مشرف کے مکے اور غالب کی اٹکھیلیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف نے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے فوراً بعد ارشاد فرمایا تھا کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں ہوا کرتی مگر ان کو یہ احساس دو مرتبہ اقتدار سے دھتکارے جانے کے بعد ہوا تھا۔ سب سے پہلے اگر کوئی اسٹبلشمنٹ کی مکمل مدد اور تائید کے ساتھ آدھے پاکستان کے پورے تخت پر نہایت کر و فر کے ساتھ لاکر بٹھایا گیا تھا تو وہ بھٹو تھے جن کو تخت پر لانے کے لئے پاکستان کے آدھا رہ جانے کا غم اسٹیبلشمنٹ اور مغربی پاکستانیوں نے کبھی ایک دن کے لئے بھی نہیں منایا۔

ایک ایسا وزیر اعظم جس کو نہایت سجا و سنوار کر بڑی چاؤ کے ساتھ باقی ماندہ پاکستان پکڑا دیا گیا تھا اس کو اسی بیدردی کے ساتھ پہلے اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اور پھر اس سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین کر تختہ دار پر کھینچ دیا گیا۔ اس سب کہانی کی اہم ترین بات یہ ہے کہ جو قوتیں اسے وزارت خارجہ سے ترقی دے کر پاکستان کے وزیر اعظم بن جانے کی منزل تک لے کر آئی تھیں ان ہی قوتوں نے اسے اس جہان روانہ کر دیا جہاں سے کبھی کسی کی واپسی ممکن ہی نہیں۔

اگر اقتدار تک لانے اور تختہ دار تک کھینچے جانے کا اصل سبب تلاش کیا جائے تو ان دونوں کے بیچ ”سر کشی“ مرکزی کردار کے طور پر صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ آئینی و قانون اعتبار سے جو بھی ملک کا سربراہ ہوتا ہے، خواہ وہ صدر کہلائے یا وزیر اعظم، وہ کسی بھی ملک کا سب سے با اختیار انسان ہوتا ہے لیکن شاید پاکستان میں ایسا نہیں ہوا کرتا اس لئے کہ یہاں 1958 سے سر آئینہ اور پس آئینہ کے درمیان ایک لکیر کھنچ دی گئی ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جب بھی کوئی حکمران اپنی زبان یا عمل سے اس مقام پر ہونے کے فریب میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ”میری کرسی مضبوط“ ہے یا ”میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں“ وہیں سے اس کے زوال کی کہانی شروع ہوجاتی ہے اور کچھ ہی عرصے بعد وہ راندہ درگاہ کر دیا جاتا ہے۔

کسی زمانے میں ضرور ایسا ہو جایا کرتا تھا کہ پس آئینہ والے سر آئینہ آنے سے نہ تو گھبراتے تھے اور نہ ہی کسی تاخیر کا مظاہرہ کیا کرتے تھے لیکن اب ایسا بہت عرصے سے دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ لگتا ایسا ہی ہے کہ پس آئینہ والوں نے طے کر لیا ہے کہ وہ اب پس آئینہ ہی رہیں گے تاکہ ناکامیوں کی صورت میں وہی خوش شکل یوسف ثانی بد شکل کہلائے جو آئینے کے سامنے ہو۔ رہا کامیابیوں کا سوال تو اس کا سہرا قوم کا بچہ بچہ ایک طویل عرصے سے پس آئینہ والوں کے سر پر ہی باندھتا چلا آ رہا ہے۔

بھٹو کے بعد بھی جتنی حکومتیں وجود میں آتی رہیں وہ سب بھی رہی تو مرہون منت پس آئینہ ہی لیکن جب جب بھی ان کو یہ گمان گزرا کہ وہ خود بخود کسی حادثے کے نتیجے میں کائنات پاکستان میں وجود میں آ گئی ہیں، خالقوں نے انھیں خوابوں کی جنت سے نکال کر حقیقت کے جہنم میں پھینکنے میں کبھی لمحہ بھر بھی توقف نہیں کیا۔

اقتدار کی منزلوں تک پہنچ جانے والی جماعتیں اور ان کے سربراہ جتنے بھی سنہرے خواب دیکھیں شاید وہ کم ہوں لیکن علاقائی، لسانی یا قومیتی بنیادوں پر کامیابیاں حاصل کرنے والی جماعتوں نے بھی جب جب اپنے ”مرکز“ سے دور ہونے کی کوشش کی، لانے والوں نے جلد یا بدیر ان کو یا تو مرکز سے بالکل ہی نکال باہر کر کے شہاب ثاقبوں کی مانند سیاست کی خلاؤں میں بھٹکتے رہنے پر مجبور کر دیا یا پھر کرہ خاکی کے دفاعی خلاف میں داخل کر کے ریزہ ریزہ بنا دیا۔

پاکستانی سیاست کی اب تک کی جو تاریخ ہے وہ تو یہی ہے لیکن بقول خود
زور آوری ڈھونڈے ہے بچھڑنے کا بہانا
بس میری کہانی بھی ہے شعلے سے شرر تک

لہٰذا جونہی کوئی تخت نشین طوطا چشمی پر اتر آتا ہے اور اپنے آپ کو ”کل“ سمجھنے لگتا ہے تو اسے سمجھانے والے حرکت میں آ جاتے ہیں اور پھر اسے کل سے جزو میں تبدیل کر کے قصہ ماضی بنا دینے میں لمحے بھر کی بھی دیر نہیں لگاتے۔

خبر گرم ہے کہ غالب نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جو اس کے پرزے اڑا کر، پرزے اڑنے کا تماشا دیکھنے کی کوشش کرے گا وہ خود اس کے ہاتھوں تماشا بنا دیا جائے گا۔ غالب نے ببانگ دہل کہا ہے کہ اگر آئی ایس آئی کے سربراہ نے اس سے استعفا مانگا تو وہ اسے اس کے عہدے سے فارغ کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔ غالب کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ وہ نواز یا زرداری کی طرح فوج کی نرسری میں میں پل کر بڑا نہیں ہوا ہے۔

غالب کی باتیں غالب ہی جانے کہ اس سے استعفا مانگا جائے گا یا نہیں کیونکہ ماضی میں مانگا بھی گیا ہے اور ٹھوکروں سے بھی کام لیا گیا ہے۔ البتہ غالب کی یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ وہ فوج کی نرسری میں واقعی نہیں پلا۔ وہ تو مغربی جنتوں میں بسنے والی حوروں کی زلفوں کے سائے سائے زندگی کے سیاہ سفید گزار کر بڑا ہوا تھا۔ البتہ ایک پلا پلایا غالب افواج پاکستان نے لے پالک بنا لیا۔ غالب کو لے پالک بنانے والوں کا خیال تھا مسکین قابو میں رہے گا لیکن اختیار خواہ غالب کو مل جائے یا فرشتوں نے جسے استاذ سمجھا ہوا تھا، مزاج متکبرانہ تو بنا ہی دیتا ہے۔

ویسے تو ملک کے سربراہ کو ہی سر براہی سجتی ہے لیکن اصل سربراہ وہ ہوتا ہے جسے علامہ اقبال کچھ یوں دیکھا کرتے تھے ؎

یہ آبجو کی روانی، یہ ہمکناری خاک
مری نگاہ میں ناخوب ہے یہ نظارہ
ادھر نہ دیکھ، ادھر دیکھ اے جوان عزیز
بلند زور دروں سے ہوا ہے فوارہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •