عمران خان کے جانے سے کیا ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف کی تقریر سے اٹھنے والا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہی اس بیان کی صداقت و ضرورت کا اعلان ہے۔ اس حوالے سے یہ بحث غیر ضروری ہے کہ کون کس گنگا میں ہاتھ دھوتا رہا اور کس سے کب ملتا رہا۔ جاننا یہ چاہئے کہ عسکری قیادت اور سیاست کا تال میل رہا ہے کہ نہیں۔ اور کیا اسے ختم ہونا چاہئے یا موجودہ طریقہ جاری رہنا ہی ملک و قوم کے ’بہترین مفاد‘ میں ہے۔ پاکستانی اگر باشعور، سمجھدار اور ہوشمند قوم ہونے کا ثبوت دیں تو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے لانے کی بجائے، ان خطوط کو نمایاں کرنے کی کوشش کریں جن کی بنیاد پر ایک جدید انسان دوست معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں نواز شریف کی طرف سے سیاست میں فوج کے کردار کے حوالے سے بلند آہنگ انداز میں بات کرنے کے بعد سے انکشافات اور الزام تراشی کا جو سلسلہ شروع ہؤا ہے، اس میں کسی کو یہ خیال بھی آیا کہ اس وقت ملک و قوم کو درحقیقت کن مسائل کا سامنا ہے ؟ ایک تقریر کی حد تک یہ قبول کیا جاسکتا ہے کہ نواز شریف نے ماضی کے تجربوں اور ملک میں سیاسی تعطل اور شہری آزادیوں کو لاحق خطروں کی روشنی میں یہ بتانے کی ضرورت محسوس کی کہ ان کے خیال کے مطابق ملک میں سیاسی بحران اور سیاست دانوں کی ناکامیوں کی اصل وجہ کیا ہے۔ اسے یک طرفہ مؤقف کہہ کرسنا جاسکتا تھا ، اور قبول یا مسترد بھی کیا جاسکتا ہے۔ کسی سیاسی بیان کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ یہ ریاضی کا کلیہ نہیں ہوتا ۔ یہ ذاتی رائے یا تجربہ کا نچوڑ ہوتا ہے۔ اس سے اختلاف کرنا بھی اتنا ہی جمہوری طریقہ ہے جتنا کسی بھی معاملہ پر کوئی بیان دینا یا کسی رائے کا سامنے لانا اظہار کے حق و آزادی کے زمرے میں آتا ہے۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں کل گیارہ جماعتیں شریک تھیں۔ نشر ہونے والی تقریروں کے بعد ملک کے اعلیٰ سیاسی دماغ کئی گھنٹے تک سر جوڑے بیٹھے رہے لیکن اس اے پی سی کے بعد منعقد ہونے والی پریس کانفرنس اور جاری ہونے والے اعلامیہ میں عمران خان اور ان کی حکومت ہی نشانے پر رہیں۔ یا پھر بالواسطہ طور سے ملک کو درپیش اقتصادی، سفارتی اور سلامتی سے متعلق مسائل اور چیلنجز کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستان کو جن حقیقی خطرات کا سامنا ہے وہ مہنگائی اور بیروزگاری سے پیدا ہونے والی پریشانی و بے چینی سے شروع ہوکر ان عوامل تک جا پہنچتے ہیں جو اس صورت حال کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس لئے حکومت کے یہ دعوے بے بنیاد اور ناقابل قبول ہیں کہ موجودہ حکومت کی ناکامی کا اصل سبب سابقہ حکومتوں کی بے ایمانی اور قرضوں کا بوجھ تھا۔ اس دعوے کو یہ کہہ بھی مسترد کیا جاسکتا ہے کہ جب عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو ان حالات کا علم تھا تو انہوں نے ’چیونٹیوں بھرا یہ کباب‘ قبول کرنے کے لئے اتنی تگ و دو کیوں کی ۔ اگر ان کے پاس ان مسائل کے حل کا واحد طریقہ سابقہ حکومتوں اور سیاسی مخالفین پر الزام تراشی ہی تھی تو ان کی سیاسی بصیرت، قائدانہ صلاحیت اور حکمرانی کے جواز کی بنیاد ہی ختم ہوجاتی ہے۔

بعینہٖ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہونے والی تمام پارٹیوں اور ان کی قیادت سے یہ جائز سوال کیا جانا چاہئے کہ کیا عوام کو اس وقت صرف عمران خان کی حکومت کی صورت میں ہی مسئلہ درپیش ہے اور اگر انہیں اقتدار سے محروم کردیاجائے تو سارے مسائل حل ہوجائیں ؟ یا اس سے بھی سادہ لفظوں میں یہ دریافت کیا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن کے پاس ملک و قوم کو درپیش مسائل کا حل کیا ہے؟ کیا ان کے پاس کوئی ایسا معاشی پلان موجود ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد وہ اس منصوبے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملک کی حالت تبدیل کردیں گے اور خوشحالی آتے ہی دنیا بھی پاکستان کو قدر و منزلت سے دیکھنے لگے گی؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہوگا۔ اس صورت میں اپوزیشن کو کم از کم یہ واضح کرنا چاہئے تھا کہ وہ  کس بنیاد پر عمران خان کی علیحدگی کا مطالبہ کررہی ہے؟ کیا عمران خان اپنی حکومت کی سیاسی و معاشی ناکامیوں کی وجہ سے مستعفی ہوجائیں یا انہیں اس لئے استعفیٰ دینا چاہئے کہ وہ جائز طریقے سے منتخب ہو کر وزیر اعظم نہیں بنے بلکہ نواز شریف کے بیان کے مطابق بالائے ریاست قوتیں پہلے سے ہی طے کرلیتی ہیں کہ کس کو اقتدار سونپنا ہے۔ یہ صراحت نہ ہونے کی صورت میں اپوزیشن کی ساری بیان بازی سے وہی نتیجہ نکل سکتا ہے جو اس وقت پاکستان میں غیر ضروری مباحث کی شکل میں دیکھنے میں آرہا ہے۔

یہ بات چونکہ طے ہے کہ ایک حکومت کے جانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا اور نہ ہی خوشحالی صرف چہرے بدلنے سے عام شہریوں کے گھروں کی طرف دوڑی چلی آئے گی، اس لئے کسی بھی سیاسی پارٹی، لیڈر یا ان کے اجتماع و اتحاد کو سب سے پہلے ان مسائل کی نشاندہی کرنی چاہئے جو اس وقت پاکستانی عوام کی صعوبتوں کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ بعض مسائل کو کسی بھی اختلاف کے بغیر یوں بیان کیا جاسکتا ہے: اول) آبادی میں غیر معمولی اضافہ اور فیملی پلاننگ کے تصور کی شدید کمی ۔ دوئم) پانی کی قلت، اور بھارت سے سندھ طاس معاہدے کی بنیاد پر پیدا ہونے والے اختلافات۔ سوئم ) ماحولیاتی مسائل جن کی وجہ سے کراچی جیسے بڑے شہر کا وجود براہ راست خطرے میں ہے، پیدا واری صلاحتیں متاثر ہوتی ہیں اور بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ چہارم) حکومتوں کی آمدنی میں اضافہ کے روایتی طریقوں کی ناکامی جس کی وجہ سے ملک تیزی سے بیرونی قرضوں کی دلدل میں پھنستا چلا جارہا ہے۔ پنجم) پیداواری صلاحیتوں اور سرمایہ کاری میں کمی۔

اس کے بعد ایسے قومی مسائل موجود ہیں جن پر سب متفق تو ہیں لیکن کسی نہ کسی سطح پر کچھ اختلاف کی صورت موجود رہتی ہے۔ ان میں سر فہرست نظام کی فرسودگی اور بدعنوانی کا عام چلن ہے۔ اس پر تو سب متفق ہوں گے کہ بدعنوانی ایک اہم سماجی مسئلہ ہے جس کے ملک کی معیشت و سماجی رویوں پر دوررس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم حکومت سیاسی مخالفین کو مورد الزام ٹھہرا کر اور ان پر مقدمے قائم کرکے اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے اور اپوزیشن لیڈر احتساب کے نام پر سیاست کو مسترد کرتے ہوئے اپنی بے گناہی کا ثبوت دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ معاشرے میں اوپر سے لے کر نچلی سطح تک پھیلی ہوئی بدعنوانی کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی طبقات کو متحد ہو کر پہلے اس کی نوعیت کا تعین کرنا چاہئے پھر تدارک کی تدبیر کرنی چاہئے۔ بدقسمتی سے اس اہم قومی مسئلہ کو سیاسی رسہ کشی کا ذریعہ بنا کر اس کی اہمیت کو نظر انداز کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے بلکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کساد بازاری کے سبب اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کرپشن کے علاوہ ملک کو انتہاپسندی کے عفریت کا سامنا ہے۔ یہ معاملہ اب صرف مذہبی انتہاپسندی، فرقہ وارانہ منافرت اور اقلیتوں کے خلاف نت نئی مہمات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا دائرہ سیاسی گروہ بندی تک پھیل گیا ہے۔ ملکی میڈیا کی دسترس اور سوشل میڈیا تک رسائی نے اس مسئلہ کو حل کرنے میں کردار ادا کرنے کی بجائے، اس کی شدت اور ہلاکت میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک اب گروہوں میں تقسیم ہے جہاں ایک دوسرے کے لئے قبولیت کا چلن کم سے معدوم ہونے کی طرف رواں ہے۔ کسی بھی زندہ معاشرہ کے لئے یہ صورت حال قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ لیکن جب لوگوں کو سیاسی پسند و ناپسند کے مطابق گروہوں میں بانٹنے اور مخالفین کو گردن زدنی قرار دینے کا رویہ عام کردیا جائے تو اس صورت حال کو تبدیل کرنے کا کوئی طریقہ دستیاب نہیں ہوسکتا۔ بدقسمتی سے اپوزیشن کی اے پی سی اور اس کے بعد حکومتی نمائندوں کا رد عمل اور تبصرے اسی مزاج کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ان متفقہ اور کم متفقہ مسائل پر بات کرنے اور ان کے حل کے لئے مواصلت و تعاون کا کوئی راستہ کھوجنے کی بجائے حکومت کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچنے اور کسی کا ہاتھ پکڑ کر خود سنگھاسن تک پہنچنے کی کوششوں کو ملک میں جمہوریت کی جد و جہد قرار دینا درست نہیں۔ اگرچہ اس وقت جمہوری طریقہ انتخاب، طے شدہ آئینی معاملات اور شہری آزادیوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ صورت حال موجودہ جمہوری نظام کے علاوہ لوگوں کے سوچنے سمجھنے کی آزادیوں کے لئے بھی خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اس صورت میں اپوزیشن جب عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے اور سیاست میں فوج کی مداخلت کا مقدمہ پیش کرتی ہے تو اسے اپنے عمل سے استدلال کرنا چاہئے۔

اگر فوجی قیادت سے ملاقاتوں اور ماضی میں کئے گئے سمجھتوں کو فراموش بھی کردیا جائے تو بھی یہ سوال تو کیا جاسکتا ہے کہ جب اے پی سی ریاست سے بالا ریاست کے کسی انتظام کو مسئلہ کی جڑ سمجھتی ہے تو عمران خان کی حکومت گرانے سے مسئلہ کیسے حل ہوجائے گا۔ کیا اپوزیشن کا نیا جمہوری اتحاد عمران خان کے استعفیٰ کی بجائے’فوج سیاست سے دست بردار ہو‘ کے ایک نکتہ کی بنیاد پر اپنی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر سکتا ہے؟ اگر یہ ممکن نہیں تو ’بالائے ریاست‘ کے سائے میں کام کرنے والی ’زیریں ریاست‘ کی لولی لنگڑی حکومت کے سربراہ کو گرانے سے کیا حاصل ہو سکے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1654 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali