، دھوکہ، فریب، چرب زبانی

Read more

چھوٹی خوشیوں کے بڑے پہرے دار

عجب تماشا ہے ہم تیسری دنیا کے معاشروں کا۔ اگر آپ ریاست کے قوانین اور اخلاقی اصول کے مطابق زندگی بسر کرنے پر مُصر ہیں۔ تو سوچ لیں کہ آپ اس معاشرے کے بڑے ”فسادی“ قرار پا چکے۔ ہم کو ایسے القابات سجائے زندگی بسر کرتے مدت ہوچکی۔ بلکہ اب تو عادی مجرم ٹھہرائے جاچکے۔ یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سر رہ سیاہی لکھی گئی یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سر بزم یار چلے گئے وائے

Read more

دو آفاقی کردار "جبرئیل و ابلیس” کا مکالمہ علامہ کی نظم

شخصیت پرستی کے پروردہ معاشروں میں پیروکار اپنی پسندیدہ شخصیات کو آفاقی تقدیس کا حامل سمجھنے کی عمومی غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر ایسی شخصیات کے علمی افکار کو سمجھنے اور پرکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ پیروکاروں کے یہاں ایسا کلام آسمانی صحیفہ کے مترادف قرار پاتا ہے۔ ایسے کلام پر توضیحی یا تنقیدی تجزیہ شجر ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ افکار پر تنقید کو اکثر ناسمجھ، ذات پر تنقید سمجھتے ہوئے معرکہ حق و باطل برپا کردیتے

Read more

بدکلام سیٹھ اور وفادار ملازم

وہ بلا کا باتونی، ملنسار، خدمت گزار، رحم دل، صاف گو، اور حد درجہ معصوم تھا۔ جب میری اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ تب بمشکل اس کی عمر پندرہ سولہ برس تھی۔ میں نے دوران تعلیم پارٹ ٹائم ملازمت اختیار کر رکھی تھی۔ وہیں پر اس سے ملاقات ہوتی۔ وہ جیسے ہی کام سے فراغت پاتا تو اپنی چائینہ کی صاف ستھری سائیکل پر سوار میرے پاس آپہنچتا۔ سائیکل کا خیال وہ خود سے بھی زیادہ رکھتا تھا۔ پھر گھنٹوں

Read more

سیٹھ کلچر میں "اصول و قانون” کا کیا کام؟

سیٹھ کلچر میں اصول قانون اور اخلاق کا کیا کام؟ گو کہ یہ جملہ ایک منجھے ہوئے مقامی سرمایہ دار نے اپنی قائم کردہ بڑی بڑی ملز کی حدود کے قوانین بارے ادا کیا۔ لیکن حقیقت میں دنیا میں امیر و غریب ممالک میں بعین ہی نظر آتا ہے۔ سرمایے کی طاقت و اہمیت سے مفر ممکن نہیں۔ سرمایہ کار کی بڑائی اور جیت سے بھی انکار نہیں۔ سرمایہ کی ریاست میں نظام تنفس کی حیثیت سے بھی بے خبری

Read more

وہ ”تبدیلی سرکار“ کے سر پھرے خدائی محافظ، کیا ہوئے؟

سیاسی کرتا دھرتاؤں کی بے بسی و مصلحت پسندی سے اداروں کو من مانی کا جو چسکا لگ چکا۔ اب اس کا خمیازہ بہر طور عوام کو ہی بھگتنا ہے۔ وگرنہ جس کا سینگ جدھر سمائے وہاں جا بسے۔ مملکت خداداد میں زندگی جینے کا ہنر اب عام عوام کے بس کا نہیں۔ جس ریاست کے ادارے حاکم کے تابع نہ ہوں۔ وہاں انصاف، قانون، اخلاق، عوامی حقوق، ناپید ہو جاتے ہیں۔ وہاں پھر دہشت راج کرتی ہے۔ اداروں میں

Read more

پاکستان سٹیزن پورٹل اور شرمندہ حکومت

2018 کی آخری سہ ماہی میں متعارف ہونے والی ایپ ”پاکستان سٹیزن پورٹل“ بلا شبہ حکومت کی طرف سے ایک مخلصانہ عمدہ کوشش ہے۔ جس کا مقصد نجی و اجتماعی عوامی مسائل کو بلا تاخیر متعلقہ اداروں تک پہنچانا ہے۔ پھر مسائل کے حل کی ذمہ داری نبھانے کا بھاری پتھر متعلقہ ادارے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جس میں بیشتر ادارے واضح طور پر ناکام ہوتے نظر آتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی 32 میں سے 27 منسٹریز

Read more

میڈیا منڈی کا سیٹھ اور عوام

پاکستانی میڈیا کے نیوز چینلز کی ہیڈ لائنز سننا ممنوع ہے۔ یہ پابندی نصف بہتر کی جانب سے ہم پر عائد ہے۔ اب اتنی پابندی بھی نہیں جیسے آپ سمجھ رہے ہیں، آواز بند کرکے ہم ہیڈ لائنز دیکھ سکتے ہیں اور اس پر ہمیں گھورا بھی نہیں جاتا۔ ہیڈ لائنز سننے کے نقصانات بتاتے ہوئے موصوفہ کا کہنا ہے کہ خبروں کی سرخیاں پڑھنے کا انداز کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے لٹھ بردار آوازے کستا پیچھے پڑا ہو۔

Read more

خوابوں سے بہلتے روز و شب

”گھر سے باہر بندھی ہوئی گائے اچانک غائب ہوجانا، تلاش بسیار کے باوجود سراغ نہ ملنا کہ گائے کیسے اور کہاں چلی گئی یا کون لے گیا؟ پھر ہمسائے کے کھونٹے سے کیسے جابندھی۔ “ سچے خوابوں کے دعویدار دوست نے حالیہ خواب اور تعبیر بارے خاص رازدرانہ اور قائل کرنے والے لہجے میں سمجھایا کہ خواب کو حالیہ تناظر میں سمجھو، کہ مودی نے آرٹیکل 370 اور A۔ 35 کا نفاذ ختم کرکے، گھر سے باہر بندھی گائے کو

Read more

بے سمت ہجوم میں کھڑا متلاشی

کثرتِ آبادی، وسائل و مہارت کی کمی، مذہبی خود پسندی اور خاندانی کلچر کے مسائل میں الجھے، ہم قوم کا تصور اجاگر کرنے میں ناکام، ایک بے سمت ہجوم کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ یہ مسائل اور ان سے جنم لینے والے دیگر مسائل اس قدر شدید ہوچکے ہیں کہ ہم اصل معاملات اور ان کی تہہ تک پہنچنے کی کوششیں ترک کر کے اب بس ضمنی مسائل کے حل کو ہی اصل مسائل کا حل سمجھ کر ڈنگ ٹپاؤ

Read more

گپ: غریب کا پردہ اور حکمران کا دھندا

ہمارے ایک بہت ہی مہربان، جن سے ہمیشہ راہنمائی ملی اور موصوف علمی گفتگو کے فن میں بے مِثل، اپنی کم گوئی کے باوجود سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے جب کبھی کسی احباب کی لاف زنی، یاوہ گوئی یا پھڑ بازی کا تذکرہ جملہ معترضہ کے طور پر دوران گفتگو آ جاتا تو دھیمے سُروں میں بات کو سمجھاتے کہ آپ کو اس کو بات سے کیا زِک پہنچتی ہے کہ اگر کوئی پھڑ بازی

Read more

شاہ "دوم” اور عالمی طاقت کے گُھٹنے

آج حالیہ دورہ امریکہ کی ایک تصویر جس میں جناب عمران خان صاحب ایک ہاتھ میں تسبیح اور سیاہ شلوار قمیض پہنے مسکراتے ہوئے کھڑے ہیں اور عقب میں شاہ محمود قریشی بھی موجود ہیں۔ یار لوگوں نے اس تصویر کے پار جھانکتے ہوئے بادشاہِ ”دوم“ کی وجاہت، پرہیز گار تسبیح اور لباس کے مقابل عالمی طاقت کو دہشت زدہ دیکھ بھی لیا ہے۔ تسبیح و لباس کی خوش نصیبی کا شخصی تعارف سننے کے بعد ہم تو غالب کا

Read more

لائلپور اور عربی بدو کی گود

فیصل آباد کی مشہور شاہراہ ستیانہ روڈ سے اکثر گزر ہوتا ہے۔ حال ہی میں تعمیر شدہ پُل کے نیچے، چوراہے کی خوبصورتی میں چنداں اضافہ کی خاطر کچھ مجسمے لگائے گئے ہیں۔ نہ جانے ان مجسموں کو دیکھ کر سراہنے کی بجائے کمتر، بدتہذیب، ذہنی بیمار، بد ذوقی اور ضیا الحقی سوچ کا عکس اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں لائلپور کا نام سعودی عرب کے شاہ فیصل کے نام کی مناسبت سے فیصل آباد

Read more