صفدر حسین سندھو کا ملال: ہم قانوناً آزاد ہیں مگر؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضلع کچہری شیخوپورہ کی حدود کے آخری کونے میں اک بندگلی میں ایک وکیل صاحب کا دفتر ہے۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے کچہری کی ساری رونق، گہما گہمی اور زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ دفتر والوں کو حال سے زیادہ مستقبل کی فکر لگتی ہے۔ سو اس دفتر کو تعمیر کرتے ہوئے اس کی ”کرسی“ بہت اونچی رکھی گئی ہے تاکہ کل کلاں فرش ”نیواں“ نہ ہو جائے۔ یہ کچھ اور اونچی اس لیے دکھائی دیتی ہے کہ گلی میں ابھی مٹی سے بھرائی ہونے والی ہے۔ مختصرسے اس دفتر میں دیوار کے ساتھ اک پرچم دکھائی دیا۔ مزدور کسان پارٹی کا یہ پرچم اسی سرخ رنگ سے ہے جسے دیکھ کر مجاز نے اپنی محبوبہ سے کہا تھا :

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

جھنڈے کی پذیرائی کے لئے پھول بھی موجود تھے۔ پلاسٹک کے ان پھولوں میں خوشبو بیشک نہیں تھی اور گرد و غبار کے باعث چمک بھی نہیں۔ لیکن اس دفتر میں رنگ و خوشبو کا اک اور سلسلہ نظر آیا۔ یہ کالے کوٹ پینٹ میں ملبوس اک درویش وکیل صفدر حسین سندھو تھے۔ ان کے وجود سے کمرہ مہک رہا تھا۔ ان کے تاباں چہرے پر کامیابی کی نوید تو نہیں لیکن فرض کی ادائیگی کا اک بھرپور اطمینان ضرور تھا۔ اک گونہ دلی اطمینان کہ ہم نے دنیا میں اپنے حصے کا فرض خوب نبھایا ہے۔ انہیں چند ماہ پہلے فالج کا اٹیک ہوا۔ اس ملک میں احساس اور درد رکھنے والوں کو اور بھلا ہوتا بھی کیا ہے؟ فالج ہو گیا۔ دل کا عارضہ ہوا یا پھر برین ہیمرج نے آن لیا۔ ان کے حصے میں فالج آیا تھا۔ لیکن اس بہادر آدمی نے فالج کو پچکارا اور سمجھایا کہ بھئی جانے دو، ابھی میرا بہت سا کام باقی ہے۔ منزل بہت دور ہے۔ پھر انہوں نے دواؤں سے زیادہ اپنی قوت ارادی سے مرض کو مار بھگایا۔


وہ اس دفتر میں مزدوروں کے لئے سارا دن چشم براہ رہتے ہیں۔ سبھی مزدوروں سائلوں کو یہاں چائے بھی ملتی ہے، دال بھات بھی، دلاسے بھی اور سب سے بڑھ کر عزت، احترام اور اہمیت بھی۔ پاکستان میں مزدوروں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ سبھی کامریڈ مر کھپ گئے۔ سیاسی جماعتوں نے لیبر ونگ ختم کر دیے ہیں۔ یہ جماعتیں ان آجروں، صنعتکاروں اور تاجروں کے نرغے میں ہیں۔ اب سیاست چندوں سے چلتی ہے۔ مزدور چندہ نہیں دے سکتا۔ پھر یہ سیاسی جماعتیں ان کے حقوق کا کیا تحفظ کر سکتی ہیں۔ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ ایک فیکٹری سے باہر مزدور کئی ہفتے اپنے مطالبات کے لئے احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھے رہے۔ کسی سیاسی جماعت نے انہیں جھوٹے منہ نہ پوچھا۔ ادھر مزدوروں کے حالات ابھی تک وہی ہیں جو اقبالؒ نے لکھے تھے۔

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

جناب صفدر حسین سندھو پاکستانی سیاست کے اس قافلہ سخت جاں کی یادگار ہیں جوسیاست کو تجارت نہیں عبادت سمجھتے ہیں۔ یہ باوضو سیاست کرنے والے لوگ اب انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ سنا ہے سپریم کورٹ میں برسوں پہلے جاگیرداری کے خلاف رٹ کرنے والے عابد حسن منٹو بھی اب واکر کے سہارے چلنے لگے ہیں۔ ہماری سپریم کورٹ کیا انتظار کر رہی ہے۔ کیا منٹو کے جیتے جی ان کی رٹ کا فیصلہ ہو سکے گا؟ یہ بھی سنا ہے سوؤ موٹو والے چیف جسٹس اس رٹ کو بھی بھگتانے لگے تھے کہ سندھی جاگیردار حفیظ پیرزادہ مسکراتے ہوئے بولے۔ می لارڈ! اس مسئلے کا فیصلہ امت مسلمہ چودہ سو برسوں میں نہیں کر سکی۔ آپ اسے جھٹ پٹ کیسے نمٹا لیں گے۔ اس مقدمہ میں ابھی کئی نسلوں نے بحث کرنی ہے۔


امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کو کبھی کبھی جیالا بننے کا شوق چراتا ہے۔ پھر وہ جماعت اسلامی کے اسٹیج سے جاگیرداری ٹھاہ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اس نعرے کو اب خود بھٹو پارٹی بھی بھول چکی ہے۔ کالم نگار نے ایک مرتبہ لکھا تھا۔ اگر سینیٹر سراج الحق جاگیرداری کے خلاف ہیں تو وہ سپریم کورٹ میں منٹو کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے کیوں نہیں ہوتے؟ لاہور سے اک واقف حال کا میسیج آیا۔ یہ سراج الحق جاگیرداری کے خلاف نہیں۔ یہ کبھی منٹو کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔ یونہی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے ایسی بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔
محترمہ کنیز فاطمہ کے مطابق، جناب صفدر حسین سندھو 1972ء سے پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن سے وابستہ ہیں۔ سوشلسٹ نظریات کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی، جدوجہد اور استقلال نے انہیں غیر معمولی وقار بخشا ہے۔ صفدر حسین نے اک غریب بے زمین کسان گھرانے میں جنم لیا۔ میٹرک کے امتحان میں اپنے اسکول میں اول رہے۔ امتحان ختم ہونے کے تیسرے ہی دن سرکار کے ہاں درجہ چہارم میں بھرتی ہو گئے۔ 1971ء کے آخر میں شیخوپورہ سکارپ نمبر 4 کے سرکاری ٹیوب ویل میں بطور ٹیوب آپریٹر کام کر رہے تھے۔ 1972ء میں انہیں سکارپ نمبر 4 کے 1800 ملازمین کی یونین کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ پھر 1978 ءمیں انہیں ٹریڈ یونین سرگرمیوں کے جرم میں نوکری سے نکال دیا گیا۔
اپنی نوکری کی بحالی کے لئے کچہری پہنچ گئے۔ پھر وکیل بھی دیکھے، کچہری بھی دیکھی۔ اب کچہری روز کا آنا جانا لگ گیا تھا۔ وہیں اپنے بال بچوں کی روٹی روزی کے لئے ایک وکیل کے منشی بن گئے۔ یہ سیلانی روح جہاں بھی پہنچی، بیداری پیدا کرتی گئی۔ اب ان کی کوششوں سے فیروز والہ میں کلرکس بار ایسوسی ایشن بن گئی اور موصوف اس کے پہلے جنرل سیکرٹری۔ پھر وکالت کا امتحان پاس کرنے تک یہ عہدہ ان کے پاس رہا۔
کالم نگار کی ان سے پہلی ملاقات بہت پرمزہ رہی۔ انہوں نے کالم نگارکو اپنی بھٹہ مزدوروں کے بارے لکھی کتاب عنایت فرمائی۔ کہنے لگے۔ قانون کی کتابیں عام طور پر انگریزی میں ہوتی ہیں۔ میں نے عوام کی آگاہی کے لئے اسے اردو میں لکھا ہے۔ کالم نگار سوچنے لگا۔ اک زمانہ تک یاروں کو خط لکھنے کے اندیشے سے گھبرائے قدامت پرست اپنی بچیوں کو پڑھنے لکھنے سے دور رکھتے تھے۔ یہ راز ہماری موجودہ حکومت بھی خوب سمجھی ہے۔ اسی لئے اس نے کالجوں کی فیس چار پانچ گنا بڑھا دی ہے تاکہ نہ ہی غریب عوام تک تعلیم پہنچے اور نہ ہی انہیں اپنے حقوق سے آگاہی ہو۔ صفدر حسین سندھو کی کتاب کا نام ہے ”ہم قانوناً آزاد ہیں مگر؟ کتاب کے عنوان میں پورا نفس مضمون موجود ہے۔ مزدور واقعی صرف قانوناً آزاد ہیں۔ معاشی آزادی کے بغیر آزادی کا تصور اک مذاق کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ کتاب لکھ کر مصنف نے غلامی کی جدید شکل بھٹہ مزدوروں کے سلسلے میں اپنا فرض پورا ادا کر دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •