انڈیا کا زیر انتظام کشمیر: سرینگر میں زلزلہ، دھماکہ، ’چین یا پھر جادو‘؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی علاقے میں اگر زلزلہ آیا ہو تو اکثر اوقات بات بہت واضح ہوتی ہے اور ادارے بتا دیتے ہیں کہ ہاں زلزلہ آیا تھا اور یہ کہ ریکٹر سکیل پر اس کی شدت کیا تھی۔ لیکن بات جب کشمیر کی ہو تو پھر بات اتنی سیدھی نہیں ہوتی۔

ہوا یوں کہ منگل کی رات انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں کچھ ایسا ہوا کہ لوگ تذبذب میں پڑ گئے۔ بظاہر ایک بہت زور کا دھماکہ ہوا اور ساتھ ہی عمارتیں، زمین ہلنے لگی۔ کچھ لوگوں کو لگا کہ شاید زلزلہ آیا ہے۔ لیکن یہ سب صرف شہر ہی کے کچھ علاقوں میں محسوس کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

سرینگر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شاہد چوہدری نے اپنے ٹویٹ میں اسے زلزلہ ہی بتایا۔ انھوں نے earthquake# کے ساتھ اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’یہ بہت ہی خوف ناک تھا۔ امید ہے سب محفوظ ہیں۔‘

اس دوران کچھ مقامی نیوز ویب سائٹس نے زلزلوں کے ماہر بکرم سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی ایک زلزلہ تھا۔ رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ اس زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر تین اعشاریہ چھ تھی تاہم اس کے مرکز کا ابھی پتہ نہیں چلا ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے ٹوئٹر پر کشمیریوں نے اپنے تجربات بیان کرنا شروع کیے اور یہ شکایت کہ انھیں متعلقہ حکام کی جانب سے معلومات نہیں دی گئیں۔ لوگوں میں اس صورتحال سے متعلق بے یقینی اس لیے بھی تھی کیوں کہ کئی شہریوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے جھٹکے محسوس کرنے سے پہلے ایک زور دار دھماکہ سنا تھا۔

ٹوئٹر صارف شازیہ بخشی نے لکھا ’یہ زلزلہ نہیں تھا! یہ کیا تھا؟ سب کچھ بری طرح ہل رہا تھا، لیکن ایسے جیسے بہت بڑا دھماکہ ہو۔ امید ہے کہ سب محفوظ ہیں۔ سب کے لیے دعائیں۔‘

سہیل بھٹ نے لکھا ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی، یہ زلزلہ تھا یا دھماکہ۔ میں نے اس طرح کا زلزلہ کبھی محسوس نہیں کیا۔ صرف تین سیکنڈ کا تھا مگر شدید آپ کو کیا لگتا ہے؟‘

صحافی طارق میر نے لکھا ’مجھے نہیں لگتا کہ یہ زلزلہ تھا کیونکہ میں نے پہلے واضح طور پر ایک دھماکے کی آواز سنی، اور اس کے بعد اس کی شدت سے سب لرز اٹھا۔ بہت عجیب بات ہو گی اگر زلزلے سے پہلے ایک دھماکہ ہوا ہو۔‘

ٹوئٹر صارف شہریار خانم نے لکھا ’آج کشمیر میں ہمیں نیند کیسے آئے گی؟ ہمیشہ کی طرح ہمیں کچھ نہیں پتہ۔ پھر سے جھٹکے محسوس ہوئے، لیکن زلزلے جیسے نہیں۔‘

انڈین صحافی حبہ بیگ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’کب تک لوگوں کو اندھیرے میں رکھیں گے۔ اگر لوگ غلط بھی سوچ رہے ہیں، خوف کے شکار ہیں، تو تصور کریں کہ ان کی ذہنی حالت کیا ہوگی۔ ہم ساری عمر بھی سوچتے رہیں تب بھی یہ سمجھ نہیں پائیں گے کہ کشمیریوں کی زندگی کتنی مشکل ہے۔‘

مگر پھر کشمیریوں نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ کرتے ہیں، مشکل میں بھی ہنسی مذاق۔

کچھ کو وِنگ کمانڈر ابھینندن یاد آ گئے۔

گریٹر کشمیر کے نام سے ایک مزاحیہ اکاؤنٹ نے لکھا، ’وِنگ کمانڈر ابھینندن سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے طیارے سے دوبارہ گرنے کی وجہ سے کل رات سرینگر میں زلزلے جیسی صورت حال پیدا ہوئی تھی، تو انھوں نے کہا، ’میں یہ آپ کو نہیں بتا سکتا۔‘

انڈیا اور چین کے درمیان جاری سرحشی کشیدگی کے تناظر میں بعض افراد کو چین کا خیال آیا۔

نعمان محمد قادری نے لکھا ’یہ جھٹکا کیا تھا۔۔ زلزلہ یا پھر چین کی کشمیر میں آمد؟‘

اور کچھ نے اس کا ذمہ دار خلائی مخلوق کی خلائی گاڑی، ریتک روشن اور جادو کو ٹھہرایا۔

’جادو‘ نامی خلائی مخلوق کا کردار ریتک روشن کی فلم ’کوئی مل گیا‘ میں تھا۔

ٹوئٹر صارف راحیل رحمٰن نے لکھا، “تازہ ترین: جادو کو گھنٹا گھر کے پاس دیکھا گیا!‘

کئی صارفین کے ذہن میں بھی وہی بات آئی جو ٹوئٹر صارف شوکت لون کے ذہن میں آئی، ’کشمیر میں زلزلہ بھی معمہ بن جاتا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16114 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp