آن لائن اور آف لائن کا تقابل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


حالیہ برسوں میں فیس بک کو حیرت انگیز کامیابی ملی ہے۔ اس وقت، اس میں دو ارب سے زیادہ متحرک آن لائن صارفین ہیں۔ پھر بھی اس کے نئے وژن کو نافذ کرنے کے لیے آن لائن اور آف لائن کے مابین کشمکش کو ختم کرنا پڑے گا۔ ایک کمیونٹی بطور آن لائن اجتماع کے شروع ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں اسے نشو و نما پانے کے لیے آف لائن دنیا میں بھی جڑیں پانا ہوں گی۔ اگر ایک دن کچھ ڈکٹیٹر اپنے ملک سے فیس بک پر پابندی لگاتے ہیں، یا اسے مکمل طور پر انٹرنیٹ سے ہٹا دیتے ہیں، تو کیا یہ آن لائن کمیونیٹی ختم ہو جائیں گی، یا پھر دوبارہ جمع ہو کر لڑیں گی؟ کیا وہ آن لائن مواصلات کے بغیر کسی مظاہرے کا اہتمام کر سکیں گی؟

مارک زکر برگ نے فروری 2017ء کے اپنے منشور میں وضاحت کی تھی کہ آن لائن کمیونٹیاں، آف لائن تعلقات کو فروغ دینے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ کبھی کبھی سچ ہوتا ہے۔ پھر بھی بہت سے معاملات میں آن لائن تعلق، آف لائن کی قیمت ادا کرنے پر آتا ہے۔ لیکن پھر بھی ان دونوں میں بنیادی فرق ہے۔ جسمانی برادریوں میں گہرائی ہے، جس کا مقابلہ ورچوئل کمیونٹیاں نہیں کر سکتیں۔ کم از کم مستقبل قریب میں ایسا ممکن نہیں۔ اگر میں اسرائیل میں اپنے گھر کے اندر بیمار پڑا ہوں، تو کیلیفورنیا سے میرے آن لائن دوست مجھ سے بات کر سکتے ہیں، لیکن وہ مجھے سوپ یا ایک کپ چائے لا کر نہیں دے سکتے۔

انسانوں کے جسم ہوتے ہیں۔ پچھلی صدی کے دوران میں ٹیکنالوجی ہمیں اپنے جسم سے دور کرتی رہی ہے۔ ہم خوشبو اور ذائقے پر توجہ دینے کی اپنی صلاحیت کھو رہے ہیں۔ اس کے بجائے، ہم اپنے اسمارٹ فون اور کمپیوٹر میں جذب ہیں۔ ہمارے سامنے سڑک پہ جو ہو رہا ہے، اس سے زیادہ ہمیں سائبر اسپیس میں ہونے والے تبدیلیوں میں دلچسپی ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں اپنے چچا زاد بھائی سے بات کرنا، پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے، لیکن میرا اپنے شوہر کے ساتھ ناشتے کے وقت بات کرنا زیادہ مشکل ہے، کیوں کہ وہ مجھے دیکھنے کی بجائے مستقل طور پر اپنے اسمارٹ فون کو دیکھتا ہے۔

ماضی میں، انسان اتنی بے پروائی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ قدیم متلاشی ہمیشہ محتاط اور دھیان سے رہتے تھے۔ وہ مشروم کی تلاش میں جنگل میں گھومتے پھرتے، انہوں نے یہ جاننے کے لئے گھاس میں ہلکی سی حرکت بھی سنی کہ آیا وہاں کوئی سانپ تو نہیں ہے۔ جب انہیں ایک خوردنی مشروم مل گیا تو انہوں نے اسے انتہائی احتیاط کے ساتھ کھایا، تا کہ وہ مشروم کی زہریلی قسم سے بچ سکیں۔ آج کی متمول معاشروں کے ارکان کو اتنی گہری آگہی کی ضرورت نہیں ہے۔

The Mall Lahore c. 1960s

ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے وقت ہم سپر مارکیٹ کے اندر گھوم سکتے ہیں اور ہم ایک ہزار برتنوں میں سے کسی کو بھی خرید سکتے ہیں، کیوں کہ ان معاملات کی نگرانی کرنا، محکمہ صحت کی ذمہ داری میں شامل کر دیا گیا ہے۔ شاید اسی لیے جب ہمیں کسی بھی کھانے والی چیز کا انتخاب کرتے ہیں، تو ہم اسے ای میل کی جانچ کرنے یا ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے ختم کر لیتے ہیں، اور اصل ذائقے پر مشکل ہی سے دھیان دیتے ہیں۔

مارک زکر برگ کا کہنا ہے کہ فیس بک اپنے ٹولز کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے، تا کہ آپ لوگوں کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کر سکیں۔ تاہم لوگوں کو سچ مچ میں سب سے زیادہ ایسے ٹولز کی ضرورت ہے، جن کی مدد سے وہ اپنے آپ سے رابطہ قائم کر سکیں۔ فیس بک استعمال کرنے والوں کی جبلت یہ ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی دلچسپ واقعہ پیش آتا ہے تو وہ اپنے اسمارٹ فون کو نکالیں، تصویر لیں، آن لائن پوسٹ کریں اور ’لائیکس‘ کا انتظار کریں۔ اس عمل میں وہ بمشکل ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ خود کیا محسوس کرتے ہیں۔ حقیقت میں وہ کیا محسوس کرتے ہیں، وہ تیزی سے آن لائن رد عمل کے ذریعے طے ہوتا ہے۔

لوگوں کو ان کے جسم، حواس اور جسمانی ماحول سے الگ کر دیا گیا ہے۔ مذہبی اور قومی پابندیوں کے خاتمے پر اکثر پنڈت اجنبی احساسات کا الزام لگاتے ہیں، لیکن آپ کا اپنے جسم سے رابطہ کھونے کا امکان زیادہ اہم ہے۔ انسان لاکھوں سال تک مذاہب کے بغیر اور قوموں کے بغیر زندہ رہا ہے۔ وہ اکیسویں صدی میں بھی ان کے بغیر خوشی خوشی زندگی گزار سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ اپنے جسم سے منقطع ہو گئے ہیں، تو خوشی سے زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ اگر آپ اپنے جسم میں گھر محسوس نہیں کرتے، تو آپ دنیا میں کبھی بھی گھر محسوس نہیں کریں گے۔

ابھی تک، فیس بک کے اپنے بزنس ماڈل نے، لوگوں کو زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن گزارنے کی ترغیب دی ہے۔ یہاں تک کہ اس ماڈل کا مطلب یہ ہے کہ آف لائن سرگرمیوں میں وقت اور توانائی کے استعمال کی کم ضرورت ہے۔ کیا فیس ایک نیا ماڈل اپنا سکتا ہے، جو لوگوں کو صرف اسی وقت آن لائن جانے کی ترغیب دے، جب یہ واقعی ضروری ہو، تا کہ باقی اوقات میں انسان اپنے جسمانی ماحول اور اپنے جسم و حواس پر زیادہ توجہ لگائے؟ حصص دار اس ماڈل کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ (ایسے متبادل ماڈل کی ایک بلیو پرنٹ کی تجویز حال ہی میں ٹسٹن ہیریس نے دی ہے، جو ایک سابق گوگلر اور ٹیک فلاسفر ہے)۔

آن لائن تعلقات کی حدود مارک زکر برگ کے سماجی پولرائزیشن کے حل کو بھی مجروح کرتی ہیں۔ انہوں نے بجا طور پر اس بات کی نشان دہی کی کہ صرف لوگوں کو جوڑنا اور انہیں مختلف آرا سے آشنا کرنا، معاشرتی تفریق کو ختم نہیں کرے گا۔ کیوں کہ لوگوں کو مخالف نظریے کے مضمون سے متعارف کروانا، دوسرے نقطہء نظر کو مختلف قرار دینا، پولرائزیشن کو مزید گہرا کرتا ہے۔ اس کے بجائے، مارک زکر برگ نے مشورہ دیا ہے کہ گفتگو کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے، بہترین حل یہ ہے کہ محض ایک دوسرے کی رائے کو جاننے کے بجائے، مکمل انسان کو جانا جائے۔ کچھ ایسا کرنے کے لئے فیس بک کو مناسب راستہ نکالنا ہو گا۔ اگر ہم لوگوں کے ساتھ مشترک عناصر (مشترک کھیلوں کی ٹیمیں، ٹی وی پروگرام، دلچسپیوں) کی بنا پر جڑتے ہیں، تو ہمارے درمیان پائے جانے والے اختلافات پہ بات کرنا آسان ہو جائے گا۔

پھر بھی ایک دوسرے کو ’مکمل‘ افراد کے طور پر جاننا، انتہائی مشکل ہے۔ اس میں خاصا وقت لگتا ہے اور یہ براہء راست جسمانی تعامل کا مطالبہ کرتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ اوسطاً ہومو سیپین شاید ایک سو پچاس سے زیادہ افراد کو قریب سے جاننے کے قابل نہیں ہے۔ مثالی طور پر کمیونیٹیز کی تعمیر کوئی کھیل نہیں ہے۔ انسان خود کو بیک وقت مختلف گروہوں کا وفادار محسوس کر سکتا ہے۔ بد قسمتی سے دوستانہ تعلقات ایک مکمل ہار جیت والے کھیل کے مانند ہوتے ہیں۔ ایک خاص نکتے سے ہٹ کر، ایران یا نائیجیریا سے اپنے آن لائن دوستوں کو جاننے کے لیے آپ جو وقت اور توانائی خرچ کرتے ہیں، یہ اس صلاحیت کی قیمت ہو گی، جو آپ اپنے ہمسائے کے بارے میں جاننے کے لیے لگا سکتے تھے۔

فیس بک کا اہم امتحان اس وقت آئے گا، جب ایک انجینیئر ایک نیا ٹول ایجاد کرے گا، جس کی وجہ سے لوگ آن لائن چیزیں خریدنے میں کم وقت صرف کریں گے اور دوستوں کے ساتھ معنی خیز آف لائن سرگرمیوں میں زیادہ وقت گزاریں گے۔ کیا فیس بک ایسے ٹول کو اپنائے گا یا دبائے گا؟ کیا فیس بک معاشی مفادات سے متعلق معاشی خدشات کو حاصل کرنے کے لئے صحیح معنوں میں کام کر پائے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے (اور دیوالیہ پن سے بچنے کا انتظام کرتا ہے) تو یہ ایک اہم تبدیلی ہو گی۔

اپنی سہ ماہی رپورٹس کے مقابلے میں آف لائن دنیا پر زیادہ توجہ دینا بھی فیس بک کی ٹیکس پالیسیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایمیزون، گوگل، ایپل اور ٹیکنالوجی کے متعدد دیگر جنات کی طرح، فیس بک پر بھی بار بار ٹیکس چوری کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ آن لائن سرگرمیوں پر ٹیکس لگانے میں حائل مشکلات ان عالمی کارپوریشنوں کے ہر طرح کے تخلیقی اکاؤنٹنگ میں مشغول ہونا آسان بناتی ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ لوگ بنیادی طور پر آن لائن رہتے ہیں اور یہ کہ آپ انہیں ان کے آن لائن وجود کے تمام ضروری ٹول مہیا کرتے ہیں، تو آپ خود کو ایک فائدہ مند سماجی خدمت کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ اگر آپ آف لائن حکومتوں کو ٹیکس ادا کرنے سے اجتناب کرتے ہیں، لیکن ایک بار جب آپ یہ یاد رکھیں کہ انسانوں کے پاس جسم موجود ہیں اور اس وجہ سے انہیں ابھی بھی سڑکیں، اسپتال اور گند نکاسی کے نظام کی ضرورت ہے، تو ٹیکس چوری کا جواز پیش کرنا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اہم معاشرتی خدمات کی مالی معاونت کرنے سے انکار کرتے ہوئے آپ معاشرے کی خوبیاں کیسے مرتب کر سکتے ہیں؟

ہم صرف امید کر سکتے ہیں کہ فیس بک اپنے کاروباری ماڈل کو تبدیل کرتے ہوئے، زیادہ آف لائن اور دوستانہ ٹیکس پالیسی اپنا کر دنیا کو متحد کرنے میں مدد کرنے کے بعد بھی منافع بخش ادارہ کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی ہمیں فیس بک کی عالمی برادری کے وژن کو سمجھنے کی صلاحیت کے بارے میں غیر حقیقت پسندانہ توقعات پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ کارپوریشنز معاشرتی اور سیاسی انقلابات کی رہنمائی کے لئے مثالی ذریعہ نہیں تھیں۔

ایک حقیقی انقلاب جلد یا بدیر ان قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے، جو کارپوریشنوں، ان کے ملازمین اور ان کے حصص یافتگان ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انقلابی افراد، گرجا گھر، سیاسی جماعتیں اور فوج کے ادارے قائم کرتے ہیں۔ عرب دنیا میں نام نہاد فیس بک اور ٹویٹر کے انقلابات پر امید آن لائن کمیونیٹیاں میں شروع ہوئے، لیکن ایک بار جب وہ بے ترتیب آف لائن دنیا میں سامنے آئے تو ان کی کمانڈ مذہبی جنونیوں اور فوجی جنات نے سنبھال لی۔

اگر اب فیس بک کا مقصد، عالمی انقلاب برپا کرنا ہے تو اسے آن لائن اور آف لائن کے مابین پائے جانے والے فاصلوں کو دور کرنے کے لئے بہت بہتر کام کرنا پڑے گا۔ یہ اور اس کے علاوہ دوسرے آن لائن جنات انسانوں کو آڈیو ویژول جانوروں کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ آنکھوں کی جوڑی اور دس انگلیوں سے منسلک کانوں کا جوڑا، ایک سکرین اور کریڈٹ کارڈ سے بڑھ کر انسانیت کو متحد کرنے کی طرف ایک اہم قدم، یہ سمجھنا ہے کہ انسانوں کے جسم ہوتے ہیں۔

یقینا، اس تعریف میں خامیاں بھی موجود ہے۔ آن لائن الگورتھم کی حدود کا ادراک کرنے سے ٹیکنالوجی کے جنات اپنی رسائی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ گوگل گلاس اور پوکیمون گو جیسے کھیل کے آلات آن لائن اور آف لائن کے مابین تفریق کو مٹانے کے لئے تیار کیے گئے ہیں، جو انہیں ایک ہی وسعت والی حقیقت میں ضم کرتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ گہری سطح پر، بائیو میٹرک سینسر اور براہ راست دماغی کمپیوٹر انٹر فیس کا مقصد الیکٹرانک مشینوں اور نامیاتی جسموں کے مابین سرحد کو ختم کرنا اور حتمی طور پر ہماری جلد کے نیچے جانا ہے۔

ایک بار ٹیکنالوجی کے جنات جب انسانی جسم کے ساتھ بات کرتے ہیں، تو وہ ہمارے پورے جسم کو اسی طرح استعمال کر سکتے ہیں جس طرح وہ اس وقت ہماری آنکھیں، انگلیوں اور کریڈٹ کارڈوں کو استعمال کرتے ہیں۔ آن لائن کو آف لائن سے الگ کرنے پر ہمیں، وہ اچھے پرانے دن یاد آ سکتے ہیں جب دنیا میں آن لائن اور آف لائن کے درمیان واضح فرق موجود تھا۔

اس سیریز کے دیگر حصےفیس بک اپنی ذمہ داری کا ثبوت دے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •