یہ شکائیت نہیں، حجور!
دھرتی کا بوجھ، عوام اگر سوال اٹھائیں۔ تو سب سے پہلے صاحب اختیار سوال کرنے والے کی طبیعت کی درستی کو عین فریضہ اول جانتے ہیں۔ سانوں! قانون پڑھاندا ایں۔ قانون بارے آگاہی کی چڑ پر صاحب آپ کو ایسی ایسی لاقانونیت کی مار مارتا ہے۔ اگر پولیس ہے تو سمجھو آپ پر کوئی اور تہمت لگے نہ لگے بدتمیزی تے ”وٹ تے پئی آ“ یا پھر کار سرکار میں مداخلت پر سرکاری مہمان بنا لیے جاؤ گے۔ جب تک اصول قوانین پر عمل پیرا ہونے کا غرور، خاک نہ کردیں۔
آپ کا مان متعلقہ حکام منت و سماجت میں نہ بدل دیں۔ آپ اتھارٹی کا لاقانونیت پر اختیار تسلیم نہ کر لیں۔ آئندہ قانون کی حکمرانی کی سے توبہ تائب نہ کر لیں۔ تب تک رلنا پڑنا ہے۔ ہم تو راضی بہ رضا ہٹ دھرمی سے یہ راہ اپنائے کھڑے ہیں۔ وگرنہ آسان راستہ تو ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ آپ کو سکون جی حجوری میں ہی نظر آئے گا۔ یا پھر کہیں سے بڑے صاحب کا رعب آپ کے پلڑے میں آ پڑے۔ ورنہ پھر سب سے کارگر نسخہ پیسہ پھینک تماشا دیکھ آزمائیے اور سکون سے لاقانونیت کے فوائد سے مستفید ہوں۔
Read more
