مذہبی بلوغت یا محیضی بلوغت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"CM28 نومبر کے ’جنگ‘ میں انصار عباسی نے اپنے کالم کو عنوان دیا ہے: \’اسلامی پاکستان میں اسلام قبول کرنے پر پابندی\’۔ اس میں انھوں نے سندھ اسمبلی پر یہ الزام لگایا ہے کہ اس نے ’اقلیتوں کے حقوق کے نام پر ۔۔۔ ایک ایسا قانون پاس کیا جو خلاف شریعت ہے‘۔ حسب توقع انھوں نے فوراً اپنے دوسرے جملے میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں‘۔ کسی کا مصرع ہے: رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی۔ عباسی صاحب کو رند کہنا رندی کو شرمندہ کرنا ہوگا، لیکن یہ ضرور ہے کہ وہ ہاتھ سے جنت کو نہیں جانے دیتے۔

ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا اعتراف کے بعد کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں، کوئی معقول آدمی یا تو سندھ اسمبلی کی تائید کرتا یا پھر خاموش رہتا۔ لیکن عباسی صاحب دوسرے کینڈے کے آدمی ہیں۔ چنانچہ پورے قانون کو خلاف شریعت قرار دینے اور لا اکراہ فی الدین کا اعتراف بھی کرنے کے بعد انھوں نے نکتہ یہ نکالا کہ اس بل میں شامل یہ شرط خلاف شریعت ہے کہ کسی مذہبی اقلیت کا وہی رکن اپنا مذہب تبدیل کرسکتا ہے جو اٹھارہ سال سے کم عمر کا نہیں ہے۔ اب اگر ان کی نیت بخیر ہوتی تو وہ اپنے کالم کی ابتدا ہی میں کہہ سکتے تھے کہ سندھ اسمبلی نے جو قانون پاس کیا ہے وہ یوں تو ہر طرح بجا اور ضروری ہے البتہ اس کی ایک شق توجہ طلب ہے اور شاید خلاف شریعت بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن جو لطف مکمّل تکفیر میں ہے وہ سنجیدہ گفتگو میں کہاں میسّر؟

عباسی صاحب فرماتے ہیں: ’یہ کیسا قانون ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر [کا] کوئی فرد اسلام قبول ہی نہیں کرسکتا۔ کوئی پوچھے اگر والدین نے اسلام قبول کرلیا تو ان کے بچے چاہے وہ دو چار یا پانچ سات سال کے ہوں تو [کیا] ان کا تعلق اقلیتی مذہب سے ہی رہےگا اور پھر اگر کوئی پندرہ، سولہ، سترہ کا بالغ لڑکی لڑکا اپنی سمجھ سے اسلام قبول کرتے ہیں تو [کیا] یہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی؟ واہ، سندھ حکومت نےسیکولیر ازم کے جنون میں کیا قانون پاس کیا !!! ‘(کذا)۔

اگر عباسی صاحب تین نشانِ استعجاب لگانے میں نہ مصروف ہوتے تو سامنے کی بات آسانی سے سمجھ سکتے تھے کہ چار پانچ سال بلکہ دس بارہ سال کے بچے بچیاں، مسلم والدین کے ہوں یا غیر مسلم والدین کے، اسی پر عمل کریں گےجو ان کے والدین کہیں گے یا کریں گے۔ اب رہے وہ لڑکیاں اور لڑکے جن کی عمریں اٹھارہ سے قریب تر ہوں گی اور جو اپنے والدین کی مرضی کے خلاف اسلام قبول کریں گے ان کے سلسلے میں حکم لگانے کے لئے وہ مفتی تقی عثمانی کو آگے بڑھاتے ہیں کیونکہ موصوف کا کہنا ہے کہ ’اسلامی شریعت کی رو سے بچہ پندرہ سال کی عمر میں اور بعض اوقات اس سے بھی پہلے بالغ ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں جب کہ وہ بالغ ہوکر شرعی احکام کا مکلف ہو چکا ہے تو اسے اسلام قبول کرنے سے تین سال تک روکنا سراسر ظلم اور بد ترین زبردستی ہے‘۔

مفتی تقی عثمانی کے علمی کارنامے اور بھی بہت سے ہیں لیکن یہ بیان تو صاف کہہ رہا ہے کہ موصوف ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اقبال اغلب اپنا ہی مصرع کچھ تبدیل کر کے دہراتے: آہ \’بیچارے \’ کے اعصاب پہ عورت ہے سوار۔ بات ہو رہی تھی مذہبی سوجھ بوجھ کی، عقل و آگہی کی، لیکن مفتی عثمانی اس کو گھسیٹ کر اپنی سطح پر یعنی مسائل حیض و نفاس کے دلدل میں لے آئے۔ ان کے نزدیک تو بلوغت نام ہے کسی لڑکی کی زندگی کی اس منزل کا جب اس کو حیض آنے لگیں اور مفتیان دین متین اس کا نکاح بلا خوف کسی بھی عمر کے مرد کے ساتھ پڑھا کر اس بیچاری کی زندگی تباہ کر دیں لیکن خود ان کے ہاتھ سے نہ دنیا جائے نہ جنت۔ اب اگر انہی مفتی تقی عثمانی سے کوئی پوچھنے جائے کہ ایک چودہ برس کا لڑکا شریعت کے اعتبار سے کس طرح بالغ ہوسکتا ہےتو یا تو وہ کوئی جواب نہ دیں گے یا ایسا جواب دیں گے کہ پوچھنے والا شرمندہ ہوجائے گا۔

انصار عباسی ہوں یا تقی عثمانی دونوں پندرہ سولہ برس کے لڑکوں اور لڑکیوں کو ووٹ دینے کا حق دینے کی شدید مخالفت کریں گے۔ تب وہ یہ نہ کہیں گے کہ اس لڑکی کو حیض آتا ہے۔ یہ شرعی اعتبار سے بالغ ہو گئی ہے اس لئے اسے سیاسی طور پر بھی بالغ سمجھنا لازم آتا ہے، اسے ووٹ دینے کا حق بھی ملنا چاہئے۔ یا فلاں پندرہ برس کا لڑکا شرعی طور پر بالغ ہونے کا ثبوت ہمارے علم میں لاچکا ہے اس لئے اسے ووٹ دینے کے حق کے علاوہ فوج میں بھرتی ہونے اور موٹر چلانے کا حق بھی ملنا چاہئے۔ توبہ کیجئے، ایسا سوچیے بھی نہیں، ان دونوں حضرات کا ذہن تو مرکوز ہے ان محیض غیر مسلم لڑکیوں پر جن کو سندھ کے بااختیار مسلمان مرد اغوا کر لے جاتے ہیں اور جن کی مدد کرکے سندھ اسمبلی نے پاکستان میں اسلام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “مذہبی بلوغت یا محیضی بلوغت؟

  • 04/12/2016 at 1:40 am
    Permalink

    اپنے اسی کالم کے ابتدائی پیراگراف میں عباسی صاحب نے پاکستان میں مغرب کے مبینہ نقالوں کو لتاڑا ہے کہ انھوں نے گذشتہ جمعتہ المبارک کو Black Friday کے طور پر منایا۔ اس سلسلےمیں انکو دو شکایتیں ہیں، ایک تو یہ کہ جمعہ مبارک دن ہے اسکو کالا نہیں کہنا چاہئے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ اسلامی معاشرے میں بھی رنگ کی بنیاد پر تفریق جائز ہے۔ گورا اچھا، کالا برا۔ ویسے اس دن کو ’کالا’ اس لئے بھی کہتے ہیں کہ انگریزی محاورے In the black کے اعتبار سے اس دن کی خریداری سے تاجروں کے کھاتوں میں اندراج نقصان کی سرخ سیاہی سے نہین بلکہ منافع کی سیاہ سیاہی سے ہوتے ہیں۔
    انکا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ مغرب میں اس دن کا تعلق کرسمس کی خریداری سے ہے اس لئے اس دن سودےبازی کرنا غیر اسلامی کام ہے۔ یہ منطق بھی عجب ہے کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تو احترام کریں لیکن انکے ماننے والے جس دن کو انکی پیدائش سے منسوب کریں اسکو خوشی کا دن نہ مانیں۔
    لیکن اپنی پہلے بات کے سلسلے میں ان کے اس اعلان نے مجھےسب سے زیادہ حیران کیا کہ جمعہ اس لئے بھی مبارک دن ہے کیونکہ حضرت آدم کی پیدائش جمعہ کے دن ہوئی تھی۔ اب اگر اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا میں بھیجے جانے سےقبل حضرت آدم جنّت میں تھے تو پھر یہ کہنا کہ وہ جمعہ کے دن پیدا ہوئے تھے یہ دعویٰ کرنا ہے کہ جہاں انکی پیدایش ہوئی وہ جگہ بھی ہو بہو دنیا کی طرح ہی تھی، وہاں بھی ۳۶۵ دن کا سال، اور ہر سال کے بارہ مہینے اور ۵۲ ہفتے ہوتے تھے۔ یعنی وہاں بھی یہی سورج اور چاند کی گردش پر مبنی کیلنڈر رائج تھا۔ ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہئے۔
    لیکن عباسی صاحب نے بے تحاشہ سودے بازی کے خلاف جو کچھ لکھا اسکی تائید ضروری ہے۔ اصل خرابی یہ ہے کہ ہم لوگ مغرب کی نقل بھی ادھوری اور ’بکار خویش ہشیار ‘ قسم کی کرتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان میں Black Friday کا نام لیکر کاروبار چمکایا جاتا ہے لیکن اس کاروباری اعتبار سے ’کالے ‘ یعنی نفع بخش دن کے فوراً بعد جو Giving Tuesday امریکہ کے علاوہ دوسرے بہت سے ملکوں میں بھی منایا جاتا ہے اسکا نام دونوں ملکوں میں کوئی نہیں لیتا کیونکہ اس دن عام آدمی کے علاوہ کارپوریشن وغیرہ بھی خاصی بڑی رقموں سے مختلف فلاحی اداروں کی مدد کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *