ڈینیئل پرل قتل کیس: سپریم کورٹ کا ملزمان کی بریت کا فیصلہ مزید معطل رکھنے سے انکار

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈینیئل پرل
Getty Images
سپریم کورٹ نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ملزمان کی بریت سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل پر عدالت عالیہ کا فیصلہ معطل کرنے میں توسیع دینے سے انکار کر دیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون مختاراں مائی کے مقدمے میں اپیلوں کی سماعت کے دوران ملزمان کی رہائی روکنے کا عدالت کو آج تک افسوس ہے۔

گذشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی طرف سے دائر کردہ اپیل کی پیروی کرنے والے وکیل فاروق ایچ نائیک کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ کے ملزمان کی بریت اور ایک ملزم کی سزا میں تبدیلی کے فیصلے کو ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اس سال اپریل میں ڈینیئل پرل کے مقدمے میں اس قتل کے مبینہ مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ سمیت چار ملزمان میں سے تین کو بری اور ایک کی سزا میں تخفیف کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’رومانوی افسانے کی بنیاد پر کیس کے فیصلے نہیں ہوتے‘

ڈینیئل پرل کیس: استغاثہ کی وہ کمزوریاں جو ملزمان کی رہائی کا باعث بنیں

ڈینیئل پرل: امریکی صحافی کے والدین کی مقدمے میں فریق بننے کی درخواست

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل کی سماعت کی تو سندھ کے پراسکیوٹر جنرل نے عدالت سے یہ کہہ کر ان اپیلوں پر سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی کہ چونکہ اُنھیں گذشتہ سماعت کی مصدقہ نقل دو روز قبل ملی ہے اس لیے وہ اس مقدمے سے متعلق تمام عدالتی ریکارڈ اکھٹا نہیں کر سکے، اس لیے ان اپیلوں کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے سپریم کورٹ اپنے گزشتہ سماعت کے حکم نامے میں توسیع کرے۔

بینچ کے سربراہ نے سندھ کے پراسکیوٹر جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ملزمان کو پہلے ہی ایک ایگزیکٹیو آرڈر (ایم پی او) کے ذریعے نظر بند کر چکی، اس لیے اب عدالت کا حکم کیوں ضروری ہے؟

احمد عمر شیخ

Getty Images
ڈینیئل پرل قتل کیس میں مرکزی ملزم احمد عمر شیخ

واضح رہے کہ سندھ حکومت ڈینیئل پرل قتل کیس میں رہائی پانے والے ملزمان کی حراست میں دو بار توسیع کر چکی ہے۔ ان ملزمان کو خدشہ نقص امن کی تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت تو اس معاملے کو دیکھے گی کہ بینچ کے سامنے مقدمے سے متعلق کیا مواد پیش کیا جا رہا ہے۔

سندھ کے پراسکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ چونکہ اس مقدمے میں دیگر اپیلیں بھی دائر ہوئی ہیں اس لیے ان تمام اپیلوں کو سامنے رکھتے ہوئے ریکارڈ اکھٹا کرنا ضروری تھا، اس لیے عدالتی حکم میں توسیع کی جائے۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں قانون کے مطابق چلتی ہیں۔ اُنھوں نے جنوبی پنجاب کی رہائشی خاتون مختاراں مائی کے گینگ ریپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں اپیلوں کی سماعت کے دوران ملزمان کی رہائی روکنے کا افسوس ہے کیونکہ عدالتی حکم کی ہی وجہ سے اُنھیں جیل میں مزید وقت گزارنا پڑا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہے۔

ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان کو بری جبکہ ایک کی سزا میں تبدیلی کر دی۔

اُنھوں نے کہا کہ تمام ملزمان گذشتہ 18سال سے قید میں ہیں اور اُنھوں نے اپنی زندگی کا بہترین وقت جیل میں گزار دیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزمان کو عدالت عالیہ کے فیصلے کا صلہ ملنا چاہیے اور اُنھیں رہائی دی جانی چاہیے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ عدالت عظمی کی طرف سے ملزمان کی رہائی کے بارے میں کوئی قدغن نہیں ہے۔

عدالت نے ان اپیلوں کی سماعت 21 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

مختاراں مائی

BBC
سپریم کورٹ: مختاراں مائی کے مقدمے میں اپیلوں کی سماعت کے دوران ملزمان کی رہائی روکنے کا عدالت کو آج تک افسوس ہے

مختاراں مائی کیس میں کیا ہوا تھا؟

یاد رہے کہ سنہ 2002 میں مختاراں مائی کو اس بات پر جرگے کے فیصلے کی روشنی میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس مقدمے میں 14 ملزمان میں سے چھ کو جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ نے سنہ 2005 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پانچ ملزمان کو بری جبکہ ایک کی سزا میں تبدیلی کر د ی تھی۔

سنہ 2011 میں جسٹس میاں شاکراللہ جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مختاراں مائی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

سپریم کورٹ نے گذشتہ سال مختاراں مائی کی طرف سے عدالت عظمی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15937 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp