اندر کی اندھی گلیاں

ہمارے بیچ زندگی نہیں، ایک لمبی چیخ بسی ہوئی ہے، ایسی چیخ جو وقت کی گلیوں کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے اور پھر سانسوں میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ زینب مر گئی، کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ یوسف نے خودکشی کی، خبر اگلے دن اخبار کے نچلے حصے میں شائع ہوئی، اور پھر سب بھول گئے۔ لوگ مر رہے ہیں، مگر مرنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں ؛ ان کے خواب مر جاتے ہیں، محبتیں دم

Read more

ستر لاکھ مردہ فالورز کے بیچ ایک زندہ تنہا لاش

میں اور منٹو ایک سائے دار گلی میں کھڑے تھے، جہاں شام کا غبار دھیرے دھیرے مدھم ہو رہا تھا۔ وہ شہر، جو کبھی زندگی کی گہما گہمی سے گونجتا تھا، آج ایک ایسے واقعے کی گونج سے بھرا تھا جو دل کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔ ہم سامنے ایک خاموش فلیٹ کی طرف دیکھ رہے تھے جہاں ایک عورت کی لاش پڑی تھی، حمیرا اصغر کی۔ یہ وہی حمیرا تھی جسے ستر لاکھ لوگ سوشل میڈیا پر فالو

Read more

عورت، شراب اور شاعری

” جب تک دنیا میں عورت، شراب اور پھول موجود ہیں انسان ضرور بہکیں گے اور بہکا ہوا انسان عورت، شراب اور پھول سے بھی زیادہ خوب صورت ہوتاہے“ ۔ (سعادت حسن منٹو) صبح جب میں اُٹھتا ہوں تو عموماً ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خیال، کوئی بات، کوئی شعر یا مصرع یا کسی گیت کی لائن بہت دیر تک ذہن میں گھومتی رہے گی، بسا اوقات دوپہر یا سہ پہر تک پھر فکرِ روزگار میں محو ہونے سے یہ

Read more

میاں شمس الحق، مالاکنڈ کا ابھرتا ہوا لکھاری

میں مئی 2024 ء میں پاکستان سے واپس برطانیہ آ رہا تھا۔ دبئی میں میرا دو ڈھائی گھنٹے کا سٹے تھا۔ وہاں پہ میں ائرپورٹ میں موجود میکڈونلڈ میں امریکانا کافی سے چسکے لے رہا تھا کہ وٹس اپ پر ایک پیغام ملا ”کہ میں آپ کے گھر کے باہر کھڑا ہوں اور آپ کو اپنی لکھی ہوئی کتاب دینا چاہتا ہوں۔“ اس نے جب دوسرے پیغام میں اپنا تعارف کیا تو یہ جان کر مجھے بے حد خوشی ہوئی

Read more

منٹو کو پڑھنا ضروری، کیوں؟

میں سوال نہیں پوچھ رہی بلکہ میں طنز کر رہی ہوں۔ جی ہاں ایک ایسا معاشرہ جہاں آئے دن غیرت کے نام پر عورتیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کی جاتی ہیں۔ ان سے محبت کا مطلب ان کی جان کا مالک بننا ہے، جب چاہا ختم کر دی، وہاں منٹو کو پڑھ کر فضول میں اپنا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال اٹھانے کا خیال مجھے اس لیے آیا کہ آج کل سوشل میڈیائی کھاتوں پر ایک

Read more

دیار و دشت میں بھٹکتی کہانیاں

کچھ کہانیاں فقط کہانیاں نہیں ہوتیں، یہ وقت اور تاریخ کا ایسا ملاپ ہوتی ہیں جن میں انسان اپنے ماضی کی کوتاہیوں، کمزوریوں، حکام کے غلط فیصلوں، ان کے تعصبات اور ذاتی مفادات کے تحت رونما ہونے والے المیوں کو کسی فلم کی مانند اپنے سامنے رونما ہوتا دیکھتا ہے اور کف افسوس ملتا ہے۔ ماضی کی کچھ ایسی ہی درد ناک کہانیوں کو ذکی نقوی نے اپنے حساس قلم سے یوں زندہ کیا ہے جیسے وہ خود زمانوں قبل

Read more

حیات دُکھ ہے، ممات دُکھ ہے

میں یاسر جواد کو نہیں جانتا۔ اچھی بات شاید یہ ہے کہ وہ بھی مجھے نہیں جانتے۔ میرا ان سے تعارف ان کی آپ بیتی ”کتاب کہانی“ کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے ایک مشکل زندگی گزاری اور اس سفر کے دوران بھانت بھانت کے لوگوں سے واسطہ پڑا۔ کتاب پڑھنے کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان میں بقول مختار مسعود قحط الرجال پڑ چکا ہے۔ ٹھیک آدمی تو نُسخے میں ڈالنے کو بھی نہیں ملتا۔ زندگی

Read more

سلیم سرور: ایک خواب زدہ مسافت

یہ کہانی ایک ایسے چراغ کی ہے جو اندھیروں میں جلا، تیز ہواؤں سے ٹکرایا، ٹمٹمایا، بجھا نہیں۔ محمد سلیم سرور۔ جس کی زندگی کی کتاب میں ہر ورق جدوجہد، استقامت، اور امید کی روشنائی سے لکھا گیا۔ 15 اگست 1993 ء کو بورے والا کے نواحی گاؤں 417 /E۔ B میں پیدا ہوا۔ سلیم کے والد، محمد سرور، اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ زندگی کی گاڑی اکیلے ہی کھینچنی پڑی۔ معاشی حالات ابتدا ہی سے ناموزوں تھے، مگر

Read more

ہٹی دا ٹائم

’یار چھمے میرا ہٹی دا ٹائم ہو گیا اے، ہن چلیے، (یار چھمے میری دکانداری کا وقت ہو گیا ہے، اب چلیں)۔ ڈاکٹر انور سجاد میرے ٹی وی کے دفتر کوئی اڑھائی تین بجے آتے اور لمبی گپ شپ کرنے کے بعد ٹھیک ساڑھے چار بجے میز پر رکھی ہوئی اپنی گھڑی اور کار کی چابیاں اٹھا کر بغیر کسی علیک سلیک کے باہر نکل جاتے، میں ان کو ان کی نیلی فوکسی میں بیٹھتے دیکھتا جو تیزی سے چونا

Read more

محبت بھری دوستی کی خوشبو

امیر حسین جعفری کا خط محترم خالد سہیل صاحب میری صحتیابی کے حوالے سے ’ہم سب‘ پر چھپی آپ کی تحریر نہ صرف قارئین کو پسند آئی بلکہ کسی سطح پر ان کی حیرت اور استعجاب کا باعث بھی قرار پائی اس استعجاب کا ایک سبب میرا خدا پرست ہونا بھی ہے۔ یقینآ ہماری دوستی شعر و ادب، انسان دوستی اور بائیں بازو کے نظریات، فلسفہ اور الہٰیات کے مطالعے کی بنیادوں پر استوار ہے۔ میرے والد جناب اختر حسین

Read more

منٹو کے افسانوں میں سماجی اخلاقیات

سماجی اخلاقیات سے مراد وہ اصول و ضوابط ہیں جن کی ایک معاشرہ اپنے افراد سے بطور طرز عمل توقع رکھتا ہے۔ دراصل یہ انسانی ہمدردی کے وہ اخلاقی اصول ہیں جو گروہوں اور معاشروں کی بہبود کا وسیلہ ہیں۔ یہ اجتماعی خیر اور انسانی عزت و عظمت کو ترجیح دینے کا دوسرا نام ہیں۔ ان سماجی اخلاقیات میں سچائی، دیانت، ہمدردی، انصاف، مساوات، رواداری اور احترام آدمیت وغیرہ نمایاں ہیں۔ یہ انفرادی اخلاقیات سے اس لیے ممتاز ہیں کہ

Read more

جنگ کا بیوپار اور بنیے کا پوسٹ کارڈ

منٹو اپنے ہی رنگ کا لکھنے والا تھا۔ امرتسر کے شرارتی لڑکے کی ابھی مسیں نہیں بھیگی تھیں کہ 1919 ءکا جلیانوالہ باغ ہو گیا۔ پنجاب میں مارشل لا لگ گیا۔ امرتسر کی سرکش گلیوں میں رینگنے پر مجبور کیے گئے محکوم ہندوستانیوں کی آنکھوں میں بے بسی کے انگارے سلگتے تھے لیکن سروں میں آزادی کی ہوائیں چلنے لگی تھیں۔ ریٹائرڈ مگر دل پھینک سب جج غلام حسین کے سات سالہ لڑکے نے اردو زبان کے پرچے میں بار

Read more

کیا مُسکراہٹ واجب القتل ہے

میں تھائی لینڈ سے واپس آیا تو دوست میرے گرد اکٹھے ہو گئے، ایک نے کہا سُنا ہے تھائی لینڈ میں بڑی فحاشی ہے۔ آپ نے تو خوب مزے کیے ہوں گے ۔ میرے لیے ایک وقت میں دو بیانات جس میں ایک خیال تھا اور دوسرا سوال تھا کافی عجیب سی بات تھی۔ کیونکہ خیال نے مجھے حیرت میں ڈالا دیا اور سوال نے تذبذب میں۔ یہ خیال اور سوال دونوں ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے تھے کہ اگر

Read more

کارل مارکس کا تخلیقی سفر (تخلیقی اقلیت سے ایک باب)

  حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب: ”تخلیقی اقلیت“ ، ڈاکٹر خالد سہیل کی انگریزی تصنیف: CREATIVE MINORITY کا اُردو ترجمہ ہے۔ ’تخلیقی اقلیت‘ میں منتخب تخلیقی شخصیات، جن میں فلسفی، سائنسدان، ادیب، شاعر، فنکار اور انقلابی رہنما شامل ہیں، جامع مضامین لکھے گئے ہیں۔ ان مضامین میں ان کے نظریات، فکر، اور فلسفے کا گہری نظر سے مطالعہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر خالد سہیل نے بطور نفسیات دان ان معتبر شخصیات کا نفسیاتی تجزیہ بھی

Read more

”سب رنگ“ ڈائجسٹ : باز گشت

اس دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس نے اپنے بچپن میں قصے کہانیاں نہ سنی ہوں اور اسے ان سے دلچسپی نہ ہو۔ درسی کتب میں آغاز ہی سے چھوٹی چھوٹی کہانیاں شامل کی جاتی ہیں تاکہ بچے ایک طرف تو خوشی خوشی کہانیاں پڑھیں اور ساتھ ہی ساتھ زبان کے اتار چڑھاؤ سے بھی کماحقہ واقفیت حاصل کریں۔ پاپولر ادب نے کئی دہائیوں سے اُردو زبان و ادب پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں ان مشہور

Read more

اصغر ندیم سید کی افسانوی نثر کا اجمالی جائزہ

ادبی دنیا میں شاہ جی کے نام سے پہچانے جانے والے اصغر ندیم سید کا پہلا بڑا حوالہ ڈراما نگاری ہے مگر محض ڈراما نویسی تک محدود کرنے سے ان کے مقام و مرتبے کی تصویر مکمل نہیں ہو پاتی۔ اس مختصر مضمون میں شاہ جی کے ناولوں اور افسانوی مجموعے کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آدھے چاند کی رات ”آدھے چاند کی رات“ اصغر ندیم سید کا اولین ناولٹ ہے جو پہلی بار 1993 ء میں منظرِ

Read more

سیاست محروم الارث کیسے ہوتی ہے؟

لسان العصر اکبر الٰہ آبادی کے اقبال کے نام 133 خطوط حال ہی میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے شائع کیے ہیں۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب پنجاب یونیورسٹی میں اردو کے صدر شعبہ رہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اردو لینگوئج اینڈ لٹریچر کے پہلے ڈائریکٹر ٹھہرے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں مسند ظفر علی خان پر فائز رہے۔ جامعہ الازہر میں اردو اور مطالعہ پاکستان پڑھایا۔ ان دنوں ایران کی تہران یونیورسٹی میں پاکستان چیئر پر رونق افروز ہیں۔ علامہ اقبال

Read more

فرخ یار کا عشق نامہ

خلقت کے اجتماعی حافظے اور اس کے تخیل کی حیران کن کرشمہ سازیوں (یا کارستانیوں؟) نے جہاں گزشتہ کئی صدیوں سے شاہ حسین اور میلہ چراغاں کی رنگا رنگی کو لازم و ملزوم کر رکھا ہے وہاں شاہ حسین کی تصویر بھی بہت کچھ بدل دی ہے۔ سوال ہے کیا شاہ حسین واقعی یہی کچھ تھے : تکالیفِ شرعی سے آزاد بلکہ ان کی تضحیک و تحقیر کرنے والے، افعال شنیعہ میں مبتلا، مے نوش و امرد پرست و ہر

Read more

لفظوں سے بنا ہوا آدمی

شہر یار راشد، ن م راشد کا بیٹا اور میرا قریبی دوست سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تاشقند میں پاکستان کا سفیر تھا۔ ایک دن مجھے اس کا خط ملا جس میں اس نے لکھا کہ ’گل بہار جو اردو میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے پہلی بار تاشقند سے پاکستان ارہی ہے۔ وہ کچھ ہفتے اسلام آباد رہے گی۔ میں نے اسے تمہارا فون اور پتہ دیا ہے۔ تمہیں اس کی میزبانی کرنا ہوگی۔‘ چند دنوں کے

Read more

کامریڈ چودھری فتح محمد کی پانچویں برسی

کامریڈ چودھری فتح محمد ایک انقلابی سیاسی رہنما، کسان تحریک کے بانی اراکین میں سے ایک اور پاکستان کے محکوم طبقات کے حقوق کے لئے زندگی بھر جدوجہد کرنے والے سپاہی تھے، جو پیر، 25 مئی 2020 کی صبح انتقال کر گئے۔ چودھری فتح محمد 16 مئی 1923 کو ضلع جالندھر کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں ”چاہڑکے“ میں نچلے متوسط طبقے کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بی اے کے امتحان کے بعد انہوں نے برطانوی فوج میں کیڈٹ افسر

Read more

عبداللہ حسین کے ناولوں میں انسانی استحصال کی پیش کش

انسانی استحصال ایک ایسا عمل ہے جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اور یہ طوفانِ نوح کہیں تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ ایک ایسی چکی ہے جو ہمیشہ سے چلتی آ رہی ہے اور انسان اس میں پستا  آ رہا ہے۔ کیونکہ اسے چلانے والے طاقتور اور پسنے والے مظلوم ہیں۔ کئی انسانی زندگیوں کے چراغ اس استحصال نے گُل کر دیے۔ اور وہ اپنی ناآسودہ خواہشات کو دامن گیر کیے چل بسے۔ بہت سے ادیبوں نے

Read more

سرحد کے دونوں پار مٹھائی اور کیک کو پہرہ درکار ہے

دیوانوں کی اُس بستی میں مٹھائی، کیک اور بسکٹ بھی جنگی جنون کی نفرت کی نذر ہو گئے۔ تازہ پاک بھارت تناؤ کے دوران ہندوستان حیدرآباد میں کراچی بیکری کو نام کی سزا دے کر انتہا پسندوں نے اس پر حملہ کیا اور تھوڑ پھوڑ کی گئی۔ دوران تقسیم 1947 میں حیدرآباد سندھ سے ہجرت کرنے والے ایک سندھی کی قائم کردہ کراچی بیکری بمبئی میں تو کافی عرصہ ہوا نفرت نفرت کھیلنے والوں نے دھمکیاں دے کر بند کروا

Read more

تخلیقی اقلیت (حصہ دوئم)

” تخلیقی اقلیت“ انگریزی کتاب : CREATIVE MINORITY کا اردو ترجمہ ہے۔ ماہِ رواں میں پاکستان سے شائع ہونے والی ڈاکٹر خالد سہیل کی 488 صفحات پر مشتمل تصنیف کا ترجمہ میں نے گزشتہ دو برس میں مکمل کیا۔ ان سالوں کے دوران مجھے ایک جذباتی بحران کا بھی سامنا تھا مگر اس قدر ذہنی دباؤ کے عالم میں ترجمے کا عمل میرے لیے اعصابی آسودگی کا باعث بنا۔ گویا اس کتاب نے نہ صرف میرا ذہنی کیتھارسس CATHARSIS کیا

Read more

تحقیق و دریافت: ایک مطالعہ

تحقیق کسی بھی شعبے میں ترقی اور جدت کی بنیاد ہے۔ یہ نیا علم دریافت کرنے، موجودہ نظریات کو چیلنج کرنے اور مسائل کے حل تلاش کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم اپنی دنیا کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، چاہے وہ سائنس ہو، ادب ہو، تاریخ ہو یا کوئی اور مضمون۔ یہ ہمیں تنقیدی طور پر سوچنے، معلومات کا تجزیہ کرنے اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تعلیمی لحاظ سے،

Read more

صدارتی خطبہ حلقہ ارباب ذوق

  خواتین و حضرات! حلقہ ارباب ذوق، اسلام آباد کے اس پروقار سالانہ اجلاس کے لیے صدارتی کلمات کے طور پر اپنی گزارشات پیش کرنا میرے لیے باعث شرف ہے۔ جو باتیں میں یہاں کرنے جا رہا ہوں لازم نہیں ہے کہ آپ اُن سے اتفاق کریں کہ وہ میرا نقطہ نظر ہیں ہم جہاں ہوتے ہیں وہیں سے سامنے کا منظر نامہ دیکھ سکتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق کی یہ مستحکم روایت اور اصول رہا ہے کہ اختلاف کا

Read more

ظفر اقبال کے تین مسئلے اور میرے پونے چار سوال

اردو کی ادبی تاریخ میں شاید ہی کوئی شاعر ظفر اقبال جیسا متنازع اور اختلافی ہو گا۔ ایک طرف تو ان کے چاہنے والے ان گنت ہیں، جو عہد ساز، جدید غزل کے امام اور پوری دو نسلوں کا ٹرینڈ سیٹر سمجھتے ہیں، تو دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو انہیں متشاعر اور رطب و یابس کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ اس کی کئی وجہیں ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اپنی دشمنی کے لیے وہ

Read more

معنی کی تلاش۔ بدعت اور انحراف کی مثال

اُردو افسانے کی روایت کو سوا صدی گزر چکی ہے۔ اس دورانیے میں اِس صنف نے کئی رجحانات سے استفادہ کیا اور خود کو بدلتے تقاضوں سے ہمیشہ ہم آہنگ رکھا۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے اس فن کو صحیح معنوں میں برتا اور ایسے افسانے تخلیق کیے جن کو عالمی ادب کے رو برو رکھا جا سکتا ہے۔ اردو افسانے کے ترقی پسند دور کو افسانے کے زریں دور سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا،

Read more

دیدۂ بینا

  خدائے سخن میر نے کہا تھا چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ ابتدائے آفرینش سے دنیا دو قسم کے لوگوں سے بھری ہے۔ ایک وہ جو اس جہان سے سرسری گزر جاتے ہیں۔ جو پیدا ہوتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں، نسل کَشی کرتے ہیں اور اس نیرنگ خانۂ دہر میں اپنا کوئی نقش قائم کیے بغیر رخصت ہو جاتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دیدۂ بینا رکھتے ہیں۔

Read more

”میرے ہم سفر“ از احمد ندیم قاسمی کا تنقیدی جائزہ

(غلام رسول مہر کے خصوصی حوالے سے ) احمد ندیم قاسمی کا خاکوں کا مجموعہ ”میرے ہم سفر“ اردو ادب کا ایک اہم اور دلنشین سرمایہ ہے، جو 2003 ء میں شائع ہوا۔ اس میں شامل تیرہ سوانحی خاکے قاسمی صاحب کے ادبی سفر کے ساتھیوں اور معاصر شخصیات پر مبنی ہیں، جنہیں انہوں نے نہایت محبت، خلوص اور گہری بصیرت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ یہ خاکے محض تعریفی نہیں بلکہ ان میں شخصیات کی فکری، تخلیقی اور

Read more

ایک خط جو بستر مرگ پر پڑھا گیا

لسانی مباحث سے خاص رغبت رکھنے والے ممتاز محقق پروفیسر غازی علم الدین سے میری بس ایک ہی ملاقات رہی ہے اور وہ بھی میرپور آزاد کشمیر کی ایک تقریب میں۔ ہم اسٹیج پر پاس پاس بیٹھے رہے دوچار باتیں تب ہوئیں اور کچھ باتیں تقریب کے بعد ۔ انہوں نے شکوہ کیا تھا کہ مجھے ان کی کتب پر ردعمل دینا چاہیے تھا۔ کچھ ایسا ہی مطالبہ وہ اپنے خطوط میں بھی کر چکے تھے۔ اس بار ان کی

Read more

انسانیت سے پیار اور انسان سے نفرت؟

”کیا انسانیت سے پیار اور انسان سے نفرت ممکن ہے؟ جی ہاں، نہ صرف ممکن ہے بلکہ آج کل تو ممکن ہی یہی ہے۔ کیونکہ“ انسانیت ”ایک مثالی تصور ہے۔ ایک ایسا خواب جہاں سب برابر، مہربان، اور معصوم ہوتے ہیں۔ اس سے محبت کرنا آسان ہے، کیونکہ یہ ایک دور کی خوبصورتی ہے، ایک خیال، جس میں نہ کمزوریاں ہیں، نہ تضاد۔ لیکن انسان؟ وہ تو غلطیوں، حسد، غصے اور کمزوریوں کا پیکر ہے۔ انسان سے محبت قربانی مانگتی

Read more

برمنگھم میں قائداعظم ٹرسٹ کے زیر اہتمام یومِ پاکستان کی تقریب

قائداعظم ٹرسٹ یوکے کے زیر اہتمام یوم قرار داد پاکستان 23 مارچ 1940 کے حوالے سے 23 مارچ 2025 کو برمنگھم میں ”سہارا گَرِل ریستوران“ میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت ٹرسٹ کے چیئرمین راجہ محمد اشتیاق نے کی جبکہ پاکستان سے نجی دورے پر آئے ہوئے محکمہ تعلیم صوبہ پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری چوہدری ضیغم نواز نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول

Read more

قرارداد لاہور اور بے بنیاد دعوے

قرارداد لاہور کے متعلق کئی دہائیوں سے ایک مخصوص بیانیہ گڑھا جاتا رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ قرارداد دراصل برطانوی حکومت کی ایماء پر تیار کی گئی تھی، اور اس کے مصنف سر ظفر اللہ خان تھے۔ ولی خان نے اپنی کتاب حقائق در حقائق میں اس نظریے کو فروغ دیا، اور پرویز پروازی سمیت کچھ دیگر مصنفین نے بھی اسے دہرانے کی کوشش کی۔ لیکن جب ہم تاریخی شواہد، مسلم لیگ کے اصل ریکارڈز

Read more

جمہوری شین قاف اور آمریت کا لام کاف

23 مارچ کو یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب سے حسب روایت سربراہ مملکت آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔ کل بارہ منٹ کی تحریری تقریر پڑھنے میں ایک دو جگہ پر انہیں الفاظ کی ادائیگی میں کچھ دقت پیش آئی۔ اس بے معنی قضیے کو لے کر سوشل میڈیا پر بیٹھے انقلابی چوزوں نے ہڑبونگ مچا رکھی ہے۔ پاک پتن کی جامعہ ’رحونیت‘ میں ہوش و خرد کا زر خالص ادا کر کے بے سمت دیوانگی کا سودا کرنے والا

Read more

خواب، محبت اور زندگی (3)

جب دل ہی ٹوٹ گیا (Broken Heart Syndrome) پارٹیشن کے وقت امرتسر کی نصف آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی اور انہیں یقین تھا کہ امرتسر پاکستان میں شامل ہو گا۔ اسی طرح سکھ اور ہندوئوں کو جو لاہور کی آبادی کا ایک تہائی حصہ تھے یقین تھا کہ لاہور ہندوستان کو ملے گا۔ پارٹیشن سے پہلے کے مہینوں میں ہی امرتسر میں پر تشدد مذہبی فسادات شروع ہو گئے تھے۔ امی کے چھوٹے بھائی، ہمارے نثار ماموں کی عمر اس

Read more

جیسے لہور لہور ہے، ویسے تارڑ، تارڑ ہے

راوی جو لاہور شہر کے کنارے بہتا تھا خشک ہو چلا ہے مگر معلوم ہوتا ہے وہ راوی کہیں تارڑ کی شخصیت اور اس کی تحریروں میں سمٹ آیا ہے۔ جس کے کنارے آباد ہیں، جس کا پانی شفاف ہے جو سننے دیکھنے اور پڑھنے والوں کو سیراب کیے جاتا ہے۔ جیسے لہور لہور ہے ویسے ہی تارڑ، تارڑ ہے۔ سعادت حسن منٹو کے بعد تارڑ وہ واحد لکھنے والا ہے جس کے ہاں زندگی اور تجربات کا تنوع ہے۔

Read more

پوٹھوہاری میں ترجمہ نگاری کی روایت

خالق کائنات نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اسے بولنے اور سننے کا ہنر بھی عطا کیا، بولنے اور سننے کا تعلق کسی نہ کسی زبان سے ہوتا ہے جو ہر انسان بولتا یا سنتا ہے، کرہ ارض پر اس وقت اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں زبانیں لازمی بولی جاتی ہیں، کچھ زبانوں کو بولنے والے دستیاب نہیں رہے تو وہ معدوم ہو چکیں، کچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں اور کچھ زبانیں ایسی بھی ہیں جنہیں سیکھنے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب سالک

تبصرہ نگار: دعا عظیمی بہت عرصے سے سن رہی تھی کہ ڈاکٹر سہیل کی سیکر سالک بن کر روایت کی دھرتی پر اترنے والی ہے۔ تصوف میں استعمال ہونے والی یہ دونوں اصطلاحات میرے لیے ہمیشہ سے پرکشش رہی ہیں۔ بڑا عرصہ مجذوبیت کو سالک سے اوپر کا درجہ دیتی رہی پھر سمجھ میں آیا کہ مجذوب کی نسبت سالک کا درجہ بہت بلند ہے۔ مجذوب اپنی مستی میں مست خدا کی ذات کی جلوہ گری میں خاکستر ہوجاتا ہے

Read more

پاک بھارت اردو ادب

اردو ادب برصغیر کی مشترکہ تہذیب، تاریخ، اور ثقافت کا اہم ترین حصہ ہے۔ تقسیم ہند کے بعد اردو ادب کو دو الگ جغرافیائی اور نظریاتی اکائیوں پاکستان اور بھارت میں تقسیم ہو گیا۔ دونوں ممالک میں اردو ادب نے منفرد انداز میں ترقی کی لیکن یہ ایک دوسرے سے جڑے رہنے کے گہرے اثرات بھی رکھتا ہے۔ پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیا کے دو اہم ممالک ہیں جن کی تاریخی، ثقافتی، جغرافیائی اور سیاسی حیثیت نمایاں ہے۔ دونوں ممالک

Read more

گوتم سے ملاقات

1979 میں ڈیڑھ سال کی انکوائری کے بعد مجھے لاہور کے ہنگامہ خیز شہر سے راول پنڈی اسلام آباد ٹرانسفر کر دیا گیا۔ اسلام آباد کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ واشنگٹن کے ایک قبرستان جتنا بڑا ہے اور اس سے دگنا مردہ۔ اس شہر میں لوگ نہیں گریڈ رہتے ہیں اور ان کی قبروں کے بھی گریڈ ہوتے ہیں۔ میں اس شہر کے رومان پرور موسموں اور فطرت کے نظاروں کو دیکھ کر خوش ہوتا اور ساتھ

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن ۔ قسط۔ 3

تحریر ڈاکٹر شیرشاہ سید: ترجمہ گوہر تاج پیر 8 دسمبر 2024 ء پیر کی صبح 7 بجے میری ملاقات سونار گاؤں ہوٹل میں بریجٹ سے طے پائی۔ جو UNFPA کے ساتھ تکنیکی ماہر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اور فیسٹولا پروجیکٹ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جہانگیر نے مجھے صبح چھ بجکر پندرہ منٹ پہ اٹھایا اور ہم چھ بجکر پینتالیس منٹ پہ سونار گاؤں پہنچ گئے تھے۔ ہم نے بدھ کے روز فسٹولا

Read more

”باتیں لاہور کی“ از سوم آنند

ہندوستان کی تقسیم کے حوالے سے لکھے جانے والی کوئی بھی کتاب اٹھا کر پڑھ لیں آپ کو احساس ہو گا کہ اس خطے کی عوام نے کتنے مصائب اور آلائم جھیل کر اس تقسیم کے مرحلے کو طے کیا اور تب جا کر کہیں انھیں آزادی کی نعمت نصیب ہوئی۔ اُن دلسوز واقعات کو سُن اور پڑھ کر انسانی دل جتنا مرضی ہے سخت ہو لیکن نرم پڑھ جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہو جاتی

Read more

کھرپا بہادر اور فراموش آباد کے اچکے

جس زبان کے بولنے اور پڑھنے والوں نے تصدق حسین خالد کی نظم، چراغ حسن حسرت کی نثر اور رفیق حسین کے افسانے فراموش کر رکھے ہوں، وہاں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ عظیم بیگ چغتائی ایک گمنام نثر نگار ہے۔ محض اتفاق ہے کہ 1895 میں پیدا ہونے والے عظیم بیگ 1941 میں رخصت ہوئے تو ان کی بہن عصمت چغتائی نے ’دوزخی‘ کے عنوان سے مرحوم بھائی کا ایسا خاکہ لکھا جو عظیم بیگ کی طرفہ طبیعت اور

Read more

”بغیر عنوان کے“ از سعادت حسن منٹو کا تجزیاتی مطالعہ

اُردو ادب کے معروف افسانہ نگار ”سعادت حسن منٹو“ کو اُردو ادب میں افسانہ نگاری کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اپنے بے باک لہجے، سادہ و سلیس زبان اور مخصوص اسلوبِ تحریر کی وجہ سے انہیں اُردو ادب میں ایک منفرد اور ممتاز مقام حاصل ہے۔ بقول ڈاکٹر انور احمد: ” منٹو اپنی نوعیت کا اکلوتا افسانہ نگار ہے اور جس نے بھی اس کی نقالی کی وہ پنپ نہ سکا۔“ اگر منٹو کی افسانہ نگاری کی

Read more

جدید ادبی انقلاب

ڈیجیٹل و انفارمیشن انقلاب کی حامل اکیسویں صدی میں نہ صرف ہمارا اُردو ادب بلکہ بین الاقوامی اور عالمی ادب بھی بنیادی طور پر اِن تین جہتوں کے زیر اثر انقلاب پذیر ہے۔ اول ذریعۂ اظہار کی سطح پر، دوم موضوعاتی و معنوی سطح پر اور سوم لسانی و اسلوبی سطح پر۔ انقلاب پذیری کی اِن ہمہ جہت سطحوں کی جڑیں ہمیں انیسویں اور بیسویں صدی کی زرخیز مٹی کی آغوش تخلیق میں مدغم ملتی ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی

Read more

کراچی۔ ایک سمندر پار پاکستانی کی نظر سے ( 2 )

ڈربی شہر جہاں ہمارا گھر ہے کی آبادی بمشکل پونے تین لاکھ ہے جس دن روانہ ہوئے تھے برف باری ہو رہی تھی پارہ منفی تین ڈگری کو چھو رہا تھا۔ 6 جنوری کی صبح کراچی میں ہوئی جہاں کم از کم ڈھائی پونے تین کروڑ نفوس بستے ہیں۔ بہت سے لوگ جیکٹ، سویٹر پہنے گرم چادریں اور مفلر لپیٹے نظر آئے۔ کار میں بیٹھ کر البتہ شدید گرمی اور عجیب گھٹن کا احساس ضرور ہوا۔ تھرما میٹر درجۂ حرارت

Read more

ایک بہتر انسان بننے کے راز – ہما دلاور کا تکریمی سوالنامہ

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، آداب! آپ سے ملاقات ہونا بھی ایک عجیب سرشاری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جیسے کوئی تھکن سے چور مسافر کسی شفاف چشمے پر جا رکے، جیسے کوئی بھٹکا ہوا راہرو منزل کے نرم سائے میں آ بیٹھے یا جیسے کوئی ٹوٹا ہوا خواب دوبارہ جڑ جائے۔ ڈاکٹر صاحب! آپ نے اپنے اخلاق کی ایسی آبیاری کیسے کی کہ مجھ جیسا مسافر، جس کے پاسپورٹ پر Red Zone کی مستقل شہریت کی مہر لگی ہوئی

Read more

میں ایک کتاب کا مصنف ہوں

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لکھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہیں کہ اگر ان کے دماغ کی بجلی کو استعمال کیا جائے تو ملک بھر کی سب سے بڑی پریشانی لوڈ شیڈنگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو کر رہ جائے، مگر پڑھنے والوں کی تعداد اتنی کم ہو کر رہ گئی ہے جیسے یہ کوئی معدوم ہوتی ہوئی نسل، جو بہت جلد نایاب پرندوں کی فہرست میں شامل ہونے والی ہے۔ یہاں لوگ کتابوں کو

Read more

ہمارا سیاسی شعور اور تیری یاد

صدیوں سے اس دنیا کے سیاہ و سفید میں ہمارا حصہ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔ ادب ہو یا مصوری، موسیقی ہو یا تعمیرات، سیاسی تدبر ہو یا سائنسی فکر، علمی جستجو ہو یا مشین کا معجزہ، کار آسماں ہو یا بندوبست زمیں، ہمارا شعار فقط یہی ٹھہرا ہے کہ کبھی اپنی سہل کوشی کے زعم میں جدید سے انکار کرتے ہیں اور کبھی خودپسندی سے مغلوب ہو کر نئی دنیا کی تعمیر کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کشمکش

Read more

ادب اور مکاتب فکر

افلاطون اور شاعر افلاطون نوجوانی میں جتنا شاعری کو پسند کرتے تھے بڑھاپے میں اتنا ہی ناپسند کرتے تھے۔ بیس برس کی عمر سے افلاطون جتنا اپنے استاد سقراط اور فلسفے کے قریب آتے گئے وہ اتنا ہی شاعری سے دور ہوتے چلے گئے۔ افلاطون شاعری سے اتنا دلبرداشتہ ہو گئے کہ انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ ایک مثالی ریاست میں ہمیں نوجوانوں کو شاعری سے دور رکھنا چاہیے۔ افلاطون ایک فلسفی تھے اور فلسفے کو سچ اور دانائی

Read more

انگریز اور لاہور

لاہوریوں کی تو بات کیا کریں۔ ہم دوسرے شہروں کے لوگ بھی کسی نہ کسی حوالے سے لاہور کے رومانس میں مبتلا رہے ہیں۔ اس لئے یہ تو طے ہے کہ ہم سب کو پروفیسر عزیز الدین کی کتاب کولونیل لاہور پڑھ کر بہت مزہ آئے گا۔ یہ کتاب دراصل ان کے 1990 کے عشرے میں لکھے جانے والے مضامین کا مجموعہ ہے جسے ان کے چھوٹے بھائی محمد تحسین نے کتابی شکل دی ہے اور اس کا تعارف وجاہت

Read more

محمد حسن عسکری بطور نقاد

محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919 ء کو ضلع میرٹھ کے ایک قصبے ”سراوہ“ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام اظہار الحق تھا جبکہ گھر میں انہیں ”بھولے میاں“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ محمد حسن عسکری کا بچپن سرواہ کی گلیوں میں کھیلتے گزرا۔ ان کی تعلیم و تربیت کا آغاز مذہبی تعلیم سے ہوا جبکہ رسمی تعلیم کے لیے انہیں سراوہ کے پرائمری سکول بھیجا جانے لگا۔ مگر جلد ہی انہیں اس سکول سے ہٹا کر،

Read more

ریاض قدیر کی افسانوی دنیا

ریاض قدیر کی افسانوی دنیا سعادت حسن منٹو، گائے ڈی موپساں، خواجہ غلام فرید، ترقی پسندی، میلو ڈرامہ اور بے پناہ آئیڈیلزم سے عبارت ہے۔ منٹو اور موپساں اُن کی آل ٹائم انسپائریشن رہے، چناں چہ اِنہی کے تقابلی جائزے پر اُنہوں نے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا، جب کہ انگریزی، اردو اور سرائیکی پر یکساں دسترس نے اُنہیں اِس قابل بنایا کہ موپساں اور مشیل فوکو کو اردو، اور خواجہ غلام فرید کو انگریزی کے قالب میں ڈھال

Read more

نہرو کا بھوت کشمیر کب چھوڑے گا؟

  وہ 18 جنوری 1955 ء کا دن تھا جب ایک ایمبولینس ہسپتال میں تیزی سے داخل ہوئی۔ سٹریچر پر پڑے شخص کو جلدی جلدی ڈاکٹر تک پہنچایا گیا۔ اس کے منہ کے قریب لال رنگ کے قطروں کے کچھ داغ نمایاں تھے۔ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کیا اور مریض کے ساتھ آنے والوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اس کی جگہ ہسپتال نہیں قبرستان ہے، یہ مر چکا ہے۔ ڈاکٹر کو کیا معلوم تھا کہ یہ مردہ

Read more

انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی

سکول میں انتظار حسین کے سنگی ساتھی اور بھی تھے لیکن ادھر سکول چھٹا ادھر دوستی تمام۔ بس ریوتی سرن شرما وہ اکلوتا ہم جماعت ٹھہرا جس سے دوستی سکول چھوڑنے کے بعد بھی قائم رہی۔ دونوں کے محلے قریب قریب تھے، اس لیے بھی برابر ربط رکھنا ممکن رہا اور یگانگت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ میٹرک کے بعد ریوتی کے والد نے آگے پڑھنے نہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بیٹے نے کاروبار اور زمینوں کو

Read more

میرا ادبی نقطہ نظر

دو ادبی تکونیں جب میں ادب کے بارے میں اپنے خیالات، تصورات اور نظریات کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں دو تکونیں ابھرتی ہیں۔ ایک چھوٹی تکون اور اس کے باہر ایک بڑی تکون چھوٹی تکون کے تین کونے ہیں۔ ادیب، ادب اور قاری۔ ادب ادیب اور قاری کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کرتا ہے اور دو انسانوں کے درمیان ایک تخلیقی رشتہ قائم کرتا ہے۔ میری نگاہ میں یہ رشتہ بہت اہمیت، معنویت اور افادیت

Read more

لگائیے پیکا!

آپ گھبرائیے نہیں۔ میری کیا مجال کہ پیکا جیسے آنے پائی سے لیس، نکتہ رس قانون کو یوں سربازار للکاروں۔ درویش بہادر صحافی بھی نہیں اور وفاقی وزیر احسن اقبال تک رسائی بھی نہیں کہ سرکار دربار کے کان میں ٹھنڈی اور گرم پھونکیں مار ا کروں ۔ یہ کم نصیب تو ادب اور تاریخ کا طالب علم تھا۔ دو وقت کی دال روٹی کے لیے صحافت میں چلا آیا۔ ٹیڑھی میڑھی گلیوں کا وہ سفر بھی اب تمام ہوا

Read more

دوزخ نامہ: ناول، ٹائم مشین یا ادھڑی پھٹی دھرتی کا نوحہ

کیا تقسیم کے بعد برصغیر دوزخ بن گیا تھا؟ کیا 47 کی تقسیم 90 سال پہلے کے غدر کی ایکسٹنشن تھی؟ فتح تو کمپنی بہادر کی تھی ہی ہاں ہندو مسلم پھوٹ سے مزید آسان ہو گئی تھی۔ تقسیم کی اس کہانی کو کئی زاویوں سے فن میں مختلف اصناف میں پرکھا گیا ہے۔ عینی بی بی ہوں، انتظار حسین ہوں یا پھر نسیم حجازی۔ لکھنے والے اس واقعے کو عبرت بھی بنایا کیے ، اس سے سوال بھی اٹھایا

Read more

سعادت حسن منٹو کا ستر واں یوم وفات

18 جنوری 1955 مشہور پاکستانی افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا یوم وفات ہے۔ اردو زبان نے سعادت حسن منٹو جیسا متنوع، منفرد اور سب سے بڑا افسانہ نگار آج تک پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ راجندر سنگھ بیدی اور کرشن چندر کے ہم عصر تھے، اس وقت ان میں سے بڑا افسانہ نگار کون ہے کا سوال پیدا ہو سکتا تھا، لیکن اب بلا شک و شبہ سعادت حسن منٹو ہی اردو ادب کا سب سے بڑا اور لازوال

Read more

درد کی غیر موجودگی: جینیاتی تغیر کے فوائد، نقصانات اور نفسیاتی و جذباتی پہلو

ایک دلچسپ اور نادر طبی اور جینیاتی کیفیت جہاں کسی فرد کو درد محسوس نہیں ہوتا، جسے ”کانجینیٹل انسینسٹیوٹو پین“ (Congenital Insensitivity to Pain) یا ”کانجینیٹل اینالجزیا“ کہا جاتا ہے، انسانی جسمانیات اور جینیات کے میدان میں ایک منفرد معمہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف فرد کی جسمانی حساسیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے نفسیاتی، سماجی، اور جذباتی پہلوؤں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ درج ذیل طبی، سائنسی، اور نفسیاتی تجزیوں کے ذریعے اس

Read more

منٹو، ہم اور ہمارا عہد

اگر یہ کہا جائے کہ یہ عہد سعادت حسن منٹو کا عہد ہے تو کچھ بے جا نہ ہو گا۔ آئے دن جس طرح معصوم لوگ مذہبی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اس عہد کو ایک منٹو کی بہت ضرورت ہے۔ اتنی ضرورت جتنی شاید 1947 ء میں ہندوستان یا پاکستان کو بھی نہ تھی۔ وہی منٹو جو نہ صرف اردو کا بلکہ دنیائے ادب کا بڑا افسانہ نگار ہے اور جس نے اپنے

Read more

میں، میرے دل کی چیر پھاڑ اور فلسطینی ایوارڈ کی کہانی

دسمبر اگر قومی زندگی میں ایک دکھ بھرا ایک کرب انگیز مہینہ ہے تو اِس 2024 کا دسمبر میرے لیے بھی ذاتی حوالے سے کچھ ایسے ہی اندوہناک احساسات کا سامان لے کر آیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی کھوتے کی طرح جیون کی بار برداری کی گٹھڑیاں اٹھاتے گزار دی۔ بیماری کیا ہوتی ہے؟ اس سے شناسائی ہی نہ تھی۔ کبھی سالوں میں ایک آدھ دفعہ نزلہ، فلو یا دانت کے درد کی اذیت کے سوا کچھ

Read more

منٹو نے فحاشی کے الزام پر اپنا دفاع کیسے کیا؟

منٹو کے چھے افسانوں، ”کالی شلوار“، ”دھواں“، ”بو“، ”ٹھنڈا گوشت“، ”کھول دو“، اور ”اوپر نیچے اور درمیان“ پر فحاشی کے الزام کے تحت فوجداری مقدمے چلائے گئے۔ ان میں سے ابتدائی تین کہانیوں پر مقدمات برطانوی دور حکومت میں قائم ہوئے اور بقیہ تین تحریروں پر مملکت پاکستان میں درج ہوئے۔ آج پاکستان میں منٹو کی شائع ہونے والی کتابوں میں یہ افسانے شائع کیے جا رہے ہیں۔ ان کے فحش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ وقت نے کیا

Read more

منٹو کے آخری ایام

آج منٹو کی برسی ہے۔ سنکر بل کے شاہکار ناول ”دوزخ نامہ“ سے چند صفحات ملاحظہ کیجیے جس میں منٹو مرزا غالب کو اپنے آخری ایام کا احوال بتا رہے ہیں۔ لاہور آ کر میری شراب نوشی حد سے تجاوز کر گئی تھی، مرزا صاحب۔ کہیں کوئی دوست نہیں تھا۔ آنے والے دن بالکل تاریک دکھائی دیتے تھے۔ اگر میں مر گیا تو میرے بیوی بچے سڑک پر آ جائیں گے۔ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد وہی وارفتگی کی کیفیت ہوجاتی،

Read more

سعادت حسن منٹو: نفسیات کی روشنی میں

کہانی کب پیدا ہوئی اور کب تک جاری و ساری رہے گی، اس کا جواب اب تک کوئی نہیں دے سکا ہے، مگر دنیا میں جب تک کہانی موجود رہے گی اس وقت تک سعادت حسن منٹو کا نام زندہ رہے گا، کیوں کہ اس وقت تک منٹو کی کہانی بامعنی رہے گی۔ بلکہ اس میں نیے زاویے پیدا ہو تے رہیں گے۔ سعادت حسن منٹو کی پیدائش 11 مئی 1912ء کو ہوئی تھی اور شاید کسی نے سوچا بھی

Read more

منٹو کا فحش افسانہ؟ ٹھنڈا گوشت

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا۔ کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ کلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئی۔ ایشرسنگھ جو غالباً اپنے پراگندہ خیالات کے الجھے ہوئے دھاگے کھول رہا، ہاتھ میں کرپان لیے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ چند لمحات اسی طرح خاموشی میں گزر گئے۔

کلونت کور کو تھوڑی دیر کے بعد اپنا آسن پسند نہ آیا، اور وہ دونوں ٹانگیں پلنگ سے نیچے لٹکا کر ہلانے لگی۔ ایشر سنگھ پھر بھی کچھ نہ بولا۔ کلونت کور بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی عورت تھی۔ چوڑے چکلے کولہے، تھل تھل کرنے والے گوشت سے بھرپور کچھ بہت ہی زیادہ اوپر کو اٹھا ہواسینہ، تیز آنکھیں۔ بالائی ہونٹ پر بالوں کا سرمئی غبار، ٹھوڑی کی ساخت سے پتہ چلتا تھا کہ بڑے دھڑلے کی عورت ہے۔ ایشر سنگھ گوسرنیوڑھائے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑا تھا۔

Read more

سیاہ حاشیے۔ فسادات پر منٹو کی مختصر کہانیاں

انتساب، اس آدمی کے نام
جس نے اپنی خونریزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
”جب میں نے ایک بڑھیا کو مارا تو مجھے ایسا لگا مجھ سے قتل ہوگیا ہے۔

الُہنا: ”دیکھو یار، تم نے بلیک مارکیٹ کے دام بھی لئے اور ایسا ردی پٹرول دیا کہ ایک دکان بھی نہ جلی۔ “

آرام کی ضرورت: ”مرا نہیں۔ ۔ ۔ دیکھو ابھی جان باقی ہے“۔ ”رہنے دو یار۔ ۔ ۔ میں تھک گیا ہوں۔ “

”پوں پوں۔ ۔ ۔ پوں پوں۔ “۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موٹر کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو عورتوں کی چیخیں بھی تھیں۔
لوہے کا ایک سیف دس پندرہ آدمیوں نے کھینچ کر باہر نکالا اور لاٹھیوں کی مدد سے اس کو کھولنا شروع کیا۔

”گو اینڈ گیٹ۔ “ دودھ کے کئی ٹین دونوں ہاتھوں پر اٹھائے اپنی ٹھوڑی سے ان کو سہارا دیے ایک آدمی دکان سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ بازار میں چلنے لگا۔
بلند آواز آئی۔ ”آؤ آؤ لیمونیڈ کی بوتلیں پیو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گرمی کا موسم ہے۔ “ گلے میں موٹر کا ٹائر ڈالے ہوئے آدمی نے دو بوتلیں لیں اور شکریہ اداکیے بغیر چل دیا۔

Read more

جعلی منٹو، نقلی عصمت

سنتے آئے ہیں کہ بڑا ادیب چھوٹے ادیب کو کھا جاتا ہے۔ یہ بات جزوی طور پر قرین قیاس ہے، مکمل سچ نہیں کہ سنجیدہ لکھنے والا بڑے ادیب سے متاثر ہوئے بغیر رہ تو نہیں سکتا لیکن وہ اس کی نقل بھی نہیں کرتا اور اپنی سوچ، تجربے اور مشاہدے اور تخلیقی صلاحیت سے ادب کی تخلیق کرتا ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ہمارے نوجوان قلمکار، سب نہیں، لیکن ایک بڑی تعداد، بر صغیر کی دو اہم

Read more

سعادت حسن منٹو :اردو ادب کا اچھوتا افسانہ نگار

سعادت حسن منٹو، اردو زبان کی مختصر کہانیوں کا ایک منفرد مصنف، 11 مئی 1912 کو پنجاب ہندوستان کے ضلع لدھیانہ کے قصبہ سمرالہ میں پیدا ہوا۔ کشمیری نسل کا ایک خوبصورت، فیشن ایبل، صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنے والا، مخصوص سنہری فریم کا چشمہ لگانے والا، ادبا میں نمایاں شخصیت کا مالک، انتہائی کسمپرسی کے حال میں، دوستوں سے محرومی اور دشمنوں کے نرغے میں گھرا ہوا شخص 18 جنوری 1955 کو تینتالیس سال کی عمر میں اس

Read more

گستاخ منٹو کی پذیرائی

”معتوب منٹو، رجعت پسند منٹو، فحش نگار منٹو، غیر ترقی پسند منٹو، لاشوں کی جیبوں سے افسانے نکالنے والا منٹو، بے رحم اور سفاک منٹو، نرگسیت پسند منٹو، ذہنی عدم توازن کا شکار منٹو، سماج پر بوجھ منٹو، لطیفہ باز، یاوہ گو، سنکی، فحش نویس، دہشت پسند۔“ نہ جانے اس طرح کے کتنے من چاہے اور من پسند تمغے اپنی زخمی روح پر سجائے منٹو یہ کہتا ہوا اس جہان سے رخصت ہوا کہ اب یہ ذلت ختم ہونی چاہیے۔

Read more

شریفن ۔۔۔ یہ افسانہ سعادت حسن منٹو نے لکھا

سعادت حسن منٹو کا یہ افسانہ ان قیامت خیز دنوں کا ایک ورق پیش کرتا ہے جب راتوں رات انکشاف ہوا کہ ہندوستان میں ایک نہیں، دو قومیں بستی ہیں۔ ایک ہزار برس تک ایک ہی ملک میں رہنے والی ان دو قوموں نے جب الگ ہونے کا فیصلہ کیا تو دونوں قوموں کے اندر سے انسانیت کا کیا روپ برآمد ہوا؟ منٹو تختہ سیاہ پر سفید چاک سے افسانہ لکھتا تھا۔ ٭٭٭       ٭٭٭ جب قاسم نے اپنے گھر کا

Read more

منٹو کی اذیت کا احساس

آج سعادت حسن منٹو کو رخصت ہوئے 70 برس گزر گئے۔ کاش ہم آج صرف منٹو کی باتیں کرتے۔ اردو کے نصابی امتحان میں ناکام ہونے والے اس صاحب قلم کی باتیں جس کے براق ذہن نے جدید اردو ادب میں ادیب کا منصب متعین کیا۔ ہندوستان کے معروف ناول نگار رحمن عباس کا پہلا ناول ’نخلستان کی تلاش‘ 2004 میں شائع ہوا۔ اس ناول پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ دس سال بعد ختم ہوا۔ اسکے علاوہ آپ ”ایک

Read more

اعجاز، محبوب اور بوبی

وہ میری پیدائش سے پہلے پردیس کا ہو چکا تھا۔ میرے بچپن کی البم اور یادداشتوں میں اُس کی کوئی یاد نہیں۔ میرا اُس سے پہلا تعارف ہمارے گھر کے مہمان خانے میں لگی مصوری اور خطاطی کے فریموں سے ہوا۔ جن پر عجیب و غریب سے لوگوں کی شبیہ بنی تھی اور ایسے ہی نا سمجھ آنے والے حروف تھے البتہ وہ حروف ’اے، بی، سی‘ سے مشابہ ضرور تھے۔ میں کچھ بڑا ہوا تو میری ماں نے اپنی

Read more

حادثہ تاریخ مرتب نہیں کرتا

قوموں کی تاریخ علم، معیشت اور تمدن کے ارتقا سے مرتب ہوتی ہے۔ اس سفر میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی خاص واقعے سے جڑا ہوا تقویمی عدد علامتی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پچھلی صدی میں 22 جون 1941ء کو جرمنی نے روس پر حملہ کیا تو اس روز دوسری عالمی جنگ کا نقشہ ہی تبدیل نہیں ہوا، نتیجہ بھی طے پا گیا۔ قریب چھ ماہ بعد 7 دسمبر 1941ء کو جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ کیا

Read more

محمد فاروق بمبے والا (1940 ۔ 2024)

16 جولائی 2023، اتوار کے دن ملک کے عظیم گیت نگار حضرت تنویرؔ نقوی کے صاحبزادے شہبازؔ تنویر نقوی مجھے اپنے ساتھ محمد فاروق بمبے والا صاحب کے پاس لائے۔ سلام دعا کے بعد سب سے پہلا سوال میرے ذہن میں آیا وہ یہ کہ اِن کو بمبئی والا کیوں کہتے ہیں؟ کیا یہ بمبئی سے آئے تھے؟ شاید کوئی تعلق وہاں کی فلمی دنیا سے ہو گا! ” بمبئی والا صاحب! پہلے تو یہ بتائیے کہ آپ کو بمبے

Read more

خیر الدین کشتی سے ملاقات ( ایک فرضی قصہ )

کشتی صاحب نے مہربانی کی۔ علیل و زرد کو ہسپتال لے گئے۔ جب بھی ملتے ہیں دقائق معارف پر گفتگو ہوتی ہے۔ بس کوئی سوال پوچھتے ہیں تو ہم رواں ہو جاتے ہیں۔ دقائق معارف کا ہم تو ذکر نہیں کرتے۔ وہ پسندیدہ کتاب کا پوچھنے لگے۔ ہم نے کلام مجید کا بتایا۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ دقائق معارف کے زمرے میں آتی ہے، اس سے گریز کرتے ہیں۔ اور کتابوں کا پوچھنے لگے تو ہم نے

Read more

باچا خان: سیکولرازم کا داعی

ایک ہندوستانی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے باچا خان کہتے ہیں ” جواہر لال جی فرنٹیئر آئے تھے۔ ہمارے رضاکار اسلام زندہ باد اور نعرہ تکبیر کا نعرہ لگا رہے تھے۔ ہندوستان میں تو اس پر بہت جھگڑے ہوتے تھے۔ کہ یہ مسلمان کا نعرہ ہے۔ یہ سکھ نعرہ ہے۔ میں نے جواہر لال سے پوچھا۔ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا میں کیا جانوں؟ میں نے کہا یہ سکھ ہے ” یہ تربیت خدائی خدمت گاروں کی تھی۔ باچا

Read more

بپسی سدھوا ( 1938۔ 2024 ) ۔ عالمی ادب کی ایک انمول شخصیت

بین الاقوامی انگریزی زبان کی شہرت یافتہ مصنفہ اور ادبی شخصیت بپسی سدھوا 25 دسمبر بروز بدھ کو ہیوسٹن، ٹیکساس میں وفات پا گئیں۔ وہ 86 برس کی تھیں۔ بپسی سدھوا ایک پاکستانی ناول نگار تھیں جنہوں نے انگریزی زبان میں لکھا اور وہ امریکہ میں مقیم تھیں۔ سدھوا انڈو۔ کینیڈین فلمساز دیپا مہتا کے ساتھ اپنے مشترکہ کام کے لیے مشہور تھیں۔ وہ اپنے پُرجوش ناولوں کے لیے مشہور تھیں، بپسی نے عالمی ادب میں انمول حصہ ڈالا۔ ان

Read more

معطل آدمی کے خواب

یادوں کے کینوس پر بچپن کی اس سرد رات کی موہوم سی تصویر اب بھی قائم ہے۔ باہر برف گر رہی تھی۔ اندر کمرے میں گھی کے کنستر سے بنی انگیٹھی جل رہی تھی جس کا پیندا کاٹا گیا تھا۔اس کے باوجود خنکی رگوں میں اتر کر خون جما دینے والی تھی۔کچی چھت کے شہتیر سے ایک تار لٹکی ہوئی تھی جس کا دوسرا سرا نانا  کے چہرے کے عین سامنے آنکڑا بنا کرختم ہو رہا تھا۔ اس آنکڑے سے مٹی

Read more

فرانسیسی ادیب وکٹر ہیوگو کا ناول پھانسی

وکٹر ہیوگو ( 1802۔ 1885 ) فرانس کے نامور ادیب، شاعر، ڈرامہ نویس اور سیاست دان تھے۔ وہ اپنے رومانوی اندازِ تحریر کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ انہیں ان کے عہد کا عظیم ترین فرانسیسی ادیب گردانا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلے وکالت کی تربیت حاصل کی مگر پھر ادبی دنیا کی طرف راغب ہو گئے۔ ان کے تخلیق کردہ ادب کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں موسیقی سے بھی گہرا لگاؤ تھا اور

Read more

زرد گلاب

اے حمید صاحب اسلام آباد آئے تو میں شام کو انہیں اپنے ایک دوست کے گھر پارٹی میں لے گیا۔ میری ان سے کٔی سالوں کے بعد ملاقات ہو رہی تھی اس لیے کہ جب سے میری ٹرانسفر پنڈی اسلام آباد کردی گیٔ تھی میرا لاہور آنا جانا بہت کم ہو گیا تھا۔ اس شام حمید صاحب اپنے کارڈرائے کے ہلکے براون سوٹ میں تھے، اور ان سے ایوننگ ان پیرس کی خوشبو ارہی تھی۔ پارٹی میرے ایک دوست کے

Read more

کیا آپ سزائے موت کے حق میں ہیں؟

کیا آپ سزائے موت کے حق میں ہیں؟ اور اگر حق میں ہیں تو کیا اس کی بنیاد آپ کے مذہبی اعتقادات ہیں سیاسی نظریات ہیں یا سماجی روایات؟ سزائے موت کی روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں مختلف ممالک اور معاشروں میں قانونی مجرموں یا مذہبی گنہگاروں کو موت کی سزا دینے کے مختلف طریقے تھے کہیں انہیں سنگسار کیا جاتا تھا کہیں انہیں سولی پر چڑھا دیا جاتا تھا کہیں ان کا سر قلم

Read more

مزدور رہنما غلام دستگیر محبوب

آزادی کے 77 برس گزر جانے کے باوجود پاکستان آج بھی اقتصادی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ برصغیر پر انگریز سامراج کے تسلط کے دوران ایک طرف اس دھرتی اور اس کی مٹی کے غداروں، مخبروں اور وطن دشمنوں کو نوازنے کے لیے وسیع تر جاگیریں الاٹ کی گئیں، تو دوسری طرف سامراجی استحصالی نظام کو دوام بخشنے، آزادی کے متوالوں کو سبق سکھانے اور عوام کو کنٹرول کرنے کے لیے بیوروکریسی کا وسیع تو جال بچھایا گیا۔

Read more

اردو میں نثری تراجم کی روایت

دنیا میں مخلتف زبانوں کے ادبی فن پارے دیگر علمی سیاسی، تہذیبی اور مذہبی کتب کا دوسری زبانوں میں تراجم کی روایت بہت پرانی ہے۔ جن کی وجہ سے دنیا کی مختلف زبانوں نے ایک دوسرے سے نظریات حاصل کیے۔ مختلف زبانیں بولنے والوں کی روایات، مفادات اور نفسیات سے آگاہی حاصل ہوئی۔ بلاشبہ ہر زبان میں تراجم کی روایت مختلف ہے۔ اس کا تعلق زبانوں کی عمروں اور ان میں علمی ذخائر سے ہے۔ لفظ ترجمہ کے لیے انگریزی

Read more

راکھ جس سے ہمارے چہرے آج تک سیاہ ہیں

بعض لکھاریوں کو خدا ایسا زور قلم عطا کرتا ہے کہ ان کی تخلیقات انسان بارہا پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کا شمار بھی ایسے لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ اپنے سفر ناموں کی وجہ سے مشہور ہیں مگر ان کے تخلیق شدہ ناول بھی بہت دلچسپ و حیران کن ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ کا ناول ”راکھ“ اس قدر شاندار ہے کہ اس ناول کو بار بار پڑھنے کا دل چاہتا ہے۔ اس ناول کا

Read more

اردو افسانہ، جنگ، عصرِ حاضر اور فلسطین

جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبۂ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عالمی افسانہ اور اردو افسانہ بھی جنگوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ جنگ کے اردو افسانے پر اثرات اور فلسطین اور اردو افسانہ پر بات کرنے سے قبل ہم اردو افسانے کا مختصر جائزہ لیں گے۔ جہاں تک اردو افسانے کا تعلق

Read more

کنوارے کی فریاد

’ آج سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو‘ اس خدائی حکم کے بعد آدم اور حوا کو جنت سے نکال دیا گیا آسمانی صحائف تو گیہوں پر الزام دھرتے ہیں تاثیر بھی تو گرم ہے اس میوے کی ہمیشہ سے لباس فطرت میں کود پھاند کرتے آدم کو برہنگی کا احساس دلا دیا۔ سائنس کے مطابق ہومو سپیئن سے پہلے ہومونی انڈرتھل زمین پر بستے تھے۔ بھلے ہی اس نے تہذیب ایجاد کر لی لیکن ہر دور کا انسان

Read more

منزل دور نہیں

زمانی اور مکانی حدود سے بالاتَر، ہر عہد میں، ہر زمانے میں، ہر شہر اور ہر بستی میں اچھے، خوبصورت، محبت کے قابل اور احترام کے مستحق لوگ ہوتے ہیں۔ ڈھلتی ہوئی شام کو میری نظریں ریل کی پٹری کے اوپر تھیں اور میں بے تابیِ سے ریل کا انتظار کر رہا تھا میرے ساتھ میڈیا منڈی کے مصنف اکمل شہزاد گھمن صاحب تھے سنا تھا کہ اب ریل کی آمد اور روانگی میں کچھ باقاعدگی دَر آئی ہے مگر

Read more

فائنل کال: تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ اور دھرنے کی کال دی ہے۔ اس فائنل کال میں کیا نیا ہو گا ’اس بارے میں کوئی حتمی پیشگوئی خاصی دشوار ہے۔ ایک وقت تھا جب جوش ملیح آبادی کے معاشقوں کا غلغلہ تھا۔ آج کل عمران خان کی احتجاجی کالوں کا چرچا ہے جوش کی طرح خان ہی ان کا جواز بتا سکتے ہیں۔ یار آشنا اور دل ربا نہ ہو تو تنہائی ڈسنے لگتی ہے اور

Read more

شرطیہ پرانا پرنٹ اور داغوں کی بہار

اخبار سے خبر تو اب غائب ہو گئی۔ کالم کے نام پر خامہ فرسائی کے اطوار بھی چراغ حسن حسرت کے لفظوں میں ’کثرت استعمال‘ سے متروک ہو رہے ہیں۔ فکاہیہ کالموں میں ایک عطا الحق قاسمی اگلے وقتوں کی نشانی بچے ہیں۔ رپورٹنگ سے کالم کا رخ کرنے والے خبر کو کالم کا لبادہ پہناتے ہیں مگر صیغہ متکلم کی خود آرائی اور مبینہ ذرائع کے دام میں الجھ جاتے ہیں۔ کچھ ماضی کے آثار ہیں جنہیں شاید نظریاتی

Read more

ادب کا تاریخ سے تعلق: تاریخ کیا ہے؟

تاریخ کیا ہے؟ بظاہر یہ بڑا آسان سوال محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں بڑا مشکل سوال ہے یقین نہ آئے تو دو چار حضرات سے پوچھ لیجیے آپ کو ایک ہی سوال کے مختلف جواب ملیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سب کے جوابات بھی ایک دوسرے سے تضاد رکھتے ہوں۔ تاریخ کسی کے لیے ماضی کی بے معنی کہانی، سلطنتوں کے عروج و زوال کے قصے، درباروں کے جاہ چشم کی کہانی، اقتدار کی کشمکش اور

Read more

منیر نیازی کی شاعری کی خصوصیات

منیر نیازی کی شاعری کی خصوصیات: ؎ ویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیں آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں قیام پاکستان کے بعد شعراء میں منیر نیازی کی شاعری انفرادیت کا نشان ہے۔ انہوں نے فرد کے باطن کی گہرائی میں اتر کر فکر کے ایسے موتی دریافت کیے جن کی چمک دھمک بالکل نئی تھی اور ایسا پیرانہ شاعری اختیار کیا جو ایوان شاعری میں نئے موز کی اطلاع دیتا دکھائی دیتا ہے۔ منیر نیازی کا تعارف:

Read more

ڈاکٹر ضیا الحسن: خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں

اورینٹل کالج میں ایم۔ اے اُردو کا پہلا روز تھا۔ کلاسز کا آغاز ہوا تو اساتذہ تشریف لاتے اور اپنے ابتدائی لیکچر میں طلبا و طالبات سے ان کا تعارف پوچھتے۔ پہلے روز یونہی دو تین لیکچر بیت گئے پھر ایک استاد تشریف لائے۔ خوبصورت پروقار چہرہ، خندہ پیشانی، جس پر بالوں کی لٹ دورانِ کلام گرے تو بڑھ سلیقے سے اس کو درست کرتے، زلف گھنی جس میں چاندی چمک رہی ہے، ماتھا شکن سے پاک، آنکھوں پہ نظر

Read more

جب امیر پھپھو گھر آئے

خالہ کہاں تھیں آپ اتنے دنوں سے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے آپ کو، قسم سے ہم سب اداس ہو گئے تھے۔ خالہ کے گلے لگتے ہوئے بینا نے پیار بھرا شکوہ کیا۔ تم تو ایسے مل رہی ہو جیسے برسوں بعد آئی ہوں۔ بینا کی محبت پہ خالہ نہال ہو گئیں۔ آج بھی نہیں آتیں تو میں ذاکر کو بھیجنے والی تھی آپ کو لینے، آپ تو بھول ہی گئیں بہن کو۔ پورے تیرہ دن بعد آئی ہیں۔ امی کا

Read more

کیا خوشی ایک سراب ہے؟

  پچھلے دنوں میں گوئٹے انسٹیٹیوٹ کراچی میں ایک پروگرام بنام ”داستان گوئی اینڈ ریڈنگ فرام کافکا ٹیکسٹس“ میں شریک ہوا، جس میں سعادت حسن منٹو اور کافکا کی تصنیف کردہ کہانیاں پیش کی گئیں۔ کافکا اور منٹو کی تصاویر کو ایک ہی اسٹیج پر دیکھ کر دل میں خیال آتا ہے کہ ان دو شخصیات کو ایک ہی نشست میں جوڑنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ حالانکہ دونوں مختلف ثقافتوں، زبانوں، اور دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن

Read more

منٹو کا افسانہ نیا قانون اور حالیہ آئینی ترمیم

یارانِ نکتہ داں کے درمیان گزشتہ کئی دنوں سے آئینی ترمیم پر دھواں دار انداز میں بحث و مباحثہ جاری ہے ایک کہتا ہے کہ آئینی ترمیم کا بڑا فائدہ ہوا ہے تو دوسرے کا کہنا ہے کہ نہیں اس سے رتی برابر کا بھی فائدہ نہیں ہونے والا نہ کسی کی بے یارومددگار ذات کو نہ کسی کی خستہ و شکستہ حالت کو۔ لیکن مجھ ایسے کم فہم کو یہ بھی نہیں معلوم کہ آخر یہ آئینی ترمیم کس

Read more

اک اور نوابزادہ نصر اللہ خان کی تلاش

نوابزادہ نصر اللہ خان کی وفات کے 21 سال بعد صدر آصف علی زرداری نے ان کی جمہوریت کے لئے خدمات کے اعتراف میں ”نشان امتیاز“ دینے کے لئے کابینہ ڈویژن کو ہدایات جاری کر دی ہیں سرکاری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کو ”نشان امتیاز“ بعد از موت دیا جائے گا پچھلے 21 سال کے دوران کسی حکومت کو ”بابائے جمہوریت“ نوابزادہ نصر اللہ خان کو پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دینے کا خیال نہیں آیا

Read more

ترقی کا محرک

دنیا نے آج تک جتنی ترقی کی ہے اس کے پیچھے جن چیزوں کا ہاتھ ہے اس میں پہلے نمبر پر تجسس اور محرک آتے ہیں اور ان دونوں کا کام سب سے زیادہ ہے۔ یہ تجسس ہی ہے جو سوال کو جنم دیتا ہے اور پھر ہم اس سوال کے جواب ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ یہ تجسس ہی ہے جس کی وجہ سے آدم دنیا میں بھیجے گئے۔ انسان جب غاروں میں رہتا تھا اور اس کے پاس پہنے کے

Read more

کل کا دن کیسا رہے گا

بھلے وقتوں کی بات ہے جب لاہور کی باقاعدہ سرحد دریائے راوی اور راوی کے پُل پہ مستقل پولیس کا ناکہ ہوتا تھا۔ اس وقت وہ نسل بھی جوان تھی جو اقبال پارک کو منٹو پارک کے نام سے جانتی اور پکارتی تھی۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی اور بدلتے حالات نے حالت بھی بدل دی۔ شہر بھی پھیلنے لگے، بقول جنابِ پطرس پھر لاہور کے اردگرد بھی لاہور ہی ہونے لگا۔ دریائے راوی بڈھا دریا ہو گیا اور وہ

Read more

پچاس کی دہائی کا پاک ٹی ہاؤس

سید راشد اشرف بے پناہ آدمی تھے۔ اردو ادب کے قبیلے میں کون ہے جو سید راشد اشرف کو نہیں جانتا۔ اور جو نہیں جانتا، اس کے جانے یا نہ جاننے سے کیا فرق پڑتا ہے کہ جون 1932 میں پیدا ہونے والے سید راشد اشرف تو مارچ 2023 سے وجود اور عدم سے ماورا اس پینگ کے ہلارے میں ہیں جہاں شفق رنگ بدلیوں میں اڑان بھرتے پرندے ان کی ہر آن بلائیں لیتے ہیں۔ ***       

Read more