یہ اپنے انجان، آخر بن جاتے ہیں، وبال جان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ ایسی ہستیاں بھی ہوتی ہیں، جنہیں اتنے تواتر کے ساتھ روزمرہ کی زندگی میں مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کی حرکات و سکنات، ان کا کسی خاص مقام سے گزرنا، کسی جگہ پر بیٹھنا، ہماری دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔ وہ شخصیت اکثر ہمارے اتنے قریب ہو جاتی ہے کہ اس سے کسی قدر مانوس ہو جاتے ہیں، جیسے وہ کوئی قریبی، دوست، رشتہ دار، جاننے والا ہے۔ حالاں کہ اس سے کبھی دو بدو ملاقات یا بات چیت بھی نہیں ہوئی ہوتی۔ اس شخصیت کا منظر سے کچھ عرصے تک ہٹ جانا، یا دکھائی نہ دینا۔ پریشانی اور تشویش کا باعث بن جاتا ہے۔ کسی جاننے والے سے پوچھنے کی نوبت آ جاتی ہے۔

یہ کردار کیسے تھے۔ مثلاً: بچپن میں اسکول جاتے حتیٰ کہ کالج کا دور آ گیا، ایک درویش، یا مجذوب کہہ لیں، صرف تہبند باندھے، بڑی داڑھی اور جسم پر بال، ننگے پاؤں سڑک کنارے آتے جاتے دیکھتے۔ اس کا ایک شوق تھا۔ ایک مخصوص پان سگریٹ کی دکان پر آ کر پان کھاتا اور اس کے ساتھ پیپسی کی بوتل پیتا۔ بڑوں کے ساتھ اس دکان پر کھڑے ایک بار سنا، کہ یہ شخص ایک تاریخی عمارت کے کھنڈرات کے اندر ایک تہہ خانے میں سانپوں کے ساتھ رہتا ہے۔ ایسے کچھ عجیب و غریب واقعات پر مبنی اس کی حالات زندگی سن رکھے تھے۔ کئی برسوں تک اسے دیکھتے اور پھر اس سے متعلق داستانیں خود بخود ذہن کی سکرین پر نمایاں ہو جاتیں۔

دوسرے محلے میں رہنے والی ایک خاتون، جو شاید کبھی کالج میں پڑھتی تھیں، پھر وقت گزرنے کے ساتھ کسی دفتر میں ملازم ہو گئیں، ان کا آنا جانا سب نظروں کے سامنے ہوتا۔ ایسا بھی ہوا کہ کبھی اس کے بارے میں کوئی بات کرتا تو جیسے کسی اپنے کو موضوع بنایا ہو۔ حتیٰ کہ منہ سے کوئی بات نکل جاتی، جس پر بات کرنے والے حیرت سے پوچھ ہی لیتے کیا آپ جانتے ہیں۔ تھوڑا سوچنے کے بعد قدرے ہچکچاہٹ اور شرمندگی کی کیفیت میں نفی میں جواب دے کر جان چھڑانا پڑتی۔

ہمارے دوست کے ساتھ بھی ایسا دلچسپ واقعہ ہوا۔ ایک لڑکی کو آتے جاتے دیکھ کر پسند کرنے لگے اور دل ہی دل میں چاہنے لگے تھے۔ اس کا تذکرہ ہوا، کسی نے کوئی الٹی سیدھی بات کر دی، وہ ایسے لڑے جیسے اس کے اپنے ہوں اور حد یہاں تک کہ ہاتھا پائی ہو گئی۔

یہ واقعہ کئی برس بعد دوبارہ یاد کرایا، تو دوست بولا، ”یار اس سے اتنی انسیت ہو چکی تھی، کہ لگا جیسے میری اس سے بڑی اچھی جان پہچان ہے۔“

کسی دور میں محلوں یا علاقے میں بدمعاش، یا پہلوان ٹائپ کے لوگ ہوتے، جو کسی مخصوص جگہ پر بیٹھتے، یا گزرتے، ان کے رعب و دبدے کا بھی بڑا اثر لے لیتے۔ پھر ان کے بارے میں مشہور واقعات بھی سن رکھے ہوتے، مگر کبھی ان سے بات ہوتی نہ ہاتھ تک ملایا ہوتا، لیکن ساری کہانیاں ایسی لگتیں جیسے خود بھی ساتھ ہی تھے۔

ایسا ہی کچھ شوبز کی شخصیات، نامور کھلاڑیوں کے حوالے سے ہوتا تھا اور شاید اب بھی، انہیں ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا کہ وہ اپنے ہی ہیں اور جیسے ہم ان کی مجلس میں اٹھتے بیٹھتے ہوں۔ لیکن حقیقت اس سے مختلف ہوتی ہے، یہ اپنے اصل میں انجان ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں ملے بھی نہیں، جانتے بھی نہیں، لیکن ہم انہیں اپنے بہت قریب پاتے ہیں۔

یہ معاملہ ہر انسان کی زندگی میں ہوتا ہے، لیکن کچھ ان ہستیوں کی کرشمہ ساز شخصیت کے حصار میں آ جاتے ہیں، اور انہیں عمرکے کسی بھی حصے میں اگر وہ لوگ کسی بھی حالت میں ملتے ہیں، تو ایک ناسٹیلجیا کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے جن کی وفات ہو جاتی مگر ہماری ملاقات نہ ہو پاتی، حتیٰ کہ ان کے جنازوں میں بھی شریک ہوتے ہیں۔

کئی ایسے ہوتے ہیں، جن کی موجودگی محض ہمارے اپنے ذہن اور دل و دماغ کی حد تک ہوتی ہے، اور ان کا تذکرہ ہم نے اپنے کسی قریبی کے ساتھ نہیں کیا ہوتا۔ وہ کوئی بزرگ ہو، خاتون ہو، بچہ ہو، جب اس کے ساتھ کچھ اچھا برا ہو جاتا ہے، پھر وہ موقع آ جاتا ہے کہ اسے زیر بحث لایا جاتا ہے اور ایسے مواقع پر ماضی کی کئی باتیں اور واقعات تک بیان کر دیتے ہیں۔

ہماری زندگیوں میں آخر یہ کون لوگ ہوتے ہیں، یہ ہمارے کچھ بھی نہیں لگتے، پھر ہمیں کیوں اتنے عزیز اور پیارے یا پھر جانے پہچانے لگتے ہیں۔ ان کی اکثریت کی یادیں تک بھی ہمارے ذہنوں میں زیادہ دیر محفوظ نہیں رہتیں مگر جب بھی کہیں کبھی دیکھ لیتے ہیں، تو پھر وہی پرانی باتیں اور تعلق جیسا گمان کیوں ہوتا ہے۔ یہ اپنے انجان، آخر بن جاتے ہیں، وبال جان۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 76 posts and counting.See all posts by nauman-yawar