اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات! لمحہ فکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملکی سیاسی ماحول میں تلخی، نئی بات نہیں۔ یہ ہمیشہ موجود رہی ہے۔ کچھ عرصے سے مگر یہ تلخی، خطرناک حد چھوتی نظر آ رہی ہے۔ ہر گزرتے لمحے، سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے باعث خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کا خطرہ نظر آ رہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے ساٹھ فی صد حصے پر مشتمل، سب سے بڑے صوبے کی نمائندہ جماعت کے خلاف، مسلسل ایسے اقدامات ہو رہے ہیں، جس سے یہ تاثر یقین میں بدل رہا ہے کہ واقعتاً اس کا وجود مٹانے کی کوششیں ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ نون میں خرابیاں ہو سکتی ہیں، مگر باوجود اپنی تمام تر کوتاہیوں اور جملہ خرابیوں کے، بہرحال وہ ایک ملک گیر جماعت ہے۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے اور دشمن ”خفیہ سازشی منصوبوں“ کے ذریعے ہمیں لسانی بنیادوں پر تقسیم کر کے کمزور کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، لیکن اس نازک موڑ پر بھی احتیاط کا دامن تھامنے کی بجائے اپوزیشن کا وجود تک برداشت نہیں کیا جا رہا۔ حالاں کہ اس وقت ملک گیر جماعتوں کا وفاقی سیاست میں موجود رہنا قومی سلامتی اور وحدت کے لئے نا گزیر ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں ہے کہ قوموں اور ریاستوں کی بقا بلا امتیاز انصاف ہی میں مضمر ہے اور اگر کسی طاقتور گروہ کو، کسی مصلحت کے تحت احتساب سے ماورا قرار دے دیا جائے، تو پھر معاشرے میں بغاوت جنم لینے کا خطرہ ہے۔ اس بغاوت کو روکنے کے لئے مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ایسا کوئی شائبہ بھی، کسی ذہن میں پھٹکنے نہ پائے کہ احتساب کا کٹہرا صرف اس کے لئے مخصوص ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ سیاسی اکھاڑے میں اس وقت ریاستی ادارے بھی، ایک فریق کی صورت نظر آ رہے ہیں۔ ملک میں احتساب کے لئے قائم ادارہ، بد قسمتی سے اپنی غیر جانبداری اور شفافیت کا تاثر قائم کرنے میں پہلے ہی ناکام ہے اور اب میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کے دیگر رہنماؤں پر، لاہور کے ایک ”محب وطن“ شہری کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج سے، جو سنسنی پھیلائی گئی، اس نے دیگر ریاستی مشنری کی جانبداری پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

میں اس بات کا قائل ہوں کہ یہ نہیں دیکھنا چاہیے، بات کون کر رہا ہے بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بات درست ہے یا غلط۔۔ کیا اس بات میں حقیقت نہیں کہ اصل مسئلہ اس ملک میں حکمرانی کے تصور پر بحث کا ہے۔ کیا یہ بات سوچنے کی نہیں کہ لیاقت علی خان سے لے کر نواز شریف تک اس ملک میں جتنے بھی سویلین وزرائے اعظم آئے صرف انہی پر کیوں بد عنوانی، نا اہلی اور غداری (ہندوستان نوازی) کے الزامات لگتے رہے۔ اس ملک کی تاریخ کا نصف ملٹری ڈکٹیٹرز کی حکمرانی میں گزرا۔ آج تک کسی ڈکٹیٹر کے منہ سے اختیار و اقتدار میں مداخلت کی شکایت کیوں نہیں سنائی دی؟ اقتدار اور منصب سے بے عزت ہو کر نکلنا، آخر سویلینز کا مقدر ہی کیوں ہے؟ آج اگر کوئی سیاستدان، یہ سوال پوچھ رہا ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟

ان سوالات پر غداری کے الزامات لگنا اور پرچے درج ہونا، نہایت افسوسناک ہے۔ حالاں کہ نواز شریف پر جو الزام ہے کہ انہوں نے فلاں فلاں بات کی، اس میں کیا راز ہے؟ قوم کا ہر بچہ جان چکا ہے کہ گزشتہ حکومت کی راہ میں کن کن مواقع پر رخنہ اندازی ہوئی۔ دھرنے کیسے ہوئے اور ان کے پس پردہ کون تھا۔ یہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ان باتوں پر خود وزیر اعظم نے ایک ٹی وی انٹرویو میں الزام لگا دیا کہ نواز شریف ہندوستان کی زبان بول رہے ہیں۔ اس کے بعد غداری کے پرچے درج ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

وزیر اعظم صاحب کی افتاد طبع، بیشک جیسی بھی ہو مگر جس منصب پر وہ فائز ہیں، اس کے کچھ تقاضے ہیں۔ انہیں علم ہونا چاہیے کہ اختلاف رائے معاشرے کا حسن ہے اور معاشرتی ترقی، تدوین اور بڑھوتری برقرار رکھنے کے لئے متضاد خیالات کو برداشت کرنا لازم ہے۔ مختلف نوعیت کے نظریات، خیالات اور سوالات سامنے آنا، اگر بند ہو جائیں تو معاشرے جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جہاں زباں بندی ہوتی ہے، وہاں فضا میں گھٹن در آتی ہے اور گھٹن زدہ فضا ہی بغاوت کو جنم دیتی ہے۔

جمہوری ڈھانچا ہمیشہ صحت مند مسابقت کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ لہذا خلاف طبیعت آرا برداشت کرنا اور انہیں رد بھی اگر کرنا پڑے، تو ٹھوس دلیل کی بنیاد پر رد کرنا لازم ہے۔ بد قسمتی سے سیاستدانوں غدار، غیر ملکی ایجنٹ اور ملک دشمن قرار دینا، ہماری دیرینہ روایت ہے اور اس خطرناک سرگرمی کے نتائج سے بھی ہم بخوبی واقف ہیں۔ وزیر اعظم جس منصب پر بیٹھے ہیں، اس کا تقاضا ہے کہ اگر ان کے پاس اپنی بات کا ثبوت موجود ہے تو وہ ضرور پیش کریں اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ورنہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں، انہیں اپنے الفاظ لازما واپس لینے چاہئیں۔ پوری قوم وزیر اعظم کی زبانی یہ الزام سن چکی ہے، اب اس خطرناک عمل سے محض یہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی، کہ غداری کی ایف آئی آر سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔

لمحہ فکریہ ہے کہ پچھلے چند سال سے جاری طرز عمل کے باعث، آج تمام سیاسی طبقات کو اپنے ہی ریاستی اداروں پر تحفظات ہیں اور ان کی جانب سے بالواسطہ یا بلا واسطہ اداروں کے کردار پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ اس گمبھیر صورت حال سے اسی وقت نکلا جا سکتا ہے، جب ادارے بیان بازی کے بجائے اپنے عمل سے غیر جانبداری ثابت کریں۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ آج حکمراں جماعت پر لاڈلا ہونے کا الزام کیوں لگ رہا ہے۔ وزیر اعظم جب مسلسل یہ کہیں گے کہ انہیں اداروں کی اتنی سپورٹ حاصل ہے، جو ماضی کے کسی حکمران کو نہیں ملی، تو یہ خود اداروں کے خلاف چارج شیٹ ہے اور اس کے بعد اداروں کی غیر جانبداری پر سوال ضرور اٹھیں گے۔

ملک اس وقت جس نازک صورت حال کا شکار ہے، کسی کی ذات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ملکی مستقبل کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا، کہ ریاست کے لئے کوئی گروہ لاڈلا نہیں ہونا چاہیے۔ سب کے ساتھ مبنی بر انصاف رویہ رکھنا ہو گا اور سب سے اہم بات اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا ہو گا۔ ایسا نہ کیا گیا تو نا صرف اداروں کی غیر جانبداری پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی، بلکہ خاکم بدہن کسی بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •