اب میں بات کروں گا ہماری محبوب ترین ہستی حضرت محمد ﷺ کی کہ جن کے ساتھ ہماری محبت کا یہ پیمانہ ہے کہ ہم ان کا اسم اطہر لینے کے ساتھ ہی دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ آپ ﷺ نے جب حجتہ الوداع کے موقعہ پر عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمانے سے پہلے ایک تو انہوں نے رنجیدہ کر دینے والی بات فرمائی کہ شاید اگلے حج کے موقعہ تک وہ صحابہ کے درمیان موجود نہ رہیں اور دوسرے خطبہ مبارک کے بعد آپ ﷺ نے اللہ کو گواہ بنا کر فرمایا کہ انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا اور حاضرین کو تلقین کی کہ غیر حاضرین تک یہ پیغام پہنچا دیں۔
خطبہ سے قبل اور ما بعد کیے جانے والے ارشادات خطبہ کی تبلیغ و ترویج کو وصیت کا درجہ دیتے ہیں۔ اب ہماری کیا مجال کہ ہم چوں و چراں کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان پر دین کے پانچ فرائض کے بعد اگلی اہم چیز یہی ہے کہ تبلیغ کا کام کریں۔ ہماری حضور ﷺ سے محبت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم آپ ﷺ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے یہ کام ضرور کریں ورنہ ہم محبت کے صرف دعویدار ہی تصور ہوں گے۔ کوئی مانے یا نہ مانے میں تو کہوں گا کہ یہ ہم پر فرض ہے۔
Read more