ملا حلیم، خارش چودھری اور نیا پاکستان سوسائٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی کے ایک علاقے کی ایک چھوٹی سی آبادی کا نام نیا پاکستان تھا۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آئے نئے نئے اپر مڈل کلاس میں داخل ہونے والے مڈل کلاس گھرانے یہاں آباد تھے۔ سبھی بالکل عام سے لوگ تھے، ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے والے جیسے کہ ہمارے آس پاس ہوتے ہیں۔ ان کے پیٹ نکلے ہوئے، ٹیڑھے میڑھے، آڑے ترچھے، مختلف قوموں کے مختلف رنگوں کے۔ ان میں محض ایک بات مشترک تھی جو کہ سبھی میں تھی۔ وہ یہ کے وہ اب نیا پاکستان کے نام نہاد نو دولتیے تھے۔

چوں کہ نیا پاکستان ویرانے میں آباد ہوا تھا، تو جب وہ آباد ہوا، وہاں جنگلی حیات موجود تھی۔ کتے، بھیڑیے، گلہری، خرگوش، سانپ، نیولے اور رنگ برنگ پرندے۔ شاید یہ علاقہ نیا پاکستان بننے سے پہلے کبھی آباد نہیں ہوا ہو گا۔ اب اس علاقے کے نصیب جاگے تھے۔

یہ انیس سو ستتر کا سال تھا، جب سوئی گیس کے ملازمین نے اس دور کی حکومت سے اپنے ادارے کے افسران کے لیے ایک سوسائٹی کا مطالبہ کیا۔ جب ان افسروں کی فرمائش پہ اراضی ملی تو یہ علاقے کراچی کے مضافات میں آتا تھا۔ افسران نے اونے پونے میں زمین لے تو لی، لیکن اس وقت یہ بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم تھی۔

سرکاری افسروں میں سے زیادہ تر نے اپنے پلاٹ نہایت ہی کم قیمت میں فروخت کر دیے۔ جب یہ پلاٹ کوڑیوں کے مول بک رہے تھے، ایک بروکر بہت ہی ایکٹو ہوا۔ اس نے سو میں سے پینتیس پلاٹ خرید ڈالے اور سوسائٹی کا جنرل سیکرٹری بن گیا اور اس ویرانے میں جھونپڑی ڈال کر رہنے لگا۔ یوں تو وہ آبائی پیشے کے لحاظ سے نائی تھا لیکن اب اس نے اپنے نام میں چودھری کا اضافہ کر لیا۔ بد قسمتی سے نوے کی دہائی میں اس علاقے پہ قبضہ مافیا نے قبضہ کر لیا اور چودھری کو ڈرا دھمکا کر بھگا دیا۔ چودھری بیچارہ نا گھر کا رہا، نہ ہی گھاٹ کا۔ کئی سال وہ شدید پریشانی میں رہا پھر ایک بڑے سرکاری اہلکار سے ملا اس نے دو پلاٹ کی رشوت کے وعدے پہ قبضہ ہٹا دیا۔

اس تمام عرصے میں کراچی کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا تھا۔ اب چودھری نے بجلی، گیس پانی کی فراہمی کا منصوبہ تیزی سے بنایا اور درخواستیں دینا شروع کیں۔ سن دو ہزار سات میں کمرشل پٹی میں دس گھروں میں سے تین پہ اس نے گھر بنوائے اور اپنے رشتے دار وں کو آباد کیا۔ کوئی بارہ برس پہلے یہاں نیا گھر آباد ہوا۔ بس پھر سلسلہ چل پڑا، چودھری صاحب کی دکان چل پڑی۔

جب پانچ، چھے بڑے گھر بن گئے تو چودھری صاحب نے اپنے سب سے ناکارہ بیٹے خارش چودھری کو ایک چھوٹے گھر میں منتقل کر دیا۔ چوں کہ اب زمین کی قیمت کروڑوں روپے سے اوپر ہو چکی تھی، تو اسے اپنے پورے بھروسے کا چوکیدار چاہیے تھا، جو اس کے بیٹے سے زیادہ کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔

خارش نے آتے ہی سب سے پہلے نئے پاکستان کے جنگلی کتے چن چن کے مارے اور نئے مہنگے کتے پالے۔  حفاظت کے لیے ڈاگ فوڈ کھانے والے کتے رکھے۔ خارش نے خاموشی سے سوسائٹی کے پارک میں سوسائٹی آفس کے نام پہ چائنا کٹنگ کر ڈالی اور ایک دو سو گز کا رہائشی مکان تعمیر کر ڈالا۔ اس تمام عرصے میں سوسائٹی میں لگ بھگ پچیس گھر آباد ہو چکے تھے۔ دو گھر جو کونے والی سڑک کے ساتھ تھے، وہ سڑکوں کو گھر کے اندر لا چکے تھے، لیکن چپکے چپکے چائنا کٹنگ کا کام ہو رہا تھا، اس لیے سڑکوں کے قبضے پہ آنکھیں بند تھیں۔

کوئی دو برس قبل جب سوسائٹی کے پارک میں مکان کی تعمیر مکمل ہوئی، تو محلے کے شرفا نے ملا حلیم کی سربراہی میں شور مچایا کہ چائنا کٹنگ کی بنیاد پہ الیکشن ہوں گے اور ذمہ دار لوگ آئیں گے، تو نئے پاکستان کی قسمت جاگے گی۔ نئے پاکستان میں تاریخ رقم ہونے جا رہی تھی۔ نئے گروپ میں ملا حلیم کے ساتھ ایک دو خواتین بھی سیاست کے میدان میں کود پڑیں۔

آخر کار وہ دن آہی گیا، جس کا سب کو انتظار تھا۔ ووٹنگ ہوئی اور چودھری گروپ دو ووٹوں سے ناکام و نا مراد ہو گیا۔ غم کے مارے خارش چودھری خاموشی سے سوسائٹی ہی چھوڑ گیا۔ ملا حلیم کا گروپ جیت گیا۔

ملا حلیم کی محلہ کمیٹی نے مہنگے کتوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کی دیوار کو پانچ فٹ سے دس فٹ بلند کرنے بعد، اس پہ دو فٹ اونچے خاردار تاروں کو بھی لگایا۔ محلے میں ٹریکٹر لے آئے اور ایک ایک درخت کو جڑ سے اکھاڑنے کے بعد اسے ٹمبر مارکیٹ میں فروخت کر کے کتے کے کھانے کا سامان لے آئے، اب یہ نیا پاکستان بالکل جیل نما محسوس ہوتا۔ رات میں تیز روشنی والے لیمپ آن رہتے۔ دو چوکیدار ہاتھ میں ٹارچ منہ میں سیٹی اور کندھے پہ رپیٹر لٹکائے، ساری رات ایک کونے سے دوسرے کونے تک چلا کرتے۔ لیکن پارک اور سڑکوں کا قبضہ جوں کا توں رہا۔

انتہا تو اس وقت ہوئی جب پارک میں موجود مکان سے بچوں اور عورتوں کی آوازیں آئیں، ایک دو روز تک غیر جانبدار لوگ یوں سمجھے کہ سوسائٹی آفس کا پہرہ دار ہے، جو اپنے گھر والوں کو کسی وجہ سے لایا ہے۔ معلومات جمع کرنے پہ پتا چلا کہ وہ مکان کرایے پر چڑھا دیا گیا ہے۔ اور سڑکوں پر قبضہ جن لوگوں نے کیا ہے، وہ بہت طاقتور ہیں۔ ان سے جھگڑا مول لیا نہیں جا سکتا۔ یوں بھی ان کے گھر اتنے کونے میں ہیں کہ ان کا ہی تو جانا ہے وہاں۔

چائنا کٹنگ والے گھر کے کرائے سے سوسائٹی کے کتوں کے کھانے کے پیسے نکل جاتے ہیں۔ اس لیے وہ گھر بھی سوسائٹی کے مستقبل اور بقا کے لئے ضروری ہے۔

بس پھر کیا تھا، وہی سرکاری اہلکار جس کی وجہ سے پچھلی بار قبضہ ہٹا تھا، اس کے بی سی اے کے افسران سے قریبی تعلقات تھے۔ ان کی بھاگ دوڑ سے اب نئے پاکستان میں ایڈمنسٹریٹر آ رہا ہے۔ ملا حلیم اور چودھری خارش پہ سڑکوں اور پارک کے قبضے کا کیس چل رہا ہے۔

سوسائٹی آفس پہ اب ایڈمنسٹریٹر کا خاندان آباد ہونے والا ہے، اور حفاظت کے لیے کتوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •