امریکی صدارتی انتخابات 2020: نائب صدر کے امیدوار مائیک پینس اور کملا ہیرس کے درمیان مباحثے میں کن موضوعات پر بات کی گئی؟

اینتھونی زرچر - بی بی سی نامہ نگار، شمالی امریکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کملا ہیرث، مائیک پینس
Reuters
نائب صدر کے مباحثے صدارتی دوڑ کو کم ہی ہلا کر رکھ دینے والے ہوتے ہیں اور اتوار کی رات کملا ہیرس اور مائیک پینس کے درمیان ہونے والا مباحثہ بھی کچھ مختلف نہیں تھا۔

نوے منٹ تک جاری رہنے والی اس بحث میں دونوں ہی امیدواروں کے لیے کچھ لمحات مضبوط جبکہ کچھ لمحات کمزور بھی رہے لیکن ایسے لمحات کم ہی آئے۔

ایک یاد نہ رہنے والا نتیجہ، اپنے آپ میں ڈیموکریٹ اور جو بائیڈن کے لیے ایک اچھی خبر ہے، جو رائے شماری کے مطابق اس دوڑ میں آگے ہیں۔ میرے نزدیک اس مباحثے کے اہم نکات یہ ہیں:

گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں لہجے میں واضح تبدیلی

گذشتہ ہفتے کی صدارتی بحث میں جو چیز سب سے زیادہ یاد رہ گئی وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل مداخلت اور جو بائیڈن کا انھیں ’اپنا منہ بند رکھیں‘ کہنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مودی حکومت پر تنقید کرنے والی کملا ہیرس امریکی پالیسیوں میں بدلاؤ لا پائیں گی؟

جو بائیڈن کی نائب صدارتی امیدوار کملا ہیرس کون ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ بمقابلہ جو بائیڈن: پہلا صدارتی مباحثہ کس کے نام رہا؟

نائب صدر کے دونوں امیدوار جب ٹیبل پر بیٹھے تو واضح طور پر یہ بات ان کے دماغوں میں موجود تھی۔ پینس کا پرسکون اور با سلیقہ انداز ٹرمپ کے جارحانہ رویے کی تلخی کو کم کرنے میں اہم ثابت ہوا۔

جب انھوں نے مداخلت کی کوشش کی تو کملا ہیرس تیار تھیں۔

انھوں نے کہا: ’مسٹر نائب صدر، میں بات کر رہی ہوں۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو پہلے مجھے میری بات ختم کرنے دیں اس کے بعد ہم گفتگو کریں گے۔‘

کمل

Reuters

مباحثے کے ماحول کو دیکھتے ہوئے،پہلی بار نائب صدر کی دوڑ میں شامل سیاہ فام خاتون کی بات میں جب ایک سفید فام مرد نے مداخلت کی کوشش کی تو وہ لمحات پینس کے لیے پریشان کن تھے۔

اس مباحثے کے انداز اور امیدواروں کے ایک دوسرے کو جارحانہ انداز میں دبانے سے گریز، نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ یہ شام ہر فریق کی پوزیشن پر کچھ نئی روشنی ڈالے گی اور ظاہر کرے گی کہ یہ امیدوار دباؤ میں کس طرح کی پرفارمنس دے سکتے ہیں۔

ہیرس وائرس کی کمزوری کا استحصال کرنے میں ناکام رہیں

حیران کن بات نہیں کہ کورونا وائرس کی وبا اس مباحثے کا پہلا موضوع تھا اور اس میں بھی حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ہیرس نے اپنا زیادہ تر وقت حملے کرنے میں گزارا۔ دوسری جانب پینس زیادہ تر دفاع کرتے ہی نظر آئے۔

ہیرس کی سب سے تیز لائن میں انھوں نے اعدادوشمار کا حوالہ دیا۔۔۔ دو لاکھ دس ہزار امریکی شہری مر چکے ہیں۔۔۔ اور ٹرمپ انتظامیہ پر نااہلی کا الزام لگایا۔

پینس کا جواب تیار تھا۔ انھوں نے کہا کہ بائیڈن اور ہیرس کا وبا سے نمٹنے کا منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ کی نقل تھی۔ پینس نے ویکسین تیاری کے عمل پر شیخی بگھاری اور ٹرمپ انتظامیہ پر ہونے والی تنقید کو امریکی صحت عامہ کے ملازمین پر حملہ قرار دیا۔

حیرت کی بات ہے کہ دونوں امیدواروں نے اس حقیقت پر زیادہ بات نہیں کی کہ وائٹ ہاؤس خود کورونا وائرس کا نیا مرکز بن چکا ہے۔ ہیرس کے پاس حملے کے لیے ایک واضح نقطہ موجود تھا جسے انھوں نے فائدہ اٹھائے بغیر چھوڑ دیا اور جلد ہی گفتگو کا رخ دوسرے معاملات کی جانب چلا گیا۔ رائے شماری کے مطابق کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنا ٹرمپ کی انتخابی مہم کا سب سے کمزور پہلو ہے اور اس معاملے میں اس مباحثے میں برابری، دراصل پینس کی جیت تھی۔

کملا ہیرس اور جو بائیڈن

Getty Images

دونوں امیدوار ماحولیات کے موضوع پر پریشان

وبا پر جہاں مائیک پینس دفاعی پوزیشن میں تھے تو جب موضوع ماحولیات میں تبدیل ہوا تو یہ ان کی باری تھی کہ وہ حملہ کرتے۔

بائیڈن نے ڈیموکریٹس کے صدارتی الیکشن کے بعد موسمیاتی تبدیلی پر بات کرنے کے اپنے منصوبے کو وسعت دی ہے۔ ہیرس گرین نیو ڈیل کی موسمیاتی تحریک کی سپانسر تھیں، جو کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے اہداف مرتب کرتا ہے۔

اس اقدام نے جہاں بہت سے ماہرین ماحولیات سے داد وصول کی وہیں پینیسلوینیا اور اوہایو میں ایسے ووٹر موجود ہیں جو حکومتی قواعد کو اپنے ذریعہ معاش کے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔

پینس نے خبردار کیا کہ گرین نیو ڈیل ’امریکی توانائی کو کچل‘ دے گی اور جو بائیڈن پر الزام لگایا گیا کہ وہ فوسل ایندھن کو ’ختم‘ کرنا چاہتے ہیں۔ ہیرس نے ان الزامات کو غلط قرار دیا۔

ایک پریشان کن لمحے میں انھوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی انسان کی تخلیق کردہ ہے اور سیارے کے لیے ایک خطرہ ہے، محض ایک سے زیادہ مرتبہ بیان کرتے ہوئے کہ وہ ’سائنس کی پیروی کریں گے۔‘

تاہم بائیڈن کو ماحولیات سے متعلق ایک واضح لائن پر چلنا پڑا ہے۔ مباحثے کے دوران ہیرس نےکہا کہ موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کے ’وجود کے لیے خطرہ ہے‘ لیکن ہیرس اور بائیڈن دونوں نے اس قسم کے حکومتی ردعمل کا بھر پور دفاع کرنے سے گریز کیا ہے، جس کی ضرورت تھی۔

پینس نے منظم نسل پرستی کی تردید کی

سب سے زیادہ تیز و تند جملوں کا تبادلہ نسل پرستی اور قانون کے نفاذ کے موضوع پر ہوا۔

جارج فلوئیڈ

Getty Images

جیسا کے گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے کیا، مائیک پینس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے امتیازی سلوک اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال پر بحث کو امریکی شہروں میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں کی مذمت کی جانب موڑ دیا۔ پینس نے کہا کہ انھوں نے ملک کے نظام عدل پر اعتماد کیا اور یہ کہنا کہ یہ قوم منظم طور پر نسل پرستانہ ہے، قانون نافذ کرنے والے مردوں اور عورتوں کی بے عزتی ہے۔

اس کے جواب میں ہیرس بھرپور انداز میں واپس آئیں۔

سان فرانسکو کی سابق پراسیکیوٹر اور کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل نے سخت انداز میں کہا: ’میں یہاں بیٹھ کر نائب صدر سے اس بات پر لیکچر نہیں لوں گی کہ ملک میں قانون نافذ کرنے کا مطلب کیا ہے۔‘

انھوں نے واضح اور جامع طور پر سفید بالادستی کی مذمت کرتے ہوئے، ٹرمپ کی مشکلات کا ذکر کیا اور کہا ’یہ وہی ہیں جو ہمارے پاس صدر کی حیثیت سے ہیں۔‘

اس وقت پینس کے سر پر مکھی بیٹھی تھی، لہذا ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہر کوئی اس کے بارے میں بات کر رہا ہو۔

مستقبل پر نظر

نائب صدارت کے اس مباحثے نے امریکیوں کو موجودہ امریکی سیاست اور مستقبل پر نظر ڈالنے کا موقع دیا۔

ان انتخابات کے لیے دونوں امیدواروں نے صدارت کے لیے اپنی جماعت کے امیدواروں کا دفاع کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

مائیک پینس

Getty Images

تاہم دونوں امیدوار نومبر میں ہونے والے انتخابات سے بھی آگے دیکھ رہے تھے۔ زیادہ تر نائب صدور کی طرح پینس کی نگاہیں بھی مستقبل میں ہونے والے صدارتی اتنخابات میں اپنی نامزدگی پر تھیں۔

لیکن ایسا کرنے کے لیے انھیں ٹرمپ کے حامیوں میں جگہ بنانا ہو گی جبکہ اس کے ساتھ ہی ریپبلکن اور آزاد امیدواروں کے اس وسیع نیٹ ورک کو بھی حاصل کرنا پڑے گا، جو شاید ٹرمپ کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔

اس پورے مباحثے کے دوران انھوں نے ٹرمپ کا دفاع کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی پہچان پنانے کی بھی کوشش کی خاص طور پر سپریم کورٹ جیسے معاملات پر بات کر کے جو کئی ووٹروں کے دل کے بہت قریب ہے۔

ہیرس نے، جو گذشتہ سال خود صدر کے انتخاب کے لیے لڑ رہی تھیں، یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جو بائیڈن کے سیاسی مرحلے سے باہر نکل جانے کے بعد وہ ڈیموکریٹس کی ایک قابل نمائندہ بن سکتی ہیں۔ جب بھی موقع ملا، انھوں نے اپنی پرورش اور پس منظر کے بارے میں بات کی اور امریکہ کی ایک بڑی کمیونٹی سے مخاطب ہونے کی کوشش کی۔ پینس کے برعکس وہ کثرت سے کیمرے کے سامنے بات کرتی ہیں جو کہ لوگوں سے تعلق قائم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

بدھ کے روز ہیرس کی پرفارمنس کافی اچھی رہی جسے سنہ 2020 کے ایک نمایاں لمحے کے طور پر دیکھا گیا۔ پینس اور ہیرس کو شاید ایک دن پھر آمنے سامنے آنا اور لڑنا پڑے اور یہ دن صرف چار سال میں بھی آ سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16014 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp