تبدیلی حکومت کے دو سال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے چند سالوں سے ایک جماعت جس کو پاکستانی نوجوان نسل کی آواز، یوتھ کی جماعت اور ایک امید سمجھا جاتا رہا تھا۔ اس میں 2017 اور 2018 میں بہت سے ایسے لوگو ں کی شمولیت ہوئی جو دوسری پارٹیوں کے وہ کارندے تھے جن کی مقبولیت تھالی کے بینگن کی سی تھی۔ جس کی وجہ سے پارٹی کا وہ ویژن جسے دیکھتے ہوئے لوگ جوک در جوک اس کا حصہ بنتے رہے یکسر تبدیل ہو کر رہ گیا اور ایک نئے پارٹی ویژن۔ ”نیا پاکستان“ کی بنیاد پڑی جس کے چیرمین عمران خان ہیں۔

جن کی مقبولیت ”کپتان“ اور۔ ”ایماندار لیڈر“ کی حیثیت سے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اس حقیقت سے ساری دنیا بخوبی واقف ہے کہ انہوں نے دولت اور عروج کی اس سطح کو لات مار کے اپنے ملک کو ترجیح دی جو کسی اعلیٰ ظرف انسان کی نشانی ہے۔ اپنی انہی خصوصیات اور پارٹی ویژن کی بدولت لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے کپتان 25 جولائی کے انتخابات میں کامیاب ہوئے اور وزیر اعظم بنے تو ان بلند و بالا دعوؤں کو پورا کرنے کا وقت آ گیا جو انہوں نے گزشتہ چند سالوں میں کیے تھے جن میں مختلف اداروں کو ان کا وقار بحال کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن کرنا، بے روزگاروں کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کو بیرونی قرضوں کی دلدل سے نکالنا شامل تھے۔

ان احداف تک تبھی پہنچا جا سکتا تھا جب پاکستان کے سابقہ عہدیداروں کا وہ پیسہ جو سوئس بینکوں میں پڑا تھا اس کو واپس لایا جاتا۔ جو کہ نا صرف ملک کی ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے کافی تھا بلکہ آئی ایم ایف کا قرضہ بھی واپس کیا جا سکتا تھا۔ کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو کے دوران ورلڈ بینک کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے 97 ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہیں جو کہ 30 سال کے لیے ٹیکس فری بجٹ کے لیے کافی ہیں۔

اگر یہ سرمایہ پاکستان لایا جاتا ہے تو 6 کروڑ پاکستانیوں کو روزگار مل سکتا ہے، ملک کے کسی بھی کونے سے اسلام آباد تک 4 رویا سڑکیں بن سکتی ہیں، 500 سے زیادہ پاور پراجیکٹس کے ذریعے ہمیشہ کے لیے بجلی مفت دی جا سکتی ہے، ہر پاکستانی ماہانہ 20,000 /۔ روپے 60 سال تک لے سکتا ہے۔ جبکہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ اگست 2018 میں جب PTIکی حکومت بنی تو پہلے چھ ماہ تو کابینہ کے بننے، مختلف اداروں کا ٹیک آور کرنے اور ہیروں کو ڈھونڈنے میں لگ گئے اور اگلے چھ ماہ پرانے لیڈروں کے احتساب کے لیے ریکارڈ اکٹھا کرنے میں صرف ہو گئے لیکن حکومتی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہی۔

جہاں حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت تھی وہاں تبدیلی حکومت کی تبدیلیاں ہی ختم ہو نے کا نا م نہیں لے رہی تھیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی معیشت آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی اور پاکستان بلیک لسٹ ہونے کی نہج پر پہنچ گیا۔ ایسے وقت میں تبدیلی حکومت حماد اظہر نام کا ایک ہیرا باہر سے لے کر آئی جس کی کاوشوں سے پاکستان کو بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لیے مزید ایک سال کا عرصہ مل گیا۔ خیر سے دوسرا سال شروع ہوا تو کچھ امید کی کرن جاگی کہ شاید پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے لیکن اپنی پارٹی روایات کو برقرار رکھتے ہو کہ پنجاب کابینہ میں یوٹرن لیے گئے کیونکہ احتساب کے عمل میں پچھلی حکومتوں کے عہدیداروں کے ساتھ ساتھ حکومتی کارندے بھی شہیدوں میں اپنا نام لکھوانے میں پیش پیش رہے۔

کچھ شعبوں میں تبدیلی حکومت کی خدمات نمایاں رہیں جن میں سیر و سیاحت قابل ذکر ہیں لیکن ملک کسی ایک شعبے کے فروغ سے نہیں چلتا بلکہ وہ شعبے جن میں تبدیلی کے دعوے PTI حکومت نے کیے تھے وہ وہیں کے وہیں دھرے رہے اور جو نیم کسر رہتی تھی وہ غلام سرو، عامر کیانی، ڈاکٹر ظفر، اجمل وزیر اور فردوس صاحبہ جیسے منسٹروں نے نکال دی جن کے توسط سے بہت سے ادارے تباہی کے دہانے تک آ پہنچے۔ PTI حکومت جو غریبوں کو روزگار فراہم کرنے اور 5 کروڑ نوکریاں دینے کے بلند و بالا دعوے کرتی دکھائی دیتی تھی اس نے نا صرف 1 سے لے کر 19 گریڈ ملازمین کو سالانہ رپورٹ کے عوض گھروں کا راستہ دکھایا بلکہ اداروں کو زم کر کے ختم کرنے کا طریقہ کار بھی تبدیلی حکومت ہی لے کر آئی۔

دیکھا جائے تو ایٹمی پاور ہوتے ہوئے بھی ہمارے حالات نائجیریا اور ایتھوپیا سے بھی گرے ہوئے ہیں اور ابھی تو موجودہ حکومت کے تین سال باقی ہیں جبکہ ملکی خسارہ پچھلی حکومتوں سے زیادہ ہے۔ پاکستان کے حالات دیکھتے ہوئے ایک قصہ یاد آتا ہی۔ ”امریکہ میں کسی بچے سے استاد نے پوچھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ امیر ملک کون سا ہے تو جواب آیا۔“ پاکستان ”استا د کو بڑی حیرانی ہوئی اور پوچھا کہ وہ کیسے؟ بچے نے جواب دیا کہ اس کے حکمران کتنے عرصے سے اسے کھا رہے ہیں لیکن پھر بھی ابھی تک قائم ہے۔ یہ ملک اسلام اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بنا تھا جس میں ہمارے بزرگوں کی بے شمار قربانیاں شامل ہیں اور شاید اسی کی برکت سے آج تک قائم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آمنہ نثار عباسی کی دیگر تحریریں