بو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خوش یا بد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بو کے ساتھ سابقہ کوئی بھی لگا لیں یہ ایک نعمت ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے ودیعت کیے گئے خواص خمسہ میں سے سونگھنے کی صلاحیت سے انسان بو کا تعین کر پاتا ہے۔ دوسرے خواص کی طرح سونگھنے کے لئے بھی اللہ نے انسانی جسم میں ایک سسٹم بنایا ہوا ہے جس کا عمل ناک سے شروع ہوتا ہے۔ ایک تناسب کے ساتھ ناک کا چہرے کی بناوٹ میں شامل ہونا چہرے کو پر کشش بناتا ہے۔ خوبصورتی کے علاوہ ناک مختلف قوموں اور انسانی نسلوں کی پہچان کی علامت بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ناک کا محاوراتی استعمال بھی رائج ہے جس کے سبب یہ بغیر کسی تیز دھار آلے کے کٹ بھی جاتی ہے۔ بعض اوقات زیادہ اشتعال کی صورت میں محاوراتی ناک کاٹنے والے کی ناک واقعتاً کاٹ دی جاتی ہے۔

ناک کا مقصد سونگھنے کے عمل کا بنیادی جز ہونا ہے یعنی سونگھنے کے عمل کی ابتدا ناک سے ہوتی ہے جہاں بیشمار اعصابی ریشوں کے سرے موجود ہوتے ہیں جو بو کے مالیکیولز کو اعصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچاتے ہیں جہاں اس کی تشریح کے بعد انسان اسے محسوس کرتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق اللہ تعالی نے انسان کو بو کی ایک ٹریلین اقسام کو سونگھنے کی صلاحیت عطا کی ( سابقہ تحقیق کے مطابق یہ تعداد دس ہزار تھی ) ۔ انسان کی اس صلاحیت کے بارے میں ابھی مزید تحقیقات ہو رہی ہیں۔

مشہور یہی ہے کہ جانوروں میں سونگھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے مگر جدید تحقیق کے مطابق انسان میں یہ صلاحیت زیادہ ہے اور کہا گیا ہے کہ انسان ابھی تک 3300 مختلف اقسام کی بو سونگھ سکتا ہے جب کہ جانوروں میں بندر کی ایک قسم ہے جو 81 مختلف اقسام کی بو سونگھ سکتا ہے اور جانوروں میں یہ سب سے زیادہ قابلیت کا حامل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بو کی ان اقسام کو انسان نہیں سونگھ سکتا جن سے اس کا کوئی واسطہ نہیں یا جو اس کے لئے مفید نہ ہو۔

موجودہ دور میں تحقیق کا ایک دائرہ کار یہ بھی ہے کہ ہر انسان کے جسم میں ایک بو ہوتی ہے جو دوسرے انسان سے مختلف ہوتی ہے جیسا کہ فنگر پرنٹس دو لوگوں کے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اس تحقیق کا موضوع یہی ہے کہ بو کے اختلاف کو بنیاد بنا کر انسانی پہچان کا سسٹم وضع کیا جائے۔ کچھ ایسے تجربات بھی ہوئے ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ انسانی بو مختلف حالتوں میں اس کے جذبات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

ہماری روزمرہ زندگی میں بو کا کافی عمل دخل ہے۔ اس صلاحیت کی بنا پر ہم جرائم پیشہ افراد تک پہنچ جاتے ہیں یا کچھ چیزوں کو پہچان لیتے ہیں یا ممکنہ خطرات کو بھانپ لیتے ہیں۔ قدرت نے کچھ جانوروں کے لئے بو کو حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے جب وہ کسی خطرے میں ہوتے ہیں تو اپنے گرد بدبو دار مائع سپرے کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا دشمن قریب نہیں آتا۔ جانوروں میں سب سے زیادہ سونگھنے کی صلاحیت ریچھ میں پائی جاتی ہے۔ برفانی ریچھ تو برف کے تین فٹ نیچے تک سونگھ کر مچھلی کی نشاندہی کر لیتا ہے۔

جانوروں میں سے کتے کی سونگھنے کی حس سے انسان بہت فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے خاص قسم کے کتے ہیں جنہیں سنفر ڈاگ کہا جاتا ہے۔ ان کی ٹریننگ کی جاتی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں مختلف ادارے ہیں جو کہ چوری چکاری کی وارداتوں میں کتوں کی مدد سے سراغرسانی کی سہولیات فراہم کرتے ہیں جبکہ قومی ادارے بھی سراغرساں کتوں کی مدد سے کافی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ خاص طور پر اینٹی نارکوٹکس اداروں میں اس سے بہت پیش رفت ہوئی ہے۔ اسی طرح عسکری اداروں میں بھی سراغرساں کتوں کی مدد سے چھپے ہوئے بارود کے ذخائر کا پتہ لگایا جا سکتا ہے یا بارودی سرنگوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

حال ہی میں فن لینڈ میں ہیلسنکی ائرپورٹ پر تجرباتی طور پر سنفر ڈاگز کے ذریعے مسافروں میں سے کووڈ 19 کے مریضوں کی شناخت کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ سنفر ڈاگز دس سیکنڈ میں سونگھ لیتے ہیں اور ایک منٹ میں شناخت کی تمام کارروائی مکمل ہو جاتی ہے۔ جو مریض/ کیریئر شناخت ہو جاتا ہے اس کی لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے مزید تصدیق کر لی جاتی ہے اور یہ کام سو فیصد کامیابی سے ہو رہا ہے۔ بنیادی امر یہ ہے کہ کووڈ 19 کے مریض کے پسینہ کی بو عام آدمی سے مختلف ہوتی ہے۔ سنفر ڈاگ کو سونگھنے کے لئے بو کے 10۔ 100 مالیکیولز کافی ہوتے ہیں جب کہ لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے کہیں زیادہ مالیکیولز درکار ہوتے ہیں اور مالی اعتبار سے بھی یہ بہت سستا پڑتا ہے۔

ہمارے معمولات زندگی میں بو کا بہت استعمال ہے۔ کھانے کی اشیاء خراب ہو جانے کی صورت میں خاص بد بو چھوڑتی ہیں جسے سونگھ کر پتہ چل جاتا ہے۔ گھر کے اندر گیس لیکیج یا بجلی کے تاروں کے جلنے کی بو سے وقت پر تدارک کرنے سے بڑے حادثہ سے بچا جاسکتا ہے۔ بو کی نشاندہی سے مقتول کا سراغ ملنا اور قاتل تک پہنچنا تو عام سی بات ہے۔

سونگھنے سے متعلق مجھے طالب علمی کے زمانے کا ایک واقعہ یاد ہے۔ میٹرک کے پرچے ختم ہو چکے تھے پھر پریکٹیکل شروع ہوئے۔ فزیالوجی و ہائی جین کے پریکٹیکل والے روز جب مجھے بلایا گیا تو دیکھا میز پر کچھ ہڈیاں، آنکھ اور کان کے ماڈلز اور دو بیکرز پڑے تھے۔ ایک بیکر میں پانی تھا اور دوسرے میں مٹی کا تیل۔ مجھ سے پہلا سوال پوچھا گیا کہ سونگھ کر بتائیں کہ مٹی کا تیل کس بیکر میں ہے اور پانی والا بیکر کون سا ہے۔ اچھا زمانہ تھا ابھی بے ایمانی کا گراف اتنی بلندی تک نہ پہنچا تھا کہ کسی کو مٹی کے تیل میں بھی ملاوٹ کا خیال آتا لہذا یہ بغیر کسی رنگ کے پانی کی طرح ہی نظر آتا تھا۔

ایک بیکر جس میں غالباً مٹی کا تیل تھا، کو ہاتھ میں پکڑ کر ناک تک لایا اور کافی دیر تک سونگھتا رہا حتی کہ ممتحن نے کہا کہ اب بتا بھی دو۔ میں نے کافی سوچ بچار کے بعد جواب دیا کہ اس میں پانی ہے۔ میرا جواب سن کر ممتحن صاحب کا پارہ چڑھا اور انہوں نے بہت ڈانٹا۔ اس کے بعد دوسرے سوال کا جواب صحیح دیا اور پھر سوال پوچھتے گئے اور میں صحیح جواب دیتا گیا۔ آخر میں شاباش دی اور پوچھا پہلے سوال پر آپ کو کیا ہوا تھا مگر میں کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پایا۔

سونگھنے کی حس کی تسکین کے لئے مختلف پھولوں کی خوشبو انسان کو اچھی لگتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی طور پر بھی مختلف اقسام کے عطریات اور خوشبوئیں تیار کی گئی ہیں۔ سینٹ کی عام طور پر پانچ قسمیں ہیں جو کہ خالص خوشبو (سٹرانگ) سے شروع ہو کر تحلیل شدہ ( ہلکی ) کی طرف جاتی ہیں :۔

1۔ پرفیوم
2۔ یو ڈی پرفیوم
3۔ یو ڈی ٹائلٹ
4۔ یو ڈی کولون
5۔ یو فریش

عملی طور پر تو مجھے تجربہ نہیں مگر سینٹ کی قیمتیں ان کے معیار کے مطابق سینکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں روپے میں ہیں۔ دنیا کا مہنگا ترین پرفیوم جو پیش کیا گیا وہ کسی خیراتی مقصد کے لئے ایک ملین ڈالر میں فروخت ہوا۔ آج کل دبئی میں ایک پرفیوم پیش کیا گیا ہے جس کی قیمت 1.29 ملین ڈالر رکھی گئی ہے۔ خیر یہ تو خصوصی پرفیوم کی بات تھی ورنہ مہنگے پرفیوم ایک سے پانچ ہزار ڈالر تک ہیں۔

سونگھنے کی صلاحیت ہر کسی میں یکساں نہیں ہوتی۔ زیادہ تر لوگوں میں نارمل ہوتی ہے، کچھ لوگوں میں قدرے کم اور کچھ لوگ یکسر اس صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں جن کی تعداد بہت ہی کم ہوتی ہے۔ میرا تعلق آخری قسم سے ہے یعنی کہ میرے خواص خمسہ نہیں بلکہ خواص اربع ہیں۔ چند دہائیاں زندگی گزرنے کے بعد میں اس حقیقت سے روشناس ہوا۔ اگر مجھے شروع میں علم ہوتا تو پریکٹیکل کے دوران میں ممتحن صاحب کو بتا دیتا کہ میں اس وصف کمال سے لا بلد ہوں اس لئے مجھ سے متبادل سوال پوچھ لیں۔

بو کے بارہ میں میرا تصور بدلتا رہا ہے۔ بچپن میں بو کا تو تصور تھا ہی نہیں مگر کچھ مشاہدات یوں تھے :

1۔ کسی کو خربوزہ سونگھتے دیکھ کر سمجھتا تھا کہ خریدتے وقت ناک کو لگانا ضروری ہوتا ہے۔
2۔ گھروں میں ختم قرآن کے موقع پر اگربتیاں جلانا محض ایک رواج ہے۔

3۔ کچھ لوگ بن دیکھے بتا دیتے ہیں کہ آج گھر میں پلاؤ یا فلاں چیز پکائی جا رہی ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ بڑوں کو بڑا ہونے کے ناتے یہ معلوم ہو جاتا ہے۔

ابھی میں سمجھتا ہوں کہ بو شاید ایک احساس ہے جو کسی چیز کو سونگھنے سے انسان پر ایک کیفیت طاری کر دیتا ہے مگر میرے لئے حیران کن ہے کہ آخر وہ کیسا احساس ہے جس کے لئے انسان گراں قیمت پرفیوم خریدنے پر تیار ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو جنت کی خوشبو اور مہک سے لطف اندوز ہونا نصیب فرمائے۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •