بند گلی۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر و تقریر سیاست کا حسن ہے اور بہت سارے بڑے لیڈر اپنے طرز خطابت اور تحریر ی فکر سے آ ج بھی امر ہیں جنہوں نے جمہوری اور غیر جمہوری دور میں جمہور کے دکھوں اور مسائل کو زبان اور الفاظ دیے۔ جمہوری حکومت چونکہ جمہور کی جمہور کے ذریعے اورجمہور کے لیے ہوتی ہے اس لیے یہ ہمیشہ ارتقائی شکل میں ہوتی ہے اور اس میں جمود کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اور موجودہ سسٹم محض برائے نام جمہوری اور پارلیمانی ہے۔ جس میں اول تو عام آ دمی کے لئے کچھ ہے ہی نہیں اور رہی سہی کسر قانون کی حکمرانی اور گڈ گورننس کے نام پر بیوروکریسی کے اوچھے ہتھکنڈوں نے پوری کر دی ہے۔

یکساں قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگا یا جاتا ہے مگر عملاً قانون کا نفاذ صرف عام آ دمی پر ہوتا ہے۔ اور صاف عیاں ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف اور قانون کے الگ الگ معیارات ہیں کیونکہ انصاف کا تقاضا سزا یا جزا ہے مگر قانون میں سقم اتنے ہیں کہ ایک گاڑی کیمرے کی آ نکھ کے سامنے ڈیوٹی پر موجود ٹریفک پولیس کے جوان کو روندتے ہوئے قتل کرکے نکل جاتی ہے مگر قانون قاتل کو با عزت بری کر دیتا ہے۔

پارلیمانی نظام حکومت میں حاکمیت اعلیٰ پارلیمنٹ ہاؤس کے پاس ہے اور پارلیمنٹ ہاؤس بغیر لیڈر آ ف ہاؤس اور لیڈر آ ف اپوزیشن کے مکمل نہیں ہوتا۔ اور جس پارلیمنٹ نے آپ کو لیڈر آ ف ہاؤس بنایا ہے اسی نے لیڈر آ ف اپوزیشن کا چناؤ بھی کیا ہے۔ حکمران جتنا مرضی دیگر جماعتوں کو چور چور کہی جائے مگر ہاؤس اپوزیشن کے بغیر مکمل نہیں چلے گا اور اس کی مثال دو سالوں میں ہونے والی قانون سازی بذریعہ آرڈینینس اور ایکٹ کی تعداد دیکھ لیں۔ جب جب اقلیدی عہدوں کے چناؤ کا وقت آیا چاہے وہ چیف الیکشن کمشنر ہو یا اس کے ممبران حکومت نے دودھ مینگنیں ڈال کر ہی دیا ہے اور آج تک سوائے بڑوں کی خوشنودی کے کوئی عوامی قانون سازی بھی کی گئی۔ سارے چور دیوار کے ساتھ لگا کر بھی آ پ لیڈر آ ف اپوزیشن کا رول ختم نہیں کر سکتے۔

آ پ کہتے ہیں آپ کو احتساب اور کرپشن کے خاتمے کا مینڈیٹ ملا ہے مگر آ پ یاد کریں تو یہ مینڈیٹ عوامی فلاح کے وعدوں پر ملا اب تک دو سالہ گورنمنٹ میں عوامی بھلائی اور ترقی کا کوئی بھی پروگرام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا۔ نہ تو پالیسی سازوں نہیں عوامی ترقی پر توجہ دی اور جو کچھ اب تک بہتر ہو ا تھا وہ ما شا اللہ بیوروکریسی کے افسران نے قانون اجازت نہیں دیتا کا نعرہ لگا کر بند کر دیا ہے۔ اور بظاہر عوام کے لئے اندھیرا ہی ہے۔

آپ احتساب جاری رکھیں مگر اس سب میں سوال پوچھنے کی آ زادی ضرور دیں اور جواب میں۔ ۔ ۔ ”ایمانداری“ کا لالی پاپ دینا چھوڑ دیں۔ دو سال بلکہ عرصہ سے چور چور کہنے سے تھوڑا آ گے نکلیں غور کریں تو 10 سال میں چور کہنے کے بعد بھی چوروں کا ووٹ کم نہ ہوا، عوامی مقبولیت کم نہ ہوئی ہے۔ ایسے میں صرف ایک کام باقی بچتا ہے جو ان چوروں کو عوام کے ذہنوں سے نکال سکتا ہے اور وہ ہے اپنے وعدوں کو وفا کریں عوامی ترقی، انفراسٹرکچر کی ترقی، لاء ان آرڈر، گورننس کی بہتری اور سروس ڈلیوری میں آ سانی پیدا کریں تو شاید ہم انہیں سیاست کے کھیل سے ناک آؤٹ کر دیں اور یہ شاید بہترین احتساب ہو گا۔

اگر بغور جائزہ لیں تو نظر آ تا ہے کہ آپ کی کرشماتی شخصیت کو اتنا آپ کے مخالفین نقصان نہیں پہنچا سکے جتنا وزارت اعظمی کی کرسی نے پہنچا دیا، اور آ پ معاونین کی فوج کے ہمراہ دو سال محنت سے جس نظام نے آپ کو وزیر اعظم بنایا اس جمہوری نظام کو بند گلی میں لے آئے ہیں جہاں سے آ گے کچھ نظر نہیں آ تا ماسوائے اندھیرے کے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •