سو برس بعد کی دنیا کی ایک جھلک – 1


\"waqarمغربی ماہرین نے آج سے سو سال بعد کے حوالے سے ”دی سمارٹ تھنگز فیوچر لیونگ“ نامی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ 2116ءمیں تھری ڈی پرنٹڈ گھر، زیر آب شہر اور موجودہ فلک بوس عمارتوں سے کہیں زیادہ بلند عمارتیں حقیقت بن جائیں گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے سو برس کے دوران زیر زمین 25 منزلہ عمارتیں تعمیر کی جائیں گی، زیر آب شہر وجود میں آئیں گے، جنہیں ”ببل سٹی“ کہا جائے گا۔ لوگوں کے پاس ذاتی ڈرون طیارے ہوں گے، جن کی مدد سے وہ نقل و حرکت کریں گے اور دنیا بھر کی سیر کرسکیں گے۔ گھروں میں موجود فرنیچر تھری ڈی پرنٹڈ ہو گا جبکہ گھروں کی نقل اور ساخت کو بھی پرنٹ کیا جا سکے گا۔ ان ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگلی صدی میں ہم اپنے پسندیدہ شیفس کی ڈشیں ڈاﺅن لوڈ کر کے پرنٹ کرنے کے اہل ہو جائیں گے اور یہ چند لمحوں ہی میں کھانے کے قابل ہوں گی۔ اس کے علاوہ چاند اور مریخ پر آباد کاری بھی ہو جائے گی اور خلا میں جانے کے لیے باقاعدگی سے کمرشل فلائٹس روانہ ہوں گی۔ نیز گھروں کی دیواریں ایل ای ڈی سکینرز پر مشتمل ہوں گی، جنہیں موڈ کے مطابق تبدیل اور سجایا جا سکے گا۔

 مالک حقیقی ہی بہتر اور خوب جانتا ہے مگر قرائن بتاتے ہیں کہ جس دارالکفار کی صنعتی ترقی اور سائنسی ٹیکنالوجی نے زمین کی طنابیں کھینچ کر رکھ دی ہیں اور صدیوں کے فاصلے لمحو ں میں طے ہونے لگے ہیں، جن کی انفارمیشن ٹیکنالوجی پوری دنیا کے علوم اور تاریخ کو سمیٹ کر انٹر نیٹ پر لے آئی ہے اور ہر کسی کو ہر لمحہ دنیا بھر سے رابطہ میسر ہے۔جن کی سائنس نے انسانی جسم کے ہر خلیے، اس کی ساخت کے ہر ریشے اور اس کی بافت کے ہر گوشے کو بے نقاب کردیا ہے، جن\"3d-printed-houses-reality\" کی ٹیکنالوجی نے ہر انسان پر کائنات کے اسرار و رموز پر ناقابل یقین تحقیق کے در وَا کردیئے ہیں اور جنہوں نے اپنے جدید علوم کی بدولت فطرت کی ان قوتوں کو زیر کر لیا ہے جو ماضی میں انسان کے لیے ناقابل فہم معمہ تھیں، ان سے کیا بعید کہ وہ آئندہ صدی میں یہ سب کچھ بھی کر گزریں۔

ہمارے ’ایمان کی مضبوطی‘ اپنی جگہ لیکن اگر ہم آج سے سو برس قبل کی اپنی ’بے آب و گیاہ‘ زندگی اور موجودہ دور کی سہولتوں کا تقابل کریں تو ان سائنسی پیشگوئیوں پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ گزشتہ صدی کے ہمارے آباﺅ واجداد، جن کے سفر کے لیے فقط ان کے اپنے پاﺅں یا گھوڑے اور خچر ہی دستیاب تھے، اگر آج کے ڈیجیٹل زمانے اور سیٹلائٹ عہد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے یہاں آ سکیں تو حیرت سے دوبارہ فوت ہو جائیں۔ کیا مہینوں اور سالوں کا پاپیادہ یا بحری سفر کر کے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے والے سوچ سکتے تھے کہ ان کے بچے چارٹرڈ فلائٹس سے چند گھنٹوں میں مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں اپنے بچوں کے نکاح پڑھوا کر واپس بھی آ جائیں گے یا لنچ دبئی اور ڈنر کراچی میں کریں گے؟ رفتگان کو چھوڑئیے، کیا خود ہم لوگ چند برس قبل موبائل فون،آئی پیڈ، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ،انٹر نیٹ، وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹا گرام جیسی محیرالعقول اشیا کا تصور بھی کر سکتے تھے؟\"edible-growth\"

مالک حقیقی بہتر اور خوب جانتا ہے مگر حالات و واقعات کی روشنی میں تو کوئی بھی آنکھوں اور کانوں والا سو برس بعد کی اس حیرت انگیز زندگی سے انکار نہیں کر سکتا جو غیر مسلم ہماری خدمت کے لیے لائف سیونگ ڈرگز،بائیسکل، موٹر سائیکل، موٹر کار،ٹرین، جہاز، بجلی، فون، کمپیوٹر، انٹر نیٹ، سیٹلائٹ، لاﺅڈ سپیکر، فریج، پنکھے، سلائی مشین، واشنگ مشین، فائر بریگیڈ، ایمبولینس حتیٰ کہ عینک اور بال پوائنٹ جیسی لا تعداد چیزیں ایجاد کر سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو اپنے ہاں جمہوریت، مساوات، بنیادی حقوق، شخصی آزادیاں، احترام آدمیت، رواداری اور قانون کی حکمرانی کا معتبر نظام کامیابی سے متعارف کرا    کے قابل تقلید وسیع النظر سماج قائم کر سکتے ہیں، وہ کائنات کی وسعتوں اور سمندر کی تہوں کو چیر کر شہر بھی آباد کر سکتے ہیں۔ آج اگر ناسا دوربین کی مدد سے خلا میں 13ارب40کروڑ نوری سال دور واقع جی این زیڈ 11نامی کہکشاں کی تصاویر جاری کر سکتا ہے، امریکی ماہرین فلکیات نظام شمسی کا 9واں سیارہ دریافت کر سکتے ہیں، خلا میں عالمی سپیس سٹیشن میں پھول کھلا سکتے ہیں، ان کا خلائی جہاز4ارب70کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پلوٹو کو چھو سکتا ہے، اگر ان کے سائنسدان اپنی مریخ گاڑی کیوروسٹی کی \"ford4\"لیبارٹری میں مریخ کے ”کمبر لینڈ“ پتھروں کا زمین پر بیٹھ کر تجزیہ کر سکتے ہیں کہ یہ اربوں سال پہلے پانی کی جھیل میں پڑے تھے، اگر قتالہ مغرب کے ماہرین فلکیات اور سائنسدان تحقیق سے زمین جیسے 8.8ارب سیاروں کا ”گولڈی لاک زون“ دریافت کر سکتے ہیں،اپنے خلائی روبوٹ زمین سے کروڑوں میل دور دمدار ستاروں پر اتار سکتے ہیں، اپنے خلائی سٹیشن سے اس کے مدار پر دنیا بھر میں سوا چار کروڑ طالب علموں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، خلامیں 180سے زائد مرتبہ چہل قدمی کر سکتے ہیں، سوچنے والی مشینیں بنا سکتے ہیں، چار سالہ بچے کو مصنوعی پتہ لگا سکتے ہیں اور ماں کے پیٹ میں بچے کے دل کا آپریشن کر سکتے ہیں تو سو برس بعد ان کے لیے 3D پرنٹڈ گھر، چاند اور مریخ پر انسانی آبادکاری اور زیر زمین اور زیر آب شہر بسانے جیسے ” مافوق الفطرت“ کام بھی ممکن ہیں۔

یاد رہے کہ یہ سو سال بعد کی صرف ایک دنیا کی جھلک ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں وہاں ایک دوسری دنیابھی ”آباد و شاد“ ہو گی جسے لوگ ”نرالی دنیا“ کے نام سے \"underwater\"یاد کریں گے۔ مالک حقیقی ہی بہتر اور خوب جانتا ہے مگر قرائن بتاتے ہیں کہ سو سال بعد نرالی دنیا کے پارسا لوگ پہلی دنیا کی ایجاد سے مستفید ہو کر اپنی پسندیدہ ڈشیں ڈاﺅن لوڈ کر کے تناول فرماتے ہوئے ان کے معاشروں کے اندر سے کھوکھلا ہونے اور کسی بھی وقت دھڑام سے زمین بوس ہونے کی پیش گوئیاں کر رہے ہوں گے۔ اگلی صدی میں جس دن اول الذکر دنیا مریخ پر پہلی اینٹ لگائے گی، اسی دن موخر الذکر دنیا والے بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے سنجیدگی سے غور شروع کر دیں گے۔ اس دنیا کی باتیں اگلی نشست میں….


سو برس بعد کی دنیاکی دوسری جھلک – 2
Facebook Comments HS

Comments are closed.