غیر جمہوری سیاسی نظام!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک عزیز کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس ملک کی ترقی میں حائل پرعزم ’ایماندار اور محب وطن قیادت کا فقدان اور سیاستدانوں کا روایتی طرز عمل ہے جس کے باعث عام فرد اپنے گرد مسائل کے انبار دیکھ کر تبدیلی کی شدید خواہش تو رکھتا ہے لیکن ملک میں جمہوری اور مفاد عامہ سے عاری سیاست کے سامنے اس کی خواہش دم توڑ جاتی ہے۔ دنیا کے جمہوری ممالک میں گڈ گورننس‘ اداروں میں اکاؤنٹبیلٹی اورشفافیت ہوتی ہے کرپشن کے خاتمے کے لئے سیاسی ’انتخابی اور قانونی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں‘ کرپٹ لوگوں کو قانون کے ذریعے ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جاتا ہے ’قانون سازی کے ذریعے اداروں کو خود مختار بنا کران میں احتساب کا خود کار نظام وضع کیا جاتا ہے‘ عدم مساوات کو ختم کر کے معاشرہ میں غربت ختم کی جاتی ہے ’معاشرہ میں بسنے والے افراد کو روٹی‘ کپڑا ’مکان‘ تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے آراستہ کیا جاتا ہے یہ وہ جمہوری لوازمات ہیں جو جمہوریت کو مکمل کرتے ہیں۔

پاکستان میں رائج خود ساختہ جمہوریت کو دیکھا جائے تو یہاں ووٹر کو عزت دینے کی بجائے اس کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے ’اداروں میں کوئی شفافیت نہیں‘ کرپشن کے خاتمہ کے لئے کوئی موثر قانون نہیں ’ریاستی ادارے آزاد اور خود مختار نہیں‘ اداروں میں خود کار احتساب کا نظام نہیں ’معاشرہ عدم مساوات کا شکار ہے جس کے باعث امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے‘ معاشرے میں بسنے والے افراد بنیادی انسانی حقوق سے یکسر محروم ہیں۔

ایسے مانگے تانگے کے جمہوری نظام کے ثمرات صرف سیاسی اشرافیہ کے در کا ہی طواف کرتے نظر آتے ہیں اور سیاسی اشرافیہ کی اس طرز سیاست کے باعث ہی ایلیٹ کلاس اور عام آدمی کے درمیان امتیازی خلیج قائم ہو چکی ہے۔ جمہوریت ایک طرز حکمرانی ہے جمہوریت میں بالواسطہ یا بلا واسطہ عوام کی مرضی کا اظہار براہ راست افراد کی رائے سے ہوتا ہے۔ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے دلوں میں ریاست کا احترام پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ نظام خود عوام یا عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے۔

موجودہ جمہوریت کو لبرل ڈیمو کریسی یعنی آزاد خیال جمہوریت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جن مفکرین نے آزاد خیال جمہوریت کی صورت گری کی وہ والٹیئر ’مونٹیسکو اور روسو ہیں یہ تینوں فرانس کے فلسفی ہیں انہی کے افکار و نظریات کے ذریعے جمہوریت وجود میں آئی ایسی جمہوریت جس میں فیصلے عوام کی امنگوں کے منافی ہوں جمہوریت نہیں کہلاتی۔ دنیا بھر میں جمہوریت کو سب سے کامیاب نظام سمجھا جاتا ہے جمہوریت میں اصل طاقت کا سر چشمہ عوام ہوتے ہیں جمہوریت میں لوگ ووٹ کے ذریعے ایک مخصوص مدت کے لئے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں لیکن پاکستان میں صرف جمہوریت انتخابی عمل سے آگے کی حد عبور نہیں کر سکی جس کے باعث اصل طاقت کا سرچشمہ عوام بے یارو مدد گار مہلک مسائل کا شکار ہیں۔

انتخابات کے بعد جمہوری ثمرات سے عوام ہمیشہ محروم رہی ہے سیاسی و جمہوری سوچ سے ناواقفیت کا ہی نتیجہ ہے کہ عوام بہت جلد منتخب حکمرانوں سے نالاں اور مایوس ہو جاتی ہے حالانکہ یہ رجحان ملک و ملت کی کبھی بھی درست سمت کا تعین نہیں کر سکتا اور ایسا کرنے کا مطلب اپنی آزادی کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوتا ہے۔ جمہوریت کی سادہ سے الفاظ میں مراد یہ ہے کہ لوگ ملک میں ہونے والے اہم فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا حق رکھیں جن کا تعلق ان کی زندگیوں سے متعلق ہو بجائے اس کے کہ کوئی ایک فرد ملک کے تمام فیصلے اپنے طور پر ہی کرتا رہے لہذا جمہوریت کا تعلق عوام کی حکومت سے ہے۔

یہ سمجھنا اشد ضروری ہے کہ محض انتخابات کا انعقاد کروانا ہی جمہوریت کی واحد خصوصیت نہیں بلکہ ایک فعال جمہوریت کے لئے اصولوں کی پاسداری کرنا بہت ضروری ہے ان میں بنیادی اصول انسانی بنیادی حقوق کا احترام‘ کثیر جماعتی نظام ’سیاسی رواداری‘ قانون کا احترام ’جمہوری طرز حکمرانی اور شہریوں کی شمولیت ضروری ہے۔ ہر ملک کے اپنے اپنے معروضی حالات ہیں اور انہی معروضی حالات کے مطابق وہاں ایک منفرد جمہوری نظام رائج ہوتا ہے تاہم اس نظام کی بنیاد انہی بنیادی اصولوں پر قائم ہونا ضروری ہے۔

ایک فعال اور مستحکم جمہوری نظام میں شہریوں کو جمہوریت کے ثمرات ملتے ہیں ان میں انسانی وقار کا احترام‘ آزادی ’برابری‘ عدل ’بہتر طرز حکمرانی‘ امن عامہ اور منتخب نمائندوں کے احتساب کا حق شامل ہے۔ جمہوریت میں ہر فرد کو سوچنے ’بولنے اور عمل کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے لیکن دستور کی پاسداری کے مطابق تاکہ کسی دوسرے کی آزادی میں مداخلت نہ ہو۔ جمہوری نظام میں ملک میں بسنے والے تمام افراد یکساں حیثیت اور حقوق رکھتے ہیں انصاف کے نظام میں ہر شخص جوابدہ ہوتا ہے جسے ہم قانون کی حکمرانی کہتے ہیں۔

ملک عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہ حکمران جمہوریت پسند ہیں اور نہ ہی عوام جمہوریت سے جڑے لوازمات کا ادراک رکھتی ہے اسی لئے جمہوریت کی آڑ میں ملک کی نام نہاد جمہوریت کی نام لیوا سیاسی جماعتیں عمل سے عاری دلنشیں منشور‘ جذباتی نعروں اور وعدوں کی میٹھی چھری سے عوام کی کھال ادھیڑنے میں مصروف عمل ہیں۔ المیہ ہے ملک میں دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی باہمی رضا مندی کے ساتھ اقتدار میں آتی رہیں ان کے دور حکومت میں خاندانی سیاست کا بول بالا رہا جمہوریت کی نام لیوا ان دونوں سیاسی جماعتوں میں بدتریں ڈکٹیٹر شپ رہی اور ان دونوں سیاسی جماعتوں نے اپنی جماعتوں میں موجود کسی بھی اہل اور قابل سیاسی ورکر اور تنظیمی عہدیدارکے لئے آگے آنے کا راستہ ہموار نہیں کیا۔

ملک پاکستان کی جو سیاسی جماعتیں اپنی پارٹی کے اندر جمہوریت اور جمہوری روایات کو پروان نہیں چڑھا سکیں وہ اقتدار میں آکر کس طرح جمہوری نظام کو فروغ دے سکتی ہیں۔ موجودہ حکومت (تحریک انصاف) سے عوام کو قوی توقعات تھی کہ یہ جماعت عوام کی مشکلات کو کم کرتے ہوئے بہترطرز حکمرانی پر گامزن ہو گی لیکن حکومت کے اقتدار کا تقریباً نصف عرصہ گزرنے کو ہے لیکن عوامی مشکلات اور مسائل کم ہونے کی بجائے حکومتی موثر اقدامات نہ ہونے کے باعث بتدریج بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ملک عزیز کا مستقبل کس سمت کی جانب گامزن ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں ملک و ملت اب مزید تجربات کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اس بات کا ادراک ہر سطح پر موجودہ حکومت کے حکمرانوں کو جتنی جلدی سمجھ آ جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ عوام کو بھی اب کم از کم بہتر سالوں کی آمریتی و سیاسی حکمرانیوں کے تجربات کی مسافت طے کر کے اداراک ہو جانا چاہیے کہ عام انتخابات میں ایک قوی اور جمہوریت پسند سوچ کے ساتھ عوامی نمائندوں کا انتخاب کرے نہ کہ اپنی اپنی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے نمائندوں کا چناؤ کریں جن کو وہ بارہا آزما چکے ہوں اسی سوچ کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے اگر سیاسی شعور کی پختگی اور جمہوری ثمرات کے حصول کے لئے اجتماعی سوچ کے ساتھ کسی جماعت کا انتخاب عمل میں لائیں گے تو یقیناً پھر حکمران کبھی بھی مفاد عامہ کے خلاف کبھی ایسے اقدامات نہیں اٹھائیں گے جس کے باعث عوام کا غیض و غضب انہیں ووٹ کے دوام سے ہمیشہ کے لئے نوشتہ دیوار بنا دے۔ ملک کی غیر جمہوری سوچ کی حامل سیاسی اشرافیہ کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے جہاں کے حکمران اپنی نسل نو کے مستقبل سے لا تعلق ہو جائیں اپنے گھر کو محفوظ سمھتے ہوئے ایک دوسرے کی فکر چھوڑ دیں اس معاشرے میں کبھی تبدیلی اور انقلاب نہیں آیا کرتے بلکہ ایسے معاشرے شام ’لبنان اور عراق بن جاتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •