سب بھارتی ایجنٹ ہیں تو پاکستان کدھر ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کے سات آٹھ عجوبے اپنی جگہ لیکن دنیا کے سارے عجوبوں کو ملا کر ایک عجوبہ عظیم مان بھی لیا جائے تو پاکستان کے آگے وہ سب عجوبے سورج کے سامنے رکھے چراغ بھی ثابت نہ ہو سکیں گے۔

پاکستان کا بن جانا، پھر اس کا دولخت ہو جانا، ہند و مسلم دونظریہ کی بنیاد کو ڈھا کر بنگالی و غیر بنگالی بن جانا۔ اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود بھی اپنے مقصد وجود کی جانب نہ لوٹنا۔ بغیر آئین و قانون 1947 سے 1973 تک پاکستان کا کار و بار حیات چلتے رہنا۔ دھوتیوں کی طرح حکومتیں بدلتے رہنا۔ کبھی جمہوریت اور کبھی آمریت کے تجرے دہراتے رہنے کے باوجود بھی ایک ملک کا 73 برس تک قائم رہنا جیسے ”سانحات“ تو پھر بھی شاید کم عجائیبات میں سے رہے ہوں لیکن مشرقی و مغربی پاکستان کی دونوں آبادیوں کی ایک کثیر آبادی کا غداران پاکستان ہو جانا، یہاں تک کہ پاکستان بنانے والے قائد کی بہن کو غداران ملک میں شمار کرتے ہوئے ان کے سارے دیوانوں کو غداروں کی فہرست میں ڈال کر ان پر عرصہ حیات تنگ کر دینا۔

پھر رفتہ رفتہ تمام سیاستدانوں اور ان کو ووٹ دینے والوں کا شمار بھی بھارتی ایجنٹوں کے خطابات سے نواز کر پاکستان کی 99 فیصد آبادی کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے کے باوجود اس ملک کو پاکستان بلکہ اسلامی جمہویہ پاکستان کہنا اور اس کی خاطر جانوں کی قربانی کو شہادت کا درجہ دینا جیسا عمل، عقل کو عاجز کردینے والا عجوبہ نہیں تو پھر اور کیا ہے۔

جس ملک کی اتنی واضح اکثریت پاکستان میں رہنے، پاکستانی شہریت حاصل ہونے اور پاکستانی شناختی کارڈ کی حامل ہونے کے باوجود بھی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی ایجنٹ ہو، ان کے سیاسی رہنماؤں کے سارے سوتے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دریاؤں سے جا کر ملتے ہوں، وہ پھر بھی بھارت کی بجائے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلائے تو پھر اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا کے سارے عجوبے تو انسانی تعمیرات کی وجہ سے عجوبہ کہلاتے ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو اس کائینات کے خالق کا نازل کیا جانے والا ایک ایسا عجوبہ ہے جس نے دنیا بھر کے انسانوں کی عقل کو خبط کرکے رکھ دیا ہے۔

آج کے جسارت میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ حکمران دوسروں کو غداری کی اسناد جاری کرنے کی بجائے خود کو پاکستان کا وفادار ثابت کرنے کی جانب توجہ دیں۔ بات وہیں آکر ختم ہوتی ہے کہ پاکستان میں خواہ کوئی ایک عام انسان ہو یا حکمران، اس کی پاکستان کے ساتھ وفاداری اس حد تک مشکوک ہو چکی ہے کہ اسے پاکستان سے اپنی وفاداری کو ثابت کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ اگر امیر جماعت اسلامی کے بیانیے کے بین السطور کو کریدا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی وفاداری بھی مشکوک ہے اور ان کے لئے بھی یہ بات ضروری ہو گئی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری کا کوئی واضح ثبوت پیش کریں۔

ہر وہ شے جس کو کسی خاص مقصد کے لئے بنا یا جاتا ہے اسے اسی کام کے لئے استعمال میں لایا جائے تو کام بھی سجتا ہے اور بنائی جانے والی شے بھی۔ مسجد کو شراب خانہ اور شراب خانے کو دینی تعلیم کا مرکز کبھی نہ تو آنکھوں کو بھائے گا اور نہ ہی عقل میں سمائے گا۔ جگ کو طہارت اور لوٹے کو پینے کے پانی کے لئے استعمال کرنا ایک مکروہ اور قابل نفریں عمل ہی کہلا سکتا ہے۔ پاکستان بنانے اور اس کے لئے قربانی دینے کا بھی ایک عظیم مقصد تھا لیکن مکہ و مدینہ کہلائی جانے والی مقدس سر زمین کو رقص و موسیقی، بیہودہ گوئی، لادینیت اور اللہ سے بغاوت کی سرزمین بنا دیا گیا جس کا نتیجہ ہم سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔

ہمیں غدار کہنے والے کوئی غیر نہیں، اپنے ہی ہیں اور جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ غلط بھی نہیں۔ جس ملک کے لوگ، رہبران قوم اور محافظان پاکستان اللہ سے باغی ہو جائیں، قربانیاں دینے والی روحوں کی قربانیوں کو رائیگاں کرنے پر کمر باندھ لیں اور ایک ایسے خطہ زمین کو جسے اللہ کے دین کا مرکز بن کر پوری دنیا کے لئے اسلامی جاہ جلال کا مرکز بننا تھا اسے کافرستان میں بدل کر رکھ دیں تو واقعی وہ سب باغی اور غدار نہیں تو پھر انھیں کس خطاب سے نوازا جانا چاہیے۔ جب دو نظریوں کی ایک واضح لکیر ہی مٹادی گئی ہو تو پھر بھارت اور پاکستان میں فرق کس بات کا رہ جاتا ہے۔

اگر ہمارا آئین و قانون مسلمانانہ نہیں، اگر یہاں چوروں، ڈاکوؤں، زانیوں اور شرابیوں کو اسلامی آئین اور اللہ اور اس کے رسول کے احکامات و سنت کے مطابق سزائیں نہیں دی جاتیں ہوں، حکمران جھوٹ کے علاوہ اور کچھ بکتے نظر نہیں آتے ہوں، ان کی منافقت یو ٹرن کہلاتی ہو، کاروبار سود پر چل رہا ہو، شراب خانوں کے لائسنس جاری ہوتے ہوں، بھنگ کاشت کرنے کی سرکاری اجازت ہو، خواتین کے ساتھ سر بازار زبردستی کی جاتی ہو اور ہر وہ بدی کا کام جو شیاطین کی بستیوں میں بھی شرم و خجالت سمجھا جاتا ہو، عام ہو تو پھر بہتر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جو تصوراتی سرحدی لکیر کھینچی گئی ہے اس کو ختم کرکے ہر وقت کے جنگ کے بادل جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں، کائی کی طرح کیوں نہ چھانٹ دیے جائیں۔

عجب تماشا ہے کہ کشمیری پاکستانی کہلانے کے لئے تڑپ رہے ہیں اور بھارت بھی انھیں پاکستانی ایجنٹ ہونے کی سزائیں دے رہا ہے اور پاکستان کی پوری قوم، ہر سیاسی پارٹی، حکومت اور حزب اختلاف پورے پاکستانیوں کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے پر تلی ہوئی ہو تو یہ بات بھارت کے لئے کتنی خوش کن اور دنیا میں ہمارے لئے کتنے تمسخر کا سبب بن رہی ہوگی۔ کاش اس پر ہر پاکستانی سنجیدگی سے غور کرے ورنہ مستقبل بہت روشن اور تابناک دکھائی دیتا ہوا نظر نہیں آرہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •