سانحہ بلدیہ فیکٹری اور فوجی عدالت کی کچھ پرانی یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سال 1998 کے اختتام کے آس پاس جب نواز شریف حکومت میر شکیل الرحمن صاحب سے الجھی ہوئی تھی، تو لاہور میں واقع ان کی ایک رہائش گاہ کو پی ٹی وی پر بار بار دکھایا جاتا تھا۔ اگر میرا اندازہ درست ہے تو شاید یہ وہی رہائش گاہ ہے جس کے لیے مبینہ طور پر کچھ سرکاری زمین قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میر صاحب کو الاٹ کی گئی تھی اور جس کی بنا پر اب ایک فریق حوالات میں اور دوسرا نیب کو مطلوب ہے۔ جمہوریت پسند اپنے تئیں بجا طور پر سراپا احتجاج ہیں۔

سال 1998 کے انہی دنوں، سندھ کے اندر خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کا حکم آیا تھا۔ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ افراد سنگین جرائم اور دہشت گردی کے الزامات میں پکڑے جاتے اور عدم شواہد کی بنا پر بری یا رہا ہو جاتے۔ جرائم دن دیہاڑے اور کھلم کھلا سر زد ہوتے مگر گواہی کے لیے سامنے آنے کو کوئی تیار نہ ہوتا۔ دوسری صورت میں عدالتیں شواہد موجود ہونے کے باوجود خطرناک مجرموں کے خلاف کوئی فیصلہ کرنے سے خود کو قاصر پاتیں۔ ملزمان دوبارہ سرگرم ہو جاتے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان عبرتناک انجام کو پہنچتے۔ خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ اسی پس منظر میں کیا گیا تھا۔

میں اس وقت سیالکوٹ میں بطور میجر تعینات تھا۔ آٹھ دس سال قبل، کپتانی کے زمانے میں جی ایچ کیو کی طرف سے سینئر افسروں کے لیے منعقدہ خصوصی ملٹری لا کورس میں اپنے علیل کمانڈنگ افسر کی جگہ نامزد کیا گیا تھا۔ اتفاق سے میں نے اس کورس میں واحد کپتان ہوتے ہوئے بھی سینئر افسران کے بیچ تیسری پوزیشن حاصل کر لی۔ اس بے ضرر سی کوالیفیکیشن کو میں گزرتے سالوں فراموش کر چکا تھا، تا آنکہ اسی کی بنیاد پر مجھے پنو عاقل میں قائم کردہ واحد ملٹری کورٹ کا ممبر نامزد کر دیا گیا۔

ایک لیفٹیننٹ کرنل ہمارے پریزیڈنٹ تھے۔ جبکہ ہم دو ممبروں کے علاوہ جی ایچ کیو سے جج ایڈوکیٹ جنرل کے نمائندے کے طور پر میجر ساہو، کورٹ کی قانونی معاونت و رہنمائی کے لیے مقرر ہوئے۔ میں دسمبر 98 کے اوائل میں پنو عاقل چھاؤنی پہنچا۔ اس دوران ان مقدمات کی فائلیں مجاز افسران کو موصول ہونا شروع ہو چکی تھیں کہ جن میں ناقابل تردید شواہد موجود ہونے کے باوجود سول عدالتوں میں بوجہ فیصلے نہیں سنائے جا سکے تھے۔

خصوصی عدالت چھاؤنی کے اندر ایک فوجی یونٹ کے محفوظ احاطے میں قائم کی گئی تھی۔ چاروں اطراف سے خاردار تاریں بچھائی گئی تھیں اور ہماری سیکورٹی پر مسلح دستے تعینات تھے۔ غیر متعلقہ افراد کا داخلہ خصوصی پاس کے ذریعے ہوتا۔ یہ وہ دور تھا جب کراچی میں بوری بند لاشیں ملتی تھیں۔ دن دیہاڑے اغوا کیے جانے والے مخالفین کے جسموں کو ڈرل مشینوں سے چھیدنے سمیت تشدد کے دیگر بہیمانہ طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔ اندریں حالات کورٹ کے پریزیڈنٹ اور ممبران کے لیے بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔ ہمارے لئے چھاؤنی سے غیر ضروری طور پر باہر جانے کی ممانعت تھی۔ ہمیں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اگر ہم میں سے کسی کو اغوا کرنے کی کوئی کوشش کی جائے تو اغوا کاروں کے سامنے پوری مزاحمت پیش کی جائے۔ تشدد کے ذریعے تکلیف دہ موت سے بہتر ہے کہ لڑ کر جان دے دی جائے۔

مجھے یاد ہے کہ سیالکوٹ کینٹ میں مقیم میرے بچوں کے سکول میں موسم سرما کی چھٹیاں ہوئیں تو میں نے انہیں پنوعاقل بلانے کا فیصلہ کیا۔ جس شام ان کی شالیمار ایکسپریس نے سکھر پہنچنا تھا اس دن کا ایک ایک لمحہ میں نے اضطراب میں کاٹا۔ بیوی کو میں نے خاص ہدایت کی تھی کہ کسی سے میری فوجی عدالت میں تعیناتی کا ذکر نہ کرے۔

ہماری عدالت نے غالباً تین مقدمات کی سماعت کی اور ناقابل تردید شواہد کی بنا پر بہیمانہ جرائم میں ملوث کئی خطرناک مجرموں کو سزائے موت اور عمر قید جیسی سزائیں سنائیں۔ کراچی، حیدرآباد اور پنوعاقل میں قائم فوجی عدالتوں میں جاری سماعتوں کا عینی جائزہ لینے کے لئے عاصمہ جہانگیر سمیت کئی اہم شخصیات وقتاً فوقتاً تشریف لاتیں۔ دن بھر ہم خطرناک مجرموں کے خلاف مقدمات کی سماعت میں گزارتے، شام گئے تھکے ہارے میس میں پہنچتے تو دن کے اخبارات میں عاصمہ صاحبہ اور ان کے ساتھیوں کے بیانات پڑھنے کو ملتے۔ غالباً فروری 1999 میں فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دے دیا گیا۔ فوجی عدالتوں کے دیے ہوئے فیصلے بھی کالعدم ٹھہرے۔ حکم دیا گیا کہ خطرناک مجرموں سے نمٹنے کے لئے مناسب قانون سازی کی جائے۔

ملٹری کورٹ تحلیل ہوئی تو میں بھی واپس سیالکوٹ کینٹ لوٹ آیا۔ میرے بیوی بچے مجھے اپنے درمیان پا کر یقیناً خوش تھے۔ درندہ صفت دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کی غرض سے قائم کردہ خصوصی عدالت کے ممبر کے طور کام کرنا میرے لئے انوکھا تجربہ اور ایک اعزاز کی بات تھی۔ تاہم بنیادی عسکری فرائض سے ہٹ کر دی گئی یہ ذمہ داری میرے لئے نا تو کسی قسم کی مالی اور نا ہی پیشہ ورانہ منفعت کا باعث تھی۔

پنوں عاقل کی خصوصی فوجی عدالت کو غیر قانونی قرار دیے جانے کو دو عشرے بیت گئے۔ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مقدمے کا عدالتی فیصلہ سن کر خوامخواہ سپریم کورٹ کا برسوں پرانا حکم یاد آ گیا۔ میں کہ ماہر قانون نہیں، لہٰذا نہیں جانتا کہ کیا ’مناسب قانون سازی‘ عدلیہ نے کرنی تھی، یہ فوج کا کام تھا یا کہ پھر ذمہ داری پارلیمنٹ میں بیٹھے جناب رضا ربانی جیسے جمہوریت پسند قانون سازوں کی تھی۔

پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ نواز شریف صاحب اور میر شکیل الرحمن کے درمیان بگڑے ہوئے معاملات طے پا چکے ہیں۔

میاں نواز شریف دو بار وزیر اعظم بن کر دو بار معزول ہوچکے۔ اب نا صرف فوج بلکہ عدلیہ سے بھی شاکی ہیں۔ ماضی کو از سر نو لکھنے اور اپنی صوابدید کے مطابق کچھ حقائق کو سرے سے بھول جانے کی جو سہولت میاں صاحب کو حاصل ہے، وہ اداروں کو دستیاب نہیں۔ یقیناً عدلیہ کے کئی فیصلے ایسے ہیں جن کو ہدف تنقید بنایا جانا بہت آسان ہے۔ بالخصوص وہ کہ جن سے مارشل لاؤں کی توثیق ہوئی ہو۔ اور ایسے فیصلوں کو ہی جمہوریت پسندوں کی طرف سے زیادہ تر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

تاہم میری نظر میں سانحہ بلدیہ فیکٹری اور ماڈل ٹاؤن قتل عام جیسے دکھ دینے والے کئی اور ایسے معاملات بھی ہیں کہ جہاں انصاف کی فراہمی میں ناکامی اور اس ناکامی کے پیچھے کارفرما وجوہات کے سدباب کے لئے عملی اقدامات لینے میں ناکام رہنے والوں کا تعین بھی ضروری ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ جناب عابد ساقی صاحب جیسے بڑے قانون دان کی ترجیحات اس وقت کچھ اور ہیں۔ تاہم مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وہ انصاف کے سیکٹر میں طویل عرصے سے درکار اصلاحات سے یکسر غافل نہیں۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری سر عام برپا ہوا۔ ایسا نہیں کہ مذکورہ دونوں معاملات میں ظلم کے پس پردہ ہاتھ ماسٹر مائنڈ کا سراغ لگانا مشکل ہے یا کہ پھر عینی شاہدین اور دیگر شہادتیں موجود نہیں۔ اگر مقدمے کی سماعت آٹھ سال جاری رہنے کے باوجود بھیانک واردات کے پس پردہ ہاتھ بے نقاب نہیں ہو سکے، تو ہمیں زیادہ تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ سانحہ بلدیہ کا فیصلہ رقم کرتے ہوئے عدالت نے یقیناً سامنے رکھی گئی شہادتوں اور پیش ہونے والے گواہوں کے بیانات کو ہی ملحوظ خاطر رکھا ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ مقدمے میں پیش ہونے والے ایک وکیل صاحب شہید کر دیے گئے تو کئی ایک نے پیروی سے معذرت کر لی۔ صرف ایک وکیل صاحب آخری دن تک ڈٹے رہے۔ کتنے عام شہری گواہی کے لئے عدالت میں پیش ہوئے، ہمیں ٹھیک سے معلوم نہیں۔

برسوں سے انصاف کی آس لگائے، بے سہارا لواحقین عدالت کا فیصلہ سن کر روتے بلکتے رہے۔ ان بے بسوں کی مایوسی کے لئے پورا دوش فیصلہ سنانے والے معزز جج صاحب کے سر دھرنا قرین انصاف نہیں۔ پوری ریاست کو اپنی ناکامی کا ادراک ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •