نواز شریف: مسلم لیگ ن کے قائد پر ’غداری‘ اور ’بغاوت پر اُکسانے‘ کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج، پارٹی رہنماؤں کا شدید ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف

Reuters
سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے خلاف صوبائی دارالحکومت لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں ’غداری‘ اور ’ریاست کے خلاف بغاوت پر اُکسانے‘ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ بدر رشید نامی ایک شہری کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔ نواز شریف کے خلاف درج ہونے والی ایف ائی آر میں غداری، ریاست کے خلاف بغاوت پر اُکسانے اور سائبر کرائم ایکٹ پیکا کی دفعات سمیت مجموعی طور پر 12 مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 120، 120 اے، 120 بی، 121، 121 اے (ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانا)، 123 اے، 124، 124 اے (غداری)، 153، 153 اے، 505 اور سائبر کرائم ایکٹ پیکا کی دفعہ دس بھی شامل ہے۔

لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں نواز شریف کے خلاف درج ایف آئی آر میں درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ ’نواز شریف پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں سے مجرم قرار پائے ہیں اور انھوں نے گذشتہ ماہ 20 ستمبر کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس اور یکم اکتوبر کو اپنی پارٹی کے اجلاس میں کی گئی تقاریر میں نہ صرف ملکی اداروں کو بدنام کیا ہے بلکہ عوام کو بغاوت پر اکسایا بھی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’اے پی سی پیچھے رہ گئی، نواز شریف کی تقریر بہت آگے نکل گئی‘

’عاصم باجوہ کو ویسے ہی کلین چٹ دی گئی جس طرح ثاقب نثار نے بنی گالہ کو دی تھی‘

عمران خان: ’میرے پوچھے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو اسے فارغ کر دیتا‘

نواز شریف کی جانب سے مختلف مواقع پر کی جانے تقاریر پر حال ہی میں ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’نواز شریف جو گیم کھیل رہے ہیں وہ بہت خطرناک ہے، یہی الطاف حسین نے کیا، میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ ان کے پیچھے 100 فیصد انڈیا ہے اور وہ ان کی پوری مدد کر رہا ہے، پاکستان کی فوج کمزور کرنے پر دلچسپی ہمارے دشمنوں کی ہے۔‘

ایف آئی آر کی قانونی حیثیت

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کے اندراج پر بی بی سی بات کرتے ہوئے قانونی ماہر اسد جمال کا کہنا ہے کہ ’ایف آئی آر میں درج دفعات بنیادی طور پر ریاست کے خلاف جرم کی ہیں اور ایسے مقدمات میں عام شہری کی درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی۔‘

تاہم ان کے مطابق پاکستان میں اس قسم کے سنگین مقدمات عام شہریوں کی جانب سے جمع کروائی جانے والی درخواستوں کی بنیاد پر درج کیے جانے کی روایات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے یا نہیں اس حوالے سے قانون میں ابہام ہے تاہم قانون میں یہ لکھا ہے کہ یہ دفعات عدالت کے اختیارِ سماعت میں نہیں آتیں۔

اسد جمال کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ملک کی عدالتیں دو قسم کی رائے رکھتی ہیں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ عدالت کی سماعت کے دائرہ اختیار میں نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ایف آئی درج نہیں ہو سکتی۔

تاہم ایسے فیصلے بھی موجود ہیں جن میں عدالت نے یہ کہا ہے کہ عام شہری کی درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی کیونکہ کسی ایف آئی آر کا مطلب ہے کہ معاملہ عدالت کے لیے سماعت کے قابل ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اصولاً ان دفعات کے تحت مقدمات کے اندراج کے لیے ریاست کے ذمہ دار ادارے سے اجازت لینا ضروری ہے۔‘

اسد جمال کے مطابق اس طرح ایک عام شہری مقدمے کے لیے درخواست دے سکتا ہے تاہم اس کو متعلقہ ادارے کو بھجوایا جانا ضروری ہے اور اس کے بعد ریاست اگر سمجھے کے الزامات اس نوعیت کے ہیں تو ریاست کے خلاف جرائم کے قانون کے تحت کارروائی کر سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اسی طرح سائبر کرائم ایکٹ پیکا کے تحت مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے بھی پہلے مجسٹریٹ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اسد جمال کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے سے اس قسم کے مقدمات دیکھنے میں آ رہے ہیں جو عام شہریوں کی طرف سے درخواست پر درج کیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد آواز اور آزادی رائے کو دبانا ہے۔‘

مسلم لیگ ن کا ردعمل

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیے جانے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آئین کی بات کرنا، عوامی مسائل کو اجاگر کرنا بغاوت ہے تو ہر روز بغاوت ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی وزرا میں ہمت ہے تو بدر بشیر کا سہارا نہ لیں، خود سامنے آئیں، وزیر داخلہ اپنے نام سے مقدمہ درج کروائیں، مسلم لیگ ن ان مقدمات کا سامنا کرے گی۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’اگر اپنے حق کے لیے بات کرنا بغاوت ہے تو ہر روز یہ بغاوت ہو گی، اگر حکومت کو گھر بھیجنے کی بات کرنا غداری ہے تو ہر روز یہ بغاوت ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا شاید ملک میں عوامی مسائل ختم ہو گئے ہیں اس لیے وفاقی وزرا چار پانچ روز سے پریس کانفرنسز کر رہے ہیں۔ انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کارکردگی سے بات کرتی ہے، گالیوں سے بات نہیں کیا کرتی۔ وفاقی ورزا سے کہتا ہوں کہ سیاسی میدان میں مقابلہ کرنا ہے تو آؤ۔‘

شاہد خاقان عباسی

Getty Images
شاہد خاقان عباسی: آئین کی بات کرنا، عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اگر بغاوت ہے تو بغاوت ہر روز ہو گی

اس سے قبل مسلم لیگ کے صدر اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف کے خلاف مقدمے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’نواز شریف پر غداری کے مقدمے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔‘

جبکہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’جس شخص نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اس پر غداری کا مقدمہ افسوسناک ہے۔‘

جبکہ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا کرپشن کا بیانیہ ناکام ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غداری اور بغاوت کے مقدمے حکومت کے آخری داؤ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور کارکنان کو محب وطنی کے لیے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔

عظمیٰ بخاری نے ماضی کے تلخ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو بھی غدار قرار دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے بھی مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے نیپال میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے خفیہ ملاقات کی ہے۔

جبکہ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر کو پارٹی قائد محمد نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نوازشریف کا ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔

ان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق محمد زبیر پارٹی قائد اور مریم نوازشریف سے متعلق ترجمانی کی ذمہ داری انجام دیں گے۔

اس موقع پر سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ ’تین مرتبہ کے وزیر اعظم کی ترجمانی کرنا آسان کام نہیں ہے، پوری ذمہ داری سے فرائض انجام دینے کی کوشش کروں گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15977 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp