کیا مسلم لیگ ( ن) میں بھی مسلم لیگ (ن) لندن اور مسلم لیگ ( ن) پاکستان بننے جا رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف کے اے پی سی سے لے کر کل تک کی خبر کا بدلتا ہوا موڈ کسی اور بدلاؤ کا عندیہ دے رہا ہے۔ اے پی سی میں جن قوتوں کے ساتھ جنگ کا کہا گیا تھا، لگتا ہے اب اس کا طبل بھی بجا دیا ہے اور اب کھل کر نام لینے لگے ہیں کہ کن کن اصحاب نے کس کس وقت اور کس کس موقع پر ان سے کیا کیا اور کون کون سے غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر منتقی مطالبات کیے تھے۔ اور ادھر اپوزیشن اور خود وزیر اعظم عمران خان بجائے دفاعی حکمت عملی کے ان کے جواب میں تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔

گو کہ اس رد عمل میں آئی۔ ایس۔ پی آر کی جانب سے کوئی ردعمل یا کوئی بیان نہیں آیا ہے لیکن گزشتہ نظیر کی روشنی میں واقفان ماضی جانتے ہوں گے کہ ایسا ہی رد عمل ماضی میں الطاف حسین کی تقریروں کے بعد دیکھنے میں آیا تھا اور اپوزیشن نواز شریف کو الطاف حسین سے اب کی بار شانہ بہ شانہ کھڑا کرنے یا شانہ بہ شانہ لگانے کی جسارت میں بھی حتی الامکان مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو گزشتہ ہفتے شیخ رشید کی جانب سے بولا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ سے ( ن ) ہٹنے یا مٹنے والا ہے اور ( ش ) لگنے یا منظر عام پہ آنے والا ہے کے منصوبے یا طریقہ کار پر کیسا عمل کرایا جا رہا ہے۔

آیا مسلم لیگ کو دو بھائیوں کے درمیان بخرے کیا جا رہا ہے، شین اور نون کی صورت میں یا مسلم لیگ کو تنظیمی اتار چڑھاؤ کے سیاسی سٹاک ایکسچینج میں مکمل مقابلہ کے معاشی اصطلاح کے بل بوتے مسلم لیگ لندن اور مسلم لیگ پاکستان کے درمیان دو آڑھتیوں کے درمیاں لاکر چھوڑا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کا اندر ہونا باہر آنے کا اگر ایک سہل راستہ ہے تو نواز شریف کا باہر جانا اندر آنے کا ایک مشکل در آمد ہے۔ یہ تو ایک شنید ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا، لیکن شنید کو بھی ایک سہارے اور ایک للکارے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے باعث وہ مواد اکٹھا کرتا ہے اور اپنے اندرون کو بیرون پیمانوں اور زاویوں پر ناپ تول یا پیمائش کر کے پیش کرتا ہے، اور شنید کا پیمانہ یا پیمائش یہ ہے کہ مسلم لیگ کے کئی سرکردہ راہنماؤں کو نیب نے نوٹس جاری کیے ہیں اور ان کی گرفتاریاں بھی جلد عمل میں لانے کے خبریں گردش میں ہیں۔

اگر گرفتاریاں واقعی عمل میں آتی ہیں تو درون خانہ یہ عمل اور بھی حکومت یا مقتدر قوتوں کے لئے آسان ہو جائے گا اور اگر شروعات شہباز شریف سے ہوتی ہے یا با الفاظ دیگر شریف فیملی کے گھر سے ہوتی ہے تو دیگر ساتھیوں کو عمل پیرا ہونے میں کسی ہچکچاہٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا یا پھر یہ کام شاید اتنا خفیہ اور ایک دوسرے سے دوری اور تیکنیکی طریقے سے ہو کہ ہر کوئی وفاداری بدلنے میں ایک دوسرے پر اتنا مشکوک ہو کہ ایک دوسرے سے پیچھے نہ رہ جانے کی ڈر سے عجلت میں میڈیا پر آ کر نہ صرف نواز شریف سے علیحدگی پر آمادہ ہو بلکہ ان پر کرپشن، غداری اور ملک دشمن سرگرمیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی شورو کرے اور نواز شریف کو ملکی سیاست اور ریاست کے لئے ایک سکیورٹی رسک کے درجے پر فائز کرے۔ لیکن اب کی بار بھی دیکھتے ہیں کہ آگے آگے ہوتا ہے کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •