کورونا وائرس: صدر ٹرمپ کے علاج کے لیے کون کون سے ادویات استعمال کی جا رہی ہیں؟

جیمز گیلیگر - نامہ نگار برائے ہیلتھ اینڈ سائنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں چند روز قبل کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور اس کے بعد سے ان کی ڈاکٹرز ان کو مختلف اقسام کی ادویات دے رہے ہیں۔

یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ کو وائرس کب لگا لیکن ہمیں یہ ضرور علم ہے کہ اس انفیکشن کے دو مرحلے ہوتے ہیں۔

پہلا مرحلہ ہوتا ہے جب یہ تشخیص ہو جاتی ہے کہ ایک شخص اس لیے بیمار ہے کیونکہ اسے وائرس لگ گیا ہے۔ دوسرا، مگر زیادہ خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جس میں انسانی جسم کا مدافعتی نظام ضرورت سے زیادہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے اور اس سے جسم کے دوسرے اعضا کو نقصان پہنچنا شروع ہو جاتا ہے۔

کورونا وائرس کا علاج بھی دو طرح کا ہے۔ ایک وہ طریقہ جس میں براہ راست وائرس کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کی کامیابی کے زیادہ امکانات اس وقت ہوتے ہیں اگر یہ انفیکشن لگنے کے فوراً بعد شروع کر دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

دواؤں کے مجموعے سے کورونا وائرس کا علاج ممکن؟

کورونا: امریکہ نے ’ریمڈیسیور‘ نامی دوا کے استعمال کی اجازت دے دی

امریکی صدر ہسپتال سے وائٹ ہاؤس منتقل، انتخابی مہم میں جلد واپسی کا اعلان

دوسرا طریقہ وہ ہوتا ہے جس میں ادویات کی مدد سے مدافعتی نظام کو اس کے معمول پر واپس لایا جاتا ہے اور یہ انفیکشن لگنے کے کچھ دن بعد بہتر طور پر اثرانداز ہوتا ہے۔

تو صدر ٹرمپ کے علاج کے لیے کون سی ادویات استعمال ہو رہی تھیں اور وہ ہمیں ان کی صحت کے بارے میں کیا بتاتی ہیں۔

Chart showing effect on patients on ventilators and requiring oxygen

BBC
ڈیکسامیتھاسون

یہ دوا ایک سٹیرائیڈ ہے جو کہ انسانی جسم میں مدافعتی نظام کو معمول پر لانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے لیکن اس کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اس کا استعمال بالکل درست موقع پر کیا جائے۔

اگر اسے وقت سے پہلے دیا جائے گا تو یہ صحت میں مزید بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ دوا ایک ایسے مریض کو نہیں دی جاتی جس کے جسم میں مرض اپنے شروع کے مرحلے میں ہو۔

برطانیہ میں اس دوا کی آزمائش ہوئی تھی جس میں یہ معلوم ہوا کہ اس دوا کا فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب مریض کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، جو کہ صدر ٹرمپ کو کچھ وقت کے لیے دی گئی تھی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ دوا اس وقت استعمال کرنی چاہیے جب مریض ‘سخت بیمار اور تشویشناک مرحلے’ میں ہو۔

صدر ٹرمپ کے خون میں آکسیجن کا تناسب 94 فیصد سے گر گیا تھا جو کہ نیشنل انسٹٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق تشویشناک حد تک بیمار ہونے کا عندیہ ہے۔

کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ دوا کے استعمال سے صدر پر ناساز اثر ہو سکتا ہے کیونکہ اس دوا سے انسانی ذہن پر اثر ہوتا ہے۔ ڈیکسامیتھاسون استعمال کرنے سے انسان میں ہیجانی کیفیت ہو سکتی ہے، رویے میں تبدیلی آ سکتی ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

لیکن یہ ان مریضوں میں زیادہ ہوتا ہے جو اس دوا کا زیادہ استعمال کر رہے ہوتے ہیں، لیکن صدر ٹرمپ نے یہ دوا تھوڑے وقت کے لیے استعمال کی تھی۔

مونوکلونل اینٹی باڈی تھیراپی

ریجینیرون کمپنی کے بنائے ہوئے علاج کے اس طریقے میں مختلف اینٹی باڈیز کو جمع کر کے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کی طرح کام کرتی ہیں۔

یہ اینٹی باڈیز کورونا وائرس سے چپک جاتی ہیں تاکہ وہ انسانی خلیوں میں داخل نہ ہو سکیں اور اس کی مدد سے انسانی مدافعتی نظام اس وائرس کو پہچان جاتا ہے اور دیکھ لیتا ہے۔

گذشتہ ہفتے ریجینیرون نے اس دوا کے استعمال کے نتائج شائع کیے تھے جس سے یہ واضح ہوا کہ اس کو استعمال کرنے سے وائرس کی تعداد میں کمی ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ مریضوں کی طبیعت میں بہتری بھی دیکھنے میں آئی۔

تاہم یہ معلومات ان مریضوں کی مدد سے سامنے آئی جنھیں ہسپتال جانا نہں پڑا تھا اور نہ ہی کمپنی کا یہ ڈیٹا دیگر سائنسدانوں اور ڈاکٹرز نے دیکھا ہے۔

البتہ یہ طریقہ سائنسی طور پر درست سمجھا جاتا ہے اور امید ہے کہ یہ کافی مفید ثابت ہو اور اس دوا کو ابھی تک تجرباتی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آزمائشی مریضوں کے علاوہ صدر ٹرمپ ان گنے چنے افراد میں سے ہیں جن پر یہ دوا استعمال کی گئی ہو۔

ریمڈیسیور

یہ دوا سب سے پہلے ایبولا مرض کے لیے تیار کی گئی تھی۔ اس کی مدد سے وائرس کو دھوکہ دیا جاتا ہے اور وہ خود کو انسانی جسم میں دوبارہ پیدا کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

آزمائشی مراحل میں دیکھا گیا ہے کہ یہ دوا کورونا وائرس کی علامات کو 15 دن سے کم کر کے 11 دن تک لے آتی ہے۔

لیکن اس بات کے ابھی تک واضح شواہد نہیں ہے کہ اس دوا کی مدد سے انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

ریمڈیسیور کی کامیابی بھی اس بات پر منحصر ہے کہ اسے مرض لگنے کے فوراً بعد استعمال کیا جائے۔

اور کونسے طریقہ علاج استعمال ہو رہے ہیں؟

صدر ٹرمپ کے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ وہ ان کو زنک، وٹامن ڈی، فاموٹائڈین، میلاٹونن اور ایسپرین دے رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ادویات بالخصوص کووڈ 19 کے لیے دی جار ہی ہیں۔

ویکسین

BBC
زنک ایک معدنیات ہے جو کہ مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس بات کے شواہد نہیں ہے کہ اس کی مدد سے وائرس کے خلاف مقابلہ کیا جا سکے۔

وٹامن ڈی انسانی جلد میں بنتا ہے اور یہ بھی مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے بارے میں بھی نہیں علم کہ یہ کووڈ 19 کے خلاف موثر ہے یا نہیں۔

فاموٹائڈین پیٹ میں تیزابیت کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتی ہے اور ان افراد کے لیے ہوتی ہے جن کو پیٹ کے السر ہوں یا تیزابیت کی شکایت ہو۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ شاید یہ علاج میں مدد کر سکے لیکن اکثریت کے مطابق اس کے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

میلاٹونن انسانی جسم میں پیدا ہونے والا ہارمون ہے جس کی مدد سے سونے میں مدد ملتی ہے۔ اس ان افراد کو دیا جاتا ہے جنھیں انسومنیا یعنی بے خوابی کا مرض ہوتا ہے۔

ایسپرین درد کم کرنے کی دوا ہے اور اس سے خون بھی پتلا ہوتا ہے جس کا مقصد ہوتا ہے کہ انسانی جسم میں خون کے لوتھڑے نہ بنیں۔ کووڈ 19 سے متاثرہ مریضوں میں یہ بات مشاہدے میں آئی کہ ان کے جسم میں خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں۔

ایسپرین کو کووڈ 19 سے متاثرہ افراد میں استعمال تو کیا گیا ہے لیکن اس کے فائدہ مند ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15937 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp