آرمینیا آذربائیجان لڑائی: لوگ گرجا گھر میں پناہ لینے پر مجبور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ایک ہفتے سے جاری مسلح جھڑپوں کے باعث اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔

دونوں اطراف سے بھاری ہتھیاروں اور ٹینکوں سے ہونے والی گولہ باری کے باعث حالیہ جنگ کی وجہ بننے والے علاقے ناگورنو کاراباخ کا ایک گرجا گھر لوگوں کے لیے اب ایک پناہ گاہ بن چکا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق گرجا گھر کے قریب رہائش پذیر افراد کے لیے اس گرجا گھر کا تہہ خانہ ایک محفوظ پناہ گاہ ہے۔

یہاں موجود پادری کا کہنا تھا کہ پورے علاقے میں یہ گرجا گھر ہی سب سے زیادہ محفوظ جگہ ہے۔ یہاں پناہ گزینوں کے لیے انتظام کیا گیا ہے تاہم بار بار بجلی کی بندش کا سامنا ہے۔

گرجا گھر کا وسیع و عریض ہال نما تہہ خانہ کئی گھرانوں کے لیے عارضی گھر بن گیا ہے جہاں لوگ ٹولیوں کی شکل میں رنگ برنگے کمبل اوڑھے بیٹھے ہیں۔

ایک سال کی اینجلینا کو گود میں سنبھالے پناہ گزین خاتون گوہر نے بتایا کہ وہ گرجا گھر میں تین روز سے مقیم ہیں۔ یہاں موجود خواتین کا زیادہ تر وقت بچوں کی دیکھ بھال میں گزر جاتا ہے کیوں کہ بہت سے مرد محاذ جنگ پر ہیں۔

گوہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز انہیں اپنی 23 سالہ دوست کی ہلاکت کی خبر ملی جب کہ اس جنگ میں شریک اُن کے بھائی کی بھی تاحال کوئی خبر نہیں ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان لڑائی میں اب تک 40 شہریوں سمیت 250 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گوہر کاراباخ چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ وہ اُمید کرتی ہیں کہ یہ سب جلد ختم ہو گا اور وہ اپنے گھر میں آرام سے رہ سکیں گی۔

جنگ کے باعث بہت سے خاندان ناگورنو کاراباخ چھوڑ کر محفوظ مقامات میں منتقل ہوئے ہیں۔ کئی لوگ رات کی تاریکی کا فائدہ اُٹھا کر وقتاً فوقتاً اپنے گھر سے کھانا اور کپڑے بھی لے آتے ہیں۔

ناگورنو کاراباخ میں خوراک کی کمی کی شکایات بھی بڑھتی جا رہی ہیں جب کہ کئی رفاہی تنظیمیں جنگ سے متاثرہ افراد کو اشیائے خورو نوش فراہم کر رہی ہیں۔

گرجا گھر میں موجود ایک پادری کا کہنا تھا کہ “ہم دشمن کو اپنے ملک کے اندر نہیں آنے دیں گے۔ یہ آرمینین مسیحیوں کی سرزمین ہے اور یہاں کسی کو قبضے کی اجازت نہیں دیں گے۔”

ناگورنو کاراباخ تنازع ہے کیا؟

خیال رہے کہ ناگورنو کاراباخ سوویت یونین کا ایک خود مختار علاقہ تھا۔ لیکن اسی کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آرمینیا سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں خونی جنگ کے بعد ناگورنو کاراباخ کے علاقے پر قبضہ کیا تھا۔

آرمینی اکثریت والے اس علاقے نے 1988 میں آزادی کا اعلان کر دیا تھا جس کے نتیجے میں آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی، جو چھ سال جاری رہی۔

یہ جنگ 1994 میں ختم ہوئی اور اس کے بعد بین الاقوامی برادری کی امن قائم کرنے کی بارہا کوششیں ناکام رہی ہیں۔

نویں کے عشرے سے جاری اس تنازع میں اب تک تیس ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ تجزیہ کار دونوں ملکوں کے درمیان جاری جنگ کو گزشتہ دو دہائیوں کی سب سے زہادہ شدید لڑائی قرار دے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 196 posts and counting.See all posts by voa