آڈیو کیسٹ کتنی مہنگی ہوتی تھی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"husnain

امی کہتی ہیں جب بھی تمہیں تنگ کرنا ہوتا تھا ہم لوگ وہ گانا گاتے تھے، اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے، تم بھاں بھاں کر کے رو پڑتے تھے۔ یہاں تک کہ ٹی وی پر اگر منصور ملنگی کی شکل بھی نظر آتی تو ٹی وی بند کر دیا جاتا تھا، چینل بدلنے کی آپشن اس وقت کہاں موجود تھی۔ دو ڈھائی برس عمر ہو گی لیکن اس وقت ابا جو کچھ سنتے تھے ان میں سے دو تین چیزیں اب بھی یاد ہیں۔ ایک تو وہ مشہور گانا تھا بونئیم کا، ون وے ٹکٹ ٹو دا بلیوز، سفید سی کیسٹ ہوتی تھی اور شاید اس کی ٹیپ کی چوڑائی بھی کم تھی عام کیسٹ سے، یعنی ایک گھنٹے سے کم ریکارڈنگ سمجھ لیجیے دونوں سائیڈوں پر۔ پھر ایک غزل تھی جگجیت سنگھ کی، شاید میں زندگی کی سحر، لے کے آ گیا، یہ بچوں کی بھی پسندیدہ ہے اب تک، باقی ثریا ملتانی کی ایک نیلے سے سٹیکر والی کیسٹ تھی، ایک کیسٹ شاید طلعت عزیز کی تھی اور پتہ نہیں کیا کیا تھا۔ وہ سب چیزیں تباہ کر دیں جب فقیر بڑا ہوا۔ ہر کیسٹ پر اپنی پسند کے گانے ریکارڈ کر لیے اور ابا کی کلیکشن نیست و نابود کر دی۔ امی اس بار آئیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ جو تھیلوں میں تم نے کیسٹیں بھر کر رکھی ہوئی تھیں، وہ پھینکوا دیں ہیں، نمی آ گئی تھی اور ریل خراب ہو گئی تھی، یہ خون خاک نشیناں تھا، رزق خاک ہوا۔

بختی ماموں کے پاس دنیا جہان کی کلیکشن ہوتی تھی۔ انڈین گانے، انگریزی گانے، پشتو گانے، قوالیوں اور منقبتوں کا ایک ذخیرہ، نوحوں کی وہ کلیکشن جو صرف انہی کے پاس دیکھی۔ گڈو ماموں چھوٹے ماموں ہیں، انہیں جگجیت سنگھ پسند ہیں، تمام والیوم جگجیت کے، ان کی کلیکشن کا حصہ تھے۔ پرانے گانے والے، لتا، رفیع، کشور، مکیش، سب لوگوں سے سلام دعا وہیں پر ہوتی تھی۔ بختی ماموں کی کیسیٹوں کو چھیڑنے کی جرات نہیں ہوتی تھی، ان کے غصے سے ڈر لگتا تھا، گڈو ماموں یار باش ہیں، ان کی کیسیٹوں پر دبا کے ہاتھ صاف ہوتا تھا۔ پھر گڈو ماموں نے وہ ڈبل کیسٹ پلئیر لیا، جس میں ریکارڈنگ بھی گھر بیٹھے ہو جاتی تھی، کیسٹ ٹو کیسٹ ریکارڈنگ، تو موجیں لگ گئیں۔ چن چن کر کلیکشن بنائی جاتی اور ملتان آ کر باقی سال وہ چلتی رہتی۔ بچپن میں ہی بوڑھا ہو جانے کی وجوہات میں سے ایک یہ کیسیٹیں تھیں کہ جو ماموں لوگوں کی تھیں۔ سہگل، ناشناس، عالم لوہار، منصور ملنگی، مراتب علی، رفیع، اے نئیر، عزیز میاں، منظور سنتو وغیرہم کو سنتے ہوئے جوانی آئے تو کیا آئے گی، ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے۔

\"cassette-1\"

ایک دفعہ کچھ کزن آئے، وہ لوگ ساتھ کیسٹ کہانی لے کر آئے، اپنے زمانے کا اچھا سلسلہ تھا، ہم سب کی عمر ہو گی کچھ بارہ تیرہ برس کے آس پاس، اچھی طرح یاد ہے، پہلی اٹیمپٹ میں ہی ریجیکٹ کر دیا یہ کہہ کر کہ بھئی یہ کیا بچوں کے سننے کی چیز لے آئے ہو تم لوگ، آؤ تمہیں نئے گانے سناتے ہیں۔ خاور کو شوق ہوا بعد میں، پودنی اور پودنے کی کہانی اس چکر میں ابھی بیٹھے بیٹھے یاد آ گئی۔ قاضی واجد، خدا انہیں زندگی صحت دے، ان کی آواز سے رنگ بھر جاتا تھا کہانیوں میں، کارٹونوں کی اردو ڈبنگ میں بھی ان کی آواز ہوتی تھی، واحد آواز جو فوراً پہچانی جاتی تھی۔

کیسیٹوں کی دنیا میں ایک اہم نام وسیم بھائی کا ہے۔ وہ سامنے والے گھر میں رہتے تھے۔ ان کے پاس بھی ڈبل کیسٹ پلئیر آ چکا تھا۔ وسیم بھائی کا سین یہ ہے کہ وہ اچھی آواز کا گانا سننے کے شوقین ہوتے تھے۔ ریکارڈنگ اچھی ہو، سپیکر بڑے والے ہوں، ووفرز ساتھ ہوں، کچھ آواز کھول کر سنا جائے، اور پھر وہ آواز سات گھروں تک جائے۔ واللہ کہ دھمک والے گانے کیا ہوتے ہیں، یہ وسیم بھائی کے پاس بیٹھ کر پتہ چلتا تھا۔ وسیم بھائی کے پاس ڈیک بھی ہوتے تھے، دیسی بنے ہوئے، وہ پھر خود بھی اس کے ساتھ استادی کرنا جانتے تھے، مقصد ہوتا تھا کرسٹل کلئیر آواز اور دھمک، وہ انہیں حاصل کرنا آتا تھا۔ ان کی کلیکشن میں بھی سریلے سے سریلا گانا موجود ہوتا تھا۔ پھر انہیں شوق بھی تھا کیسیٹ ریکارڈنگ کا، اچھے سے اچھے گانے اکٹھے کرنے کا، تو بھائی کی موجیں لگ جاتی تھیں۔ وہ جو ابا کی کیسیٹیں تباہ ہوئیں وہ زیادہ تر وسیم بھائی کے پاس لا کر ہی ریکارڈ کی گئی تھیں۔ وسیم بھائی اس پر یہ گانے کر دیں، وسیم بھائی اس پر وہ متالی اور بھوپیندر والی غزلیں کر دیں، وسیم بھائی یہ، وسیم بھائی وہ، وسیم بھائی خوشی خوشی کر دیتے۔ دیالو آدمی ہیں، زندگی کا بہترین وقت گذرا وسیم بھائی کے ساتھ۔ پھر وہ گارڈن ٹاؤن ملتان شفٹ ہو گئے۔ چار چھ ماہ پہلے جانا ہوا تو اتنی چیک پوسٹیں آئیں جیسے بندہ سوات میں داخل ہو رہا ہے۔

\"cassette-2\"

آڈیو کیسٹ سننے والے جانتے ہیں کہ زیادہ شوقین افراد کو کچھ نہ کچھ مکینک ہونا پڑتا تھا۔ جیسے ٹیپ ریکارڈ کا ہیڈ صاف کرنا ہے تو پرفیوم اور کن میلیا استعمال کیا جائے گا۔ ٹوٹی ہوئی ریل جوڑنی ہے تو نیل پالش سے بہترین جڑے گی۔ ٹیپ ریکارڈ کا صابن سلو ہے تو پینسل پر چڑھا کر کیسیٹ رئیوائینڈ کرنا زیادہ بہتر ہو گا۔ ٹی ڈی کے، سانیو، سونی یا میکسل میں سے کون سی کیسیٹ ریکارڈنگ کے لیے بہتر ہو گی، کس پر نوائز کم ہو گا، کس پر زیادہ، یہ سب معرفت کی باتیں اس زمانے میں ضرور سمجھ لی جاتی تھیں۔

اسی دوران ایک چیز آئی جسے واک مین کہتے تھے۔ بہت شوق ہوتا تھا واک مین لینے کا۔ جیسے آج ہر بچہ موبائل یا ٹیبلیٹ لینا چاہتا ہے تب واک مین ہمارا خواب ہوتا تھا۔ عقل مند لوگ اس کے ساتھ چارجنگ والے سیل اور چارجر بھی لے لیتے تھے۔ لیکن واک مین کا بھی مسئلہ یہی تھا کہ بندہ کتنی کیسیٹیں ساتھ رکھ سکتا ہے۔ جیبیں کم اور زندگی طویل لگتی تھی۔ جینز میں تو ایک کیسیٹ بھی پھوڑا بن جاتی ہے، تو یار لوگ باقاعدہ ایک تھیلا سا کندھے پر لٹکا لیتے کہ متاع سخن ساتھ رہے۔ فیملی ٹرپ یا سکول ٹور پر جانا ہوتا تب بھی واک مین ہو نہ ہو اپنی کیسٹ ہر بندہ ضرور ساتھ لاتا تھا، جس کا داؤ لگتا اس کی کیسٹ بس میں بھی لگا دی جاتی تھی۔ پچھلے دنوں ایک ٹور کے دوران گانوں کی قلت پر اپنا موبائل بس کے ساؤنڈ سسٹم سے جوڑ دیا۔ آدھے گھنٹے بعد مڑ کر دیکھا تو بے خوابی کے مریض بھی گہری نیند سو رہے تھے۔

کیسٹس خریدنی ہوتیں تو دو تین دکانیں تھیں نواں شہر ملتان میں، وہاں سے مطلب کی چیز مل جاتی تھی، گزارا مزارا ہوتا تھا۔ پھر اللہ میاں نے لاٹری نکال دی۔ ڈیرے اڈے میں ایک پلازہ بنا جو کم بخت تھا ہی آڈیو کیسٹ کا، اندازہ کریں، مطلب ایک لڑکا جو ہزار کیسٹ کی دکان سے خریداری کرتا ہے اسے لاکھوں کیسٹوں کے بیچ میں تنہا چھوڑ دیا جائے۔ ایلس ان ونڈر لینڈ ہی ہو جاتا تھا۔ ابا ایک مثال دیا کرتے ہیں، سن لیجیے۔ ایک کتے کو کھیت میں چھوڑ دیں اور اس کے سامنے پانچ چھ خرگوش دوڑا دیں، وہ بے چارا ہف جائے گا، کبھی ایک کے پیچھے دوڑے گا، کبھی دوسرے کو پکڑنے لگے گا، پھر یاد آئے گا پانچویں کی طرف لپکے گا، ناچتا رہے گا، ہاتھ کچھ نہیں آنے والا۔ تو ڈیرے اڈے والے اس پلازے میں فقیر کا یہی حال ہوتا تھا۔ کیا خریدا جائے، کیا چھوڑا جائے، عجیب ہی کیفیت ہوتی تھی۔
پھر خدا نے کرم کیا، سی ڈی ٹیکنالوجی اور ایم پی تھری گانے آگے پیچھے ہی ہمارے یہاں وارد ہوئے۔

\"cassette-floppy-disk\"

اس کے بعد تو موجاں ای ہو گئیاں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے گانوں کی دنیا میں وہ انقلاب آیا کہ پچیس روپے کے دس گانے خریدنے والے تیس روپے کی سی ڈی میں ڈیڑھ سو گانے خریدتے اور اس پر بھی شور مچاتے کہ ہر جگہ پچیس کی ملتی ہے آپ تیس کی دیتے ہیں، دکاندار سر پیٹ لیتا، یار اوقات ہی بھول جاتے۔ کمپیوٹر میں سٹوریج زیادہ ہو گئی تو پوری پوری ہارڈ ڈسک گانوں سے بھری جانے لگی۔ وہ تیس روپوں کا تکلف بھی ختم ہو گیا۔ سیدھا ڈاؤن لوڈ کریں موج اڑائیں۔ زندگی میں جو کچھ پسند آیا پچاس جی بی ڈیٹا کی صورت اب ایک ناخن برابر کارڈ پر محفوظ ہے۔ موبائل آئے، اور عیاشی ہو گئی۔ اب ہر بندے کا اپنا واک مین ہے۔ جو مرضی سنئیے، جتنا مرضی سنئیے، دنیا آپ کی ہے، عربی، فارسی، ہندی، رشئین، انگریزی، جرمن، سپینش، پاکستانی، ہر فن کار آپ کے انگوٹھے کے اشارے پر گانے کو تیار کھڑا ملتا ہے، اس سے بڑی کیا موج ہو گی۔ ماضی کو یاد کرتے کرتے اب کبھی اس میں گھسنا پڑا تو تکلیف بھی بہت ہو گی، غضب خدا کا، دس گانے، پچیس روپے کے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 480 posts and counting.See all posts by husnain