کلبھوشن جادھو: سزائے موت کے منتظر انڈین جاسوس کا کیس کیسے آگے بڑھایا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے تجاویز طلب کر لیں

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کلبھوشن

BBC
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل پاکستان سے استفسار کیا ہے کہ وہ عدالت کو اس نقطے پر مطمئن کریں کہ اگر پاکستان کی فوجی عدالت سے موت کی سزا پانے والے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو دی جانے والی سزا کے خلاف خود مجرم یا انڈین حکومت وکیل فراہم کرنے پر راضی نہیں ہوتے تو پھر عدالت کے پاس اور کون سا راستہ رہ جاتا ہے؟

عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا پاکستان کی طرف سے کلبھوشن جادھو کو وکیل کی سہولت فراہم کرنے سے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے اس حوالے سے کیے جانے والے فیصلے پر موثر عملدرآمد ممکن ہو پائے گا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ ان تمام سوالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت کو معاونت فراہم کریں۔

یہ احکامات چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کے روز کلبھوشن جادھو کو ملنے والی سزا موت کے خلاف نظرثانی کی اییل دائر کرنے کے حوالے سے وکیل کے تقرر سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔

یہ بھی پڑھیے

کلبھوشن جادھو کا سزا کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے سے انکار

کلبھوشن جادھو: ’انڈین سفارتکاروں نے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی‘

انڈیا کی جانب سے کلبھوشن جادھو کے لیے نامزد وکیل کون ہیں

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں گذشتہ مہینے انڈین حکومت سے رابطہ کیا گیا تھا اور انڈین حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی انڈین وکیل ہی جادھو کی سزا کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ پہلے ہی واضح کیا جا چکا ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں کوئی غیر ملکی نہیں بلکہ پاکستانی وکیل ہی پیش ہو سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈیا کی حکومت نے اعتراض کیا تھا کہ پاکستان کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی صحیح طریقے سے نہیں دے رہا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انڈیا کی جانب سے اس حوالے سے جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس، جادھو تک قونصلر رسائی، اور انڈین وکیل کی اجازت نہ دینے کے معاملے پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈین حکومت کے ان جوابات سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ کلبھوشن کے معاملے کو قانونی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر چلانا چاہتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ انڈین حکومت اس طرح کے اقدام کر کے خود عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔

بینچ کے سربراہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اگر انڈیا یا خود کلبھوشن جادھو اپنا وکیل نہیں کرتے تو کیس کیسے آگے بڑھے گا؟ اِس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اگر کوئی فریق کیس چلانے کو تیار نہ ہو تو پھر تیسرا فریق کیس کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سیکریٹری قانون نے اسی تناظر میں عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ کلبوشن جادھو کو فوجی عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف نطرثانی کی اپیل دائر کرنے کے لیے عدالت کوئی وکیل مقرر کرے۔

خالد جاوید کا کہنا تھا کہ مجرم کو سزا کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا اور پھر اس آرڈیننس کی قومی اسمبلی سے 120 روز کے لیے توسیع کروائی گئی تاکہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلوں پر عمل درآمد ممکن کروایا جا سکے۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈیا نے ایک بار پھر عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے اور اس کے علاوہ لندن میں پریکٹس کرنے والے کوئنز کونسل کو بطور وکیل پیش کرنے کے اجازت مانگی گئی جو پاکستانی حکومت نے نہیں دی۔

اٹارنی جنرل نے کہا انڈین حکومت نے انکار کے بعد یہی آپشن رہ جاتی ہے کہ پاکستانی حکومت کلبھوشن جادھو کے لیے وکیل مقرر کرے۔ اُنھوں نے کہا کہ ریاست اور عدالت دونوں کلبھوشن کیس میں شفاف ٹرائل کو یقینی بنانا چاہتی ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عدالت کا بھی نقطہ نظر یہ ہے کہ کلبھوشن کو شفاف ٹرائل کا موقع ملنا چاہیے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ کلبھوشن عدالت آئے گا تو ہی عدالت مجرم کے حق زندگی کے تحفظ کا معاملہ دیکھ سکے گی۔

بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا خود مجرم اور انڈین حکومت کی طرف سے انکار کے بعد عدالت اپنے طور پر اس مقدمے کو آگے بڑھا سکتی ہے جس پر خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ ابھی یہ معاملہ وکیل کرنے کا ہے، نظرثانی کی درخواست کا معاملہ نہیں ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کے سامنے سوالات رکھے کہ کیا یہ عدالت اپنے طور پر کلبھوشن کے لیے وکیل مقرر کر سکتی ہے اور اگر انڈیا یا کلبھوشن کی مرضی کے بغیر وکیل مقرر کر دیا گیا تو اس کے کیا اثرات ہوں گے؟ بینچ کے سربراہ نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا یہ موثر نظر ثانی کے قانونی تقاضے پورے کرے گا؟

عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس معاملے پر بھی عدالت کی معاونت کریں۔

عدالت کے استفسار پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مجرم کو گذشتہ سماعت کے دوران ہونے والی عدالتی کارروائی کی کاپی فراہم کر دی گئی تھی۔

کلبھوشن جادھو کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین عدالتی معاونین مقرر کیے تھے تاہم ان میں سے دو وکلا نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اس معاملے میں عدالتی معاون بننے سے معذوری ظاہر کی، جن میں عابد حسن منٹو اور مخدوم علی خان شامل ہیں۔ جبکہ تیسرے عدالتی معاون حامد خان منگل کے روز عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کی روشنی میں اس معاملے پر عدالت کی معاونت کی جائے۔ بینچ کے سربراہ نے کہا کہ اس بارے میں بھی عدالتی معاونت کی جائے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر موثر عمل درآمد کیسے کیا جائے۔

اس درخواست کی سماعت نو نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15933 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp